حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمہ اللہ دراصل سلسلہ چشتیہ کے اولین بزرگ اور بانی مانے جاتے ہیں۔
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامیؒ کا اصل نام ابو اسحاق بن ابراہیم الشامی تھا۔ آپ کی ولادت دمشق (شام) کے ایک معزز اور دین دار خاندان میں ہوئی۔ بچپن ہی سے آپ کا دل دنیا کی چمک دمک سے ہٹا ہوا اور عبادت و معرفت کی طرف مائل تھا۔ آپ نے قرآن، حدیث، فقہ اور تصوف کی تعلیم شام کے ممتاز علما و مشائخ سے حاصل کی۔
شیخ عبدالرحمٰن جامیؒ اپنی شہرہ آفاق تصنیف "نفحات الانس" میں لکھتے ہیں:
"اول کسی کہ در بلاد خراسان طریق چشتیہ را نشر داد، شیخ ابواسحاق شامی بود که از شام به خراسان آمد و در قریهٔ چشت اقامت گزید و این طریقه بدو منسوب گشت۔"
(نفحات الانس، باب مشائخ خراسان)
ترجمہ:
"سب سے پہلے جس بزرگ نے خراسان میں سلسلۂ چشتیہ کو رواج دیا وہ شیخ ابو اسحاق شامی تھے، جو شام سے خراسان آئے اور چشت میں قیام فرمایا، اور یہ طریقت انہی کی طرف منسوب ہوئی۔"
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی کی مزار
خواجہ ابو اسحاق شامی کی ولادت
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ، جنہیں تاج الاولیاء کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے، اپنے زمانے کے جلیل القدر صوفی، روحانی پیشوا اور سلسلۂ چشتیہ کے بانی مانے جاتے ہیں۔
آپ کی ولادت 17 ذی الحجہ 237 ہجری، بروز جمعہ کو دمشق (شام) میں ہوئی۔ وہیں آپ نے اپنا بچپن اور ابتدائی زندگی بسر کی۔
ابتدائی تعلیم بھی آپ نے شام ہی میں حاصل کی، اور علومِ ظاہری میں کمال حاصل کیا۔ بعد ازاں آپ نے باطنی و روحانی علوم کی طرف رغبت کی اور اس راہ میں عظیم مراتب حاصل کیے۔
خواجہ ابو اسحاق شامی کی مرشد کی تلاش
علومِ ظاہری حاصل کرنے کے بعد حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کے دل میں علومِ باطنی اور روحانی معارف حاصل کرنے کا شدید شوق پیدا ہوا۔ اس جستجو میں آپ نے چالیس (40) دن تک مسلسل استخارہ اور عبادت میں مشغول رہ کر اللہ تعالیٰ سے رہنمائی طلب کی۔ چالیسویں رات آپ کو خواب میں الہامی اشارہ ہوا کہ "اے ابو اسحاق! بغداد جاؤ، اور وہاں حضرت شیخ مُمشاد علی دینوری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کرو، وہی تمہارے مرشدِ کامل ہیں۔"
اس روحانی اشارے پر آپ فوراً بغداد روانہ ہوئے، جہاں آپ نے حضرت مُمشاد علی دینوریؒ کے دستِ حق پر بیعت فرمائی اور ان سے روحانی فیض، سلوک، اور معرفتِ الٰہی کے رموز حاصل کیے۔ یہی فیض بعد میں آپ کی زندگی کا محور بن گیا، اور اسی کی بنیاد پر سلسلۂ چشتیہ کا آغاز ہوا
مرشد کی صحبت میں وقت
جب حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ پہلی بار اپنے مرشدِ کامل حضرت ممشاد علی دینوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نہایت عاجزی و انکساری کے ساتھ پیش آئے اور اپنے آپ کو ان کے سپرد کر دیا۔
آپ نے عاجزانہ انداز میں اپنے مرشد سے دعا کی درخواست کی۔
حضرت ممشاد علی دینوری رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو محبت سے گلے لگایا اور عرض کی:
“میں نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی ہے کہ اے اللہ! اسحاقِ شامی کو راہِ طریقت میں کامیاب فرما، اور اس کے ذریعے فیض و ہدایت کا چشمہ جاری فرما۔”
