حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمت اللہ علیہ کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ سلسلۂ چشتیہ کے جلیل القدر بزرگ اور صوفیائے کرام میں بلند مقام رکھنے والی ہستی تھے۔ آپ حضرت خواجہ ابو احمد عبدالچشتیؒ کے فرزند و خلیفہ تھے اور اپنے وقت کے کامل ولی، زاہد، عابد اور اہلِ معرفت بزرگوں میں شمار ہوتے تھے۔ آپ کا تعلق افغانستان کے علاقے چِشت سے تھا، جہاں سے سلسلۂ چشتیہ کو اپنی نسبت ملی۔ آپ نے اپنے والدِ گرامی سے تصوف، فقر اور سلوک کی تعلیم حاصل کی اور اپنی زندگی عبادت، ذکرِ الٰہی، خدمتِ خلق اور محبتِ رسول ﷺ میں گزاری۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ نے سلسلۂ چشتیہ کے فیوض و برکات کو آگے بڑھایا، اور آپ ہی کے روحانی فیض کے ذریعے بعد میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ جیسے عظیم بزرگوں نے برِصغیر میں اس سلسلے کو پھیلایا۔ 

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی  کا مزار

خواجہ ابو محمد چشتی کی ولادت

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت کے حالات بڑے عجیب و بابرکت تھے۔ روایت ہے کہ جب آپ کی والدہ محترمہ آپ کے ساتھ حاملہ تھیں تو اُنہیں اکثر اپنے پیٹ سے ذکرِ الٰہی کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ آپ کے والدِ گرامی حضرت ابو احمد عبدالچشتیؒ بھی اس نورانی کیفیت کو محسوس کرتے تھے، اور جب کبھی اپنی اہلیہ کی طرف متوجہ ہو کر "السلام علیکم" کہتے، تو والدہ جواب میں مسکرا کر فرماتیں کہ "کیا آپ کو معلوم ہے کہ میرے بطن میں بیٹا ہے؟" تو وہ جواب دیتے، "ہاں، مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی بشارت عطا ہوئی ہے۔"

آپ کی ولادت محرم الحرام کی پہلی رات، 331 ہجری میں ہوئی۔ اسی رات آپ کے والدِ گرامی کو خواب میں حضور نبی اکرم ﷺ کی زیارت نصیب ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا:

> "اے ابو احمد! اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹے سے نوازے گا، جس کا نام میرے نام پر محمد رکھنا۔"


چنانچہ جب آپ دنیا میں تشریف لائے تو ابھی دایہ کے ہاتھوں میں ہی تھے کہ سات مرتبہ "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه" بلند آواز میں ادا فرمایا۔ یہ واقعہ آپ کی ولادت کی کرامت اور ولایت کی ابتدائی نشانیوں میں شمار ہوتا ہے۔

مزید روایت یہ بھی ہے کہ آپ محرم کے ابتدائی دنوں میں دن کو دودھ نہیں پیتے تھے بلکہ صرف رات کو نوش فرماتے تھے، گویا بچپن ہی سے روزے داروں کی سی حالت میں رہتے۔ یہ بات آپ کے باطنی نور، زہد و تقویٰ، اور روحانی استعداد کا واضح ثبوت تھی۔


آپ کی تعلیم و تربیت

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ابتدائی زندگی علم و عبادت سے معمور تھی۔ روایت کے مطابق جب آپ کی عمر ساڑھے چار سال ہوئی تو والدِ گرامی حضرت خواجہ ابو احمد عبدالچشتیؒ نے آپ کو تعلیم کے لیے مدرسہ بھیج دیا۔ آپ فطری طور پر نہایت ذہین، منکسر المزاج اور علم کے شوقین تھے۔ تھوڑے ہی عرصے میں آپ نے قرآنِ پاک مکمل حفظ کر لیا اور بعد ازاں علومِ دینیہ، فقہ، حدیث، تفسیر اور معرفت میں کمال حاصل کیا۔ جب آپ کی عمر چودہ سال ہوئی تو آپ نے خلوت و عبادت کا طریقہ اختیار کر لیا اور زیادہ وقت عبادت و ریاضت میں گزارنے لگے۔ گھر میں ایک کنواں تھا، جس میں آپ کبھی کبھی نفس کو مجاہدے میں ڈالنے کے لیے لٹک کر عبادت فرمایا کرتے تھے۔ یہ مجاہدہ اور ریاضت آپ کے روحانی مقام اور ولایت کی بنیاد ثابت ہوئی۔


