حضرت سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے مشہور صوفی بزرگ، ولیٔ کامل، معارفِ باللہ، شاعر اور صاحبِ کرامت بزرگ تھے۔ آپ کا تعلق قادری سلسلہ سے تھا اور آپ نے اپنی ساری زندگی لوگوں کو عشقِ الٰہی، معرفتِ حق، اور ذکرِ اسمِ اللہ ذات کی دعوت دی۔
سلطان حق باہو کے خاندانی حالات
حضرت سلطان باہوؒ کا تعلق ایک معزز اور بہادر قبیلہ عوان سے تھا۔ آپ کا سلسلۂ نسب 29 واسطوں سے امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک جا پہنچتا ہے۔ آپ حضرت علیؓ کی غیر فاطمی اولاد میں سے تھے۔ آپ کے والدِ گرامی بازید محمدؒ شاہجہان کے دور میں کوہستان میں ایک منصب دار اور سپاہی کے طور پر خدمت انجام دیتے تھے۔ وہ نہ صرف حافظِ قرآن تھے بلکہ نہایت نیک، دیندار اور علم دوست شخصیت کے حامل تھے۔ اپنے زمانے کے جید عالم سمجھے جاتے تھے اور ہمیشہ دیانت و تقویٰ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے رکھا۔
زندگی کے آخری حصے میں بازید محمدؒ نے دنیاوی عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور ملتان آکر قیام فرمایا۔ کچھ عرصہ بعد وہاں سے شورکوٹ تشریف لے گئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔ شورکوٹ میں انہیں ایک جاگیر ملی، جہاں انہوں نے بقیہ زندگی بسر کی اور وہیں وفات پائی۔ حضرت سلطان باہوؒ کی والدۂ محترمہ بی بی راستیؒ نہایت نیک، پرہیزگار اور عبادت گزار خاتون تھیں، جو اپنی راستبازی اور نیکی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھیں۔
سلطان حق باهو کی ولادت
حضرت سلطان باہوؒ کی ولادتِ مبارکہ شورکوٹ میں 1039 ہجری (1628 عیسوی) میں ہوئی۔ آپ کے والدین نے آپ کا نام باہو رکھا۔ آپ کو اپنے نام سے خاص محبت اور فخر تھا، کیونکہ آپ کے نزدیک اس نام میں روحانی معنی پوشیدہ تھے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ:
> "میری والدہ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، جنہوں نے میرا نام باہو رکھا،
کیونکہ یہ نام صرف ایک نقطے کے فرق سے یاہو بن جاتا ہے۔
سلطان حق باہو کا بچپن
حضرت سلطان باہوؒ نے اپنا زیادہ تر بچپن اپنی والدۂ ماجدہ بی بی راستیؒ کی گودِ مبارک میں گزارا۔ آپ کے بچپن ہی سے روحانی آثار و کمالات ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ آپ کی معصوم عمر ہی میں ایسے نشانات دکھائی دینے لگے جو آپ کے مستقبل کے عظیم روحانی مقام کی گواہی دیتے تھے۔
روایت میں آتا ہے کہ زمانۂ شیر خوارگی میں بھی آپ کے اندر عبادت و پرہیزگاری کے آثار نمایاں تھے۔ آپ ماہِ رمضان میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتے تھے، گویا پیدائش کے ایام ہی سے روزہ داری آپ کی فطرت میں شامل تھی۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت تھا کہ آپ کو ابتداء ہی سے الٰہی نور نے گھیر رکھا تھا اور آپ کا دل ذکرِ الٰہی سے منور تھا۔
حضرت سلطان حق باہو کی تعلیم
حضرت سلطان باہوؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کی والدۂ ماجدہ بی بی راستیؒ نے خود فرمائی۔ اگرچہ آپ نے رسمی طور پر کسی مدرسے یا مکتب میں تعلیم حاصل نہیں کی، مگر آپ کی فطری ذہانت اور روحانی استعداد نے آپ کو وہ مقام عطا کیا جو عام علم سے کہیں بلند تھا۔
