حضرت امام بری سرکار کی مکمل تاریخ، حالات زندگی اور واقعات

حضرت امام بری سرکارؒ جن کا اصل نام حضرت سید عبداللطیف شاہ قادری چشتیؒ تھا، برصغیر کے مشہور اولیائے کرام میں سے ایک بزرگ گزرے ہیں۔ آپ کا تعلق قادریہ سلسلہ سے تھا، اور آپ اپنی روحانیت، عبادت، اور لوگوں کی خدمت کے لیے بہت مشہور ہوئے

آپ ساداتِ کرام کے ایک نہایت مایہ ناز، باعزت اور علم و تقویٰ میں ممتاز گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔

آپ کا شجرۂ نسب نہایت جلیل القدر اور مقدس ہے، جو تاجدارِ امامت، حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہُ سے ہوتا ہوا امامت کے ساتویں تاجدار، حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ الرحمہ تک جا پہنچتا ہے۔


اسی نسبتِ عالیہ کی برکت سے آپ کو “سید بری امام کاظمی” کہا جاتا ہے۔ آپ کے خاندان کے بزرگ علم، روحانیت اور خدمتِ دین میں نمایاں مقام رکھتے تھے، اور اسی روحانی وراثت کا تسلسل حضرت امام بری سرکارؒ کی ذاتِ گرامی میں اپنے عروج پر نظر آتا ہے۔

حضرت امام بری سرکار کا مزار ، دربار

امام بری سرکار کی ولادت 

 آپ کی ولادت 1026 ہجری (تقریباً 1617 عیسوی) کو کرسال (کماہ) تحصیل چکوال میں ہوئی۔  اپ کے والد کا نام سید عبدالحمید تھا۔ آپ سید گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، یعنی حضرت امام حسینؓ کی اولاد میں سے تھے۔

آپ کے والدِ گرامی حضرت سید محمود شاہؒ اور والدہ محترمہ سیدہ غلام فاطمہ کاظمی ایک نیک سیدہ خاتون تھیں۔


جب آپ کی عمرِ مبارک دس برس کی تھی تو آپ اپنے والد محترم کے ہمراہ چکوال سے باغ کلاں منتقل ہوئے — وہی مقام جو آج اسلام آباد کا علاقہ آبپارہ کہلاتا ہے۔

امام بری سرکار کی تعلیم و تربیت

حضرت امام بری سرکارؒ کے والدِ محترم چونکہ خود ایک جلیل القدر ولیِ  تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت سید محمود بادشاہؒ سے حاصل کی۔

بعد ازاں آپ نے فقہ، حدیث اور دیگر علومِ اسلامی کی تعلیم کے لیے نجفِ اشرف (عراق) کا سفر اختیار کیا، جہاں آپ نے متعدد جلیل القدر علمائے کرام سے نہ صرف علمی فیض حاصل کیا بلکہ ان کے روحانی فیوض و برکات سے بھی بہرہ مند ہوئے۔

امام بری سرکار کے مرشد

آپ نے فقہ و حدیث اور دیگر علومِ دینیہ کی تعلیم نجفِ اشرف (عراق) سے حاصل کی، جہاں آپ نے نامور علمائے کرام اور مشائخ سے علم و عرفان کا فیض پایا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ زیارتِ مقدسہ کے لیے روانہ ہوئے اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، کربلائے معلّیٰ اور دیگر اسلامی ممالک کی زیارت سے مشرف ہوئے۔


یہ سفرِ روحانی تقریباً بارہ برس پر محیط تھا۔ انہی ایام میں آپ نے  حضرت حیات المیرؒ (قدس سرہ) سے روحانی فیض بھی لیا۔

سفر مکمل ہونے کے بعد واپسی پر اپ نے حضرت جمال اللہ المعروف بالا پیر جو کہ حجرہ شاہ میں مقیم تھے سے روحانی فائز حاصل کیا،اور بیعت بھی کی بعد میں انہی بالا پیر نے اپ کو بری امام کا لقب بھی دیا۔

سید کسراں میں قیام

جب آپ ایران و عراق کے بارہ سالہ طویل سفرِ علم و روحانیت سے واپس تشریف لائے تو سید کسراں میں قیام فرمایا۔ اس وقت آپ کے کشف و کرامات اور روحانی مقام کا چرچا دور دور تک پھیل گیا۔

