حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، جلیل القدر عالمِ دین، مفسر، محدث اور روحانی رہنما تھے۔ آپ کو برصغیر میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے سب سے مضبوط علمی محافظین میں شمار کیا جاتا ہے۔پیر مہر علی شاہؒ صرف صوفی نہیں بلکہ اعلیٰ درجے کے محقق عالم تھے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا مزار

پیر مہر علی شاہ کی ولادت

حضرت پیر مہر علی شاہؒ 4 اپریل 1859ء (27 رمضان المبارک 1275ھ) کو گولڑہ شریف، راولپنڈی کے ایک علمی اور روحانی "جیلانی" خاندان میں پیدا ہوئے۔

بعض نے آپ کی پیدائش 14 اپریل بھی لکھی ہے۔ 

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا مزار

پیر مہر علی شاہ کا خاندانی پس منظر

آپ کا سلسلہ نسب 36 واسطوں سے  حضرت غوث الاعظم سید عبدالقادر جیلانیؒ سے ہوتا ہوا سیدنا امام حسن علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔ آپ کے جدِ امجد سادھورا (انبالہ) سے ہجرت کر کے گولڑہ شریف میں مقیم ہوئے تھے۔

آپ کے والد کا نام سید نظر دین شاہ اور والدہ کا نام معصومہ موصوفہ بنت پیر سید بہادر شاہ تھا۔ آپ کا سلسلہ نسب 36 واسطوں سے سیدنا امام حسن علیہ السلام اور حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے جا ملتا ہے۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کا دربار

پیر مہر علی شاہ کا بچپن

بچپن ہی سے آپ میں غیر معمولی ذہانت، دینی ذوق اور عبادت کا شوق نمایاں تھا۔ محض 4 سال کی عمر میں خانقاہ کے مدرسے میں داخل ہوئے۔ آپ کا حافظہ اس قدر قوی تھا کہ روزانہ کا سبق اسی وقت حفظ کر لیتے تھے۔ جب ناظرہ ختم کیا، تو اس وقت تک آپ کو پورا قرآن مجید زبانی یاد ہو چکا تھا

پیر مہر علی شاہ کی تعلیم و تربیت


آپ کے والدین نے آپ کی اعلی تعلیم کے لیے یعنی عربی اور فارسی اور نحو کی تعلیم کے لیے مولوی غلام محی الدین ہزارہ والے کو مقرر کیا ۔

15 سال کی عمر میں مزید علم حاصل کرنے کے لیے کانپور روانہ ہوئے اور وہاں علی گڑھ میں مولانا لطف اللہ کی مدرسے میں داخل ہوئے اور کتب حدیث اور دیگر علوم کے اسناد حاصل کی جو آج بھی اپ کے خاندان کے پاس محفوظ ہیں۔

پیر مہر علی شاہ کی روحانی تعلیم

ظاہری تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ کا رجحان باطنی علم کی طرف ہوا۔ چنانچہ اپ نے اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لیے دو بڑے سلاسل میں بیعت کی پہلے تو اپ نے سلسلہ قادریہ میں اپنے چچا حضرت پیر سید فضل دین شاہ کے ہاتھ پر بیت ہوئے ان سے فیض حاصل کرنے کے بعد 1878ء سے 1880ء کے درمیان آپ سیال شریف (سرگودھا) حاضر ہوئے اور حضرت خواجہ شمس الدین سیالویؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت کی۔ خواجہ صاحب نے وصال سے قبل آپ کو تمام سلاسل کی اجازت و خلافت اور منصبِ ارشاد عطا فرمایا۔

حضور پاک سے عشق

آپ  کو حضور پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے والہانہ عشق تھا ان کی محبت میں آپ اکثر نعتیں اور قصیدے کہتے جو آج بھی عوام کی زبان پر مشہور ہیں۔ 

نعتیہ کلام: آپ کا پنجابی اور فارسی کلام عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبا ہوا ہے۔ آپ کی مشہور نعت کے اشعار:

سبحان اللہ ما اجملک، ما احسنک، ما اکملک

کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا، گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں  ۔

1890 عیسوی میں جب آپ نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کا ارادہ فرمایا ، مدینہ طیبہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں حاضری کے بعد بہت خوش ہوئے کہ اب ساری زندگی باقی تمام بہاریں گنبد خضرا کی ٹھنڈی چھاؤں تلے گزر جائیں گی تو اسی دوران خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو حکم دیا کہ ہندوستان واپس جاؤ کیونکہ مرزا احمد قادیانی میری احادیث کو اپنی غلط تاویلات سے مسخ کر رہا ہے اورامت کو گمراہ کر رہا ہے چنانچہ آپ نے مدینہ منورہ سے واپس ہندوستان آئے اور حضور پاک کی خواہش کی تعمیل کی ۔

