حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابری بر صغیر کے بہت بڑے عظیم اولیاء میں سے ایک ہیں آپ کی ذات گرامی سے ایسی ایسی کرامتیں کا ظہور ہوا ہے کہ جس سے انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے لوگ آپ کو پیدائشی ولی سمجھتے ہیں۔ آپ کے جذب کی کیفیت اس قدر بڑی ہوئی تھی کہ ولی بھی آپ پر رشک کرتے ۔
آپ کی پیدائش
آپ 19 ربیع الاول 592 ہجری کو موزہ کہوت وال ، ملتان میں پیدا ہوئے جہاں پر بابا فرید بھی پیدا ہوئے تھے آپ کے والد محترم حضرت غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کے پوتے تھے اور آپ کی والدہ محترمہ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کی حقیقی بہن تھی
آپ کا بچپن
بچپن سے ہی آپ کافی ذہین تھے آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ دوسرے بچے جو تعلیم مہینوں میں حاصل کرتے آپ چند دنوں میں حاصل فرما لیتے اٹھ سال کی دینی تعلیم جو زیادہ تر گھر پر ہوئی تھی اس نے آپ کو علوم ظاہری میں کامل کر دیا تھا علوم ظاہری کے ساتھ آپ کا لگاؤ علوم باطن کی طرف بھی تھا جس کے لیے آپ ہر وقت مضطرب اور بے چین رہتے ہیں
آپ کی والدہ نے جب آپ کی یہ کیفیت دیکھی تو انہوں نے آپ کو اپنے بھائی فرید بابا کی نگرانی میں دے دیا تاکہ آپ آپنے مامو سے علوم باطنی کی تکمیل فرما سکیں جب آپ کی والدہ نے آپ کو فرید بابا کے سپرد کیا تو بابا فرید صاحب بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ میں تمہارا ممنون ہوں کہ تم نے ایسا سعادت مند فرزند مجھے لا کر دے دیا جو سارے جہان کو نور تلقین سے منور کرنے والا ہے۔
فرید بابا کی نگرانی میں آتے ہی حضرت مخدوم کی روحانی تربیت شروع ہو گئی ابھی آپ کی عمر مشکل سے 12 سال ہی تھی کہ بابا فرید نے آپ کو آپنے ہاتھ پر بیعت فرما لیا بیٹے کو بھائی کے سپرد کرنے کے بعد والدہ محترمہ نے ہرات جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور بھائی کو تاکید کی کہ میرے بیٹے کا خیال رکھنا اسے بھوکا نہ رہنے دینا اور یہ بھی کہا کہ 12 برس کے بعد اگر زندگی نے وفا کی تو میں اس کی شادی بھی کر دوں گی ۔بابا فرید یہ سن کر مسکرائے اور حضرت مخدوم کو سامنے بلا کر کہا بیٹا صبح سے تم ہی مساکین اور فقراء میں لنگر تقسیم کیا کرو گویا فرید بابا نے بہن کے اطمینان کے لیے بھانجے کو لنگر خانے کا منظوم بنا دیا۔ آپ کی والدہ مطمئن ہو گئی اور آپنے نور نظر کو بھائی کے پاس چھوڑ کر ہرات کے لیے روانہ ہو گئی۔
مخدوم صابر کلیری کی دنیا سے بیزارگی
لنگر خانے کا اہتمام آپنے ہاتھ میں لینے کے بعد آپ اس خدمت کو بڑے ہی حسن و خوبی کے ساتھ انجام دیتے رہے آپ کا معمول تھا کہ آپ نماز اشراق پڑھنے کے بعد آپنے حجرہ سے نکلتے آپنی انکھوں کے سامنے غرباء مساکین میں لنگر تقسیم کرتے اور پھر آپنے حجرہ میں داخل ہو جاتے اور دروازہ بند کر کے نور عبادت میں مصروف ہو جاتے جب مغرب کا وقت ہوتا تو پھر آپ حجرے سے باہر اتے اور لنگر تقسیم کرتے اور حسب معمول لنگر تقسیم کرنے کے بعد حجرہ میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیتے ہیں اور عبادت الہی میں مشغول ہو جاتے۔ آپ کی جسمانی خوراک بہت کم تھی آپ زیادہ تر زندگی روحانی غذا پر بسر کرتے تھے ۔
