حضرت سید عثمان مروندی سخی لال شہباز قلندرؒ برصغیر کے اُن صوفی بزرگوں میں سے ہیں جن کی تعلیمات نے مذہبی، فکری، اور معاشرتی تفریق کو مٹا کر انسانیت کا پیغام عام کیا۔ ان کا مزار، جو آج سیہون شریف (ضلع جامشورو، سندھ) میں واقع ہے، ایک ایسی روحانی پناہ گاہ ہے جہاں ہر مذہب، عقیدہ، اور رنگ و نسل کے لوگ یوں یکجا ہوتے ہیں جیسے کبھی کوئی تفریق تھی ہی نہیں۔ یہاں کوئی ہندو اور مسلمان نہیں، بلکہ سب صرف کلندر کے عقیدت مند ہوتے ہیں۔
دربار کے اندر اور باہر جب " لوگوں کی دھمال" شروع ہوتی ہے، تو فضا میں قلندر کے یہ مصرعے گونجنے لگتے ہیں:
"حیدریم، قلندرم، مستم، بندۂ مرتضیٰ حستم،
پیشوائے تمام رندایم کے سگے، کوئے شیرِ یزدایم!"
یہ اشعار حضرت لال شہباز قلندر کی روحانی وابستگی کی علامت ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں حیدری ہوں، یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے نسبت رکھتا ہوں، میں دنیا سے بیگانہ ہو کر صرف عشقِ الٰہی میں مست ہوں، اور میرے مرشد، آقا علی، تمام عاشقانِ خدا کے پیشوا ہیں۔ میں اللہ کے شیر کے کوچے کا ایک ادنیٰ سگ ہوں، جو ان کے در سے سیراب ہو رہا ہے اور کبھی اسے چھوڑنے والا نہیں۔
لعل شہباز قلندر کی ولادت اور ابتدائی تعلیم
حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ کا اصل نام سید محمد عثمان مروندی تھا۔ آپ کا لقب لال شہباز قلندر یا جھول لال کے نام سے مشہور ہوا۔
آپ کی ولادت 1177ء (بمطابق 538 ہجری) میں مروند نامی علاقے میں ہوئی، جو آج کے افغانستان کے صوبہ قندھار کے جنوب میں واقع ہے اور میوند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آپ کے والد گرامی کا نام حضرت سید ابراہیم قبیر الدین اور والدہ کا نام ماجدہ قبیر الدین تھا۔ دونوں نہایت متقی، پرہیزگار، اور علمِ دین کے شیدائی تھے۔ آپ کے خاندان کا تعلق عراق سے تھا۔ آپ کے اجداد پہلے ایران، پھر وہاں سے افغانستان منتقل ہوئے، اور آپ نے اپنی جوانی میں پوری مسلم دنیا کا سفر کیا، آخرکار سندھ کے شہر سیہون کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔
لال شہباز قلندر کی علمی و روحانی تربیت
تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت قلندرؒ جب پچیس برس کے ہوئے تو کربلا تشریف لے گئے اور روضۂ امام حسینؓ کے قرب میں دس برس قیام فرمایا۔ وہاں آپ نے علم و معرفت میں گہرائی پیدا کی۔
اس کے بعد پینتیس برس کی عمر میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قیام کے دوران آپ نے روضۂ رسول ﷺ پر جھاڑو دینے اور خدمت کرنے کو باعثِ فخر سمجھا۔ اسی دوران آپ کی ملاقات حضرت شیر شاہ جلال سیدؒ سے ہوئی، جن سے آپ کو گہرا روحانی قرب حاصل ہوا۔
