حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلوی کے مکمل حالات زندگی ، تاریخ اور دربار

حضرت خواجہ نظام الدین کی خلیفہ اول حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلوی ہندوستان کی وہ اولیاء کرام میں سے ہیں جو شریعت اور طریقت کا ایک بے پایاں سمندر ہیں آپ نے جہاں اہل دل کو طریقہ کا راستہ دکھایا وہاں خلق خدا کو شریعت کے معاملے میں بھی سچی رہنمائی فرمائی اپ کی برکت سے شمع رسالت کی روشنی اس براعظم میں دور دور تک پھیلی اور خلق خدا نے اپ سے بے اندازہ فیوض و برکات حاصل کی اپ کی ذات گرامی نہ صرف دہلی بلکہ دنیائے اسلام کے لیے باعث فخر ہے 

حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلوی کا دربار


نصیر الدین چراغ دہلوی کی ولادت

اپ کے دادا کا نام سید عبداللطیف تھا جو امام حسن علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے وہ ہندوستان آنے کے بعد لاہور میں آباد ہو گئے تھے اور لاہور میں آپ کے والد محترم سید یحییٰ پیدا ہوئے تھے اس کے بعد لاہور سے وطن تبدیل کر کے اپ کے اباؤ اجداد اودھ چلے گئے تھے ۔ اودھ میں سید یحییٰ کے ہاں نصیر الدین چراغ دہلوی کی پیدائش ہوئی۔

نصیر الدین چراغ دہلوی کی ابتدائی زندگی 

حضرت ابھی بالکل نو عمر ہی تھے کہ آپ کی ذات گرامی سے اکثر ایسی باتوں کا اظہار ہونے لگا جس سے صاف پتہ چلتا کہ آپ کسی نہ کسی دن آفتاب طریقت بن کر چمکنے والے ہیں آپ کی عمر نو برس ہی کی تھی کہ آپ کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور آپ کی تعلیم و تربیت کی تمام ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ کے کمزور کندھوں پر آگئی آپ کی والدہ نے سخت تکالیف برداشت کی لیکن ایک روز بھی آپ کی تعلیم سے غافل نہ ہوئی چنانچہ آپ اپنی والدہ محترمہ کے زیر ہدایت نو عمری ہی کے دور میں مولانا عبدالکریم اور مولانا فخر الدین جیلانی سے علوم ظاہری حاصل کرنے لگے۔ کم سنی اور نو عمری میں آپ کے زہد اور تقدس کا یہ عالم تھا کہ آپ کی نماز باجماعت کبھی کسی حالت میں بھی قضا نہیں ہوئی آپ کا زیادہ در وقت یا تو ریاضت اور مجاہدہ میں صرف ہوتا تھا یا علوم ظاہری کی حاصل کرنے میں ۔ 

نصیر الدین چراغ دہلوی کی بیعت 

ظاہری تعلیم حاصل کرنے کے بعد اور ریاضت او مجاہدہ کی ابتدائی منزلوں سے گزرنے کے بعد آپ کو پیر طریقت کی ضرورت محسوس ہوئی ، لہذا آپ پیر طریقت کی تلاش میں اپنے علاقے اودھ سے دہلی چلے آئے ۔اس زمانے میں حضرت محبوب الہی نظام الدین کلو کھڑی میں تشریف فرما تھے آپ حضرت نظام الدین کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضرت نے آپ کو پہلی نظر میں دیکھ کر آپ کی باطنی خوبیوں کا اندازہ لگا کر آپ کو اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دی ، بس پھر کیا تھا آپ نے حضرت نظام الدین کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان سے باطنی فیوض و برکات حاصل کرنا شروع کر دیے ۔ آپ رات دن ان کی خدمت میں رہتے حضرت نظام الدین کی بھی آپ پر خاص توجہ تھی۔  شب و روز آپ عبادت الہی میں مصروف رہنے لگے اور اپ کو ریاضت اور عبادت میں اس قدر مدہوشی رہنے لگی کہ آٹھ آٹھ اور 10 10 دن تک آپ نہ کچھ کھاتے تھے اور نہ پیتے تھے۔

جنگل میں رہنے کی خواہش 

حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کو جب عبادت اور ریاضت میں خاص کیفیت اور لذت محسوس ہونے لگ گئی تو آپ کا دل دنیا کے ہنگاموں سے گھبرانے لگ گیا۔ آپ کا دل یہ چاہنے لگا کہ دنیا کے شور و غل سے الگ ہو کر جنگل میں آرام سے بیٹھ کر عبادت الہی کریں چنانچہ آپ نے حضرت امیر خسرو سے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جب میں اپنے وطن عہد جاتا ہوں تو لوگوں کی مداخلت کی وجہ سے عبادت الہی صحیح نہیں کر سکتا لہذا اگر شیخ کی اجازت ہو تو جنگل میں جا کر عبادت حق میں مصروف ہو جایا کروں۔  حضرت امیر خسرو نے جب  نظام الدین اولیاء سے شیخ نصیر الدین کی اس خواہش کا اظہار کیا تو حضرت نظام الدین نے ارشاد فرمایا کہ اس سے کہو کہ تجھے خلق خدا کے درمیان ہی رہنا چاہیے اور ان کی جورو جفا برداشت کرنی چاہیے، پیر طریقت کی اس حکم کے بعد آپ نے کبھی جنگل اور بیاباں میں جا کر عبادت کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا

نصیر الدین چراغ دہلوی کی چند واقعات 

ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کے کسی پیر بھائی کے ہاں مجلس قوالی تھی آپ بھی وہاں پر موجود تھے باجے کے ساتھ گانا شروع ہوا تو آپ وہاں سے اٹھ کر چل دیے پھر بھائیوں نے آپ کو بیٹھنے کا کہا تو آپ نے فرمایا میں نہیں بیٹھتا کیوںکہ باجا کے ساتھ گانا سننا خلاف سنت ہے پیر بھائیوں نے کہا کہ سماع سے انکار کرتے ہو کیا اپنے پیران طریقت کے مسلک سے پھر گئے ہو آپ نے فرمایا کہ سب سے مقدم کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ہے ۔ جب حضرت محبوب الہی نظام الدین سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو اپ نے ارشاد فرمایا کہ" ان کا اتقا بڑا ہوا ہے".