شیخ فضل الرحمن نے ایک روز آپ کو حجرہ میں روتے ہوئے دیکھا تو رونے کی وجہ پوچھی آپ نے جواب دیا مجھ کو سلوک کے حذف ہو جانے کا ڈر ہے آج سے اللہ تعالی نے مجھ کو دنیا سے بے تعلق کر دیا ہے اب سوائے اولیاء کرام اور رجال الغیب کے میرے پاس کوئی نہیں آ سکے گا چنانچہ اس دن کے بعد آپ کی حجرہ کے اندر تو کیا پاس بھی کوئی نہیں بھٹک سکتا تھا۔
صابر کلیری اور دلہن کا واقعہ
جب آپ کی والدہ ہرات سے وآپس پاک پتن میں آئیں تو انہوں نے بابا فرید سے درخواست کی کہ وہ آپنی بیٹے کی شادی کرنا چاہتی ہیں انہوں نے بابا فرید کی صاحبزادی خدیجہ بیگم کا رشتے کا پیغام دیا ان کی بیٹی نہایت حسین و جمیل تھی فرید بابا نے بہن کو جواب دیا کہ صابر شادی کے قابل نہیں ہے وہ ہر وقت حالت جذب میں رہتا ہے لیکن آپ کی بہن نے کہا کہ میں بیوہ ہوں میرا لڑکا یتیم ہے شاید آپ اس لیے منع کر رہے ہیں بہن کا یہ طعنہ سن کر فرید بابا نے حضرت مخدوم سے خدیجہ بیگم کا نکاح کر دیا ۔
حسب معمول دلہن کو آپ کے حجرہ میں پہنچا دیا گیا جب خدیجہ بیگم ہجرہ میں داخل ہوئیں تو آپ کو نماز میں مصروف دیکھا اور ادب میں کھڑی ہوگئیں ۔ آپ نماز تہجد سے فارغ ہوئے تو خدیجہ بیگم سے پوچھا تو کون ہے انہوں نے عرض کیا کہ میں آپ کی زوجہ ہوں آپ نے جواب میں فرمایا "خدا تو فرد ہے زوجہ سے کیا کام" آپ کا یہ کہنا ہی تھا کہ زمین سے آگ پیدا ہوئی اور دلہن جل کر خاک کا ڈھیر ہو گئی آپ کی والدہ بہو کی اس اچانک موت کے صدمہ کو برداشت نہ کر سکی اور اسی غم میں جان بحق ہو گئی۔
صابر کلیری اور کلیر تباہ کرنے کا واقعہ
بابا فرید نے جب آپ کو خلافت سے مشرف فرمایا تو آپ کو حکم نامہ دے کر دہلی کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ دہلی پہنچ کر حکم نامہ جمال ہانسوی سے درست کروا کر آپنی منزل کو چلے جانا فرید بابا کا دستور تھا کہ کسی کو خلیفہ بنا کر کسی جگہ مقرر کرتے تو پہلے شیخ جمال ہانسوی کے پاس بھیجتے تھے ان کی تصدیق کے بعد تقرر کرتے ہیں
چنانچہ جب حضرت مخدوم تصدیق کے لیے جمال ہانسوی کے پاس پہنچے تو آپ کا بے حد احترام کیا شیخ جمال ہانسوی نے آپ سے آپنے پیر کے حالات پوچھے اور آپ سے بڑی دیر تک گپ شپ کرتے رہے یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے شیخ جمال کو خلافت کا حکم نامہ دکھایا تو اتفاقا چراغ گل ہو گیا حضرت مخدوم نے پھونک ماری تو چراغ پھر سے روشن ہو گیا شیخ جمال ہانسوی نے جب یہ رنگ دیکھا تو حکم نامہ لے کر پھاڑ دیا اور کہا" تمہارے دم مارنے کی تاب دہلی میں کہاں ہے تم تو ایک دم مارنے میں ہی تمام دہلی کو جلا کر خاک کر دو گے "اس بات پر حضرت مخدوم بے حد غضبناک ہوئے اور کہا تم نے میرا حکم نامہ پھاڑا ہے میں تمہاری قطبیت کو پارہ پارہ کر دوں گا یہ کہہ کر وآپس چلے آئے ۔
