حضرت خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات


حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدی رحمۃ اللہ علیہ اکابر مشائخ میں سے تھے۔ آپ جمالِ طریقت اور کمالِ حقیقت کے جامع بزرگ تھے۔ سلسلۂ چشتیہ کے اولین مشائخ میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ آپ کا نسبِ مبارک حضرت امام حسینؓ سے جا ملتا ہے۔  آپ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کے بھانجے ، خلیفہ و جانشین تھے۔

حضرت خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کا مزار

آپ کی ولادت

آپ کی ولادت تذکرہ نگاروں کے مطابق 375 ہجری کو ہوئی۔ آپ کے والد کا نام سید محمد سمعان تھا، جو ایک معزز سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کی ہمشیرہ تھیں، یوں حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ آپ کے مامو تھے۔

آپ کے مامو حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کو ایک رات خواب میں بشارت ہوئی کہ اپنی ہمشیرہ کا نکاح ایک نہایت نیک اور شریف النفس شخص، سمعان نامی بزرگ سے کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس بشارت پر عمل کرتے ہوئے اپنی بہن کا نکاح سید محمد سمعان سے کر دیا۔ انہی کے بطنِ مبارک سے حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کی ولادت ہوئی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ آپ سے بے حد محبت فرماتے تھے، آپ کو اپنے بیٹوں کی مانند سمجھتے اور اپنی حقیقی اولاد کی طرح تربیت فرماتے تھے۔

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی شادی

آپ کی شادی کا واقعہ نہایت بابرکت اور روحانی اہمیت کا حامل ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب آپ کے مامو، حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کا وصال ہوا، اُس وقت آپ کی عمر تقریباً چھتیس (36) برس تھی۔ ان کے انتقال کے بعد آپ کچھ عرصہ بعد ہرات کی جانب روانہ ہوئے۔ راستے میں ایک مقام پر پہنچے جسے کنک کہا جاتا تھا۔ وہاں ایک نہایت نیک، زاہد اور پرہیزگار درویش سکونت پذیر تھا۔ اُس درویش کی ایک بیٹی تھی جو نیک سیرت، پاک دامن اور حسین و جمیل تھی۔


ایک رات اُس درویش کی بیٹی نے خواب دیکھا کہ چودھویں کا چاند آسمان سے اُتر کر اُس کے قریب آیا ہے اور اُس سے کہتا ہے:

 “تم میری بیوی ہو، میں نے تمہیں خدا سے مانگا ہے۔”

صبح جب وہ بیدار ہوئی تو اس نے وہ خواب اپنے والد کو سنایا۔ اس کے والد نے یہ خواب سن کر حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر خواب کی تعبیر پوچھی۔

حضرت نے تبسم فرمایا اور فرمایا:

“وہ چاند میں ہی ہوں، اور تمہاری بیٹی کا نصیب میرے ساتھ ہے۔ میں نے بھی اسے خدا سے مانگا ہے۔”

یہ سن کر وہ درویش بے حد خوش ہوا اور اپنی بیٹی کا نکاح حضرت خواجہ ابو یوسف چشتیؒ سے کر دیا۔

حضرت نے اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لیا اور اپنے وطن چِشت واپس تشریف لے گئے۔

اسی پارسا بی بی کے بطنِ مبارک سے دو جلیل القدر فرزند پیدا ہوئے:


1. حضرت خواجہ مودود چشتیؒ

2. حضرت خواجہ تاج الدین ابو الفتحؒ


یہ دونوں بزرگ بعد ازاں سلسلۂ چشتیہ کے روشن ستارے بنے۔

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی کرامات

حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کی کرامات میں سے ایک نہایت مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک روز گرمیوں کے موسم میں آپ اپنے چند مخلص دوستوں کے ہمراہ سیر کے لیے جنگل کی طرف نکلے۔ راستے میں جب دھوپ کی شدت اور گرمی نے سب کو تھکا دیا تو ساتھیوں کو شدید پیاس محسوس ہوئی۔ انہوں نے حضرت سے عرض کی کہ “یا حضرت! ہمیں پانی کی سخت ضرورت ہے۔”

حضرت خواجہ ابو یوسف چشتیؒ نے اطمینان سے اپنا عصا زمین پر رکھا، پھر اسے ایک بڑے پتھر پر مارا۔ جیسے ہی عصا پتھر سے ٹکرایا، وہاں سے پانی کا ایک صاف و شفاف چشمہ پھوٹ نکلا۔ آپ نے خود بھی اس چشمے کا پانی پیا اور اپنے تمام رفقا کو بھی سیراب فرمایا۔

یہ چشمہ تبرک کے طور پر آج تک جاری ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ سردیوں میں اس کا پانی گرم اور گرمیوں میں نہایت ٹھنڈا ہوتا ہے۔

اہلِ دل فرماتے ہیں کہ اگر کوئی بخار کا مریض ایمان و عقیدت کے ساتھ اس چشمے کا پانی پی لے تو اللہ کے فضل سے اسے شفا حاصل ہو جاتی ہے۔

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی دوسری کرامت 

ایک مرتبہ حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کہیں سفر پر جا رہے تھے۔ راستے میں آپ کی نگاہ چند لوگوں پر پڑی جو ایک مسجد کی تعمیر میں مصروف تھے۔ جب آپ قریب پہنچے تو دیکھا کہ مسجد کی چھت کے لیے رکھی جانے والی ایک لکڑی (بیم) ایک گز چھوٹی ہے، جس کی وجہ سے چھت مکمل نہیں ہو پا رہی تھی۔

یہ منظر دیکھ کر آپ گھوڑے سے اتر آئے اور سکون سے اس لکڑی کو اٹھا کر دیوار کے اوپر رکھ دیا۔