آپ فرماتے ہیں:
میں نہ کسی مکتب میں گیا، نہ کسی مدرسے میں پڑھا۔
میں نے قرآنِ پاک کا پہلا لفظ ’الف‘ سے اللہ لیا،
اور اللہ، اللہ کرتا رہا۔ جب میرا سینہ منور ہو گیا،
تو ایک بار حضور نبی کریم ﷺ جلوہ افروز ہوئے،
اور مجھے اپنے سینۂ مبارک سے لگا لیا۔
اسی لمحے مجھ پر تمام علوم و اسرار آشکار ہو گئے۔
حضور پاک ﷺ سے ملاقات
جب حضرت سلطان باہوؒ سنِ رشد کو پہنچے تو ایک دن ایسا روحانی واقعہ پیش آیا جس نے آپ کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ روایت کے مطابق امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے آپ کو دربارِ نبوی ﷺ میں پیش کیا، جہاں حضور نبی کریم ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے آپ کو بیعت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو وہ مقامات و درجات عطا فرمائے جو بیان سے باہر ہیں۔ اسی روحانی لمحے میں حضور ﷺ نے آپ کو غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے سپرد فرمایا۔ اس کے بعد آپ کے باطن میں ایک عظیم روحانی انقلاب برپا ہوا، اور آپ کی ذات عشقِ الٰہی، معرفتِ حق، اور ذکرِ اسمِ اللہ ذات تلاش محسوس ہوئی۔
سلطان حق باہو کی مرشد کی تلاش
حضرت سلطان باہوؒ ہر وقت ذکرِ الٰہی اور مشاہدۂ حق میں مستغرق رہتے تھے۔ آپ کی حالت یہ تھی کہ آپ ذاتِ مطلق کے جمال میں غرق نظر آتے تھے۔ جب آپ کی والدۂ ماجدہ بی بی راستیؒ نے آپ کی یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا کہ کسی کامل شیخ سے بیعت کرنا ضروری ہے۔ اس پر آپ نے عرض کیا کہ "جب میں دربارِ نبوی ﷺ میں مشرف ہو چکا ہوں تو کسی اور سے بیعت کی کیا ضرورت ہے؟" تو والدۂ محترمہ نے جواب دیا کہ "بیٹے! یہ دنیا عالمِ اسباب ہے، یہاں کسی کامل کے ہاتھ پر بیعت کرنا ضروری ہوتا ہے۔" آپ نے فرمایا، "اگر ایسا ہے تو آپ ہی میرے لیے کافی ہیں۔" اس پر والدہ نے فرمایا کہ "عورتوں کو بیعت کا اختیار نہیں۔" یہ سن کر آپ نے دریافت کیا کہ "پھر مرشد کہاں تلاش کیا جائے؟" والدہ نے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔ آپ نے فوراً گھر بار چھوڑا اور تلاشِ مرشد کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ سفر کے دوران جب آپ نے حضرت شاہ حبیب اللہؒ کے کمالات اور بزرگی کی شہرت سنی تو ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے فرمایا: "اس راہ میں کامیابی کے لیے یکسوئی اور اخلاص ضروری ہے۔ اگر دل دو طرف مائل ہو تو منزل پانا مشکل ہے، اس لیے پہلے اپنے دل کو دنیاوی مال و متاع سے خالی کرو۔" یہ سن کر آپ واپس گئے، اپنا سب کچھ چھوڑا، اور جب خالص دل کے ساتھ دوبارہ حاضر ہوئے تو شاہ حبیبؒ نے آپ کے اخلاص اور سچائی کو پہچان لیا۔ ایک دن انہوں نے فرمایا: "جس نعمت کے تم مستحق ہو، وہ ہمارے پاس نہیں، مگر ہم تمہیں منزل کا نشان بتاتے ہیں — میرے شیخ حضرت شیخ عبدالرحمن قادریؒ کی خدمت میں جاؤ، ان کا دامن تھام لو، وہی تمہارے لیے کافی ہوں گے۔"
مرشد کے ہاتھ پر بیعت