وآپس آ کر آپ نے سارا واقعہ فرید بابا کو سنایا تو فرید بابا نے کہا تم خاطر جمع رکھو اللہ تعالی نے تمہارے لیے کلیر مقرر کر دیا ہے اس کے بعد آپنے خاص دستخط کر کے، آپ کو حکم نامہ دے کر کلیر بھیج دیا۔
حضرت مخدوم صابر کلیری کے خلاف علماء
جب حضرت مخدوم صابر کلیری کلیر پہنچے تو وہاں کے علماء نے آپ کا اختلاف کرنا شروع کر دیا نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ وہ آپ کے عقیدت مندوں کو تکلیف دینے لگے۔
ایک دن حضرت مخدوم نماز جمعہ سے پہلے مسجد میں جا کر صف اول میں آپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ گئے، جب علماء کی جماعت وہاں پہنچی اور انہوں نے آپ کے ساتھیوں کو پہلی صف میں دیکھا تو کہا تم لوگ پہلی صف میں بیٹھنے کے اہل نہیں ہو لہذا پیچھے آ جاؤ۔ آپ کے ساتھیوں نے جواب دیا کہ ہم جب ائے تو یہ جگہ خالی تھی لہذا ہم بیٹھ گئے لہٰذا تم کسی اور جگہ بیٹھ جاؤ،اس بات پر وہ بحث مباحثہ کرنے لگے،اسی اثنا میں حضرت مخدوم نے مراقبہ سے فارغ ہو کر دیکھا اور کہا اس ملک کا صاحب ولایت آگے بیٹھنے کی لائق ہے یہ سن کر وہاں کھڑے علماء نے کہا تمہاری ولایت کا کیا ثبوت ہے آپ نے جواب دیا ثبوت یہ ہے کہ ابھی تم اور تمہارا تمام شہر کے لوگ جاں بحق ہو جائیں گے یہ کہتے ہی آپ مسجد سے باہر ا گئے تو اچانک مسجد نیچے گری تو مسجد کے اندر تمام لوگ جان بحق ہو گئے۔
حضرت صابر کلیری کا جلال
کہا جاتا ہے کہ آپ کا جلال اس قدر بڑھ چکا تھا کہ آپ جس جگہ پر بھی دیکھتے ہیں وہاں آگ کے شعلے نکل پڑتے آپ کی جلال کے خوف سے کوئی شخص آپ کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتا تھا۔ کتابوں میں لکھا ہے کہ کلیئر کی تباہی کے بعد اب اکثر اوقات گولر کے پیڑ کو پکڑے ہوئے رات دن کھڑے رہتے ۔جب بابا فرید کو آپ کی اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے آپنے خادموں سے فرمایا کہ" تم میں سے جو بھی صابر کو بٹھا دے گا ،جو مانگے گا وہ ملے گا"
حضرت شیخ شمس الدین ترک پانی پتی جو مشہور اولیاء میں سے ہیں انہوں نے اٹھ کر جواب دیا کہ میں آپ کو بٹھا دوں گا اور یہ کہہ کر وہ حضرت مخدوم کے پیچھے پیٹھ کے آ کر بیٹھ گئے اور گانا شروع کر دیا حضرت مخدوم نے آنکھیں کھول دی اور نیچے بیٹھ گئے اور کہا گاتے جاؤ حضرت شمس الدین نے موقع کو غنیمت سمجھ کر یہ کہا کہ مجھے اجازت ہو تو میں آپ کی خدمت میں رہنا چاہتا ہوں حضرت مخدوم نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے تم رہا کرو لیکن میرے سامنے نہ آیا کرو میرے پیچھے ہی بیٹھا کرو۔ اس واقعہ کے بعد حضرت شیخ شمس الدین آپ کی خدمت میں رہنے لگے آپ کو وضو کے لیے پانی یا کھانے لے گولر لاتے تو پیچھے سے ہاتھ بڑھا کر رکھ دیتے روزہ افطار کے وقت جب گولر آپ کے سامنے رکھے جاتے تو آپ فرماتے کہ" خدا کھانے پینے سے پاک ہے پھر خود ہی فرماتے خدا خدا ہے اور بندہ بندہ ہے" آپ 24 گھنٹے عبادت اور یاد الہی میں مست رہتے ہیں حتی کہ آپ کو آپنے تن بدن کا ہوش بھی نہ ہوتا.