تقریباً چھ سال مدینہ میں قیام کے بعد آپ نجف اشرف گئے، جہاں حضرت علیؓ کے روضے پر حاضری دی۔ وہاں آپ کو ایک روحانی حکم کے تحت دوبارہ کربلا جانے کا اشارہ ملا۔
کربلا میں آپ کی ملاقات حضرت ابراہیم مجابؒ سے ہوئی۔ روایت کے مطابق، آپ کو انہی کے ذریعے تمام امانتیں، علوم، اور فیوضاتِ روحانیہ منتقل کیے گئے۔
اسی دوران آپ کو ایک تَوَک (تعویذ یا علامتی دستار) عطا کی گئی جو امام زین العابدینؑ کے حوالے سے منسوب ہے، اور آج بھی آپ کے مزار پر محفوظ ہے۔
برصغیر کی طرف سفر
اس روحانی تکمیل کے بعد حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ نے برصغیر کا رخ کیا۔ اس وقت غزنوی اور غوری ادوار کا زمانہ تھا، جب برصغیر میں کئی مشہور اولیاء تبلیغِ اسلام اور توحید کا پیغام عام کر رہے تھے۔
آپ نے اپنے روحانی سفر کے دوران کئی علاقوں میں قیام کیا، مگر آخرکار سندھ کے شہر سیہون کو اپنا مستقل مرکز بنایا۔
سیہون میں قیام اور راجہ چوپٹ کا عہد
جس زمانے میں حضرت قلندرؒ سیہون تشریف لائے، اُس وقت وہاں ایک ہندو راجہ چوپٹ (یا چرپٹ) کی حکومت تھی۔ یہ راجہ فحاشی، بے حیائی، اور ظلم میں مشہور تھا۔ اس کے دربار میں جادوگر اور نجومی اثرورسوخ رکھتے تھے۔
یہی وہ موقع تھا جب آپ کی روحانی پرواز اور باطنی قوت لوگوں کے سامنے ظاہر ہوئی، اور آپ کو "شہباز" (بلند پرواز روح رکھنے والے) کے لقب سے یاد کیا جانے لگا۔
روایت ہے کہ آپ نے راجہ کے ایک ظلم و فساد سے بھرے قلعے کو الٹ دیا، اور آج بھی اُس کے آثارِ قدیمہ سیہون کے قریب دیکھے جا سکتے ہیں۔
راجہ چوپٹ کا انجام لال شہباز قلندر کی کرامت
حضرت لال شہباز قلندرؒ کے سیہون تشریف لانے کے زمانے میں راجہ جیسر جی المعروف چوپٹ راجہ اپنی رعایا پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا تھا۔
اس کے ظلم و فساد کا یہ عالم تھا کہ مقولہ مشہور ہو گیا
اندھیر نگری، چوپٹ راج
یعنی ایک ایسی بستی جہاں اندھیرا اور ظلم عام ہو، اور حکومت بے انصاف ہو۔
انہی دنوں میں سکندر بودلاؒ نامی ایک بزرگ سہستان کی پہاڑیوں میں عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے تھے۔ ایک رات انہیں غیب سے آواز سنائی دی کہ
"ایک مردِ قلندر آ رہا ہے جو ظلم کے اندھیروں کو مٹا دے گا۔"
یہ سن کر درویش بودلاؒ نے بلند آواز میں نعرے لگانے شروع کیے:
"میرا مرشد آ رہا ہے!"
ان کی صدائیں جب چوپٹ راجہ کے کانوں تک پہنچیں تو اس نے درویش کو قید کر لیا۔ مگر قید میں بھی بودلاؒ کے لبوں پر ایک ہی جملہ تھا:
"میرا مرشد آ رہا ہے!"