لہٰذا حضرت سلطان باہوؒ حضرت شاہ حبیب اللہؒ کی ہدایت کے مطابق دہلی تشریف لے گئے۔ وہاں حضرت سید عبدالرحمن قادریؒ کو کشف کے ذریعے پہلے ہی اطلاع ہو چکی تھی کہ ایک بلند مرتبہ طالبِ حق اُن کی طرف آ رہا ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک شخص کو آپ کے استقبال کے لیے روانہ کیا۔ وہ شخص آپ کو لے کر حضرت سید عبدالرحمن قادریؒ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا۔ حضرت نے آپ کو اپنے دستِ مبارک پر بیعت سے مشرف فرمایا، اور پھر آپ کو مدارجِ سلوک و فقر طے کرائے۔ کچھ ہی عرصے میں آپ نے روحانیت کی تمام منزلیں طے کر لیں، اور حضرت سید عبدالرحمن قادریؒ نے آپ کو خلافت و اجازت سے سرفراز فرمایا۔ وہیں سے آپ کو وہ نعمتِ عظمیٰ حاصل ہوئی جس کی آپ مدتوں سے تلاش میں تھے — یعنی فقرِ محمدی اور معرفتِ الٰہی کا وہ نور، جو بعد میں آپ کی تعلیمات اور تصانیف کا مرکز بنا۔
دہلی میں آپ کا طریقہ فیض
روحانی کمال حاصل کرنے کے بعد حضرت سلطان باہوؒ کا طریقِ عمل یہ تھا کہ آپ دہلی کے بازاروں میں گھومتے پھرتے اور جس شخص پر نگاہ ڈالتے، وہ تھوڑی ہی دیر میں عشقِ الٰہی اور معرفتِ حق سے سرشار ہو جاتا۔ آپ کے فیض کا دائرہ عام تھا، اور دہلی میں آپ کی روحانی تاثیر کا شہرہ ہر طرف پھیل گیا۔ جب اس بات کی خبر آپ کے پیر و مرشد حضرت سید عبدالرحمن قادریؒ کو پہنچی تو انہوں نے آپ کو طلب فرمایا اور فرمایا:
> "ہم نے تمہیں ایک خاص نعمت عطا کی تھی، مگر تم نے اسے عام کر دیا۔"
اس پر حضرت سلطان باہوؒ نے نہایت ادب و انکسار کے ساتھ عرض کیا:
"حضرت! جو نعمت مجھے عطا ہوئی، میں نے اسے آزمانا چاہا کہ دیکھوں یہ نعمتِ خاص کس حد تک اثر رکھتی ہے، اور اس کی حقیقت و ماہیت کیا ہے۔"
حق باہو کی شور کوٹ واپسی
کچھ عرصہ دہلی میں قیام اور روحانی خدمات انجام دینے کے بعد حضرت سلطان باہوؒ واپس اپنے وطن شورکوٹ تشریف لائے۔ وہاں آپ نے تعلیم و تلقین، اصلاحِ باطن اور راہِ ہدایت کی تبلیغ میں خود کو وقف کر دیا۔ آپ کی مجالس میں اہلِ علم، طالبانِ حق اور عوام الناس بڑی تعداد میں شریک ہوتے تھے، اور ہر ایک آپ کے ذکر و فیض سے منور ہوتا تھا۔
سلطان حق باہو کی ازدواجی زندگی
حضرت سلطان باہوؒ نے چار شادیاں کیں، اور ان سے آٹھ صاحبزادے پیدا ہوئے۔ سب سے چھوٹے بیٹے سلطان حیات محمدؒ نے بچپن ہی میں وفات پائی۔ آپ کے دیگر صاحبزادگان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
سلطان نور محمدؒ، سلطان ولی محمدؒ، سلطان لطیف محمدؒ، سلطان صالح محمدؒ، سلطان اسحاق محمدؒ، سلطان فتح محمدؒ، اور سلطان شریف احمدؒ۔
سلطان حق باہو کا وصال
حضرت سلطان باہوؒ نے یکم جمادی الثانی 1102 ہجری (1691 عیسوی) کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزارِ مبارک شورکوٹ میں واقع ہے، جو آج بھی مرجعِ خلائق ہے اور دنیا بھر سے زائرین فیض حاصل کرنے آتے ہیں۔
وصال سے کچھ عرصہ قبل جب آپ علیل ہوئے تو علاج کے لیے ایک براہمن حکیم کو بلایا گیا۔ اس نے آنے سے انکار کرتے ہوئے کہا، "اگر میں حضرت سلطان باہوؒ کو دیکھ لوں تو بے ساختہ کلمۂ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو جاؤں گا، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں میری جگہ پر لایا جائے۔" چنانچہ حضرت سلطان باہوؒ کو اس کے مقام پر لے جایا گیا۔ جب براہمن کی نگاہ آپ کے نورانی چہرے پر پڑی تو اس کی زبان سے خود بخود کلمۂ شہادت جاری ہو گیا اور وہ ایمان لے آیا۔
