حضرت جنید بغدادی کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات و کرامات

حضرت جنید بغدادیؒ تصوف اور سلوک کی دنیا کے عظیم ترین مشائخ میں سے ایک تھے۔ آپ کو “سید الطائفہ” بھی کہا جاتا ہے، یعنی صوفیوں کے سردار۔ ان کا زمانہ 3 ہجری صدی (تقریباً 830–910 عیسوی) ہے اور آپ بغداد میں پیدا ہوئے اور وہیں قیام فرمایا۔

حضرت جنید بغدادی کی مزار کی تصویر

حضرت جنید بغدادی کی ولادت

حضرت شیخ جنید بغدادیؒ کی ولادت تقریباً 218 ہجری میں بغداد میں ہوئی۔ آپ کا اصل نام جنید بن محمد تھا، آپ کی نسبت بغدادی تھی اور کنیت ابو القاسم تھی۔آپ کا مکمل نام ابو القاسم الجنید بن محمد الخزاز القواریری تھا۔

حضرت جنید بغدادی کے خاندانی حالات 

حضرت جنید بغدادی کے والد شیشہ اور کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور ان کا اصل وطن نہاوند، یعنی ایران تھا۔ بعد میں وہ بغداد ہجرت کر گئے اور وہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

حضرت جنید بغدادی کا بچپن

بچپن سے ہی آپ غیر معمولی طور پر ذہین تھے اور اپنی ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر بغداد میں حاصل کی۔ روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ جب آپ مکتب سے واپس آئے تو دیکھا کہ آپ کے والد کسی پریشانی میں ہیں۔ آپ نے وجہ پوچھی تو والد نے فرمایا کہ میں نے تمہارے ماموں کو زکوٰۃ کی رقم بھیجواٸی تھی، لیکن انہوں نے واپس کر دی ہے۔ اس وجہ سے میں فکر مند ہوں کہ شاید میں نے وہ کمائی نہیں کی جو اللہ والوں کو پسند ہو۔ یہ سن کر آپ نے فوراً والد سے وہ رقم لی اور ماموں کے دروازے پر جا کر دستک دی۔ شیخ سری سقطیؒ نے دوبارہ لینے سے انکار کر دیا، تو آپ نے دروازے پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا: "میرے والد نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے، زکوٰۃ کی رقم دے کر اب ان پر کوئی الزام نہیں۔" یہ الفاظ سن کر شیخ سری سقطیؒ دروازے پر تشریف لائے اور فرمایا: "میں تمہارے والد کے اس حق کو قبول کرتا ہوں، اور تمہیں بھی قبول کرتا ہوں۔" چنانچہ آپ سات سال کی عمر سے اپنے ماموں شیخ سری سقطیؒ کی صحبت میں رہنے لگے اور وہیں سے تعلیم و تربیت حاصل کی۔

تعلیم و تربیت 

جیسے کہ اپ نے ابتدائی تعلیم بغداد میں حاصل کی ساتھ میں اپ اپنے مامو کی خدمت میں بھی حاضر ہوتے رہتے تھے۔اور ان سے بھی مستفیض ہوئے، حضرت جنید بغدادی نے فقہ شافعی کی تعلیم مشہور عالم ابو ثور ابراہیم بن خالد الکلبی(امام شافعی ) سے حاصل کی، جو بغداد کے معروف فقہاء اور مشاعر علماء میں سے تھے۔ انہوں نے شافعی فقہ میں کمال حاصل کیا اور اپنی علمی قابلیت کے باعث اسی کے زیر نگرانی فتویٰ بھی جاری کیا۔ اس وقت حضرت جنید کی عمر صرف 20 سال تھی۔

