حضرت شاہ عنایت قادری شطاری کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات

حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ برصغیر کے مشہور پنجابی صوفی بزرگ، عالم، فاضل اور فلسفی گزرے ہیں۔ آپ سلسلہ قادریہ شطاریہ کے بزرگ تھے۔ آپ نے اپنی زیادہ تر تصانیف فارسی زبان میں تحریر فرمائیں۔

آپ کو خاص طور پر حضرت بابا بلھے شاہؒ اور حضرت وارث شاہؒ کے مرشدِ کامل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

حضرت شاہ عنایت قادری شطاری کا مزار
ولادتِ حضرت شاہ عنایت شطاریؒ

حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ کے والدِ محترم کا نام مولوی پیر محمدؒ تھا۔
روایت میں آتا ہے کہ حضرت مولوی پیر محمدؒ کے مدرسے کے باہر ایک درویش روزانہ نمازِ فجر کے بعد آتا، ان کا ہاتھ چومتا اور کہتا:

"پیر محمد! بہت جلد تمہارے ہاں ایک ایسا بیٹا پیدا ہوگا جو دنیاے تصوف میں بے مثال ہوگا۔ تمہارا خاندان، اہلِ دین اور اہلِ دنیا سب اس پر فخر کریں گے۔ اللہ کے نزدیک اس کا مقام بہت بلند ہوگا اور لوگ اس کے قدموں سے برکت حاصل کریں گے۔"

یہ پیشگوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی، جب 1643ء میں قصور (جو لاہور کے قریب واقع ہے) میں حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ کی ولادت ہوئی۔
آپ کے والد نے آپ کا نام محمد عنایت رکھا۔
پیدائش کے لمحے سے ہی آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں اور زبانِ حال سے ذکرِ الٰہی جاری تھا۔
جب والدہ محترمہ نے یہ منظر دیکھا تو بے ساختہ "سبحان اللہ" کہہ اُٹھیں۔ اس کے بعد جب بھی وہ "سبحان اللہ" کہتیں، بچے کا دل ذکرِ الٰہی میں محو ہو جاتا۔


ابتدائی زندگی اور تعلیم

حضرت شاہ عنایتؒ کی تفسیرِ قرآن اور احادیث کی تشریح کا انداز نہایت مؤثر اور دلنشین تھا۔
آپ کی آنکھیں چمکتے ستاروں کی مانند روشن تھیں اور جسمِ مبارک سے خوشبو پھیلتی تھی۔

آپ خلوت پسند تھے، بہت کم لوگوں سے ملاقات کرتے، اور زیادہ تر وقت مطالعے، عبادت اور غور و فکر میں گزارتے۔
آپ نے اپنے وقت کے جید علما سے تعلیم حاصل کی اور دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔

تعلیم مکمل ہونے کے کچھ عرصے بعد آپ کی والدہ محترمہ کا وصال ہوگیا، جس سے آپ بے حد رنجیدہ ہوئے۔
غم کی شدت میں آپ نے دنیاوی تعلقات سے کنارہ کشی اختیار کی اور روحانی سفر پر نکل پڑے۔

اسی دوران آپ کی ملاقات حضرت محمد رضا شاہ قادری شطاریؒ سے لاہور میں ہوئی۔
یہ بزرگ دریائے فیض و معرفت تھے اور دور دور سے طالبانِ حق ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔

حضرت محمد رضا شاہؒ کی تربیت و توجہ نے حضرت شاہ عنایتؒ کی زندگی بدل دی۔
جلد ہی آپ مقامِ ولایتِ کاملہ تک پہنچے، اور آپ کے مرشد نے آپ کو خلعتِ خلافت عطا فرمائی اور ارشاد و رہنمائی کے منصب پر فائز کیا۔
حضرت شاہ عنایتؒ اپنے مرشد سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اور انہیں اپنی آنکھوں کا نور سمجھتے تھے۔

قصور کی طرف ہجرت اور مریدین کا دائرہ

خلافت ملنے کے بعد آپ کے مرشد نے حکم دیا کہ آپ قصور تشریف لے جائیں اور وہاں تعلیم و ارشاد کا سلسلہ شروع کریں۔
آپ نے اپنے گھر، مال و متاع اور اہلِ خانہ کو لاہور میں چھوڑا اور حکمِ مرشد کی تعمیل میں قصور چلے گئے۔

قصور میں آپ نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا، اور جلد ہی لوگ جوق در جوق آپ کے مرید بننے لگے۔
آپ کی شہرت پورے علاقے میں پھیل گئی۔

تاہم قصور کے حکمران کو آپ کی مقبولیت سے حسد ہونے لگا۔ اس نے اپنے درباریوں کے مشورے سے آپ کے خلاف سازشیں کیں، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔

رقاصہ کی بیٹی سے نکاح

قصور کے دربار میں ایک مشہور رقاصہ تھی جو اپنے پیشے سے بیزار تھی۔
اس کی ایک نہایت خوبصورت اور نیک سیرت بیٹی تھی، جسے اس نے خفیہ طور پر مدرسے میں داخل کرایا تاکہ وہ دینی تعلیم حاصل کرے۔
لڑکی نے نہ صرف اسلامی علوم میں کمال حاصل کیا بلکہ روحانی ذوق بھی پیدا کر لیا۔

ایک دن وہ رقاصہ روتی ہوئی اپنی بیٹی کے ساتھ حضرت شاہ عنایتؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا:

"اے مرشد! میں گناہ گار عورت ہوں۔ دنیا مجھے بدکار کہتی ہے، مگر میں نے اس بیٹی کو ہمیشہ پاک رکھا، اسے علمِ دین دیا، اور گناہ سے دور رکھا۔
اب قصور کا حاکم اس پر بری نظر رکھتا ہے اور اسے اپنے ناپاک ارادوں کے لیے مجبور کرنا چاہتا ہے۔
میں اس کی عزت بچانا چاہتی ہوں، براہِ کرم اس سے نکاح فرما لیں تاکہ وہ ہمیشہ محفوظ رہے۔"

حضرت شاہ عنایتؒ نے مراقبہ فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا:

"اس لڑکی سے نکاح کر لو۔"

چنانچہ آپ نے اسی وقت نکاح فرما لیا۔

یہ خبر قصور کے حاکم تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوا۔
اس نے رقاصہ کے رشتہ داروں کو ورغلا کر جھوٹا مقدمہ دائر کروایا کہ نکاح زبردستی کیا گیا ہے۔
نتیجتاً حکم دیا گیا کہ حضرت شاہ عنایتؒ یا تو طلاق دیں، یا قصور چھوڑ دیں، ورنہ قتل کر دیے جائیں۔

حضرت شاہ عنایتؒ نے فرمایا:

"یاد رکھو! آج نواز حسین خان نے ہمیں قصور سے نکالا ہے،
لیکن بہت جلد اللہ تعالیٰ اسے دنیا سے نکال دے گا۔
ایک فقیر سے دشمنی ہمیشہ کے لیے دنیا کے لیے عبرت بنے گی۔"

چنانچہ آپ نے قصور چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ہزاروں مرید آپ کے قدموں سے لپٹ گئے مگر آپ نے فرمایا کہ "مرشد کا حکم اور اللہ کی رضا اس سے بہتر ہے"۔

کچھ عرصے بعد نواز حسین خان کو اس کے دشمنوں نے مچھیرے بھیج کر خفیہ طور پر قتل کروا دیا، یوں حضرت کا فرمان سچ ثابت ہوا۔


لاہور میں قیام

قصور سے ہجرت کے بعد حضرت شاہ عنایتؒ لاہور کے علاقے مزنگ (موجودہ شہرِ فاطمہ جناح) میں مقیم ہوئے۔
وہاں ایک چھوٹی سی مسجد اور دو کنویں تھے، جہاں سے آپ نے تعلیم و ارشاد کا سلسلہ شروع کیا۔
آپ کے فیض سے ہزاروں دل منور ہوئے اور بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں۔

وصال کے بعد آپ کو وہیں دفن کیا گیا،
اور آج بھی آپ کا مزار مبارک مزنگ چونگی، لاہور میں مرجعِ خلائق ہے۔


حضرت بابا بلھے شاہؒ کے ساتھ تعلق

جب حضرت بابا بلھے شاہؒ لاہور تشریف لائے تو حضرت شاہ عنایتؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
بیعت کی مجلس ختم ہونے کے بعد سب لوگ چلے گئے مگر بلھے شاہؒ وہیں بیٹھے رہے۔

حضرت شاہ عنایتؒ نے دریافت فرمایا:

"نوجوان! تم کیوں نہیں گئے؟ سب لوگ جا چکے ہیں۔"

بابا بلھے شاہؒ نے عرض کیا:

"میں جانے نہیں آیا، رہنے آیا ہوں۔
میں آپ کا غلام بننا چاہتا ہوں۔ لمبا سفر طے کر کے یہاں آیا ہوں۔"

یہ سن کر حضرت شاہ عنایتؒ مسکرائے اور فرمایا:

"بیٹا، ہمارے ہاں مہمانوں کے لیے کوئی انتظام نہیں۔"

بابا بلھے شاہؒ نے جواب دیا:

"میں مہمان نہیں، خادم بن کر آیا ہوں۔"

