حضرت خواجہ نطام الدین اولیاء کی مکمل داستان ، حالات زندگی اور کشف و کرامات

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء محبوب الہی ہندوستان کے وہ صاحب عظمت ولی ہیں جن کے فقیرانہ دربان کے سامنے اس ہندوستان کے بڑے بڑے بادشاہوں کے دریا امانت پڑ جاتے ہیں اور جن کی عظمت اور بزرگی کا یہ عالم تھا کہ اس ملک کے شہنشاہ اور بادشاہ آپ کی ہر دل عزیز اور مقبولیت پر رشک کرتے تھے حقیقت ہے یہ حقیقت ہے کہ آپ نے اس برا عظیم میں شمع ہدایت کی روشنی کو پھیلانے میں روحانی تجلیوں سے اس ملک کو منور کرنے میں بہت بڑا اہم کردار ادا کیا۔ تاریخ میں اکثر آپ کو آپ کے خاص مرید خسرو کے ساتھ ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔

Hazrat Nizamuddin Auliya Shrine

نظام الدین اولیاء کی ولادت 

آپ کا خاندان ایک سید گھرانہ تھا ، جو شمس الدین کے عہد حکومت میں بخارا سے ا کر بادایوں میں آباد ہوا تھا۔آپ اسی خاندان میں 632 ہجری میں شاہ جان کے عہد حکومت میں پیدا ہوئ۔ے آپ کے والد محترم کا نام مولانا سید احمد تھا جو اپنے زمانے کے بڑے عالم تھے ۔ پیدائش کے بعد حضرت نظام الدین کا نام سید محمد رکھا گیا لیکن آپ نظام الدین کے نام سے دنیا میں مشہور ہوئے ۔

نظام الدین اولیاء کی بچپن کی حالات 

ابھی آپ کی عمر پانچ برس ہی تھی کہ آپ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا اور آپ کی تعلیم و تربیت اور پرورش کی ساری ذمہ داری آپ کی والدہ زلخم پر اگئی سیدہ زلیخہ کا کوئی ذریعہ معاش نہ تھا سوت کات کا حضرت کی پرویش فرمائی لیکن سود قاتنے سے چونکہ اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے اس لیے اکثر اوقات فاقہ کرنا پڑتا تھا۔ 

نظام الدین اولیاء کی ذہانت 

آب بچپن سے ہی نہایت صہیم اور سادہ تھے اب میں ذہانت عام انسان عام انسانوں سے زیادہ تھی اس کا اندازہ اسے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی عمر مشکل سے 16 سال کی تھی کہ آپ کا شمار اس وقت کے مقتدر علماء میں ہونے لگا چنانچہ جب آپ کی عمر 16 سال کی ہو گئی اور علوم  ظاہری می کمال حاصل کر لیا تو آپ کی والدہ نے تمام شہر کے علماء کو اکٹھا کر کے آپنے ہاتھ کے بنے ہوئے سوت کا امامہ بطور دستار آپ کے سر پر بندھوایا۔ دستار فضیلت حاصل کرنے کے بعد آپ آپنی والدہ اور ہمشیرہ کے ساتھ دہلی ا گئے اور سلطان شمس الدین التمش کے استاد مولانا شمس ملک سے علوم ظاہری حاصل کرتے رہے اور تھوڑی ہی مدد میں یہاں سے بھی ایک صنعت حاصل کر لی۔ 


نظام الدین اولیاء کی فرید الدین کے ہاتھ پر بیعت 

حضرت نظام الدین اولیاء نے ظاہری علم حاصل کرنے کے بعد آپنی باطنی تشنگی پوری کرنے کے لیے حضرت فرید الدین گنج شکر کے ہاتھ پر بیعت کر لی اور ان کی صحبت میں رہ کر آپنے نفس اور قلب کو پاک کرنے لگے اور باطنی علم حاصل کرنے لگے، آپ نے آپنی غیر معمولی ریاضت اور تابعداری کے ذریعے مرشد کے ہاں بڑا مقام بھی پایا اور خاص مریدوں میں شمار بھی ہوئے 