باطنی تعلیم اور مرشد پاک

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے والدِ گرامی اور مرشدِ کامل، حضرت خواجہ ابو احمد عبدالچشتی رحمۃ اللہ علیہ تھے، جو سلسلۂ چشتیہ کے جلیل القدر بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حضرت ابو محمد چشتیؒ نے اپنی ظاہری تعلیم بھی انہی کے زیرِ تربیت حاصل کی اور اپنی باطنی تربیت و روحانی فیض کا سرچشمہ بھی اپنے والدِ ماجد ہی کو بنایا۔ آپ کے والد کو آپ کی پیدائش سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت عطا ہو چکی تھی کہ اُنہیں ایسا فرزند نصیب ہوگا جو اُن کا جانشین اور روحانی وارث بنے گا۔ اسی لیے حضرت ابو احمد عبدالچشتیؒ نے بچپن ہی سے آپ کی تربیت پر خاص توجہ دی۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ نے اپنے والد ہی سے علم، زہد، تقویٰ، اور معرفتِ الٰہی کے جوہر سیکھے، اور انہی کے فیض سے آپ نے ولایت و کمال کی اعلیٰ منازل طے کیں۔

خواجہ ابو محمد چشتی کے والد صاحب کا انتقال

جب حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر چوبیس سال ہوئی تو آپ کے والدِ ماجد، حضرت خواجہ ابو احمد عبدالچشتیؒ کا وصال ہو گیا۔ والدِ گرامی کے وصال کے بعد آپ اُن کے قائم مقام بنے اور مسندِ خلافت پر تشریف فرما ہوئے۔ درحقیقت، آپ کے والد کو پہلے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت مل چکی تھی کہ “ہم تمہیں ایک ایسا بیٹا عطا کریں گے جو تمہاری خلافت پر بیٹھے گا اور تمہارے فیض کو آگے بڑھائے گا۔”

چنانچہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ نے اپنے والد کے فیضِ باطنی اور ظاہری دونوں سے کمال استفادہ کیا۔ آپ اکثر اوقات اپنے والد کی خدمت اور صحبت میں رہتے اور اُن کی تعلیمات کو حرزِ جان بنائے رکھتے۔ آپ کی زبان سے نکلنے والا ہر کلمہ اثر انگیز اور مقبول ہوتا، اور آپ کی دعائیں مقبولِ بارگاہِ الٰہی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ آپ کا روحانی فیض دور دور تک پھیل گیا، اور لوگ باطنی و ظاہری علوم حاصل کرنے کے لیے دور دراز علاقوں سے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے لگے۔

محفل سماع کا واقعہ

حضرت خواجہ ابو احمد عبدالچشتی رحمۃ اللہ علیہ کو سماع (روحانی موسیقی و قوالی) سے خاص شغف تھا، کیونکہ آپ کے نزدیک یہ دلوں کو ذکرِ الٰہی کی طرف مائل کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے والدِ گرامی کی صحبت میں ایک محفلِ سماع میں موجود تھے۔ جب قوالوں نے وجد خیز اشعار پڑھنے شروع کیے تو آپ پر شدید روحانی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ بے خود ہو کر بے ہوش ہو گئے۔ آپ کافی دیر تک اسی حال میں رہے۔


جب حضرت ابو احمد چشتیؒ نے یہ حالت دیکھی تو فوراً قوالی بند کروا دی۔ کچھ دیر بعد جب آپ ہوش میں آئے تو آپ کے لبوں سے چند پرنور الفاظ نکلے، اور پھر آپ والدِ گرامی کے قدموں میں گر پڑے اور عرض کیا:


> “ابا جان! جو مقام سو برس کی عبادت سے حاصل نہیں ہوتا، وہ چند لمحوں کی محفلِ سماع سے حاصل ہو جاتا ہے۔”

یہ سن کر آپ کے والدِ محترم مسکرا کر فرمانے لگے:

“بیٹا، تم نے سچ کہا۔ لوگوں کو اس سماع کی قدر و قیمت کا اندازہ نہیں، اس کے اندر بے شمار روحانی راز پوشیدہ ہیں، جو صرف اہلِ دل ہی پہچان سکتے ہیں۔”

یہ واقعہ اس بات کا مظہر ہے کہ سلسلۂ چشتیہ میں سماع کی محافل محض ظاہری نغمہ نہیں بلکہ روحانی معرفت و قربِ الٰہی کا ایک ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔


خواجہ ابو محمد چشتی رحمت اللہ علیہ کی کرامات



ایک روز حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ دریائے دجلہ کے کنارے اپنے ہاتھ سے کپڑے سی رہے تھے کہ اسی دوران بادشاہ گھوڑے پر سوار وہاں سے گزرا۔ آپ کو دیکھ کر اس کے دل میں بے حد عقیدت پیدا ہوئی، وہ فوراً گھوڑے سے اتر آیا اور آپ کے قدموں میں سر رکھ کر ادب و احترام کا اظہار کیا۔ حضرت نے شفقت سے فرمایا: “اے بادشاہ! کیا تم نے حضور نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا کہ جس بادشاہ کی سلطنت میں کوئی بیوہ عورت بھوکی رہے تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا؟” یہ سن کر بادشاہ شرمندہ ہوا، سر جھکا لیا اور عقیدت کے طور پر کچھ نقدی رقم پیش کی۔ آپ نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بہت کچھ عطا کیا ہے، ہمیں تمہارے اس مال کی ضرورت نہیں۔” جب بادشاہ نے اصرار کیا تو آپ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھا کر فرمایا: “اے میرے اللہ! جس طرح تو نے ہمیں اپنا خزانہ دکھایا ہے، اسے بھی دکھا دے۔” فوراً دریائے دجلہ کی لہروں سے مچھلیاں اپنے منہ باہر نکالنے لگیں اور ہر مچھلی کے منہ میں ایک ایک سونے کا دینار تھا۔ یہ منظر دیکھ کر بادشاہ پر رقت طاری ہو گئی، وہ آپ کے قدموں میں گر کر معافی مانگنے لگا۔ یہ واقعہ آپ کے زہد، قناعت اور کامل توکل علی اللہ کا واضح ثبوت ہے۔


روایت میں آتا ہے کہ جب سلطان محمود غزنوی نے ہند پر لشکر کشی کی اور حاکمِ سندھ و پنجاب راجہ جیپال کو شکست دے کر متعدد علاقے فتح کیے، تو اُس کی فتوحات 407 ہجری میں کنوج تک پھیل گئیں۔ اس دوران بے شمار قلعے، بت خانے اور بت پرستی کے مراکز منہدم کیے گئے۔ جب سلطنتِ ہند کے لوگوں نے یہ دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ ہماری شکست کی وجہ یہ ہے کہ سومنات کا بت ہم سے ناراض ہو گیا ہے، ورنہ وہ ہمارے دشمنوں کو تباہ کر دیتا۔ یہ سن کر سلطان محمود غزنوی کے دل میں جوشِ ایمان پیدا ہوا اور اس نے عزم کیا کہ وہ خود سومنات کے بت خانے کو توڑ کر آئے گا تاکہ باطل پرستوں کا یہ وہم ختم ہو جائے۔


اس مقصد کے لیے جب سلطان نے سومنات پر حملہ کیا تو اسے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، مگر اللہ کے حکم اور اولیائے کرام و درویشوں کی روحانی مدد سے وہ آخرکار کامیاب ہوا۔ انہی درویشوں میں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی آتا ہے، جنہوں نے نہ صرف سلطان کی روحانی پشت پناہی فرمائی بلکہ اپنی دعاؤں اور باطنی قوت کے ذریعے فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی روحانی امداد سے نہ صرف بت خانۂ سومنات منہدم ہوا بلکہ ہند کی سرزمین پر اسلام کا غلبہ اور حق کا بول بالا ہوا۔ یہ واقعہ آپ کی ولایت، روحانی اثر اور امتِ مسلمہ سے محبت کا ایک روشن باب ہے۔

تاریخی طور پر تو سلطان محمود غزنوی نے سن 416 ہجری (1025 عیسوی) میں سومنات کے بت خانے (جو گجرات کے علاقے کاتھیاواڑ میں واقع تھا) پر لشکر کشی کی۔ اس سے پہلے وہ کئی بار کوشش کر چکا تھا، مگر شدید مزاحمت، راستے کی دشواریوں، اور سومنات کے گرد مضبوط قلعہ بندی کے باعث کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔


روحانی روایات میں بیان آتا ہے کہ جب سلطان بار بار ناکام ہو رہا تھا تو اس نے اولیائے کرام سے دعا اور مدد کی درخواست کی۔ انہی روحانی ہستیوں میں حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا نام بھی مذکور ہے۔ روایت ہے کہ آپ نے باطنی طور پر سلطان محمود کی مدد فرمائی، اور آپ کی دعا و روحانی تصرف سے راستے کھل گئے، لشکر کو قوت ملی، اور آخرکار سومنات کا قلعہ فتح ہوا۔


خواجہ ابو محمد چشتی کی ہمشیرہ اور خلفاء 

روایت میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک ہمشیرہ محترمہ تھیں جو نہایت باعفت، عبادت گزار اور نیک سیرت خاتون تھیں۔ اُن کی عمر تقریباً چالیس برس تک ہو چکی تھی اور وہ اپنے بھائی کی خدمت میں ہمیشہ حاضر رہتیں۔ وہ دنیا سے بے رغبت تھیں، کپڑے کات کر اپنا گزر بسر کرتیں اور نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں۔ حضرت خواجہ ابو محمد چشتیؒ کو اپنی ہمشیرہ سے بے حد محبت تھی اور اکثر فرمایا کرتے تھے:


“تمہارے وطن سے ایک بیٹا پیدا ہوگا جو قطب الاقطاب ہوگا، مگر یہ بات شادی کے بغیر ممکن نہیں۔”


چونکہ آپ کی بہن شریف الطبع اور نہایت پاکدامن خاتون تھیں، اس لیے نکاح سے گریز کرتی تھیں۔ ایک روز حضرت ابو محمد چشتیؒ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا کہ “جو تم نے اپنی بہن سے فرمایا وہ حق ہے۔ تمہارے قریب ہی ایک شریف النسب سید محمد سَمعان نامی شخص رہتا ہے، جو نہایت پرہیزگار، متقی اور اہلِ دل بندہ ہے۔ اپنی ہمشیرہ کا نکاح اس سے کر دو۔”


آپ نے فوراً سید محمد سمعان کو خط لکھ کر بلایا۔ جب وہ حاضر ہوا تو حضرت ابو محمد چشتیؒ بہت خوش ہوئے اور اپنی ہمشیرہ کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا۔ کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے اُنہیں ایک بیٹا عطا فرمایا۔ حضرت ابو محمد چشتیؒ نے اُسے اپنی اولاد کی طرح پالا، اُس کی روحانی تربیت فرمائی اور بچپن سے ہی علم و معرفت کے جوہر اُس میں منتقل کیے۔


اسی فرزند کا نام آپ نے خواجہ ابو یوسف چشتی رکھا، جو بعد میں اپنے زمانے کے عظیم درویش اور ولی بنے۔ آپ نے اُنہیں "ناصر الدین" کا لقب عطا فرمایا۔ یہ بچہ دراصل وہی نورِ ولایت تھا جس کی خوشخبری حضرت ابو محمد چشتیؒ کو پہلے ہی دی گئی تھی۔

خلیفے

اپ کے خلیفوں میں تین خلفاء مشہور ہیں جن کے نام ناصر الدین حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی اور محمد کاکو اور استاد مردان ہیں۔

خواجہ ابو محمد چشتی کا وصال

آپ کا وصال مبارک 4 ربیع‌الثانی 421 ہجری میں ہوا، جبکہ بعض روایات کے مطابق 411 ہجری میں سلطان محمود بن سبکتگین کے عہدِ حکومت میں ہوا۔ اُس وقت آپ کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔

خواجہ ابو محمد چشتی رحمت اللہ علیہ کا مزار مبارک

آپ کا مزارِ مبارک چِشت شریف (افغانستان) میں واقع ہے، جو آج بھی زائرین و عاشقانِ طریقت کا مرکز ہے۔ یہ مقام روحانی فیوض و برکات کا منبع سمجھا جاتا ہے، جہاں روزانہ بے شمار عقیدت مند حاضر ہو کر دعا و نیاز پیش کرتے ہیں۔ مزار کے گرد و نواح میں ایک خاص روحانی سکون اور نورانیت محسوس ہوتی ہے، جو صدیوں سے قائم ہے۔ یہاں آنے والے لوگ دل کی تسکین، روح کی پاکیزگی اور باطنی سکون حاصل کرتے ہیں، اور یہ جگہ چشتی سلسلے کی روحانی بنیادوں کی یاد دلاتی ہے۔

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی  کا مزار




Post a Comment

Previous Post Next Post