بابا فرید الدین گنج شکر نہایت سادہ مزاج، علم و عرفان سے بہرہ مند اور ہندوستان میں چشتی سلسلہ کے مشہور و بزرگ اولیاء میں سے ہیں۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ سے متعلق بے شمار واقعات مورخین نے اپنی کتابوں میں قلمبند کیے ہیں۔ ان میں آپ کی کرامتیں، سیرت، مزاج اور طرزِ حیات نمایاں ہیں۔ آپ کے اقوال و واقعات میں خاص و عام سب کے لیے نصیحت اور سبق موجود ہے۔ ذیل میں چند واقعات اور اقوال درج کیے جاتے ہیں۔
بچپن میں نماز کا واقعہ
روایت ہے کہ آپ کی والدہ محترمہ اکثر آپ کے نماز کے مصلے کے نیچے تھوڑی سی شکر کی پڑیا رکھ دیتیں اور فرماتیں کہ جو بچہ نماز پڑھتا ہے، اللہ اس کے مصلے کے نیچے شکر رکھ دیتا ہے۔ اس حکمت عملی نے بچپن ہی سے آپ کے دل میں نماز اور عبادت کی محبت پیدا کردی۔ رفتہ رفتہ عبادت و ریاضت آپ کا محبوب مشغلہ بن گیا۔
بادشاہ اور عوام کی عقیدت
عوام کو بابا فرید گنج شکر سے بے پناہ عقیدت تھی۔ آپ کی خانقاہ پر ہمیشہ لوگوں کا ہجوم رہتا۔ یہاں تک کہ اگر آپ کی جبہ کی آستین دیوار پر لٹکا دی جاتی تو لوگ دیر تک اسے بوسہ دیتے رہتے۔
آپ کی اولاد زیادہ ہونے کے باوجود آپ ہمیشہ قناعت پسندی اختیار کرتے۔ ایک مرتبہ سلطان ناصر الدین نے آپ کو نقدی اور ایک گاؤں کی سند بھیجی۔ آپ نے سند قبول تو کرلی لیکن واپس یہ کہہ کر بھیج دی کہ:
"فقیروں کو ثروت سے کیا سروکار"
بابا فرید کی شمس الدین کو دعا
ایک بار آپ کے عہد کے مشہور شاعر شمس الدین نے آپ کی شان میں قصیدہ پڑھا۔ آپ نے پوچھا کہ مدح سرائی کا مقصد کیا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ مفلس ہوں، دعا کیجیے۔ آپ نے فرمایا: "جاؤ، میں تمہیں دعا دیتا ہوں"۔ آپ کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ جب وہ دہلی پہنچا تو شاہ دہلی نے اسے وزیر کا عہدہ عطا کیا۔
دنیا والوں کے لیے اقوال
آپ نے خاص و عام کو نصیحت فرمائی۔ آپ کے اقوال کی خوبی یہ ہے کہ نہ صرف اہلِ سلوک بلکہ عام لوگ بھی ان سے فیض حاصل کرتے ہیں۔
-
"اپنا گرم کام لوگوں کی سرد باتوں سے ترک نہ کرو"
-
"نامرادی کا دن مردوں کی شبِ معراج ہے"
-
"دنیا میں سبک شار رہنے کی آرزو کمزوری کی علامت ہے"
مشہور اقوال
-
"احمق کو زندہ مت سمجھو"
-
"وہ چیز فروخت نہ کر جو خریدی نہ جا سکے"
-
"ہر شخص کی روٹی نہ کھا، مگر ہر کسی کو اپنی روٹی کھلا"
-
"گناہ پر فخر مت کر اور آرائش کے پیچھے مت پڑ"
-
"دروغ نما سچائی کو ترک کر دو"
-
"جو تجھ سے ڈرتا ہو، اس سے ہر وقت اندیشہ رکھ"
-
"ضائع شدہ قوت کا کوئی نعم البدل نہیں"
-
"دو آدمیوں کا مباحثہ، اکیلے کے دو سال کے تفکر سے بہتر ہے"
-
"جو معمولی چڑیوں کو دانا ڈالتا ہے، ایک دن اس کے پاس ہُما بھی آتا ہے"
جب آپ نے اپنے مریدِ خاص حضرت نظام الدین اولیاء کو دہلی بھیجا تو نصیحت کی:
"اپنے دشمنوں کو حتی المقدور خوش رکھنا اور قرض کو جلد ادا کر دینا"
محبت کے مقامات
آپ فرماتے ہیں کہ محبت کے سات سو (700) مقامات ہیں۔ ان میں پہلا مقام یہ ہے کہ دوست کی طرف سے آنے والی بلا پر صبر کیا جائے۔
چار سوال اور سات سو پیرانِ طریقت کے جوابات
آپ نے فرمایا کہ چار سوال سات سو مشائخِ طریقت سے کیے گئے اور سب نے ایک ہی جواب دیا:
-
سب سے عقل مند کون ہے؟ جو گناہ کو ترک کرے۔
-
سب سے ہوشیار کون ہے؟ جو کسی چیز سے پریشان نہ ہو۔
-
سب سے غنی کون ہے؟ جو قناعت کرے۔
-
سب سے زیادہ محتاج کون ہے؟ جو قناعت کو ترک کرے۔
بابا فرید کی سیرت
آپ ریاضت، عبادت، خدمتِ خلق، فقر اور ترکِ دنیا میں بے مثال تھے۔ شہرت سے اجتناب فرماتے اور کثرتِ استغراق کے باعث دنیاوی امور سے بے نیاز رہتے۔ تحمل، بردباری، قناعت اور عشق و ذوق آپ کے اوصاف تھے۔ آپ کو سماع سے بھی خاص شغف تھا اور اکثر یہ رباعی پڑھا کرتے تھے:
خواہم کہ ہمیشہ در رضائے تو زیم
خاکی شوم و بزیر پائے تو زیم
مقصود من خستہ ز کونین توئی
از بہر تو میرم و برائے تو زیم
بابا فرید کا مزار
آپ کا مزار پاکپتن شریف (پاکستان) میں واقع ہے۔ روزانہ ہزاروں عقیدت مند یہاں حاضر ہوتے ہیں، آپ کے مزار کی زیارت کرتے ہیں اور روحانی فیوض و برکات سے فیضیاب ہوکر لوٹتے ہیں۔