خرقہ خلافت اور دہلی میں آمد 

جب بابا فرید نے آپ کی باطنی تعلیم مکمل کر لی تو اس کے بعد آپ کو خرقہ خلافت عطا کیا اور دہلی رخصت کر دیا ۔ خرقہ خلافت حاصل کرنے کے بعد جب آپ دہلی تشریف لائے تو اس زمانے میں سلطان غیاث الدین بلبن کی حکومت تھی حضرت کی دہلی تشریف لانے پر بعض متقعدوں نے کوشش کی کہ آپ شہر دہلی میں رہیں لیکن آپ نے شہر سے دور کنارہ کشی کر کے تین میل کے فاصلے پر قیام کیا ۔لیکن چند روز کے بعد آپ کی محبوبیت اور ہر دل عزیزی اس قدر بڑھ گئی کہ ہر وقت شہر سے لے کر آپ کے قیام گاہ تک ظاہرین کا لائن بنا رہتا ۔ آپ کی خانقاہ کے گردونواح میں یہ معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی میلہ لگا ہوا ہے امیر سے لے کر غریب تقریبا سب ہی آپ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گئے۔

عبادت و ریاضت اور درس و تدریس 

حضرت نظام الدین کی تقدس اور بزرگی اور عبادت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی ساری رات شب بیداری میں گزر جاتی ہے اور دن کا وقت آپ درس و تدریس میں مصروف کرتے ۔ آپ کے درس میں جو لوگ شامل تھے ان کو اب ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی اسرار بھی سکھاتے گویا آپ ایک ہی وقت میں ظاہری اور باطنی دونوں عالم تھے غرض یہ کہ بہت مختصر عرصہ میں آپ کے خلفاء اور آپ کے عقیدت مند ہزاروں کی تعداد میں اس برے عظیم میں شمال سے جنوب تک اور مشرق سے مغرب تک پھیل گئے اور ہندوستان کے کروڑوں باشندے نظامیہ سلسلے میں شامل ہو گئے۔ 

نظام الدین اولیاء کا دسترخوان 

حضرت نظام الدین اولیا کا دسترخوان نہایت ہی وسیع تھا حالت یہ تھی کہ آپ کے دسترخوان پر کئی کئی ہزار ایک وقت میں کھانا کھاتے بعض اوقات تو مہمانوں کی اس قدر کثرت ہوتی کہ ہزاروں نمک خرچ ہو جاتا ہے آپ کا دست کرم سے مسلمانوں اور مسافروں کو کھانا کھلانے تک محدود نہیں تھا بلکہ غریب اور آپاہج اور ہر مذہب کے لوگ آپ کے لنگر خانے سے باقاعدہ پیٹ بھرتے اور ماہانہ  وظیفے بھی پاتے تھے ۔ 

ہزاروں افراد کو کھانا کھلانے کے بعد آپ کا معمول یہ تھا کہ آپ جو کی روٹی اور ابلی ہوئی ترکاری منگواتے اور اسے کھا لیتے عمدہ غذا کھانے سے آپ کو پرہیز نہیں تھا بلکہ آپ فرماتے کہ ایسی حالت میں جب کہ ہزاروں اللہ کے بندے سڑکوں پر بھوکے پڑے ہیں تو نظام الدین کیسے عمدہ اور لذیذ کھانا کھا سکتا ہے یہ عمل آپ کا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کے دل میں غریبوں اور مسکینوں کے لیے کس قدر بے چینی اور احساس تھا۔