ظالم بادشاہ نے ان پر طرح طرح کے تشدد کیے، مگر درویش کی زبان سے وہی کلمات نکلتے رہے۔
ادھر حضرت لال شہباز قلندرؒ وادیِ مہران کے مختلف علاقوں میں روحانی فیض بانٹنے کے بعد سیہون پہنچ چکے تھے۔ وہاں کی شراب و شباب کی محفلیں جو پہلے روز و شب جاری رہتی تھیں، آپ کے آتے ہی خود بخود ختم ہونا شروع ہو گئیں۔
راجہ کی سازشیں اور اللہ کے ولی کی حفاظت
جب چوپٹ راجہ نے اپنے دربار کی غضبناک طاقتوں — کوتوال، سپاہی، اور نجومی — کے ذریعے حضرت لال شہباز قلندرؒ اور ان کے مریدوں کو سیہون سے نکالنے کا حکم دیا تو ایک عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے۔ جب سپاہی درویشوں کے خیموں کی طرف بڑھے تو اچانک اُن کی حرکات رُک گئیں — ایسے کہ جیسے ان کے جسم ایک جگہ پر جکڑے جا چکے ہوں۔ چند لمحوں تک شدتِ کوشش کے باوجود وہ آگے نہ بڑھ سکے۔ جب واپس لوٹنے کا ارادہ کیا تو ان کی قوت بحال ہو گئی، مگر دوبارہ خیمے کی جانب بڑھتے ہی وہ دوبارہ جمود کا شکار ہو گئے۔ آخر کار تھکن کے باعث سپاہی واپس پلٹ گئے۔
اس واقعہ نے راجہ کو غصّے سے آگ بگولہ کر دیا اور اس نے نجومیوں اور وزیروں سے سبب پوچھا۔ نجومیوں نے زائچہ بنا کر بتایا کہ یہ وہی مرشد ہے جس کا ذکر قید خانے میں بند درویش ہمیشہ کرتے آئے ہیں — "میرا مرشد آ رہا ہے"۔ نجومیوں اور وزیروں کی ہمدردانہ نصیحت پر راجہ نے سونے کے تھال، ہیرے جواہرات اور بڑی مقدار میں اشرفیاں حضرت لال شہباز قلندرؒ کی خدمت میں بھیجوا دیں، تاکہ آپ کو رشوت دے کر یا احترام دکھا کر کہیں اور چلے جائیں۔
حضرت قلندرؒ نے ان سونے، ہیرے اور اشرفیوں کو آگ میں پھینکا؛ چند ہی لمحوں میں وہ سارا سونا اور جواہرات خاک و خاکستر بن گئے۔ اس منظر نے راجہ کے اپنے وزیر کو بھی حقیقت کا غماز بنا دیا اور وزیر خوفزدہ ہو کر واپس چلا گیا۔
قیدی درویش سکندر بودلا کی رہائی — معجزانہ واقعات
حضرت لال شہباز قلندرؒ کو روحانی ادراک تھا کہ قلعے کے اندر ایک درویش — سکندر بودلا — ظلم سہہ رہا ہے اور مسلسل پکار رہا ہے "میرا مرشد آ رہا ہے"۔ ایک دن آپ نے قلعے کی طرف رخ کیا اور بلند آواز میں فرمایا: "بودلا! اب آ جاؤ! اب آ جاؤ!"۔
یہ سن کر قید خانے میں بند سکندر بودلا نے خوشی سے اعلان کیا: "میرا مرشد آ گیا!"۔ اسی وقت اس کے پہنے ہوئے بیڑیاں خود بخود ٹوٹ گئیں اور قید خانے کا دروازہ کھل گیا۔ سکندر بودلا قید خانے سے نکل کر حضرت قلندرؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
ان واقعات کو دیکھ کر چوپٹ راجہ نے دوبارہ اپنے نجومیوں اور جادوگروں کو طلب کیا اور انہیں سیدھا مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ ان جادوگروں نے اعتراف کیا کہ حضرت شہباز قلندرؒ کی روحانی قوت کے آگے ان کے کالے جادو کا اثر کھٹک جائے گا۔ ان کے مشورے کے مطابق راجہ نے ایک مکّارانہ ترکیب اپنائی — حرام جانور کے گوشت سے بنائے گئے پکوان چھپ کر حضرت قلندرؒ کو بھیجنے کا منصوبہ بنایا، تاکہ ان کے جسم میں حرام داخل ہو کر ان کی روحانی قوت کو مفلوج کر دے۔
راجہ کی آخری چال — حرام کھانا اور قلعے کا انہدام