دور دراز علاقوں سے عقیدت مند، علما، اور طالبانِ حق آپ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہونے لگے اور آپ کی تعلیم، تبلیغ، وعظ و نصیحت اور پند و ارشاد سے فیض حاصل کرتے۔

کچھ عرصہ سید کسراں میں قیام کے بعد حضرت امام بری سرکارؒ نے اس وقت کے ضلع راولپنڈی کے شمالی حصے کا رخ فرمایا اور باغِ کلاں (جو موجودہ آبپارہ مارکیٹ، اسلام آباد کے مقام پر واقع ہے) میں سکونت اختیار کی۔

باغ کلاں میں قیام

باغِ کلاں کے باشندوں نے بڑے احترام اور عقیدت کے ساتھ آپ کا خیرمقدم کیا اور اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر کچھ اراضی نذرانے کے طور پر پیش کی۔ بری امام سید شاہ عبدالحکیم کاظمیؒ نے کچھ مدت یہاں قیام فرمایا اور پورے خلوص کے ساتھ تبلیغِ دین، اصلاحِ اخلاق، اور اشاعتِ اسلام میں مصروف رہے۔ جلد ہی یہاں کے تمام باشندے آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔ آپ کے فیض و برکت سے اس علاقے میں روحانیت اور تقویٰ کا چرچا عام ہوگیا، اور اسی دوران آپ سے کئی کرامات ظاہر ہوئیں جنہوں نے عوام کے دلوں میں آپ کی ولایت و بزرگی کی گہری مہر ثبت کر دی۔


امام بری سرکار کی کرامات

ان ہی ایام کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک روز آپ عبادتِ الٰہی میں محو تھے۔ توجہ اور استغراق کی شدت اس قدر تھی کہ آپ کو یہ احساس تک نہ ہوا کہ آپ کے مویشی قریب ہی کے ایک زمیندار کے کھیت میں گھس گئے ہیں اور انہوں نے پوری فصل برباد کر دی ہے۔ جب زمیندار نے یہ منظر دیکھا تو سخت غصے میں آ گیا اور شکایت لے کر آپ کے والدِ محترم، حضرت سید محمود شاہؒ کے پاس پہنچا۔


سید محمود شاہؒ زمیندار کے ہمراہ آپ کے پاس آئے اور ناراضی کے انداز میں فرمایا:

"بیٹا! تمہاری بے توجہی کی وجہ سے بیچارے کی ساری فصل تباہ ہو گئی ہے۔"


آپ خاموش رہے اور کچھ دیر بعد جب والدِ گرامی نے دوبارہ سرزنش کی، تو آپ نے نہایت سکون اور وقار کے ساتھ سر اُٹھایا اور آہستہ سے فرمایا:

"ابا جی، ذرا فصل کی طرف ملاحظہ تو فرمائیے۔"


جب سید محمود شاہؒ اور زمیندار نے کھیت کی طرف نظر ڈالی تو حیران رہ گئے — وہی کھیت جو ابھی کچھ دیر پہلے مکمل تباہ ہو چکا تھا، اب سرسبز و شاداب کھڑا لہلہا رہا تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔


یہ منظر دیکھتے ہی زمیندار کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ وہ حیرت و ندامت کے عالم میں آپ کے قدموں میں گر پڑا اور گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا۔

یہ واقعہ بری امامؒ کی پہلی ظاہری کرامات میں شمار کیا جاتا ہے، جو آپ کی روحانی قوت اور اللہ تعالیٰ کے خاص فضل و کرم کا روشن ثبوت ہے۔

امام بری سرکار کی پیشن گوئی

حضرت امام بری سرکارؒ نے آج سے تقریباً ساڑھے تین سو سال قبل اپنے زمانے میں ایک نہایت بابرکت پیش گوئی فرمائی تھی۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ:


> “نورپور پوٹھوہار (موجودہ اسلام آباد) کا یہ خطہ ایک دن ایسا مقام حاصل کرے گا کہ یہ فرزندانِ توحید کا مرکز بنے گا، یہاں علم و عرفان کے چراغ روشن ہوں گے، اور یہ علاقہ ایک عالی شان، چمکتا دمکتا شہر بن جائے گا جس کا چرچا پوری دنیا میں ہوگا۔”


