حضرت شیخ جلال الدین تبریزی کی مکمل تاریخ ، حالات زندگی اور واقعات

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ سہروردیہ کے عظیم صوفی بزرگ اور مشہور عارف تھے، جو ساتویں صدی ہجری (بارہویں صدی عیسوی) میں ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک علمی اور روحانی خاندان سے تھا، اور آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ 


حضرت جلال الدین تبریزی کی شخصیت میں علم و عمل کا حسین امتزاج تھا۔ آپ نے ظاہری اور باطنی علوم میں مہارت حاصل کی اور اپنے روحانی سفر میں ریاضت، مراقبہ اور ذکر الٰہی کو اہمیت دی۔ آپ کی زندگی کا مقصد اللہ کی رضا اور انسانوں کی فلاح تھا

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی  کا مزار ، دربار


مرشد سے بیعت

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت بدرالدین ابو سعید تبریزی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ آپ کے والد محترم بھی حضرت ابو سعید کے مرید تھے، اور آپ نے اپنے والد کی رہنمائی میں حضرت ابو سعید کی بارگاہ میں بیعت کی۔ بعد ازاں، اپنے مرشد کی وفات کے بعد آپ نے حضرت شیخ شهاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ سے بھی روحانی فیض حاصل کیا، اور سہروردیہ سلسلے کے ایک اہم بزرگ بنے۔

شیخ شہاب الدین سہروردی کی خدمت


اپنے مرشد حضرت شیخ ابو سعید تبریزی کی وفات کے بعد، حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی کی ایسی خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ شیخ شہاب الدین ہر سال بغداد سے حج کے لیے جاتے، اور جب بوڑھے ہو گئے تو ٹھنڈا کھانا ان سے نہیں کھایا جاتا تھا ۔ لہذا حضرت جلال الدین ہر وقت انگیٹی اور دیگچی اپنے سر پر رکھ کر چلتے اور جب شیخ صاحب کھانا مانگتے تو انہیں گرم کر کے پیش کرتے۔

سیر و سیاحت 

آپ کا حضرت بہاؤالدین زکریا کے ساتھ سیر و سفر میں بڑا گہرا تعلق رہا۔ حضرت بہاؤالدین زکریا جب کسی شہر میں پہنچتے تو عبادت میں مشغول ہو جاتے، اور آپ شہر کی سیر کو نکل جاتے اور وہاں کے درویشوں سے ملاقات کرتے۔ نیشاپور پہنچ کر آپ حضرت فرید الدین عطار سے مل کر جب واپس آئے۔ اس پر حضرت بہاؤالدین زکریا نے آپ سے پوچھا کہ آج درویشوں میں سے کس کو بہتر پایا؟ تو آپ نے جواب دیا کہ فرید الدین عطار کو۔

شیخ جلال الدین تبریزی کی کرامات


آپ سیر و سیاحت فرماتے رہتے تھے۔ جب آپ ملتان تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں سے پوچھا کہ یہاں کوئی فقیر رہتا ہے؟ انہوں نے آپ کو حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر کے بارے میں بتایا، جس سے آپ کو ان سے ملنے کی رغبت ہوئی۔


جب آپ ملاقات کے لیے جا رہے تھے، تو راستے میں ایک شخص ملا جس نے آپ کو ایک انار دیا۔ آپ نے انار ہاتھ میں لیا اور حضرت بابا فرید کے پاس پہنچ کر وہاں انار کھانا شروع کر دیا۔


حضرت مسعود گنج شکر روزہ تھے، لیکن جب آپ انار کھا رہے تھے تو ایک دانہ زمین پر گر گیا۔ حضرت مسعود نے اس دانے کو اٹھا کر اپنی دستار میں رکھ لیا اور افطاری کے وقت کھا لیا۔ اس وقت انہیں اپنے قلب میں ایک روشنی محسوس ہوئی اور خیال گزرا کہ اگر زیادہ کھا لیتے تو اور بھی فائدہ ہوتا۔


بعد ازاں، جب حضرت مسعود گنج شکر اپنے پیر مرشد حضرت قطب الدین بختیار کاکی کے پاس دہلی گئے، تو انہوں نے فوراً فرمایا: "مسعود! جو انار کا دانہ تیری قسمت کا تھا، تجھے مل گیا، اسے خاطر جمع رکھو

دہلی میں امد

جب آپ دہلی تشریف لائے تو سلطان شمس الدین نے آپ کا باوقار استقبال کیا۔ اس استقبال سے نجم الدین صغری، جو اس وقت شیخ الاسلام تھے، ناخوش ہوئے اور حسد کے اثر میں آ کر 500 اشرفیاں ایک طوائف کو دیں اور اسے اس بات پر آمادہ کیا کہ آپ پر زنا کا الزام لگائے۔ چنانچہ اس نے آپ پر الزام لگا دیا۔


یہ بات سلطان التمش کے پاس پہنچی، تو انہوں نے تمام مشاہیر اور مشائخ کو دہلی بلایا، جو تعداد میں 200 سے زیادہ تھے۔ سلطان التمش نے نجم الدین صغری کو اجازت دی کہ جس کو چاہیں ثالث بنائیں۔ نجم الدین صغری نے حضرت بہاؤالدین زکریا کو ثالث مقرر کیا۔


جب حضرت جلال الدین صاحب مسجد کے دروازے سے داخل ہوئے، تو سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔ حضرت بہاؤالدین زکریا خود ان کے قدموں میں جھک گئے اور ان کے جوتے اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیے۔ سلطان التمش یہ منظر دیکھ کر حیران ہوئے اور فرمایا کہ معاملہ طے ہو گیا ہے۔