راجدہ کی ترتیب دی گئی دعوتی چیزیں ایسی تیار کی گئیں کہ پکوانوں میں گوشت کی نوعیت کا پتہ نہ چل سکے۔ مگر جب حضرت لال شہباز قلندرؒ نے وہ حرام کھانا دیکھا تو آپ نے غضبِ الہی میں اسے پلٹ دیا اور فرمایا کہ اس کافر کی تقدیر میں ہلاکت اور بربادی لکھی ہے اور اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا۔
جیسے ہی حضرت نے وہ کھانا الٹا، شدید زلزلہ آیا اور چوپٹ راجہ کا مضبوط قلعہ اُلٹ گیا۔ اس طرح سیہون شریف کی عوام کو ایک ظالم و عیاش حاکم سے نجات مل گئی۔ آج بھی اُس الٹے ہوئے قلعے کے آثار سیہون شریف میں موجود ہیں اور مقامی لوگ اسے "الٹی بستی" کے نام سے یاد کرتے ہیں — ایک نشانِ عبرت جو بتاتا ہے کہ ظلم اور فحاشی کی بنیادیں کس طرح لرز گئیں۔
تاریخی حوالہ جات اور ادبی شہرت
چوپٹ راجہ کے قلعے کا ذکر بطورِ تاریخی شاہد انگریز افسر لیفٹرنٹ ولیم نے اپنی کتاب Sketches in Sindh میں بھی کیا ہے، جو اس واقعے کی تاریخی حیثیت کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ حضرت لال شہباز قلندرؒ کی ذات و صفات پر متعدد کتب لکھی گئی ہیں اور ان پر مزید تحقیق و تالیف کی گنجائش ہمیشہ موجود ہے۔
سیہون میں قیام اور اصلاحِ معاشرہ کا آغاز
حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ نے جب سیہون شریف کو اپنا مستقل مسکن بنایا تو وہاں کا معاشرہ اخلاقی و روحانی زوال کا شکار تھا۔ فحاشی، شراب نوشی، اور بے حیائی عام تھی، اور راجہ چوپٹ (جیسر جی) کی حکومت ظلم و عیاشی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
آپ نے سب سے پہلے انہی گمراہ اور فاسق لوگوں کو اسلام کا پیغام دیا۔ آپ کی زبان میں ایسا روحانی اثر تھا کہ تھوڑے ہی عرصے میں لوگوں کے دل بدلنے لگے۔ جو لوگ گناہ اور فحاشی میں مبتلا تھے، وہ توبہ کر کے آپ کے مرید بن گئے۔ لیکن جب یہ تبدیلی عام ہونے لگی تو راجہ اور اس کے درباریوں کو خطرہ محسوس ہوا کہ ان کی حکومت اور مفادات ختم ہو جائیں گے۔ چنانچہ آپ کی مخالفت شروع کر دی گئی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں کئی عظیم صوفی ہستیاں اللہ کا پیغام عام کر رہی تھیں۔ ملتان میں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی ، پاک پتن میں حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ، اُچ شریف میں حضرت سید جلال الدین سرخ پوشؒ ، یہ تمام ہستیاں روحانی اتحاد و اتفاق کی مثال تھیں، اور حضرت لال شہباز قلندرؒ کا ان سب سے قریبی تعلق تھا۔ ان بزرگوں کے درمیان ایک باطنی ربط موجود تھا، جو اس دور میں روحانیت کی بنیاد تھی۔
لال شہباز قلندر علمی خدمات اور مدرسہ کا قیام
حضرت لال شہباز قلندرؒ کو عربی زبان اور صرف و نحو پر مکمل عبور حاصل تھا۔ آپ نے سیہون میں قدم رکھتے ہی ایک مدرسہ قائم کیا جہاں قرآن، حدیث، تصوف، اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔
یہ مدرسہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کے لیے بھی روحانی علم و فیض کا مرکز بن گیا۔ سیہون کے لوگ آپ کی تعلیمات سے مستفید ہونے لگے، اور رفتہ رفتہ شہر کا ماحول بدلنے لگا۔
آپ کے علمی و روحانی کمالات اتنے نمایاں ہوئے کہ عوام و خواص سب آپ کے حلقہ ارادت میں شامل ہونے لگے۔ سیہون کی گلیاں، جو کبھی برائی اور ظلم کی علامت تھیں، اب نورِ ایمان اور ذکرِ الٰہی سے جگمگانے لگیں۔