حضرت جنید بغدادی کا مزار

آئینہ سازی کا کام

جب آپ سنِ بلوغت کو پہنچے تو بغداد میں آئینہ سازی کی ایک دکان قائم کی، اور اسی دکان میں پردہ ڈال کر روزانہ چار سو رکعت نفل نماز ادا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد آپ نے یہ دکان چھوڑ دی اور حضرت سری سقطیؒ کے گھر کے ایک حجرے میں خلوت اختیار کر لی۔ وہاں آپ تیس برس تک ایسے مقیم رہے کہ عشاء کے وضو سے ہی فجر کی نماز ادا کرتے تھے اور پوری رات عبادت، ذکر اور ریاضت میں مشغول رہتے تھے۔

حضرت سری سقطی سے بیعت 

آپ اپنے ماموں حضرت سری سقطیؒ کے مرید تھے اور آپ کے پیر و مرشد تھے۔ کسی نے حضرت سری سقطیؒ سے پوچھا کہ کیا مرید بھی اپنی مرشد سے اعلیٰ مرتبہ حاصل کر سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں، مرید بھی مرشد سے اعلیٰ مقام حاصل کر سکتا ہے، جیسے میرے مرید حضرت جنید بغدادیؒ ہیں۔

حضرت جنید بغدادیؒ نے اپنی روحانی تعلیم و تربیت انہی سے حاصل کی اور اپنے قلب کو اللہ کی محبت اور ذکر سے پاک کیا۔

خلیفہ وقت کی آزمائش 

ایک دفعہ کچھ فتنہ پرور لوگوں نے خلیفہ وقت کو اپ کی شکایت کر دی اور یہ کہا کہ اپ کی وجہ سے فتنہ اور فساد برپا ہو رہا ہے ، چنانچہ خلیفہ نے اس کی تحقیق کے لیے ایک خوبصورت کنیز کو لباس پہنا کر یہ نصیحت کی کہ وہ جنید بغدادی کے پاس پہنچ کر ان سے یہ کہیں کہ میں ایک امیر زادی ہوں اور اگر تو میرے ساتھ ہم بستر ہو تو میں تمہیں دولت سے نوازوں کی ، اس کنیز کے ساتھ خلیفہ نے ایک غلام کو بھی بھیج دیا تاکہ وہ واقعہ کا گواہ ہو ، چنانچہ جب وہ کنیز حضرت جنید بغدادی کے پاس پہنچی اور اپنا مدعا بیان کیا تو حضرت جنید بغدادی نے سر نیچے جھکا کر سرد آہ بھری ، جس سے اس کنیز کی جان نکل گئی، بعد میں اس خلیفہ نے آپ کے پاس پہنچ کر معافی مانگی اور کہا کہ اتنی خوبصورت کنیز کو مارنے کی کیا ضرورت تھی تو اپ نے جواب میں کہا کہ ایک مومن کو تنگ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ جبکہ خلیفہ تو مومنوں کا محافظ ہوتا ہے۔

حضرت جنید بغدادی کو وعظ گوئی کا حکم

جب آپ کے مرشد نے آپ کے باطن کو روشن دیکھا اور نفس کو پاک کر دیا تو آپ کو لوگوں میں وعظ کا حکم دیا گیا، لیکن آپ نے کہا کہ آپ کی حیات میں وعظ گوئی مجھے پسند نہیں؛ اسی رات آپ کو خواب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم آئے اور وعظ کرنے کا حکم دیا۔ صبح جب آپ نے یہ خواب اپنے مرشد سری سقطی کے سامنے بیان کیا تو انہوں نے کہا کہ حضور پاک نے بھی تمہیں وعظ کا حکم دے دیا ہے اور آپ کو کیسے معلوم ہوا، آپ نے پوچھا، تو مرشد نے فرمایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ بارئِ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بھیجا کہ جنید کو وعظ کرنے کی تاکید کریں، چنانچہ حضرت جنید نے کہا کہ میں اس شرط پر وعظ کر سکتا ہوں بشرطیکہ مجمع 40 ہزار سے زیادہ نہ ہو۔