حضرت بہاؤالدین زکریا نے فرمایا: "میرے اوپر واجب ہے کہ شیخ جلال الدین کی خاک کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناؤں، کیونکہ انہوں نے میرے پیر مرشد کی سات برس تک خدمت کی ہے۔" یوں آپ کو اس سازش اور الزام سے نجات ملی اور نجم الدین صغری ذلیل ہوا۔

دہلی سے روانگی

کچھ عرصہ قیام کے بعد اپ نے دہلی چھوڑ دی اور روانگی کے وقت یہ الفاظ کہے "جب میں اس شہر میں ایا تو خالص سونے کی طرح تھا اب یہاں سے چاندی ہو کر چلا ہوں"

بدایوں میں قیام

بادائیوں میں آپ نے کچھ عرصہ قیام کیا۔ ایک دن یہ واقعہ پیش آیا کہ آپ اپنے مکان کی دہلیز پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص، جو مواسی کا رہنے والا تھا اور چھاج کا مٹکا سر پر رکھے سامنے سے گزرا، آپ کو دیکھتے ہی بے ساختہ گر پڑا اور مشرف بہ اسلام ہوا۔ آپ نے اس کا نام علی رکھا۔


اس شخص کے پاس ایک لاکھ چیتل اور بہت سی دولت تھی، لیکن اس نے وہ سب کچھ آپ کو دے دیا۔ حضرت جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ نے اس دولت کو غریبوں میں تقسیم کر دیا۔

بنگال آمد 

بدائیوں کو ترک کر کے بنگال کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ کے مرید علی بھی آپ کے ساتھ روانہ ہونا چاہتے تھے، لیکن آپ نے انہیں منع کر دیا۔


بنگال پہنچ کر آپ نے مستقل سکونت اختیار کی اور اپنے زندگی کے آخری ایام بھی وہیں گزارے۔ آپ تعلیم و تربیت، نصیحت اور رشد و ہدایت میں مصروف رہے اور لوگوں کی رہنمائی فرماتے رہے۔ آپ نے وہاں مسجد اور خانقاہ بھی تعمیر کروائی۔

جلال الدین تبریزی کی تعلیمات اور اقوال

آپ فرماتے ہیں کہ عالموں کی نماز اور ہوتی ہے اور فقیروں کی نماز اور ہوتی ہے۔ علماء کی نماز اس طرح ہوتی ہے کہ ان کی نظر کعبہ پر رہتی ہے اور وہ اسی جانب منہ کر کے نماز ادا کرتے ہیں۔ اگر کعبہ دکھائی نہ دے تو اس طرف منہ کر کے نماز ادا کی جاتی ہے، اور اگر ایسے مقام پر ہوں جہاں سمت معلوم نہ ہو، تو جو طور طریقہ مناسب لگے، قیاساً نماز ادا کر لیتے ہیں۔


آپ فرماتے ہیں کہ فقیر جب تک عرشِ الٰہی کو نہیں دیکھ لیتا، نماز ادا نہیں کرتا۔ 

 آپ فرماتے ہیں: "جس نے شہوت پرستی اختیار کی، وہ کبھی فلاح نہیں پاتا۔

اور جس نے کسی صنعت میں دل لگایا وہ دنیا کا بندہ ہو گیا۔

شیخ جلال الدین تبریزی کی وفات 

حضرت شیخ جلال الدین تبریزی رحمۃ اللہ علیہ 642 ہجری میں واصل بحق ہوئے۔ آپ کا مزار "فیضِ آثار" کے نام سے دیو محل بندر (سلہٹ) میں واقع ہے، جو بنگلہ دیش کے ضلع سلہٹ میں واقع ہے۔ یہ مقام اہلِ تصوف کے لیے مرجعِ خاص و عام ہے، جہاں زائرین آپ کی روحانی تعلیمات اور کرامات سے استفادہ کرتے ہیں۔

شیخ جلال الدین تبریزی اور شاہ جلال میں میل جول

حضرت شیخ جلال الدین تبریزیؒ اور حضرت شاہ جلال مجرّد یمنیؒ کے درمیان اکثر لوگوں کو غلط فہمی ہو جاتی ہے کیونکہ دونوں بزرگوں کے نام میں "جلال" مشترک ہے اور دونوں نے بنگال و سلہٹ کے علاقوں میں اسلام اور تصوف کی خدمت انجام دی۔ لیکن حقیقت میں یہ دو الگ ہستیاں ہیں۔ حضرت شیخ جلال الدین تبریزیؒ کا تعلق تبریز (ایران) سے تھا، آپ تیرہویں صدی عیسوی کے اوائل میں بنگال تشریف لائے اور سلسلۂ سہروردیہ سے وابستہ تھے۔ آپ نے پانڈوعہ اور بنگال کے مختلف علاقوں میں خانقاہیں قائم کیں اور تعلیم و تصوف کو فروغ دیا۔ دوسری طرف حضرت شاہ جلال مجرّد یمنیؒ کا تعلق یمن کے علاقے حضرموت سے تھا، آپ چودہویں صدی عیسوی میں سلہٹ (موجودہ بنگلہ دیش) تشریف لائے اور سلسلۂ چشتیہ سے وابستہ تھے۔ چونکہ دونوں بزرگوں کے نام ملتے جلتے ہیں اور دونوں کا کردار اسلامی روحانیت کے فروغ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے عوام میں یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ دونوں ایک ہی شخصیت ہیں، حالانکہ حقیقت میں شاہ جلالؒ حضرت شیخ جلال الدین تبریزیؒ کے بعد کے دور کے بزرگ تھے جنہوں نے ان کی روحانی تحریک کو آگے بڑھایا۔



Post a Comment

Previous Post Next Post