ایک اور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ آپ مراقبہ میں سر جھکائے مستقرک تھے کہ تراب نامی ایک قلندر جو برسوں سے آپ کا دشمن تھا موقع پا کر آپ کے حجرہ میں داخل ہو گیا اور آپ کو چھڑیوں سے زخم لگائے، جب اس نے یہ سمجھ لیا کہ آپ کا کام تمام ہو چکا ہے تو وہ وہاں سے بھاگا مریدوں نے اسے پکڑ لیا اور گرفتار کر کے حضرت کی خدمت میں لائے ، مرید اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتے تھے مگر حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی نے فرمایا کہ کوئی اس سے جھگڑا نہ کرے بلکہ آپ نے اس قلندر کو بہت کچھ دے کر رخصت فرمایا ۔ ان زخموں کی وجہ سے اپ سخت تکلیف میں بھی مبتلا رہے ۔ یہ واقعہ اپ کی صلہ رحمی اور اور معاف کرنے کا ثبوت ہے۔

نصیر الدین چراغ دہلوی کے اقوال اور فرمان 

آپ نے مختلف مواقعوں پر مختلف باتیں کہیں جن میں عام لوگوں کے لیے اور خاص لوگوں کے لیے بھی ہدایت موجود ہے، 

آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے شیخ کی زبان سے سنا ہے کہ توبہ چھ قسم کی ہوتی ہے توبہ زبان ،توبہ چشم ،توبہ گوش ،توبہ دست،  توبہ نفس، پھر فرمایا کہ زبان کی توبہ کا مطلب یہ ہے کہ زبان کو تمام نا شائستہ باتوں سے روکے اور بیہودہ گفتگو نہ کرے ۔

آپ فرماتے ہیں کہ خواجہ عثمان ہارونی اپنے رسالے میں لکھتے ہیں کہ انسان کے ہر عضو میں ایک شہوت اور حرص ہے جب تک انسان ان شہوتوں اور حرصوں سے اعضاء کو پاک نہیں کرتا کسی مقام تک نہیں پہنچ سکتا چنانچہ آنکھ میں بینائی کی شہوت ہے ہاتھ میں چھونے اور پکڑنے کی بجا لذت ہے کان میں سننے کی حرص ہے ناک میں سونگنے کی خاصیت ہے حلق میں چکھنے کی خواہش ہے زبان میں بولنے کا جذبہ ہے بدن میں ارام اور عیش کی خواہش ہے۔ 

آب یہ بھی فرماتے ہیں کہ کوئی چیز اس سے بڑھ کر افضل نہیں کہ انسان کسی کے دل کو راحت پہنچائے یہ سب عبادتوں سے افضل اور بہتر ہے۔

نصیر الدین چراغ دہلوی کا انتقال  اور مزار

آپ کیونکہ اکثر اوقات ریاضت اور عبادت میں مصروف رہتے ہیں آپ کے استغراق کا یہ عالم تھا کہ آپ آٹھ آٹھ اور دس دس روز تک کچھ نہ کھاتے نہ پیتے ، کثرت ریاضت کی وجہ سے آپ کی صحت گرتی چلی گئی اور مختصر سی بیماری کے بعد 17 رمضان ا لمبارک 757 هجری کو آپ اس جہان سے  کوچ کر گئے۔  آپ کا مزار مبارک جو درگاہ چراغ دہلوی کے نام سے دہلی کی قرب میں مشہور ہے ہر خاص اور عام کے لیے زیارت گاہ ہے۔ جہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں آپ کے عقیدت مند اپنی ظاہری اور باطنی حاجتوں کو پورا کرنے کے لیے حاضری دیتے ہیں۔ 


حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلوی کا مزار


حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلویؒ کا عرس کب منایا جاتا ہے

حضرت شیخ محمد نصیر الدین چراغ دہلویؒ کا سالانہ عرس ہر سال دہلی میں 18 رمضان المبارک کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر اور بیرونِ ملک سے عقیدت مند زائرین درگاہ پر حاضری دے کر قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہیں، نوافل ادا کرتے ہیں اور روح پرور محفلِ قوالی میں شریک ہوتے ہیں جو چشتیہ پیغامِ محبت، عاجزی اور خدمتِ خلق کو اجاگر کرتی ہیں۔ درگاہ کو چراغاں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے جبکہ لنگر کی تقسیم عقیدت مندوں میں ایثار، بھائی چارے اور روحانی وحدت کی فضا پیدا کرتی ہے۔ حضرت چراغ دہلویؒ کا عرس ان کی اس ابدی پہچان کو تازہ کرتا ہے کہ وہ دہلی کے "چراغِ آخر" تھے جنہوں نے صوفی روایتِ محبت، امن اور رہنمائی کو زندہ رکھا۔

Post a Comment

Previous Post Next Post