آپ نے ان کی اخلاص کو دیکھ کر بیعت فرما لی۔
اس کے بعد بابا بلھے شاہؒ کا دل اپنے مرشد کی محبت میں فنا ہوگیا۔
انہوں نے فرمایا:

"سائیں نی میں کیوں دھوکھا کھایا، رنگ میرے مرشد دا چڑھیا۔"

بلھے شاہؒ اپنے مرشد کو “ہادی”، “دلبر”، “سجن” اور “یار” کے القابات سے یاد کرتے۔
ان کے نزدیک مرشد ہی عارفِ حقیقی اور معرفتِ الٰہی کا سرچشمہ تھے۔
انہوں نے دنیاوی تعلقات، شادی اور خاندان سب چھوڑ کر اپنے مرشد کی محبت میں خود کو فنا کر دیا۔


تصانیفِ حضرت شاہ عنایتؒ

حضرت شاہ عنایتؒ نے اپنی زندگی درس و تدریس، تبلیغ اور تصوف کی خدمت میں گزاری۔
آپ کے علمی و روحانی کارنامے آج بھی مشعلِ راہ ہیں۔
آپ کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:

  1. دستورالعمل

  2. اصلاح العمل

  3. لطائفِ غیبیہ

  4. اشارات الطالبین

ان کتب میں آپ نے سلوک، معرفت، تزکیۂ نفس اور عشقِ الٰہی کے گہرے اسرار بیان فرمائے۔


وصالِ مبارک اور مزار شریف

حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ کا وصال 1728ء میں ہوا۔
آپ کا مزار مبارک مزنگ چونگی، لاہور (کویئنز روڈ) پر واقع ہے۔
یہ مزار آج بھی مرکزِ روحانیت ہے جہاں ہزاروں عقیدت مند اور طالبانِ حق فیض حاصل کرنے آتے ہیں۔


عرسِ مبارکِ حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ

حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ کا سالانہ عرسِ مبارک ہر سال 25 تا 27 جمادی الثانی کو لاہور کے تاریخی علاقے مزنگ چونگی (کویئنز روڈ) پر آپ کے مزارِ مبارک پر نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔ یہ تین روزہ روحانی اجتماع برصغیر کے اُن عظیم صوفی میلوں میں شمار ہوتا ہے جو صدیوں سے عشقِ حقیقی، رواداری، اور انسان دوستی کے پیغام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

عرس کے ایّام میں لاہور کا روحانی ماحول بدل جاتا ہے۔ عقیدت مند قافلوں کی صورت میں مزار شریف پر حاضری دیتے ہیں، چادر چڑھاتے ہیں، درود و سلام اور نعت خوانی کی محفلیں برپا ہوتی ہیں، جبکہ راتوں کو وجدانی قوالیاں اور ذکر و سماع کی محفلیں صوفیانہ فضا کو اور بھی معطر کر دیتی ہیں۔ علماء و مشائخ آپ کی تعلیماتِ معرفت و فقر پر روشنی ڈالتے ہیں، جن کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ "اللہ تک پہنچنے کا راستہ صرف محبت، اخلاص اور خدمتِ خلق سے گزرتا ہے۔"

عرس کا اہتمام محکمہ اوقافِ حکومتِ پنجاب کی زیرِ نگرانی کیا جاتا ہے، اور اس موقع پر سیکورٹی، لنگرِ عام، اور زائرین کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے جاتے ہیں۔

سنہ 1446ھ بمطابق 2025ء میں حضرت شاہ عنایتؒ کا 299واں عرسِ مبارک 27 سے 29 دسمبر 2024ء کے دوران منایا گیا۔ ان تاریخوں کا قمری حساب 25 تا 27 جمادی الثانی سے مطابقت رکھتا ہے۔
اس موقع پر ہزاروں کی تعداد میں اہلِ محبت، درویش، علما، شعرا اور محققین نے شرکت کی اور حضرت شاہ عنایتؒ کے فیض و کرامت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

یہ عرس صرف ایک یادگار تقریب نہیں بلکہ ایک روحانی مدرسہ ہے — جہاں آنے والا ہر شخص اپنے دل کی دنیا بدلتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ شاہ عنایتؒ کی تعلیمات آج بھی عشقِ الٰہی کی روشن مشعل بن کر انسانیت کو نور عطا کر رہی

ہیں۔

حضرت شاہ عنایت قادری شطاری  کا مزار


اختتامیہ

حضرت شاہ عنایت قادری شطاریؒ نہ صرف ایک عظیم صوفی بزرگ تھے بلکہ علم و عرفان کے سمندر بھی تھے۔
آپ نے انسانیت، محبت، اور معرفتِ الٰہی کا وہ پیغام دیا جو صدیوں سے دلوں کو منور کر رہا ہے۔
آپ کا نام ہمیشہ تصوف کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔



Post a Comment

Previous Post Next Post