حضرت صابر کلیری کے شاگرد شمس الدین
حضرت شمس الدین آپ کی خدمت میں تقریبا 24 سال رہے اور آپ سے فیض حاصل کرتے رہے حضرت شمس الدین کو آپ کی خلفاء میں سب سے بڑا درجہ بھی حاصل ہوا ۔جب آپ کو خدمت کرتے ہوئے 24 سال مکمل ہو گئے اور آپ کی روحانی تعلیم پایا تکمیل کو پہنچ گئی تو حضرت مخدوم نے شمس الدین کو حکم دیا کہ جاؤ شاہی سواروں میں نوکری کر لو لیکن جس روز تم سے کوئی کرامت ظاہر ہو گئی تو سمجھنا اس دن ہمارا وصال ہو گیا چنانچہ حضرت شمس الدین سلطان علاؤ الدین خلجی کے سواروں میں نوکر ہو گئے اور ایک معمولی سپاہی کی زندگی گزارنے لگے اسی زمانہ میں سلطان چتوڑ کے قلعہ کے محاصرہ میں بار بار ناکام ہو رہا تھا اور مغموم تھا آخر کار سلطان نے اس فتح کے لیے فقیروں کی جانب رجوع کیا سلطان فقیروں کی تلاش میں سرگرداں تھا تو کسی واقف کار نے سلطان کو بتایا کہ تم خامخواہ فقیروں کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہو تمہارے آپنے لشکر میں ایک بہت بڑے فقیر رہتے ہیں اس کی نشانی یہ ہے کہ جب رات کو ہوا چلتی ہے تو سب کے چراغ گل ہو جاتے ہیں لیکن اس کا نہیں ہوتا ۔
یہ سن کر سلطان جستجو میں رہا اور واقعی رات کو دیکھا کہ ایک شخص کا چراغ ہوا چلنے کے باوجود گل نہیں ہوا ۔ سلطان فورا اس خیمہ پر آیا جس کا چراغ روشن تھا اور دست بدستہ آ کر کھڑا ہو گیا اور دیکھا کہ حضرت شیخ شمس الدین قرآن پاک کی تلاوت میں مصروف ہیں حضرت شیخ شمس الدین نے جب نظر اٹھائی تو بادشاہ نے بڑے ادب سے کہا حضرت میرا قصور معاف فرمائیے مجھ کو آپ کی قدر و منزلت کا پتہ نہیں تھا آپ دعا فرما دیجئے کہ چتور کا قلعہ فتح ہو جائے، آپ نے جواب دیا کہ میں تو ایک گنہگار بندہ ہوں آپ کو شاید غلط فہمی ہوئی ہے سلطان نے کہا کہ میں کوئی بھی عذر قبول نہیں کروں گا میرے لیے دعا فرمائیں ۔
آپ نے سلطان کو کہا کہ اچھا تو پہلے میرا استعفیٰ قبول ہو اور تنخواہ بھی مل جائے ، میں یہاں سے تین کوس دور جا کر دعا کروں گا، اور آپ فورا دھاوا کر دینا انشاءاللہ تعالی قلعہ فتح ہو جائے گا، سلطان نے اسی طرح آپ کو استعفی بھی دیا اور تنخواہ دے دی۔ آپ نے تین کوس پر جا کر دعا مانگی ،تو سلطان کو اسی وقت فتح ہو گئی۔ شیخ شمس الدین سمجھ گئے کہ آج پیر کی وصال کا دن ہے۔
حضرت مخدوم صابر کلیری کا وصال
عین اسی وقت جب قلعہ فتح ہوا تو حضرت مخدوم علاؤ الدین علی احمد صابر کلیری اچانک اس جہان سے رحلت فرما گئے اور ذات حق سے جا ملے۔ آپ کی وصال کی تاریخ 13 ربیع الاول 690ھ ہے ۔ حضرت شیخ شمس الدین کو چونکہ وصال کا پتہ تھا لہذا فورا آپ کے پاس آ پہنچے اور پہنچ کر دیکھا کہ شیر بھیڑیے درندے چرند حلقہ بنا کر آپ کے جسم مبارک کے گرد بیٹھے ہیں آپ پہنچے تو وہ سب چلے گئے حضرت شیخ نے تجیہ و تکفین کے بعد پیر کی جسم مبارک کو سپرد خاک کر دیا۔
کہا جاتا ہے کہ بڑے عرصے تک آپ کے جلال کا یہ عالم تھا کہ آپ کے مزار کے اوپر سے اگر کوئی پرندہ گزرتا تو وہ بھی جلال کی وجہ سے گر کر مر جاتا۔
حضرت مخدوم صابر کلیری کا عرس کب منایا جاتا ہے
حضرت خواجہ صابر کلیریؒ کا سالانہ عرس ہر سال 13 ربیع الاول کو کلیر شریف (ہندوستان) میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر اور بیرونِ ملک سے عقیدت مند زائرین درگاہ پر حاضر ہو کر قرآن خوانی، نوافل اور فاتحہ خوانی کرتے ہیں۔ درگاہ کو چراغاں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے جبکہ محفلِ سماع اور قوالی کی محفلیں روحانی کیفیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔ لنگر کی تقسیم، دعا و مناجات اور صوفیانہ ماحول زائرین کے دلوں کو سکون عطا کرتا ہے۔ یہ عرس حضرت صابر کلیریؒ کی تعلیماتِ محبت، خدمتِ خلق اور انسانیت کے پیغام کو زندہ رکھنے کا ذریعہ ہے۔