پیر مہر علی شاہ کا قادیانیوں سے مقابلہ

حضور پاک کا حکم ملتے ہی آپ نے فتنہ قادیانیت مرزا احمد قادیانی کے خلاف علمی اور روحانی جہاد شروع کر دیا ۔ آپ نہیں مرزا قادیانی کو مختلف جگہوں پر مناظرے کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو بھرے مجمعے میں میرا سامنا کرو،

چنانچہ مرزا قادیانی نے یہ چیلنج قبول کیا اور ایک جگہ مقرر ہوئی۔ پیر مہر علی شاہ کی طرف سے پہلا دعوی یہ کیا گیا کہ دونوں خالی کاغذ پر قلم رکھیں گے جس کا قلم خود بخود چل کر لکھنے لگ گیا وہ سچا ہوگا،

لیکن جس دن مناظرہ ہونا تھا اس دن مرزا قادیانی نہ آیا اور یوں حضور پاک کا سچا  دین سرخ رو ہوئے۔

دوسری مقام پر آپ نے مرزا قادیانی کو یہ بھی چیلنج کیا کہ دونوں شاہی مسجد کے مینار سے چھلانگ لگائیں گے جو سچا ہوگا وہ محفوظ رہے گا لیکن  مرزا قادیانی ڈر کے مارے اس پر بھی سامنے نہ آیا اور مقابلہ نہ کر سکا۔ یوں آپ نے دوسری دفعہ فتنہ قادیانیت کو گہری چوٹ پہنچائی۔

حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی  کی تصویر


پیر مہر علی شاہ سے قادیانی وفد کا مطالبہ:

 ایک بار قادیانی وفد نے مطالبہ کیا کہ آپ ایک اندھے اور لنگڑے کو ٹھیک کرنے کی دعا کریں اور مرزا بھی دوسرے کے لیے دعا کرے گا۔ پیر صاحب نے نہ صرف یہ قبول کیا بلکہ یہ بھی فرمایا کہ اگر مردے زندہ کرنے کا مقابلہ کرنا ہے تو بھی مرزا کو لے آؤ، ہم تیار ہیں۔ آپ کا یہ توکل اللہ پر کامل یقین کا نتیجہ تھا۔

پیر مہر علی شاہ کی تصانیف

اپ ایک بلند پایا صوفی ولی اللہ اور عالم دین تھے آپ کو شریعت محمدی پر کامل عبور تھا اور آپ کی روحانی پہنچ حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک تھی، یہی وجہ ہے کہ آپ کی کتب میں روحانیت اور شریعت کا امتزاج ملتا ہے ۔

آپؒ ایک بلند پایہ مصنف تھے۔ آپ کی کتب میں علم کا سمندر ٹھاٹھیں مارتا ہے:

سیفِ چشتیہ: قادیانیت کے رد میں لکھی گئی سب سے معتبر کتاب ہے

دیگر کتب: تحقیق الحق فی کلمۃ الحق، شمس الہدایہ، الفتوحات الصمدیہ، فتاویٰ مہریہ اور ملفوظاتِ مہر علی شاہ۔


آپ نے  حضور کی محبت میں بہت سے مشہور نعتیہ کلام بھی لکھے جن میں آپ کا حضور پاک سے عشق مچلتا ہوا نظر آتا ہے۔ جیسے کہ آپ کی ایک مشہور نعت یہ ہے

آج سکھ متراں دی ودھیری ہے

کیوں دلڑی اداس گنیری ہے

 لو لو وچ شوق چنگیری ہے

آج نیناں لائیاں کیوں چڑھیاں

پیر مہر علی شاہ کا وصال اور جانشینی

حضرت پیر مہر علی شاہؒ کا وصال 11 مئی 1937ء (29 صفر المظفر 1356ھ) کو ہوا۔ آپ کا مزار گولڑہ شریف (اسلام آباد) میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں آج بھی انوار و تجلیات کی برسات ہوتی ہے۔

آپ کے اکلوتے صاحبزادے حضرت پیر سید غلام محی الدین گیلانی (بابو جی) تھے۔

بابو جی کے دو صاحبزادوں، پیر سید غلام معین الدین شاہ اور پیر سید عبدالحق شاہ کے ذریعے آپ کا علمی اور روحانی سلسلہ آج بھی پوری دنیا میں جاری ہے۔

پیر مہر علی شاہ کا عرس کب منایا جاتا ہے

 آپ کا عرس مبارک ہر سال 25 سے 29 صفر تک نہایت عقیدت و احترام سے آپ کے اپنے شہر گولڑہ شریف پر منایا جاتا ہے ، جس میں ہزاروں مریدین اور عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔ جہاں اپ کے کلام کو قوالیوں کی صورت میں گا کر امت مسلم کے ایمان کو جھنجوڑا جاتا ہے اور ان میں عشق رسول کا رنگ بھرا جاتا ہے۔


حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی  کی قبر مبارک








Post a Comment

Previous Post Next Post