حضرت شیخ محمد ترک ناروالی نارنولی کی مکمل زندگی ، تاریخ اور واقعات

 حضرت شیخ محمد ترک ناروالی نارنولی رحمۃ اللہ علیہ ایک عظیم صوفی بزرگ اور سلسلہ چشتیہ کے مشہور بزرگ تھے۔ آپ نے ترکستان سے ہندوستان آ کر نار نول میں سکونت اختیار کی تھی۔ اپ کو پیر ترک یا ترک سلطان کے لقب سے بھی پکارا جاتا ہے۔

حضرت شیخ محمد ترک ناروالی نارنولی کا مزار


حضرت شیخ محمد ترک نارنولیؒ ہندوستان کی سرزمین پر تصوف کے اولین بزرگوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آپ کا تعلق ترکستان سے تھا اور آپ ابتدائی اسلامی دور میں ہجرت کر کے موجودہ ہندوستان کے علاقے نرنول (ہریانہ) میں تشریف لائے۔ وہاں آپ نے نہ صرف دینِ اسلام کی تبلیغ کی بلکہ تصوف، روحانیت اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیمات کو بھی عام کیا۔ آپ کا سلسلۂ طریقت چشتیہ سے منسلک بتایا جاتا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ آپ نے حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ اور حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے فیض سے استفادہ کیا۔ نرنول کے عوام میں آپ کی درویشانہ زندگی، سادہ مزاجی، اور مخلوقِ خدا کے ساتھ محبت کی تعلیم نے گہرا اثر ڈالا۔

شیخ محمد ترک نارنولی کے مرشد

آپ کو خواجہ عثمان ہارونی کا مرید بھی کہا جاتا ہے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپ کو حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے بھی خرقہ خلافت سے سرفراز فرمایا تھا۔

شیخ محمد ترک نارنولی کی کرامات

ایک دفعہ حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلی کو بادشاہ نے ٹھٹ جانے کا حکم دیا۔ آپ نارنول سے ٹھٹ کی طرف روانہ ہو رہے تھے۔ جب نارنول سے ایک کوس رہ گیا تو آپ سواری سے اُترے اور پیدل چل کر حضرت شیخ محمد ترک نارنولی کی قبر پر زیارت کی اور کچھ دیر تک کھڑے رہے۔ لوگوں نے کھڑے ہونے کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: "مجھے اس کے اندر سید کائنات، حضور پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روحانیت محسوس ہوئی۔"


پھر آپ نے لوگوں سے کہا: "جو بھی کسی سخت مشکل میں ہو، وہ اس روزہ کی طرف متوجہ ہو، اس کی مشکل آسان ہو جائے گی۔" یہ سن کر لوگوں نے کہا: "تم خود مصیبت میں ہو اور زبردستی ٹھٹ بھیجے جا رہے ہو۔" حضرت نصیر الدین دہلوی نے جواب دیا: "اسی وجہ سے تو میں کہتا ہوں، خدا تعالی ان کی برکت سے میری مشکل آسان کر دے گا۔"


چنانچہ جب آپ ٹھٹ کی طرف روانہ ہوئے، دو تین منزل ہی گئے تھے کہ بادشاہت کے انتقال کی خبر مل گئی، اور آپ ٹھٹ جانے کی بجائے واپس دہلی چلے آئے

آپ کی وفات

روایات کے مطابق حضرت شیخ محمد ترک نارنولی نے 642 ہجری (حوالي 1244 عیسوی) میں اپنی فانی زندگی کے سنگم کو پہنچا، اور نرنوَل (نار نوی) میں ان کا مزار آج بھی صوفی عقیدت رکھنے والوں کے لیے زیارت گاہ اور روحانی مرکز ہے۔

شیخ محمد ترک نارنولی کا عرس اور مزار

حضرت شیخ محمد ترک نارنولی رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس مبارک نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ آپ کا مزار مبارک نارنول (ضلع مہندرگڑھ، ہریانہ، بھارت) میں واقع ہے۔ عرس کے موقع پر دُور دُور سے عقیدت مند، علما، اور صوفی مشائخ حاضر ہو کر فاتحہ خوانی، محفلِ سماع، اور ذکر و درود کی محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس موقع پر روحانی فضا قائم ہو جاتی ہے اور زائرین آپ کے فیوض و برکات سے مستفید ہوتے ہیں۔

حضرت شیخ محمد ترک نارنولی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے مشہور صوفی بزرگوں میں سے ایک تھے۔ آپ نے اپنی سیرت، علم، اور زہد و تقویٰ سے بے شمار لوگوں کی اصلاح فرمائی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سلسلہ چشتیہ یا سہروردیہ سے وابستہ تھے اور آپ نے اپنی تمام زندگی خلقِ خدا کی خدمت اور اللہ کی معرفت کے حصول میں گزاری۔ آپ کا عرس ہر سال آپ کے مزار پر منایا جاتا ہے، جو روحانی عقیدت مندوں کے لیے ایک عظیم اجتماع کی صورت اختیار کر چکا ہے۔




Post a Comment

Previous Post Next Post