حضرت جنید بغدادی کے ارشادات

حضرت جنید بغدادی کے کچھ ارشادات یوں ہیں کہ آپ فرماتے تھے کہ مجھے تمام مدارج فاقہ کشی اور شب بیداری سے حاصل ہوئے، اور صوفی وہ ہے جو خدا اور رسول کی اس طرح اطاعت کرے کہ ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے میں عمل۔ آپ فرماتے کہ میرے مرشد حضرت علی کے متبعین میں سے تھے اور جب ان کی صفات کا تذکرہ کرتے تو لوگوں کو سننے کی سکت باقی نہ رہتی۔ آپ حضرت علی کے قول کو بھی بیان کرتے کہ اللہ تعالی نے مجھے اپنی معرفت عطا کی، اور وہ ایسا یکتا ہے کہ نہ کوئی اس کا مشابہ ہو سکتا ہے، نہ اس کا تعلق کسی جنس سے ہے، نہ اس کو مخلوقات پر قیاس کیا جا سکتا ہے، وہ دور ہوتے ہوئے بھی نزدیک ہے اور نزدیک ہوتے ہوئے بھی دور، اور اس سے بلند کوئی نہیں۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں کہ جب میں اس حقیقت سے روشناس ہوا کہ کلام وہ ہے جو قلب سے ہو، تو میں نے تیس سال تک نمازیں ادا کیں؛ اگر نماز کے دوران دنیا کا خیال آتا تو اسے دوبارہ ادا کرتے اور اگر جنت کا تصور آتا تو سجدہ سہو کرتا۔


حضرت جنید بغدادی کی کرامات

ایک مرتبہ دوران وعظ 40 افراد میں سے 22 پر غش طاری ہو گیا اور 18 انتقال کر گئے۔ ایک اور موقع پر وعظ کے دوران ایک آتش پرست مسلمانوں کے بیچ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ حضور اکرم ﷺ کا یہ فرمان ہے کہ مسلمان کی فراست سے بچتے رہو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ یہ سن کر حضرت جنید بغدادی نے فرمایا کہ اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں مسلمان ہونا چاہیے۔ اس کرامت اور بیان سے متاثر ہو کر وہ آتش پرست بھی مسلمان ہو گیا۔


ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی کو آشوب چشم کی بیماری ہو گئی۔ ایک آتش پرست طبیب نے آنکھوں پر پانی نہ لگانے کی ہدایت دی، لیکن آپ نے فرمایا کہ وضو کرنا میرے لیے ضروری ہے۔ طبیب کی جانے کے بعد آپ نے وضو کر کے نماز عشاء ادا کی اور سو گئے۔ صبح اٹھنے پر چشم کا درد مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا اور ایک آواز آئی کہ چونکہ تم نے ہماری عبادت کے لیے آنکھوں کی پرواہ نہیں کی، اس لیے ہم نے تمہاری تکلیف ختم کر دی۔ جب طبیب نے پوچھا کہ ایک ہی شب میں آنکھیں کیسے ٹھیک ہو گئیں، تو آپ نے فرمایا کہ وضو کرنے سے۔ یہ سن کر طبیب نے کہا کہ میں درحقیقت مریض تھا اور آپ طبیب ہیں۔ یہ کہہ کر وہ طبیب بھی مسلمان ہو گیا۔


ایک شخص نے ایک روز ابلیس کو فرار ہوتے ہوئے دیکھا اور جب وہ حضرت جنید بغدادی کے پاس پہنچا تو آپ کو بہت غضبناک حالت میں پایا۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ غصہ نہ کریں، کیونکہ غصہ کی حالت میں شیطان غالب آ جاتا ہے۔ آپ نے جواب میں فرمایا: "ہاں، لیکن ابلیس میری غصے سے بھاگتا ہے کیونکہ میں یہ عمل نفس کی خاطر نہیں بلکہ اللہ کی خاطر کرتا ہوں۔ اگر خدا نے ابلیس سے پناہ مانگنے کا نہ کہا ہوتا تو میں کبھی پناہ طلب نہ کرتا۔"