نظام الدین اولیا کے شاہانہ اخراجات 

دسترخوان کی وسعت اتنی بڑی ہوئی تھی کہ کہ بھرے ہوئے خزانے بھی اس کو چلانے کے لیے ناکافی تھے لیکن پھر بھی مستقبل امدنی کے نہ ہونے کا باوجود مرتے دم تک آپ کے شانہ اخراجات میں کمی نہ ائی اور اس راز پر اخر وقت تک پڑھا پردہ پڑا رہا کہ یہ بے اندازہ دولت کہاں سے اتی ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ آپ کے عقیدت مند بھی آپ کی خدمت میں بڑی بڑی نظر پیش کرتے لیکن آپ ان کی نظرانوں سے زیادہ بیٹھے بیٹھے ہی خرچ کر دیتے تھے۔

 ایک دفعہ سلطان علاؤ الدین خلجی نے500 اشرفیاں آپ  کو بطور نذر  بھیجی آپ نے بیٹھے بیٹھے وہ ایک فقیر کو دے دی ۔

عقیدت مندوں اور خادموں کا تو ذکر ہی کیا ہے آپ کے مخالف بھی آپ سے نظرانہ لیتے تھے ، ایک شخص چھجو نامی  کا معمول تھا کہ وہ جب بھی آتا آپ کو گالی دیتا آپ اسے بدلے میں دو اشرفیاں معاوضہ دیتے ہیں ۔ ایک دن اس نے گالی دینا چھوڑ دی اور آپنا معاوضہ مانگا تو آپ نے فرمایا بھائی آپنا حق مانگتے ہو تو میرا حق بھی دو اج وہ کیوں بھول گئے ۔ چنانچہ اس طرح سیکڑوں لوگ اگرچہ وہ آپ کے مخالف تھے لیکن آپ کے دست کرم سے ہمیشہ فیض حاصل کرتے رہے۔

بادشاہوں سے آپ کی بیزارگی 

محبوب الہی نظام الدین کے  روب و دبدبہ کا عالم یہ تھا کہ بڑے بڑے بادشاہ وں میں اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ آپ کے آستانہ پر بھی آ سکیں اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ کو بادشاہوں کا قرب سخت نا پسند تھا۔  ایک غریب شخص تو آپ کے آستانہ پر اور آپ کی خدمت میں جب چاہتا حاضر ہو جاتا اور آپ کے ہاتھ کو آ کر پکڑ لیتا لیکن یہ ہمت کسی بادشاہ کے اندر نہیں تھی ۔سلطان غیاس الدین حضرت کی زیارت کا مطمئنی  رہا مگر اس کی یہ آرزو پوری نہ ہو سکی ، بادشاہ معزلدین کو حضرت سے بے حد عقیدت تھی مگر اس کو بھی حاضری کی اجازت نہ تھی چناچہ اس نے حضرت کی خانقاہ کے قریب قصبہ کلو کھڑی میں محل بنا لیا تاکہ کم از کم آپ کا قرب تو مل سکے۔ حضرت نظام الدین بادشاہ کی نئی تعمیر شدہ مسجد میں جمعہ کے لیے تشریف لے جاتے لیکن بادشاہ کے قریب نہ جاتے۔

جلال الدین خلجی جب دہلی کا بادشاہ بنا تو اس نے بھی آپ سے ملنے کی کوشش کی لیکن اجازت نہ ملی۔ علاؤ الدین خلجی بھی حضرت محبوب الہی کا بے حد عقیدت مند تھا اس کی عقیدت کا یہ عالم تھا کہ وہ ان اشعار کو منگا کر پڑھا کر تا جن پر حضرت نظام الدین کو قوالی میں وجد آتا تھا۔ حضرت سے ملاقات کی اجازت کی کوشش کرتا رہا لیکن اجازت نہ مل سکی ۔اس بادشاہ نے آپنے ولی عہد خضر خان اور چھوٹے لڑکے شادی خان کو بھی حضرت نظام الدین کا مرید کروا دیا ۔حضرت نظام الدین نے اگرچہ علاؤ الدین کو حاضری کی اجازت نہیں دی لیکن آپ علاؤ الدین کی بہبودی کے دل سے خواہاں تھے چنانچہ حضرت کی دعا سے خلجی بادشاہوں میں علاؤ الدین خلجی کا دور حکومت سب سے بہتر اور شاندار رہا۔