حضرت سلطان باہوؒ کو علم و معرفت سے گہرا شغف تھا۔ اگرچہ آپ نے رسمی طور پر زیادہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن الٰہی فیض اور باطنی علم کے سبب آپ کو بے مثال علمی بصیرت حاصل تھی۔ آپ کی تحریریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ ظاہری و باطنی علوم کے جامع تھے۔
آپ نے بہت سی کتابیں تصنیف فرمائیں جو روحانیت، تصوف اور معرفتِ الٰہی کے اعلیٰ مضامین پر مشتمل ہیں۔ آپ کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:
عین الفقر، گنج الاسرار، کلید التوحید، نور الہدیٰ، محبت الاسرار، شمس العارفین، اورنگِ شاہی، اسرارِ قادری، توفیق الہدایت، مجالس النبی ﷺ، تیغِ برہنہ، اور جامع الاسرار وغیرہ۔
یہ تمام تصانیف راہِ فقر و تصوف کے سالکین کے لیے رہنمائے کامل ہیں۔
سلطان حق باہو کی کرامات
حضرت سلطان باہوؒ کی بے شمار کرامات اور کشف مشہور ہیں۔ روایت ہے کہ آپ کی نگاہِ کرم ایسی تاثیر رکھتی تھی کہ جس پر بھی پڑتی، وہ دل سے اللہ کا ذکر کرنے لگتا۔ آپ کے وصال کے ستر سال بعد جب شورکوٹ میں سیلاب آیا اور قبر مبارک کھولی گئی تو سب لوگ حیران رہ گئے کہ آپ کا جسمِ مبارک بالکل تروتازہ اور سلامت تھا۔ ایک اور مشہور کرامت یہ ہے کہ ایک شخص دولت حاصل کرنے کی نیت سے آپ کے پاس آیا۔ اس نے سنا تھا کہ آپ بہت بڑے فقیر ہیں، لیکن جب اس نے آپ ہل چلاتے ہوئے مشغول دیکھا تو دل میں شک پیدا ہوا اور واپس جانے لگا۔ آپ نے علمِ باطن سے اس کے دل کا حال جان لیا اور اسے آواز دی اور کہا کہ دور دراز کا سفر طے کر کے ائے ہو اور ملے بغیر ہی واپس جانے لگے ہو ، وہ شخص جو کہ سید تھا واپس مڑا اور اپ کو ملا ، ملنے کے بعد پیشاب کی حاجت کے لیئے گئے اور واپس ائے تو اپ کے ہاتھ میں مٹی کا ڈھیلا تھا ، آپ نے اس شخص کو فرمایا کہ بھائی تم نے ہمارے بارے میں جو سنا ہے وہ یو ہی افواہ ہے میں تو بس سادہ سا ایک جٹ آدمی ہوں ، اور تم نے بھی یو ہی تکلیف اٹھائی ہے، آگے سے اس سید نے کیا آپ ٹھیک کہتے ہیں کہ میں کتنا بد قسمت ہوں کہ سید ہوتے ہوئے ایک جٹ کے سامنے ہاتھ پھیلانے چلا آیا ، جب اپ نے اس سید کے منہ سے یہ لفظ سنے تو اپ نے مٹی کا ڈھیلا زمین پر مارا تو وہ حصہ زمین کا سونا بن گیا، وہ شخص یہ دیکھ کر رونے لگا اور اپ کے قدموں میں گرا اپ نے اس کو قدموں سے اٹھایا کہ بھائی یہ وقت رونے کا نہیں بلکہ جتنا ہو سکتا ہے سونا اٹھا لو اور اپنی ضروریات کو پورا کر لو۔
حضرت سلطان حق باہو کے اقوال
اپ فرماتے ہیں فقر کے تین حروف ہیں یعنی ف ق اور را، ف سے فنا نفس ق سے قہر برنفس اور ر سے راضی باخدا مراد ہے ،پھر فرماتے ہیں کہ ف سے فخر ، ق سے قرب اور ر سے راز مراد ہے اپ نے فرمایا کہ یہ مراتب صرف فقر محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو حاصل ہوتے ہیں نہیں تو ف سے فضیحت ق سے قہر خدا اور ر سے رد ہے۔
اپ نے فرمایا کہ اگر کسی کا ایک فعل بھی شریعت محمدی کی خلاف ہو تو وہ صوفی نہیں بلکہ شیطان ہے یہاں مراد شریعت باطنی ہے