ایک روز آپ کی ملاقات ابلیس سے ایک شخص کی صورت میں ہوئی تو آپ نے اس سے سوال کیا کہ آدم کو سجدہ نہ کرنے کی کیا وجہ تھی؟ تو ابلیس نے کہا کہ غیر اللہ کو سجدہ کیسے روا ہے؟ یہ سن کر آپ تھوڑے متاثر ہوئے تو غیب سے آواز آئی کہ اس سے کہہ دو کہ تو کاذب اور جھوٹا ہے کیونکہ بندے کو مالک کے حکم سے انحراف کی اجازت نہیں یہ سن کر ابلیس وہاں سے بھاگ گیا ۔ 

ایک دفعہ ایک عورت جس کا بچہ گم گیا تھا وہ آپ کی خدمت میں آئی تو آپ نے اس کو صبر کرنے کا کہا وہ چلی گئی کچھ دن بعد پھر آئی تو آپ نے دوبارہ اس کو  صبر کرنے کا کہا، چنانچہ کچھ دنوں کے بعد وہ عورت پھر آئی اور کہا کہ اب صبر کی تاب نہیں ہے تو آپ نے کہا کہ اب تو ٹھیک کہتی ہے جا تیرا بیٹا مل گیا ہے وہ عورت گھر پہنچی تو بیٹا موجود تھا۔


حضرت جنید بغدادی کے واقعات

ایک مرتبہ دوران وعظ کسی نے عرض کیا کہ آپ کا وعظ میری فہم سے بالاتر ہے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اپنی 70 سال کی عبادت کو اپنے قدموں کے نیچے رکھ کر سرنگوں ہو جا اس کے بعد اگر تیری سمجھ میں نہ آئے تو یقینا میرا قصور ہے ۔

ایک مرتبہ کسی نے دوران وعظ آپ کی تعریف کر دی تو فرمایا کہ حقیقت میں یہ خدا کی تعریف کر رہا ہے، کسی نے سوال کیا کہ قلب کو مسرت کس وقت حاصل ہوتی ہے تو آپ نے فرمایا جب قلب میں اللہ ہوتا ہے۔

ایک روز کسی نے آپ کی خدمت میں پانچ سو دینار پیش کیے تو آپ نے اس سے کہا کہ کیا تمہارے پاس اور بھی موجود ہیں تو اس نے اثبات میں جواب دیا، پھر پوچھا کہ کیا تجھے اور بھی حاجت ہے تو اس شخص نے کہا کہ ہاں مجھے اور بھی حاجت ہے تو آپ نے فرمایا کہ اپنی رقم واپس لے لو کیونکہ مجھے تو کوئی حاجت نہیں لیکن تمہیں تو ہے۔

ایک دفعہ کسی فقیر نے آپ سے سوال کیا تو آپ کو یہ خیال آیا کہ جب یہ شخص مزدوری کر سکتا ہے تو اس کو سوال کرنا جائز نہیں، لیکن اسی رات آپ نے خواب میں دیکھا کہ اس شخص کا سر ایک برتن میں رکھا ہوا ہے اور حکم دیا جا رہا ہے کہ اس کو کھا لو تو آپ نے فرمایا کہ میں تو مردہ خوار نہیں ہوں تو حکم ہوا کہ پھر دن میں اس کو کیوں کھایا تھا تو اس وقت آپ کو خیال آیا کہ ہاں میں نے اس کی غیبت کی تھی اور یہ اسی جرم کی سزا ہے۔

ایک دفعہ ایک چور نے اپ کا کرتا چوری کر لیا دوسرے دن جب اپ نے بازار میں اس چور کو وہ کرتا بھیجتے ہوئے دیکھا کہ خریدنے والا اس چور سے یہ کہہ رہا تھا کہ اگر کوئی گواہی دے کہ یہ مال تیرا ہی ہے تو میں خرید لوں گا اپ نے یہ سن کر اس خریدار سے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں اور میں اس کا واقف ہوں۔ یہ سن کر اس خریدار نے اس چور سے وہ کرتا خرید لیا۔