یہ ارشاد آج حیرت انگیز طور پر سچ ثابت ہو چکا ہے، کیونکہ اسلام آباد نہ صرف پاکستان کا خوبصورت دارالحکومت ہے بلکہ دنیا کے حسین ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ پیش گوئی بری امام سرکارؒ کی روحانی بصیرت، کشف اور ولایتِ کاملہ کی روشن دلیل ہے۔


نورپور میں امام بری سرکار کی آمد 

ایک بار حضرت امام بری سرکارؒ کسی سفر پر روانہ تھے۔ اس سفر میں آپ کا مریدِ خاص حضرت مٹھا شاہؒ بھی ہمراہ تھا۔ ابھی آپ نے بمشکل چار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا کہ اچانک جنگل سے چند ڈاکو نکل آئے اور انہوں نے لوٹنے کی نیت سے آپ کا راستہ روک لیا۔


مگر جونہی ان ڈاکوؤں کی نظر آپ کے نورانی چہرے پر پڑی اور انہوں نے آپ کی پُراثر گفتگو سنی، تو ان کے دلوں میں انقلاب برپا ہوگیا۔ وہ سب کے سب جرائم سے تائب ہو گئے اور اسی وقت حضرت امام بری سرکارؒ کے دستِ مبارک پر بیعت کر کے آپ کے مرید بن گئے۔


آپ نے وہیں اقامت اختیار فرمائی اور تبلیغِ دین کا سلسلہ شروع کر دیا۔ آپ کی روحانی نگاہ اور وعظ و نصیحت کے نتیجے میں اس علاقے کے لوگ بھی اسلام کی تعلیمات سے روشناس ہوئے اور کفر و ضلالت کی تاریکی ختم ہو گئی۔


یوں وہ مقام، جو پہلے چور پور کہلاتا تھا، آپ کی برکت سے اسلام کے نور سے روشن ہو گیا اور ہمیشہ کے لیے اس کا نام "نور پور" رکھ دیا گیا —

اور یہی نور پور شاہاں ہے، جہاں آج حضرت امام بری سرکارؒ کا مزارِ مبارک مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے۔


سرکار بری امام کی شادی

حضرت امام بری سرکارؒ نے جب علومِ ظاہری و باطنی میں کمال حاصل کر لیا اور روحانی منازل طے فرما لیں، تو آپ نے کچھ عرصہ ضلع ہزارہ میں قیام فرمایا۔ وہاں آپ نے ایک نہایت نیک سیرت خاتون، بی بی دامن خاتونؒ، دخترِ سید محمد، سے نکاح فرمایا۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک صاحبزادی سے نوازا، مگر افسوس کہ کچھ ہی عرصے بعد آپ کی زوجہ محترمہ وصال فرما گئیں۔


لفظ بری امام کا معنی ہے

لفظ "بری امام" دراصل نہایت گہرا روحانی مفہوم رکھتا ہے۔

“بری” سے مراد ہے برّ و بحر — یعنی پہاڑ، میدان، دریا، ندی، چشمے اور بیابان — اور “امام” سے مراد ہے ان سب کا روحانی پیشوا۔

یوں بری امام سرکارؒ وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام زمینی و بحری مخلوقات، فضاؤں، ہواؤں اور آب گاہوں پر روحانی ولایت عطا فرمائی۔ آپ وہ بزرگ ہیں جنہوں نے یادِ الٰہی میں سخت ترین موسمی حالات، طوفانی ہواؤں، بارشوں اور ریگستانی تپش کی پرواہ کیے بغیر چلّہ کشی فرمائی — دن رات عبادتِ الٰہی میں مشغول رہے، یہاں تک کہ آپ کا وجود خود نورِ ولایت کا مظہر بن گیا۔


امام بری سرکار کی دو بڑی کرامتیں 

حضرت امام بری سرکارؒ کی بے شمار کرامات منقول ہیں، مگر ان میں سب سے بڑی اور نمایاں کرامت یہ ہے کہ آپ نے دو مغل شہزادوں کی روحانی تربیت فرمائی۔ آپ نے ان کی باطنی اصلاح اور تزکیۂ نفس اس انداز سے کی کہ ایک شہزادہ آپ کے فیضِ نظر سے ایسا منوّر ہوا کہ راہِ سلوک میں گم ہو گیا۔ آپ نے اسے "شاہ حسین" کا نام عطا فرمایا، جو بعد ازاں معرفت و ولایت کی دنیا میں ممتاز مقام پر فائز ہوا۔