سخاوت کرنے سے خلق خدا کا حق ادا ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ صاحب مال کو خدا کے مقابلے میں اپنے مال کی کہاں تک محبت ہے ۔
آپ فرماتے ہیں فقر اور معرفت الہی دریائے رحمت کی موجیں ہیں اور سخاوت اور کرم ایسی صفتیں ہیں جو خدائے تعالی سے ملاتی ہیں آپ پیر و مرشد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پیر اگر قوت باطنی نہ رکھے اور مرید کی خبرگیری نہ کرے اسے گناہ اور معصیت سے روک نہ سکے اور مرید کی جان کنی کے وقت اللہ اور رسول سے دعا اور عرض نہ کرے اور نازک وقت سے صحیح سالم پار نہ گزارے تو اسے پیر و مرشد نہیں کہنا چاہیے۔
اپ فرماتے ہیں کہ سچا کامل مرشد وہ ہے جو مرید کے دل کو سات دن کے اندر اللہ کا ذکر لگا دے اگر ایسا نہیں کر سکتا تو جھوٹا ہے اسے دریا کے کہ پانی میں بہا دو۔
حرص اور حسد کا انجام آخر خواری اور ذلت ہے ۔
اہل دنیا دنیا اور مال و دولت کی غلام ہے جبکہ دنیا اور مال و زر فقیر عارف باللہ کے غلام ہیں ۔
انسان کے سینے میں چار پرندے ہیں چاروں نفس کے چاروں پرندوں کو ذبح کرے یعنی شہوت کا مرغ حرص کا کوا حسد کا مور اور بخل کا کبوتر ان سب کو پاک کرنا پڑتا ہے تب جا کر انسان کا سینہ پاک ہوتا ہے۔
سلطان حق باہو کی شاعری
حضرت سلطان باہوؒ کو شاعری سے گہرا لگاؤ تھا، اور آپ خود بھی ایک بلند پایہ صوفی شاعر تھے۔ آپ کا دیوانِ باہو اور ابیاتِ باہو برصغیر کی روحانی شاعری کا عظیم سرمایہ ہیں۔ آپ کی شاعری نہ صرف فکری و روحانی گہرائی رکھتی ہے بلکہ عشقِ الٰہی، معرفت، اور تصوف کے اعلیٰ مدارج کو بیان کرتی ہے۔ آپ کے کلام میں سادگی کے ساتھ ایک ایسی روحانی تاثیر ہے جو دلوں کو جھنجھوڑ دیتی ہے۔
آپ نے اپنے مرشدِ روحانی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (غوثِ اعظم) کی مدح میں بھی کئی خوبصورت اشعار کہے، جن میں آپ کا عشق و عقیدت جھلکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
شاہِ میراں ہست ثانی شہِ امیر،
شاہِ سوارِ معرفت و روشن ضمیر۔
چوں نباشد سید قادرِ قوی،
چوں نباشد سیدِ اولادِ علی۔
اصلِ جیلانی ز باطنِ مصطفیٰ،
مراتبِ قادری قدرتِ الٰہ۔
شو مرید از جان باہو بالیقین،
خاکِ پائے شاہِ میراں راہِ دین۔
سلطان حق باہو کا عرس کی تاریخ
حضرت سلطان باہوؒ کا عرسِ مبارک ہر سال یکم جمادی الثانی کو منایا جاتا ہے، کیونکہ آپ کا وصال اسی تاریخ کو 1102 ہجری میں ہوا تھا۔ یہ بابرکت دن آپ کے مزارِ مبارک شورکوٹ (ضلع جھنگ، پنجاب) میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ دور دراز سے ہزاروں عقیدت مند اور زائرین حاضری دیتے ہیں، قادری مشائخ کی مجالسِ ذکر و تصوف منعقد ہوتی ہیں اور آپ کے فیضانِ باطنی سے روحانی سکون حاصل کیا جاتا ہے۔ عرس کے موقع پر لنگر کا وسیع انتظام ہوتا ہے، محافلِ نعت، منقبت اور قوالی کا اہتمام کیا جاتا ہے، اور پورا علاقہ نور و عقیدت سے جگمگا اٹھتا ہے۔
آپ فرماتے ہیں کہ میں کئی سال مرشد حق کی تلاش میں رہا اور اپ جب منزل کمالیت تک پہنچ چکا ہوں تو اب 40 سال سے طالب حق کی تلاش میں ہوں لیکن ملتا نہیں ہے، سلطان حق باہو کی یہ بات ثابت کرتی ہے کہ اس دور میں حق کے متلاشی اور اللہ سے عشق کرنے والے طالب ختم ہوچکے ہیں ۔
حضرت سلطان حق باہو سلطان الفقرا کی قبر مبارک


