برصغیر کی تاریخ میں حضرت امیر خسرو ایک بے مثال شخصیت ہیں۔ وہ نہ صرف عظیم شاعر اور موسیقار تھے بلکہ اپنے مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کے سچے عاشق و مرید بھی تھے۔ ان کی محبت و عقیدت سے جڑی کئی روایات آج تک زندہ ہیں۔ انہی روایات میں سے ایک روایت بسنت کی ہے، جو بعد میں چشتی سلسلے کے خانقاہی ماحول کا حصہ بن گئی۔
حضرت نظام الدین اولیاء کا غم
ایک دن حضرت نظام الدین اولیاء کے بھانجے کا انتقال ہوگیا۔ یہ سانحہ ان کے لیے نہایت دکھ اور صدمے کا باعث بنا۔ وہ کئی دنوں تک دل گرفتہ اور غمزدہ رہے۔ خانقاہ کا ماحول بھی سنجیدہ اور افسردہ ہوگیا۔ مرید اپنے مرشد کی کیفیت دیکھ کر بے چین تھے، اور حضرت امیر خسرو بھی اس فکر میں تھے کہ کس طرح اپنے مرشد کے دل کو سکون دیا جائے اور ان کے غم کو ہلکا کیا جائے۔
راہ میں ایک منظر
ایک دن حضرت امیر خسرو راستے سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ چند ہندو عورتیں پیلے کپڑوں میں ملبوس ہیں اور ان کے ہاتھوں میں سرسوں کے پھول ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر امیر خسرو کو تجسس ہوا۔ انہوں نے پوچھا:
“یہ سب کہاں لے جا رہی ہو؟”عورتوں نے جواب دیا:
“آج ہمارا بسنت کا تہوار ہے۔ ہم خوشیاں مناتے ہیں، پھول پیش کرتے ہیں اور رنگ بکھیرتے ہیں تاکہ بہار کا استقبال ہو اور دلوں میں خوشی آئے۔”
امیر خسرو کا خیال
یہ بات سنتے ہی حضرت امیر خسرو کے دل میں ایک خیال آیا۔ انہوں نے سوچا:
“اگر یہ رسم لوگوں کے دلوں کو خوشی دیتی ہے تو کیوں نہ میں بھی اپنے مرشد کے غم کو کم کرنے کے لیے یہی طریقہ اپناؤں؟”
مرشد کی بارگاہ میں پیش کش
امیر خسرو نے کچھ سرسوں کے پھول لیے، خود بھی پیلے کپڑے زیب تن کیے اور مرشد کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے پھول پیش کرتے ہوئے عرض کیا کہ یہ بہار اور خوشی کی نشانی ہیں، اور دکھ کے لمحوں میں بھی اللہ کی زمین پر خوشی کے رنگ موجود ہیں۔
یہ منظر دیکھ کر حضرت نظام الدین اولیاء کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ ان کے دل کی اداسی لمحہ بھر کے لیے کم ہوگئی۔ مرشد نے اپنے محبوب مرید کی محبت اور عقیدت کو محسوس کیا اور یہ واقعہ ان کے لیے باعثِ تسکین بن گیا۔
روایت کی ابتدا
اس دن کے بعد چشتی سلسلے کی خانقاہوں میں بسنت کا جشن منانے کی روایت قائم ہوگئی۔ ہر سال مریدین سرسوں کے پھول لے کر آتے، زرد لباس پہنتے اور روحانی نغمے گاتے۔ یہ محض ایک ثقافتی روایت نہیں تھی بلکہ محبت اور سکون کی ایک علامت تھی، جو دکھ اور غم کے لمحوں میں بھی خوشی کی یاد دلاتی تھی۔
محبت، ثقافت اور روحانیت کا سنگم
حضرت نظام الدین اولیاء کے ہاں بسنت کی رسم اس بات کی دلیل ہے کہ صوفیاء کرام نے مقامی روایات کو محبت اور روحانیت کے رنگ میں ڈھال کر اپنایا۔ انہوں نے دکھایا کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ دلوں کو خوش کرنے اور لوگوں کے زخم بھرنے کا نام بھی ہے۔
امیر خسرو کی عقیدت
یہ واقعہ حضرت امیر خسرو کی مرشد سے بے مثال عقیدت اور محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے الفاظ کے بجائے ایک سادہ مگر تخلیقی انداز میں مرشد کے دل کو خوش کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی بسنت کا ذکر حضرت امیر خسرو اور حضرت نظام الدین اولیاء کی محبت بھری داستان کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
✨ اس طرح بسنت کی یہ روایت ایک صوفیانہ علامت بن گئی، جو ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ غم کے اندھیروں میں بھی خوشی کے رنگ تلاش کیے جا سکتے ہیں، اور محبت سب سے بڑی تسلی ہے۔