اس کے بعد مرشد نے آپ کو ذکرِ "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه" کا حکم دیا۔
چنانچہ آپ نے پورے سات سال تک اسی ذکر میں مشغول رہ کر اپنے باطن و ظاہر کو پاک و صاف کر لیا، یہاں تک کہ آپ کے قلب و روح کو نورِ معرفت سے منور کر دیا گیا۔
خواجہ ابو اسحاق شامی کو چشتی کیوں کہا جاتا ہے
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمۃ اللہ علیہ کو “چشتی” کہنے کی وجہ بھی نہایت بابرکت اور روحانی پس منظر رکھتی ہے۔
روایت میں آتا ہے کہ جب آپ اپنے مرشدِ کامل حضرت ممشاد علی دینوری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو مرشد نے محبت بھری نگاہوں سے آپ کی طرف دیکھا اور فرمایا:
“بیٹا! تمہارا نام کیا ہے؟”
آپ نے نہایت ادب سے عرض کیا:
“حضور! میرا نام ابو اسحاق شامی ہے۔”
یہ سن کر حضرت ممشاد دینوری رحمۃ اللہ علیہ نے مسکرا کر فرمایا:
“اے ابو اسحاق! آج کے بعد تمہارا نام ابو اسحاق چشتی ہے۔”
پھر فرمایا:
“تم چشت نامی بستی میں جاؤ — جو خراسان کے قریب واقع ہے — اور وہاں جا کر اللہ کے دین، طریقت اور رشد و ہدایت کو عام کرو۔
تمہیں اللہ تعالیٰ نے وہاں کے لیے راہِ حق کا مینارِ نور بنا کر بھیجا ہے۔”
یوں آپ کو حکمِ الٰہی اور اجازتِ مرشد کے ساتھ شہرِ چشت روانہ کیا گیا، جہاں آپ نے پہنچ کر سلسلۂ چشتیہ کی بنیاد رکھی، جو بعد میں برِصغیر اور پوری دنیا میں عشقِ الٰہی، انسانیت، محبت اور فقر کا پیغام بن گیا۔
خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی کی سیرت
حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ نہایت خوش طبع، نرم دل، رحم و شفقت سے بھرپور اور مسکینوں و غریبوں کے ہمدرد تھے۔
آپ کا دل ہمیشہ کمزور اور محتاج بندوں کے ساتھ ہوتا تھا، اور آپ ان کے دکھ درد میں شریک رہتے۔
دنیا کے بادشاہوں، امیروں اور اہلِ جاہ و دولت سے آپ کو کوئی رغبت نہ تھی، بلکہ ہمیشہ ان کی صحبت سے کنارہ کشی فرماتے۔
آپ فرمایا کرتے تھے:
“مجھے بھوک کھانے سے بھی زیادہ عزیز ہے، کیونکہ بھوک سے دل میں فقر و انکساری پیدا ہوتی ہے اور روح کو نورانیت حاصل ہوتی ہے۔”
اسی وجہ سے آپ اکثر و بیشتر روزے سے رہتے، کم کھاتے، اور زیادہ تر وقت ذکر و مراقبہ میں گزارتے۔
آپ کی سادہ زیستی اور زہد و تقویٰ نے آپ کو اس درجے پر پہنچا دیا کہ لوگ آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہی اللہ کو یاد کرتے تھے۔
آپ کو سما سے کافی محبت تھی لہذا اپ اکثر اوقات قوالی سنتے تھے آپ قوالی کی محفل میں صرف اپنے عقیدت مند اور فقراء کو بیٹھنے دیتے تھے اور خلفاء اور بادشاہ کو اس سے دور رکھتے تھے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ قوالوں کو قوالی سے پہلے تین دن تک روزہ رکھنے کا کہتے تھے۔
خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی کی کرامات
ایک مرتبہ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ ذکرِ الٰہی میں محو تھے کہ اسی دوران ان کے سامنے اپنے خلیفۂ وقت نے نہایت پریشانی اور اضطراب کے عالم میں عرض کیا کہ عرصہ گزر گیا ہے، زمین خشک ہو گئی ہے، درخت مرجھا گئے ہیں اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، بارش نہیں ہو رہی، براہ کرم دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل کرے۔ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے محبت اور حکمت کے ساتھ فرمایا کہ محفلِ سماع کا اہتمام کیا جائے، اور جیسے ہی سماع شروع ہوگا اور حضرت ابو اسحاق چشتی عالمِ وجد میں داخل ہوں گے، ان کی آنکھوں سے اشکِ عشق بہنے لگیں گے، اسی لمحے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت نازل فرمائے گا اور زمین سیراب ہو جائے گی۔ چنانچہ جب محفلِ سماع شروع ہوئی تو حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ عالمِ وجد میں چلے گئے اور ان کی آنکھوں سے اشک جاری ہونے لگے، ساتھ ہی آسمان پر بادل چھا گئے اور رحمتِ الٰہی کی بارش شروع ہو گئی، زمین اور درخت سیراب ہو گئے، اور لوگ خوشی اور سکون محسوس کرنے لگے۔ اس دوران حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے خلیفۂ وقت سے فرمایا کہ اب واپس چلا جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت نازل کر دی ہے، لیکن کچھ دنوں بعد جب وہ خلیفۂ وقت دوبارہ حاضر ہوا تو حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ اسے دیکھ کر رونے لگے، اور مریدوں نے پوچھا کہ حضور! آپ کیوں روتے ہیں؟ تو حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ دنیا کے بادشاہ اب بار بار میرے دروازے پر آنے لگیں، اور کہیں ایسا نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ میرا حشر ان کے ساتھ نہ کرے۔ پھر حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے ہاتھ اٹھا کر گریہ و زاری کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے اللہ! میرا حشر دنیا کے مالداروں اور بادشاہوں کے ساتھ نہ کرنا، بلکہ مجھے اپنے مسکین، فقیروں اور غریبوں کے ساتھ محشور فرما، اور ان کے ساتھ میرا حشر کر جنہیں تو نے اپنی محبت اور فقر کی دولت عطا فرمائی ہے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی روحانیت، انکساری اور انسانیت سے محبت کی حد کیا تھی، اور وہ ہمیشہ دنیا کے بادشاہوں کی بجائے فقرا و محتاجوں کے ساتھ اپنی شفقت اور رحمت کا اظہار فرماتے تھے۔
خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی کی وفات
حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ کا وصال کئی روایات کے مطابق 14 ربیع الثانی 339 ہجری کو ہوا، اگرچہ بعض مصادر میں یہ تاریخ 329 ہجری بھی درج ہے۔ ان کا مزار آج ملک شام کے مقام اکا میں موجود ہے، جہاں لاکھوں مرید اور عاشقانِ روحانیت آ کر ان کی تعلیمات اور فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔ حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی زندہ کرامت بھی مشہور ہے: کہا جاتا ہے کہ رات کے وقت آپ کے مزار چراغ خود بخود روشن ہو جاتا تھا، رات بھر جلتا رہتا اور صبح بجھ جاتا، پھر رات کو دوبارہ جل پڑتا۔ یہ کرامت حضرت خواجہ ابو اسحاق چشتی رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ کے خاص ولی ہونے کا ثبوت اور علامت قرار دیتی ہے، اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ولی کے فیض اور روحانی مقام کی علامت کے طور پر ان پر خاص برکتیں نازل فرمائی تھیں۔
شیخ احمد ابو ابدال رحمۃ اللہ علیہ آپ کے خلیفہ
آپ اخری وقت تک رشد و ہدایت میں مصروف رہے اور اور بیزار سے پہلے شیخ احمد ابو ابدال رحمت اللہ علیہ کو اپنا خلیفہ مقرر کیا اور اور کہا کہ ہم نے یہ امانت اب تمہارے سپرد کر دی ہے اب تم اس کی حفاظت کرنا اور اسے اگے مستحق لوگوں تک پہنچانا۔ لہذا انہی نے سلسلہ چشتیہ کے فیض کو اگے جاری کیا۔