بادشاہوں کا حضرت نظام الدین سے بغض

سلطان علاؤ الدین خلجی کے مرنے کے بعد سلطان کے تیسرے بیٹے قطب الدین مبارک شاہ نے حضرت کے مرید خضر خان ولی عہد کو اندھا کر کے جیل میں ڈال دیا اور قتل کروا دیا اور اس کے بعد حضرت محبوب الہی کا محض اس لیے مخالف ہو گیا کہ وہ حضرت خضر خان کے پیر تھے ۔ مبارک شاہ نے پہلے تو حضرت کو حکم دیا کہ وہ سلام کے لیے دربار میں آئیں جب آپ تشریف نہیں لے گئے تو حضرت کو جبرا دربار میں لانے کا فیصلہ کیا اور حکم دیا کہ فلاں تاریخ کو اگر نہ ائے تو ان کو زبردستی دربار میں لایا جائے لیکن اس تاریخ کو مبارک شاہ آپنی محبوب غلام خسرو خان کے ہاتھوں مارا گیا اور خسرو خان نے مبارک شاہ کو قتل کرنے کے بعد دہلی کے تخت پر قبضہ کر لیا ۔

بعد میں غیاث الدین نے خسرو خان کو قتل کیا اور دربار اور دہلی کے تخت پر بیٹھا تو لوگوں کے کہنے سے غیاث الدین تغلق نے سماع کے جواز و عدم جواز پر بحث کرنے کے لیے ایک مذہبی مجلس منعقد کی تاکہ اس مجلس میں علمائے ظاہری کے ذریعے حضرت نظام الدین کو نیچا دکھا سکے۔  حضرت نظام الدین بھی اس محفل میں تشریف لے گئے اور ایسے ایسے ثبوت اور جوابات دیے کہ بادشاہ کے سارے علماء منہ تکتے رہ گئے۔

حضرت نظام الدین اولیاء کی کرامت 

اس کے بعد بادشاہ غیاث الدین کو بنگال کے کسی مہم پر جانا پڑا تو وہ وہاں پر چلا گیا مہم سے فارغ ہونے کے بعد جب وہ وآپس آنے لگا تو خادموں کے ذریعے پیغام بھجوایا حضرت نظام الدین کو کہ ہمارے آنے سے پہلے دہلی خالی کر دیں، آپ نے بادشاہ کا یہ پیغام سن کر کہا کہ دہلی ابھی دور ہے، چنانچہ وہ بادشاہ جب تک دہلی نہیں پہنچا اس طرح کے پیغامات بھیجتا رہا اور آپ ایک ہی جواب دیتے رہے کہ دہلی ابھی دور ہے، وہ بادشاہ جب دہلی کے قریب دو تین میل کے فاصلے پر پہنچا  اور جس محل میں قیام کیا وہ محل اچانک گر پڑا ، یوں وہ بادشاہ موت کی گھاٹ اتر گیا۔