حاضرین نے دیکھا کہ جیسے ہی حضرت نے لکڑی رکھی، وہ لکڑی معجزانہ طور پر ایک گز لمبی ہو گئی اور چھت بالکل درست طور پر مکمل ہو گئی۔

یہ منظر دیکھ کر وہاں موجود تمام لوگ حیران رہ گئے اور اللہ کے حضور شکر بجا لائے ۔ 

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی خلوت نشینی

جب حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کی عمر پچاس برس کو پہنچی، تو آپ نے حضرت خواجہ ابو اسحاق شامیؒ کے ایک خلیفہ، حضرت خواجہ حاجیؒ کے مزارِ مبارک کے قریب ایک حجرہ تعمیر فرمایا۔ یہ حجرہ ایک طے خانے (زیرِ زمین کمرے) میں بنایا گیا تاکہ آپ وہاں خلوت نشینی اور عبادتِ الٰہی میں مشغول رہ سکیں۔


آپ نے تقریباً بارہ سال اسی حجرے میں اعتکاف فرمایا۔ اس مدت میں آپ ہمہ وقت ذکرِ الٰہی، عبادت، مجاہدہ اور مراقبہ میں مصروف رہے۔ آپ کی روحانی حالت اس مقام پر اتنی بلند ہو گئی کہ اکثر اوقات پریاں، جنات اور رجالُ الغیب آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوتے تھے۔


روایات میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ عبداللہ انصاریؒ بھی اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے اور روحانی گفتگو فرماتے۔

آپ کے مریدوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی، جن میں انسانوں کے ساتھ پریاں اور جنات بھی شامل تھے۔


یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ کے دو جنّاتی مرید ایسے تھے جو سانپ کی شکل میں آپ کے حجرے کے دروازے کے سامنے رہتے اور آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے۔ کوئی غیر شخص اجازت کے بغیر قریب نہ آ سکتا تھا۔


خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی سماع سے محبت

حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کو سماع سے بے حد محبت تھی، کیونکہ آپ کے نزدیک سماع صرف نغماتِ روحانی نہیں بلکہ اسرارِ الٰہی تک رسائی کا ذریعہ تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ جب آپ پر وجد کی کیفیت طاری ہوتی تو آپ کی پیشانی سے نور کی شعاعیں پھوٹنے لگتیں، گویا دل کی روشنی ظاہر ہو رہی ہو۔ ایک بار کسی نے آپ سے سوال کیا کہ اگر سماع میں الٰہی اسرار پوشیدہ ہیں تو حضرت جنید بغدادیؒ نے اس سے انکار کیوں فرمایا؟ حضرت نے نہایت حکمت و بصیرت سے جواب دیا کہ حضرت جنید بغدادیؒ کے خلیفہ حضرت شبلیؒ میری مجلس میں آیا کرتے ہیں اور سماع بھی سنتے ہیں، کیونکہ وہ سماع کی حقیقت اور نیت کی پاکیزگی کو جانتے تھے۔ جنید بغدادیؒ نے اس لیے توبہ کی کہ اُن کے نصیب میں اخلاصِ نیت کے ساتھ حقیقی سماع میسر نہ تھا، اور جو شخص بغیر اخلاص و معرفت کے سماع سنتا ہے، اُس پر لازم ہے کہ وہ اس سے توبہ کرے، کیونکہ ایسا سماع روحانیت نہیں بلکہ نفس کی لذت بن جاتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر حضرت جنید میری مجلسِ سماع میں حاضر ہوتے تو وہ کبھی توبہ نہ کرتے، کیونکہ میری مجلس میں جو سماع ہوتا ہے وہ سراپا ذکر، محبت اور عشقِ الٰہی میں ڈوبا ہوتا ہے۔ آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ “جو حقیقت و معرفت ایک لمحے کے سماع سے حاصل ہوتی ہے، وہ سو برس کی عبادت سے بھی حاصل نہیں ہوتی۔” یہ قول آپ کی معرفت، عشقِ الٰہی، اور روحانیت کی بلندی کی زندہ تفسیر ہے۔

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کا مزار

خواجہ ناصر الدین ابو چشتی کی وفات

جب حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی سرمدیؒ کا وصال قریب آیا تو آپ نے اپنے بڑے صاحبزادے حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتیؒ کو اپنا جانشین اور قائم مقام مقرر فرمایا اور انہیں وصیت کی کہ ہمیشہ اخلاص، عاجزی اور خدمتِ خلق کو اپنی راہ بنائیں۔ آپ کا وصال ۳ رجب ۴۵۹ ہجری میں ہوا، اُس وقت عباسی خلیفہ ابو جعفر عبداللہ القائم بن القادر حکمران تھے۔ آپ کا مزارِ مبارک چِشتِ شریف، ہرات (افغانستان) میں واقع ہے، جو آج بھی زائرین کے لئے روحانی فیوض و برکات حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

 

حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا عرسِ مبارک

حضرت خواجہ ناصر الدین ابو یوسف چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا عرسِ مبارک ہر سال ۱۳ رجب المرجب کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ ہرات، افغانستان میں آپ کے مزارِ اقدس پر منایا جاتا ہے۔ اس بابرکت موقع پر اہلِ محبت اور طالبانِ حق دور دور سے حاضر ہوتے ہیں تاکہ اپنے دلوں کو روحانی روشنی اور معرفتِ الٰہی سے منور کر سکیں۔ مزارِ مبارک کا ماحول ذکر و اذکار، قوالی، اور درود و سلام کی پرنور صداؤں سے گونج اُٹھتا ہے۔ یہ ایام عاشقانِ الٰہی کے لیے روحانی بیداری اور باطنی سکون کا ذریعہ بنتے ہیں، جہاں ہر دل کو عشقِ حقیقی کی لذت نصیب ہوتی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post