میاں محمد بخش کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات

تصوف نے جہاں جہاں پر لوگوں کو نفس پاک کرنے کی تعلیم دی ، اور رب سے عشق کرنے کا حکم دیا وہیں پر عام لوگوں کو زندگی گزارنے کا ڈھنگ بھی سکھایا لوگوں کو آپس میں محبت کرنے اور عزت کا سبق دیا ، تصوف کی علمبردار ان صوفیوں میں میاں محمد بخش کا بہت بڑا نام ہے جنہوں نے اپنی سادہ اور سبق آموز شاعری سے اہل ہند کو عشق مجازی کے روپ میں عشق حقیقی سکھایا۔ آئیں ان کے مختصر حالات زندگی پڑھتے ہیں۔ 

میاں محمد بخش  کا مزار

میاں محمد بخش کی ولادت

میاں محمد بخش 1246 ہجری یعنی 1839 عیسوی کو کھڑی شریف آزاد کشمیر ضلع میرپور کے ایک گاؤں چک ٹھاکرا میں ایک کسان کے گھر پیدا ہوئے۔

میاں محمد بخش کا خاندانی نسب 


آپ کے والد کا نام شمس الدین قادری تھا اور دادا کا نام میاں دین محمد قادری تھا آپ کے آباؤ اجداد چک بہرام ضلع گجرات سے ہجرت کر کے میرپور میں جا بسے تھے، آپ کا خاندانی نسب  عمر فاروق سے جا ملتا ہے، 

میاں محمد بخش  کا روضہ

میاں محمد بخش کی ابتدائی تعلیم

میاں محمد بخش نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر کھڑی کے قریب سموال کی ایک دینی درسگاہ میں حاصل کی جہاں پر آپ کی استاد غلام حسین تھے آپ نے بچپن میں علوم ظاہری میں تکمیل حاصل کر لی۔


 

میاں محمد بخش کی دنیا سے کنارہ کشی

درویشی ماحول میں پیدا ہونے کی وجہ سے آپ کا مزاج بھی درویشانا تھا، ایک واقعہ کتابوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ دنیا سے کنارہ کشی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بچپن میں جب آپ کی منگنی ایک لڑکی سے ہو گئی تھی تو اس کی صورت واجبی سی تھی لڑکپن میں ہی اس لڑکی کو گلھڑ ہو گیا تھا جس سے گلے کے غدود ابھر آئے تھے سسرال والے ان کی خاندانی عظمت کی بنا پر رشتہ توڑنا چاہتے تھے لہذا انہوں نے لڑکی کا رشتہ میاں صاحب کے چھوٹے بھائی کو دے دیا ، میاں صاحب اللہ لوگ بندے تھے ان کو نہ رشتہ ہونے کی پرواہ تھی نہ ٹوٹنے کی لہذا جب وہ اپنے چھوٹے بھائی کی بارات کے ہمراہ لڑکی کے گھر پہنچے تو ایک عورت نے کہا وہ ہے بدصورت لڑکا جس کا رشتہ توڑ کر ہم نے اس کے چھوٹے بھائی کو دیا ہے، میاں محمد بخش نے جب عورت کی یہ بات سنی تو  تو ان کے دل پر سخت چوٹ لگی چنانچہ انہوں نے اپنے آپ سے عہد کر لیا کہ اب میں سوہنا خوبصورت بن کر دکھاؤں گا۔

ظاہری خوبصورتی تو عام سی چیز ہے لیکن باطنی خوبصورتی اس سے ہزار درجے بہتر ہے لہذا آپ نے اپنے اپ کو باطنی طور پر خوبصورت بنانے کے لیے مرشد کی تلاش شروع کر دی، 

میاں محمد بخش کا باطنی سفر

اول عمر سے ہی اپ نے خلوت اور ریاضت کو اپنا معمول بنا لیا دنیاوی لفظوں سے دور رہنے لگے اور رہبر کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے صحرائی عشق کی خاک چھانتے ہوئے اپ نے کہیں بھی کسی درویش کے متعلق فنا تو وہاں جا کر حاضر ہوئے لیکن جب دل کی مراد نصیب نہ ہوئی تو اسی عالم میں ایک رات کو آپ کو آپ کے خاندانی پیر غازی پیر قلندر دومڑی والے کی خواب میں بشارت ہوئی، انہوں نے آپ کو حکم دیا کہ تم میرے مرید ہو اور میں تمہارا پیر ، تم جا کر میرے فرزند روحانی پیر سائیں غلام محمد سے کلروڑی کے مقام پر ظاہری شرائط پر بیعت کر لو خواب سے بیدار ہو کر میاں محمد بخش ان کے پاس پہنچے اور بیعت کی درخواست کی انہوں نے کچھ عرصہ انتظار کرنے کے بعد آپ کو اپنے ہاتھ پر بیعت کر لیا ،