حضرت نظام الدین اولیاء کا وصال 

ربیع الثانی 725 ہجری میں جب حضرت محبوب الہی کی بیماری کی شدت بڑی اور آپ کو یقین ہو گیا کہ آپ واصل حق ہونے والے ہیں تو آپ نے حکم دے دیا کہ گھر اور خانقاہ میں جس قدر بھی اثاثہ ہے سب غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا جائے چنانچہ فورا عمل کیا گیا اس کے بعد لنگر خانے کے منظم کو حکم دیا کہ لنگر خانہ میں ہزار من جو غلہ جمع ہے وہ سب لٹا دیا جائے اور ایک دانہ بھی باقی نہ رکھا جائے۔  جب وصال کا زمانہ قریب آیا تو آپ پر حالت غشی طاری ہو جاتی اور جب ہوش آتا تو آپ پوچھتے  نماز کا وقت ہو گیا اگر ہو گیا ہو تو مجھے اٹھاؤ اور نماز پڑھاؤ اور یہ بھے پوچھتے کہ اگر کوئی مسافر آیا ہے تو اس کی خاطر جمع کرو اور کھانا کھلاؤ۔  یوں آپ غریبوں مسکینوں کے مدد اور اللہ کی یاد میں بروز بدھ و تاریخ 18 ربیع الثانی 725 ہجری کو اس جہان فانی سے رخصت فرما گئے آپ نے چونکہ شادی نہیں کی تھی اس لیے آپ کی کوئی اولاد نہ تھی البتہ آپ کی بہن کی اولاد تھی جس کی اولاد کو آپ نے آپنی اولاد کی طرح پالا۔ 


حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کا مزار

پٹھان اور مغل بادشاہوں کی آپ سے عقیدت 

حضرت محبوب الہی کی وصال کے بعد ہندوستان کے جتنے بھی بادشاہ ہوئے انہوں نے سب نے آپ کا احترام کیا پٹھان اور مغل بادشاہ بڑی عقیدت سے آپ کے مزار کی حاضری دیتے رہے ہمایوں نے حضرت سے اس قدر عقیدت کی تھی کہ اس نے مرنے سے قبل آپنی قبر کے لیے جو جگہ تجویز کی وہ حضرت نظام الدین کی خانقاہ سے بالکل متصل ہے ۔اکبر اور جاہانگیر بھی آپ کے مزار پر حاضری دیتے رہے ۔ شاہ جان اور شاہ جان کی بیٹی آرا بھی آپ کی بہت عقیدت مند تھی اس نے مرتے وقت اورنگ زیب کو وصیت کی کہ مجھ کو حضرت محبوب الہی کے قدموں میں دفن کرنا اور میرا سارا سامان درگاہ کی نظر کر دینا ۔ ناصرلدین محمد شاہ کو بھی حضرت سے بے حد عقیدت تھی اس بادشاہ نے حضرت کے پاؤں تلے آپنی قبر بنوائی لاکھوں روپے نظر دیا اور تمام درگاہ میں سنگ مرمر کا فرش لگوایا ۔ بہادر شاہ ظفر جس کی بادشاہی برائے نام تھی وہ بھی حضرت کا بڑا عقیدت مند تھا یوں غریبوں سے لے کر بادشاہوں تک ہر انسان آپ کی سخاوت آپ کے علم اور آپ کی بردباری سے متاثر ہو کر آپ کا عقیدہ مند اور آپ کا چاہنے والا تھا اور اج بھی ہزاروں کی تعداد میں آپ کے چاہنے والے لوگ ہر روز آپ کے درگاہ پر حاضری بھی دیتے ہیں اور آپ سے فیض بھی حاصل کرتے ہیں۔ 


حضرت نظام الدین اولیاء کا عرس کب منایا جاتا ہے


حضرت نظام الدین اولیاءؒ کا عرس ہر سال دہلی کے نظام الدین درگاہ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ عرس ماہِ ربیع الثانی میں ان کے وصال کی یاد میں منعقد ہوتا ہے اور کئی دنوں تک جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر ملک و بیرونِ ملک سے زائرین درگاہ پر حاضری دیتے ہیں، قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں، نوافل ادا کرتے ہیں اور روح پرور محفلِ قوالی میں شریک ہوتے ہیں جو صوفیانہ محبت، امن اور انسانیت کے پیغام کو اجاگر کرتی ہیں۔ درگاہ کو خوبصورت چراغوں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے، لنگر تقسیم کیا جاتا ہے اور فضا روحانی کیفیت سے معمور ہو جاتی ہے جو حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی تعلیماتِ محبت و خدمتِ خلق کی یاد تازہ کرتی ہے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post