حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ جھولے لعل کی کرامات

 حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، عالمِ ربانی، اور روحانی پیشوا تھے جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سیہون شریف (سندھ، پاکستان) میں گزارا۔ آپ کی ولادت بارہویں صدی عیسوی میں مروند (موجودہ افغانستان) میں ہوئی، اور کم عمری ہی سے علم و عرفان، زہد و تقویٰ اور روحانیت کی منازل طے کر لیں۔ آپ کا لقب “شہباز” آپ کی بلند روحانی پرواز اور آسمانی بصیرت کی علامت ہے، جب کہ “لعل” آپ کے لال جوڑے اور روحانی جمال کی وجہ سے مشہور ہوا۔ آپ نے اپنی تعلیمات کے ذریعے وحدتِ الوجود، محبتِ الٰہی، اور انسانیت کی خدمت کا پیغام عام کیا۔ آپ کی محفلیں رنگ و نور، ذکر و وجد، اور عشقِ حقیقی کی گواہ تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ آپ نے دینِ اسلام کو خلوص، محبت، اور رواداری کے ذریعے عوام کے دلوں میں راسخ کیا۔ آپ کا مزار سیہون شریف میں واقع ہے، جو صدیوں سے عقیدت مندوں، درویشوں، اور زائرین کا مرکزِ فیض ہے۔ وہاں کی فضا ہر وقت درود، قوالی، اور “دم مست قلندر” کی صداؤں سے گونجتی رہتی ہے۔ لعل شہباز قلندرؒ کا مزار نہ صرف روحانی سکون کا مرکز ہے بلکہ مختلف عقائد کے ماننے والوں کے لیے بھی اتحاد و محبت کی ایک علامت بن چکا ہے، جہاں ہر دل خلوص و عقیدت کے ساتھ حاضری دیتا ہے اور فیض پاتا ہے۔

Hazrat Sakhi lal Shahbaz Qalandar ka darbar

حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی پہلی کرامت

ایک روز حضرت لعل شہباز قلندرؒ صحرائے بےآب و گیاہ میں عبادتِ الٰہی میں محو تھے۔ آپ نے اپنے قریب زمین میں دو لکڑیاں تھوڑے فاصلے پر گاڑ رکھی تھیں۔ اسی دوران ایک شخص وہاں سے گزرا۔ وہ اس خیال میں ڈوبا ہوا تھا کہ ایک دن بادشاہ بنے گا، کیونکہ اُس نے ایسا خواب دیکھا تھا۔ وہ انہی دو لکڑیوں کے درمیان سے گزرا تو اچانک اُس نے محسوس کیا کہ وہ ایک عظیم دروازے سے گزر کر ایک شہر کے اندر داخل ہو گیا ہے۔ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ اُس نے کسی سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ اس شہر کا بادشاہ وفات پا چکا ہے اور اُس کا کوئی وارث نہیں۔ اس لیے لوگ نئے بادشاہ کے انتخاب کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ایک پرندہ، جسے “ہُما” کہا جاتا ہے، اُڑایا جائے گا، اور وہ جس کے سر پر آ کر بیٹھے گا، اُسی کو بادشاہ بنایا جائے گا۔

کچھ دیر بعد وہ ہُما پرندہ آ کر اسی شخص کے سر پر بیٹھ گیا۔ لوگوں نے اُسے خوشی خوشی اپنا بادشاہ بنا لیا۔ وہ سات سال تک اس ملک پر حکومت کرتا رہا۔ ایک دن وہ اپنے ملک میں سیر و تفریح کے لیے نکلا اور اُسی دروازے پر پہنچ گیا جہاں سے وہ شہر کے اندر داخل ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ دروازے سے گزرا، اُس نے دیکھا کہ وہ پھر اُسی مقام پر واپس آ گیا ہے، ان ہی دو لکڑیوں کے درمیان سے جن کے بیچ سے وہ پہلے گزرا تھا، اور حضرت لعل شہباز قلندرؒ بدستور اُسی جگہ عبادت میں مشغول تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی لمحہ بھی نہیں گزرا۔

حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی دوسری کرامت

دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ سیہون کے حاکم نے حضرت لعل شہباز قلندرؒ کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا۔ اُس نے آپ کو کھانے کی دعوت دی اور اپنے باورچی کو حکم دیا کہ ایک بلی کو ذبح کرکے پکائے اور وہی کھانا حضرتؒ کے سامنے پیش کرے۔ باورچی نے ویسا ہی کیا۔ جب کھانے کا برتن آپ کے سامنے رکھا گیا تو آپ نے نہایت سکون اور یقین کے ساتھ فرمایا: “قُومی بإذنِ اللہ” یعنی “اللہ کے حکم سے اُٹھ جا۔”

آپ کے الفاظ ادا ہوتے ہی وہ بلی زندہ ہو گئی۔ وہ فوراً برتن سے باہر نکلی اور وہاں موجود باقی تمام برتنوں میں رکھا ہوا کھانا کھا کر چلی گئی۔ یہ منظر دیکھ کر سیہون کا حاکم لرز اُٹھا، سخت شرمندہ ہوا اور آپ کے قدموں میں گر کر معافی طلب کی۔ اُس دن کے بعد سے وہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے روحانی مرتبے اور کرامت پر کامل ایمان لے آیا۔

حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی قبر مبارک

حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ  اور الٹی بستی کی کرامت

حضرت سید عثمان مروندی المعروف حضرت لعل شہباز قلندرؒ برصغیر کے اُن عظیم اولیاء کرام میں سے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں نہ صرف روحانی انقلاب برپا کیا بلکہ ظلم، جبر، اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبے معاشرے کو حق و ہدایت کی روشنی عطا کی۔ آپ نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ سیہون شریف میں گزارا، جو اُس وقت ایک ایسی سرزمین تھی جہاں عیاشی، شراب و شباب، اور ظالمانہ حکمرانی کا دور دورہ تھا۔ اس علاقے پر اُس وقت ایک عیاش اور بے دین بادشاہ، چوپٹ راجہ، کی حکمرانی تھی جس کے ظلم سے عوام تنگ آ چکی تھی۔ حضرت لعل شہباز قلندرؒ نے سیہون کو اپنا مسکن بنایا اور وہاں سے اسلام کی دعوت، انسانیت، محبت، اور انصاف کا پیغام پھیلانا شروع کیا۔ آپ کی زبان میں تاثیر تھی، آپ کا کردار نورِ ہدایت کی مانند چمکتا تھا، اور آپ کی روحانی طاقت نے جلد ہی اس خطے میں انقلاب برپا کر دیا۔ جیسے جیسے لوگ راہِ حق کی طرف مائل ہوئے، چوپٹ راجہ کی طاقت کمزور پڑنے لگی اور وہ حسد اور خوف میں مبتلا ہو گیا۔

راجہ نے کئی بار آپ کو اپنی ریاست سے نکالنے کی کوشش کی، مگر ہر کوشش ناکام ہوئی۔ جب اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ حضرت قلندرؒ کے خیمے پر چڑھائی کر کے آپ کو گرفتار کیا جائے تو ایک عجیب کرامت ظاہر ہوئی — سپاہی جب بھی آپ کے خیمے کے قریب پہنچنے لگتے تو ان کے جسم ساکت ہو جاتے، جیسے کسی نے انہیں زمین میں گاڑ دیا ہو، اور جب وہ پیچھے ہٹتے تو پھر حرکت میں آ جاتے۔ یہ منظر دیکھ کر سپاہی حیران و پریشان واپس لوٹ گئے۔ جب چوپٹ راجہ نے اس واقعے کی خبر سنی تو غیظ و غضب سے بھر گیا اور اپنے نجومیوں سے مشورہ کیا۔ نجومیوں نے بتایا کہ یہ وہی درویش ہیں جن کا ذکر اس کے قید خانے میں قید بزرگ سکندر بودلا کر رہے تھے، جو روز کہتے تھے "میرا مرشد آ رہا ہے"۔ حضرت قلندرؒ نے روحانی طور پر اپنے مرید بودلا کو آواز دی — “بودلا اب آ جاؤ!” — اور قید خانے میں بند بودلا کی زنجیریں خود بخود ٹوٹ گئیں، دروازہ کھل گیا، اور وہ خوشی خوشی اپنے مرشد کے قدموں میں جا گرا۔

چوپٹ راجہ نے اس کرامت کو بھی جادو سمجھا اور جادوگروں کو بلا کر مقابلے کا حکم دیا، مگر وہ سب عاجز آ گئے۔ آخرکار جادوگروں نے راجہ کو مشورہ دیا کہ حضرت لعل شہباز قلندرؒ کی روحانی طاقت کو زائل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ ان کے پیٹ میں حرام غذا پہنچا دی جائے۔ راجہ نے حرام گوشت سے مختلف پکوان تیار کروا کر آپ کی خدمت میں بھیجے، مگر آپ نے بصیرت سے پہچان لیا کہ یہ ناپاک کھانا ہے۔ آپ جلال میں آئے، کھانا الٹ دیا، اور فرمایا:
"اس کافر کی تقدیر میں ہلاکت لکھی جا چکی ہے، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا!"

یہ الفاظ کہنا ہی تھا کہ زمین لرز اٹھی، زلزلہ آیا، اور چوپٹ راجہ کا شاندار قلعہ پلٹ گیا — بالکل الٹ گیا۔ اس کرامت کے نتیجے میں سیہون کے لوگ ایک ظالم بادشاہ کے ظلم سے ہمیشہ کے لیے نجات پا گئے۔ اس قلعے کے آثار آج بھی سیہون شریف میں "الٹی بستی" کے نام سے موجود ہیں۔ الٹی بستی دراصل وہ تاریخی مقام ہے جہاں راجہ کا محل اور اس کی بستی الٹ گئی تھی، اور آج بھی وہ جگہ ایک زندہ معجزہ اور کرامت کی گواہ ہے۔ لوگ عقیدت سے اس جگہ کا ذکر کرتے ہیں، اور زائرین وہاں جا کر حضرت لعل شہباز قلندرؒ کے فیض اور اللہ کی قدرت پر ایمان تازہ کرتے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف حضرت قلندرؒ کی کرامت کا مظہر ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ جب کوئی ولی اللہ کے حکم اور عشقِ حق میں ثابت قدم رہتا ہے، تو دنیا کی سب سے بڑی سلطنتیں بھی الٹ جاتی ہیں، اور ظلم و باطل کا نام و نشان مٹ جاتا ہے۔

حضرت سخی لعل شہباز قلندر کی مکمل تاریخ پڑہنے کے لیئے یہاں کلک کریں

Post a Comment

Previous Post Next Post