پیر شاہ غازی کا مزار

میاں محمد بخش کا طرز زندگی

آپ نے ساری زندگی شادی نہیں کی بلکہ تجردانہ زندگی گزاری، دور شباب سے ہی آپ تصوف کی طرف مائل تھے صوفیا اور طریقت کی پیروی کرتے ہیں خلوت نشینی کو جلوت اور شور و غل پر ترجیح دیتے اور ہمیشہ کسی پرسکون مسکن کی تلاش میں محو گردش ہوتے ۔  تفکر ریاضت اور من کی دنیا کی طرف رجحان ہوتا اور اضطرابی کیفیت منظوم شکل میں آپ کے لبوں پر آشکار ہوتی جسے اپ قلم دوات اور کاغذ کی مدد سے سمیٹتے۔

۔

میاں محمد بخش کی شاعری 

میاں محمد بخش ولی اللہ ہونے کے علاوہ ایک آفاقی شاعر بھی تھے آپ نے عشق حقیقی کو عشق مجازی کے روپ میں پیش کیا آپ کا اصل موضوع حسن و عشق اور پیار و محبت ہے، سیف الملوک اگرچہ حسن اور عشق کی ایک رومانوی داستان ہے لیکن میاں محمد بخش نے اس کو تصوف کے رنگ میں بہت اعلی انداز سے پیش کیا اور ایک شہزادی اور شہزادے کی عشقیہ داستان کو گنجینہ معارفت اور مخزن اخلاق بنا دیا، 

آپ کی شاعری میں عشق مجازی کے ساتھ ساتھ رشتوں کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے ، ماں اور باپ کی شفقت اور محبت بھی آپ کی شاعری  کا ایک اہم جزو ہے۔ 

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کچھ روحانی سلسلوں میں سب سے پہلے مرشد مرید کو عشق مجازی کرنے کی تلقین کرتے ہیں جب سالک عشق مجازی میں کامل ہو جاتا تو پھر مرشد اپنی نظر کیمیا سے مرید کے عشق مجازی کو عشق حقیقی کی طرف موڑ دیتے ،  شاید میاں محمد بخش کا بھی یہی روحانی سلسلہ تھا۔

جی


میاں محمد بخش کی تصانیفِ 

اپنی روحانی سفر کے دوران میاں محمد بخش نے پوٹوہاری پنجابی زبان میں ایک عظیم الشان مثنوی لکھی جس کا نام صفر العشق رکھا اور اس کا مرکزی کردار شہزادہ سیف الملوک رکھا اسے عرف عام میں سیف الملوک کے نام سے جانا جاتا ہے چونکہ اس کتاب میں مجاز کے رنگ میں حقیقت کا بیان ہے اس لیے یہ کتاب اہل مجاز کے لیے ایک دلچسپ قصہ اور اہل حقیقت کے لیے عشق حقیقی کا ایک عظیم سبق ہے، 

آپ فرماتے ہیں 

جنہاں طلب قصے دی ہوسی سن قصہ خوش ہوسن

جنہاں لاگ عشق دی سینے جاگ سویلے روسن


کم و بیش آپ نے 18 کتابیں لکھیں ان کتابوں میں 17 کتب پنجابی زبان میں جب کہ ایک کتاب فارسی میں ہے پنجابی زبان میں آپ نے کم و بیش 28 ہزار اشعار لکھے جو کہ 56 ہزار مصرے بنتے ہیں جن کا تحریری ثبوت بھی موجود ہے ان کتابوں میں مشہور تصانیف سیف الملوک اور من میلہ قابل ذکر ہے۔ 

آپ کی شاعری آج بھی گاؤں دیہاتوں میں لوگوں کی زبان پر موجود رہتی ہے، لوگ اس سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور سیکھتے بھی ہیں۔ 

میاں محمد بخش کی وفات

میاں محمد بخش کی وفات 1324 ہجری بمطابق 1904 عیسوی میں اپنے ہی وطن کھڑی شریف ضلع میرپور، آزاد کشمیر میں ہوئی اور وہی آپ کا مزار بھی موجود ہے جہاں لوگ آپ کی قبر انور پر حاضری دے کر عقیدت اور محبت کا اظہار کرتے ہیں،


میاں محمد بخش کا عرس مبارک

آپ کا  عرس مبارک آپ کی تاریخی وفات کے مطابق ہر سال آپ کے مزار پر منایا جاتا ہے جہاں اردو ادب اور تصوف سے لگن رکھنے والے لوگ شامل ہوکر عشق مجازی اور عشق حقیقی کے رنگ آپ کی شاعری کی صورت میں سنتے بھی ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔

میاں محمد بخش



Post a Comment

Previous Post Next Post