لال شہباز قلندر جھولے لال کو لعل شہباز کیوں کہا جاتا ہے
آپ ہمیشہ لال رنگ کے لباس پہننے کی روایت بھی مشہور ہے۔ لال رنگ عشقِ الٰہی، جوش، اور روحانی حرارت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لہذا ایک دفعہ مولویوں نے زبردستی آپ کو سفید کپڑے پہنا دیے آپ کو اس پر شدید جلال آیا اور جب آپ نے ان سفید کپڑوں میں نماز کی نیت کی تو آپ کے جسم سے خون کے فوارے نکلے اور وہ سفید کپڑے پھر سے لال ہو گئے یوں اپ کو لال کہا جانے لگا۔
لال شہباز قلندر کو شہباز اس لیے کہا جاتا ہے کہ اپ کے اندر جسہ توفیق الہی (اللہ کا جسہ) اڑنے والا موجود تھا، جس سے آپ اڑ سکتے تھے، اس وجہ سے اپ کو شہباز کہا جانے لگا
لال شہباز قلندر کے روحانی اثرات
حضرت لال شہباز قلندرؒ کی آمد سے سیہون کی فضاؤں میں ایک انقلاب برپا ہو گیا۔
بازاروں سے فحاشی کے اڈے ختم ہو گئے۔
ظالموں کی جگہ نیک بندے ابھرنے لگے۔
کئی ہندو آپ کے اخلاق، علم، اور فیض سے متاثر ہو کر آپ کے قریب آنے لگے۔
یہ حالات راجہ چوپٹ کے لیے ناقابلِ برداشت ہو گئے۔ اس نے آپ کے خلاف سازشوں کا جال بچھایا، مگر اللہ کے ولی کے خلاف کوئی چال کامیاب نہ ہو سکی۔ نتیجتاً راجہ اپنی حکومت، طاقت، اور دنیاوی شان و شوکت سے محروم ہو گیا۔
سیہون کی سرزمین آج بھی آپ کی کرامات کی گواہ ہے
وہ قلعہ جسے آپ نے الٹ دیا تھا، اس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔
ایک باغ جس میں آپ نے اپنے ہاتھ سے درخت لگایا تھا، آج بھی ہرا بھرا ہے، حالانکہ اس علاقے میں پہلے پانی کی قلت کے باعث بنجر زمین تھی۔
وہ مقامِ عبادت و چلہ جہاں آپ ریاضت کیا کرتے تھے، آج بھی زائرین کے لیے مقدس جگہ سمجھا جاتا ہے۔
وصال اور مزارِ مبارک کی تاریخ
حضرت سید عثمان مروندی سخی لال شہباز قلندرؒ نے 1274ء (652 ہجری) میں وصال فرمایا۔ آپ کا مزار پاکستان کے صوبہ سندھ ، ضلع جام شورو ، شہر سہون شریف میں موجود ہے۔
آپ کا مزار پہلی بار 1356ء میں تعمیر کیا گیا۔ بعد ازاں اس میں شہنشاہِ ایران کی جانب سے تحفے میں دیا گیا سونے کے پانی والا دروازہ نصب کیا گیا، جسے اُس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے ہاتھوں سے لگایا۔ یہ سونے کے پانی والے دروازے دو تھے۔ ایک سیہون شریف میں حضرت لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر دوسرا لاہور میں حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ کے مزار پر نصب کیا گیا۔
سخی لال شہباز قلندر کا عرس مبارک کب ہوتا ہے
حضرت سخی لال شہباز قلندرؒ کا سالانہ عرس ہر سال 18 شعبان کو منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر سے عقیدت مند قافلوں کی صورت میں سیہون شریف پہنچتے ہیں۔ عرس کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
دھمال اور سماع: دربار میں مخصوص طرزِ رقص اور ڈھول کی تال کے ساتھ روحانی سماع جاری رہتا ہے؛ یہ دھمال صوفیانہ محفلوں میں عشقِ الٰہی کے اظہار کا مرکزی عمل سمجھا جاتا ہے۔ مجلسِ دعا و ذکر: قرآنی تلاوت، درود و نعت، اور جماعتی ذکر سے روحانی ماحول پروان چڑھتا ہے۔
قومی شرکت: پاکستان کے ہر حصے سے لوگ شرکت کرتے ہیں — مختلف زبانوں، مذاہب، اور ثقافتوں کے حامل زائرین ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