اسی طرح نور پور شاہاں کے قریب ایک مقام ہے جسے آج بھی لوگ "لوئی دندی" کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ وہ مقامِ عبادت ہے جہاں حضرت امام بری سرکارؒ اکثر ذکر و عبادتِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ آپ کا معمول تھا کہ تنہائی میں مراقبہ اور چلہ کشی کرتے۔


ایک روز جب آپ گہری عبادت و توجہ میں مصروف تھے، تو ایک جنّ وہاں آ کر آپ کو پریشان کرنے لگا اور آپ کی عبادت میں خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ آپ نے صبر اور بردباری کے ساتھ پہلے اسے نصیحت فرمائی، مگر جب وہ کسی صورت باز نہ آیا، تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اس شر سے نجات عطا ہو۔


اللہ کے حکم سے وہ جن وہیں پتھر بن گیا۔

آج بھی لوئی دندی کے مقام پر ایک پتھر موجود ہے جسے لوگ اُس جنّ کی نشانی مانتے ہیں — اور یہ واقعہ حضرت بری امام سرکارؒ کی روحانی قوت اور ولایتِ کاملہ کی روشن دلیلوں میں سے ایک ہے۔


امام بری سرکار کا وصال

حضرت شاہ عبدالطیف کاظمیؒ المعروف بری امام سرکارؒ نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، روحانی تربیت، تبلیغِ حق، اور اصلاحِ خلقِ خدا میں بسر فرمائی۔ آپ نے علم و عرفان، زہد و تقویٰ، اور عبادت و ریاضت کا ایسا اعلیٰ نمونہ پیش کیا کہ آپ کا نام برصغیر کے اولیائے کاملین میں ہمیشہ کے لیے روشن ہوگیا۔


آپ نے 91 برس کی عمرِ مبارک پائی، اور آخرکار 1117 ہجری بمطابق 1708 عیسوی میں وصال فرما گئے۔

آپ کو نورپور شاہاں (اسلام آباد) میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج آپ کا مزارِ اقدس اہلِ ایمان کے لیے مرجعِ خلائق ہے۔


دنیا بھر سے عقیدت مند اور زائرین آپ کے درِ اقدس پر حاضری دیتے ہیں، دعا کرتے ہیں، اور آپ کی روحانی برکات سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

آپ کا مزار آج بھی امن، محبت، اور اخوت کی ایسی شمع ہے جو دلوں کو منور کرتی ہے اور انسانیت کو خدا کی طرف بلاتی ہے۔

حضرت امام بری سرکار کا مزار ، دربار

امام بری سرکار کا عرس کب منایا جاتا ہے

ابتدائی زمانے میں حضرت امام بری سرکارؒ کے سالانہ عرس کی تقریبات پانچ روزہ ہوا کرتی تھیں، جو پنجابی مہینہ ویساکھ کے پہلے عشرے کی اتوار سے شروع ہو کر جمعرات تک جاری رہتی تھیں۔

یوں یہ عرسِ مبارک ہر سال اپریل کے آخری عشرے میں منایا جاتا تھا۔


اس زمانے میں پنجاب میں گندم کی کٹائی مکمل ہونے کے بعد میلے اور روحانی اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا، اسی مناسبت سے بری امام سرکارؒ کا عرس بھی ویساکھ کے مہینے میں منعقد کیا جاتا تھا، جو عقیدت مندوں کے لیے ایک روحانی تہوار کی حیثیت رکھتا تھا۔


تاہم 2005ء میں بری امام سرکارؒ کے مزار پر ایک خودکش حملہ ہوا، جس کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس اندوہناک واقعے کے بعد عرس کی تقریبات کو اگلے 17 برسوں تک روک دیا گیا۔


بعد ازاں موجودہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ جناب اسحاق ڈار نے حکومتِ پاکستان کی سطح پر فیصلہ کیا کہ عرس بری امامؒ کو پاکستان کے یومِ آزادی (14 اگست) سے منسوب کیا جائے۔

چنانچہ اب سے یہ عرس ہر سال 15، 16، اور 17 اگست کو باقاعدہ طور پر نورپور شاہاں (اسلام آباد) میں سرکاری سرپرستی میں منایا جاتا ہے۔



Post a Comment

Previous Post Next Post