حجام اور حضرت جنید بغدادی کا واقعہ

حضرت جنید فرماتے ہیں کہ اخلاص کی تعلیم میں نے ایک حجام سے حاصل کی۔ واقعہ یوں پیش آیا کہ مکہ معظمہ میں قیام کے دوران ایک حجام کسی دولت مند کی حجامت کر رہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ خدا کے لیے میری حجامت کر دے۔ حجام نے فوراً دولت مند کی حجامت چھوڑ دی اور میرے بال کاٹنے شروع کیے۔ کام مکمل کرنے کے بعد اس نے میرے ہاتھ میں ایک کاغذ کی پوجیا دے دی جس میں کچھ رقم موجود تھی۔ میں نے نیت کی کہ جو کچھ بھی مجھے دستیاب ہوگا، اسے میں حجام کو نظر کروں گا۔

کچھ عرصے کے بعد بصرہ سے ایک شخص نے مجھے اشرفیوں کی تھیلی پیش کی۔ میں نے سوچا کہ یہ تھیلی حجام کو دینی چاہیے، تو میں اسے حجام کے پاس لے گیا۔ حجام نے کہا: "میں نے تو تمہاری خدمت خدا کے لیے کی تھی، اور تم بے حیائی سے مجھے یہ تھیلی پیش کرنے آئے ہو۔ کیا تمہیں اس کا علم نہیں کہ جو خدا کے واسطے کام کرتا ہے، وہ کسی اور سے کوئی معاوضہ نہیں لیتا؟


حضرت جنید بغدادی کا وصال

حضرت جنید بغدادی کی وفات سن 298 ہجری میں ہوئی اور آپ کا مزار بغداد میں واقع ہے، جہاں سالانہ عقیدت مند آپ کی برسی پر حاضری دیتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق وفات کے وقت آپ کی روحانی روشنی اتنی تاباں تھی کہ حاضرین نے محسوس کیا کہ آپ کی روحانی حالت نے محفل کو نور سے بھر دیا، اور بعد میں مزار پر آنے والے لوگوں نے بارہا یہ کہا کہ وہاں موجود ہو کر دل و دماغ پر سکون اور روحانیت کا خاص اثر محسوس ہوتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت جنید بغدادی کی یاد اور کرامت آج بھی عقیدت مندوں کے لیے روحانی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔

حضرت جنید بغداد کا مزار ، قبر مبارک

حضرت جنید بغدادی کا عرس کب منایا جاتا ہے

حضرت جنید بغدادیؒ، جنہیں ابتدائی تصوف کے عظیم ترین بزرگان میں شمار کیا جاتا ہے، کا وصال روایتی طور پر ۲۷ رجب کو مانا جاتا ہے، اور یہی تاریخ ہمیشہ سے ان کا عرس کے طور پر منائی جاتی ہے۔ تاریخی حوالوں میں سالِ وصال کے بارے میں کچھ اختلاف ملتا ہے—کچھ مؤرخین ۲۹۷ ہجری لکھتے ہیں اور کچھ ۲۹۸ ہجری—لیکن اس بات پر اتفاق ہے کہ ۲۷ رجب ہی ان کے دنیا سے پردہ فرمانے کا دن ہے۔ چونکہ اسلامی کیلنڈر قمری ہے، اس لئے ہر سال عرس کی یہ تاریخ گریگورین کیلنڈر میں تبدیل ہونے پر بدلتی رہتی ہے، اگرچہ ہجری تاریخ اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ ان اختلافات کے باوجود، دنیا بھر کے صوفی مشائخ اور عقیدت مند ۲۷ رجب کو حضرت جنید بغدادیؒ کی روحانی تعلیمات، قلبی پاکیزگی کے اصولوں، اور تصوف کی بنیادوں پر ان کے گہرے اثرات کو محبت و عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post