حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی رحمت اللہ علیہ کی مکمل تاریخ ، حالات زندگی اور واقعات

حضرت خواجہ باقی باللہ رحمت اللہ علیہ ہندوستان کی سب سے نو عمر ولی ہیں جن کی شان ولایت بالکل نوجوانی میں ہویدہ تھی اور جو عین عالم جوانی میں اس دنیا سے رخصت فرما گئے آپ اپنے زمانہ کی بہت بڑے عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ اتنے بڑے روحانی پیشوا ہوئے ہیں کہ اپ کی روحانی عظمت کا اندازہ لگانا بھی بہت مشکل ہے ۔آپ ہی کی ذات مقدس سے اس براعظم کے مسلمانوں کا افغانستان اور قبائل کے ساتھ ایک ایسا روحانی رشتہ قائم ہوا جو قیامت تک نہیں ٹوٹ سکتا اپ کی خلفاء اور جانشین ہندوستان سمیت افغانستان اور ایران تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آپ کا ہندوستان میں سلسلہ نقشبندیا کی بنیاد رکھنے والا بھی کہا جاتا ہے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی رحمت اللہ علیہ کا مزار

خواجہ باقی باللہ کی ولادت 

حضرت خواجہ باقی باللہ کے والد محترم کا نام قاضی عبدالسلام تھا جو افغانستان کی آزاد قبائل میں سے ایک نہایت ہی مقتدر اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے تھے بہت لمبے عرصے سے آپ نے قابل میں بود و باش اختیار کر لی تھی ۔ قاضی عبدالسلام چونکہ اپنے زمانہ کے بہت بڑے عالم اور فاضل تھے اس لیے آپ کو قابل میں غیر معمولی مذہبی عظمت حاصل تھی ۔

حضرت خواجہ باقی باللہ 971 ہجری میں شہنشاہ اکبر کی دور حکومت میں کابل میں پیدا ہوئے آپ کی پیدائش کی برکت سے اپ کے والد محترم قاضی عبدالسلام کا اقتدار اس قدر بڑھا کے سلطان وقت کی گردنیں اپ کے اگے جھکنے لگی۔ بچپن ہی سے حضرت خواجہ سے ایسی علامتوں کا ظہور ہونے لگا جس سے پتہ چلتا تھا کہ آپ پیدائشی ولی ہیں چنانچہ تین سال کی عمر میں اکثر اوقات اپ تنہائی میں گھنٹوں اس طرح بیٹھے رہتے ہیں کہ اپ جیسے عبادت الہی میں مصروف ہوں۔


خواجہ باقی باللہ کی ابتدائی تعلیم 

پانچ سال کی عمر میں حضرت خواجہ کی ابتدائی تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا آپ اپنے والد محترم کی زیر نگرانی ظاہری تعلیم کے حصول بے مصروف ہو گئے اور کئی سال کے بعد اپ کو حضرت مولانا صادق کے سپرد کر دیا گیا ۔  مولانا صادق  کابل میں بلکہ سارے افغانستان میں یگانا علماء میں سے ایک تھے  ۔ آپ کو ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی کمالات بھی حاصل تھے چنانچہ حضرت خواجہ باقی باللہ نے آپ سے پوری پوری طرح استفادہ حاصل کیا ۔ 

حضرت خواجہ کو مولانا صادق کے پاس ابھی کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ مولانا صادق کو ماوراءالنہر  تشریف لے جانے کی ضرورت پیش آئی حضرت خواجہ اپنے استاد کامل کو کسی طرح چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے استاد کے ہمراہ کابل سے ماورالنہر  تشریف لے گئے ۔ حضرت خواجہ ماوراءالنہر پہنچنے کے بعد مولانا صادق سے علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی اور نو عمری کے باوجود حضرت خواجہ باقی باللہ کا شمار مقتدر علماء میں ہونے لگا اور رفتہ رفتہ آپ کی شہرت ماوراءالنہر کی حدود سے نکل کر دور دور پھیل گئی۔


خواجہ باقی باللہ کی مرشد کامل کی تلاش 

ظاہری علم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپ کو علوم باطنی حاصل کرنے کا شوق ہوا ۔ آپ کے قلب میں بچپن سے ہی علوم باطنی کے حصول کی بے پایاں محبت اور تڑپ تھی ۔ آپ ماورالنہر شہر اور گردونواح میں اولیا کی تلاش میں سرگرداں رہنے لگے غرض یہ کہ آپ کو جو بھی بزرگ جہاں ملتا ہے آپ اس سے فیض اور استفادہ حاصل کرتے ہیں اور اپنے مرشد کامل کی تلاش میں رہتے ہیں۔

ماورالنہر شہر سے روحانی بزرگوں سے فیض حاصل کرنے کے بعد آپ کا ارادہ ہ ہندوستان کی جانب ہوا ۔ اس وقت ہندوستان غیر معمولی طور پر روحانی پیشواؤں کے معاملہ میں مشہور تھا ۔ آپ ہندوستان تشریف لائے تو اپ کے ہم اثر اور لوگوں نے اپ کو انتہائی کوشش کی کہ اپ کوئی بڑا سے بڑا شاہی عہدہ قبول کر کے دنیا میں مگن ہو جائیں لیکن آپ کو تو دنیاوی لذات سے کوئی سرکار نہیں تھا بلکہ آپ روحانی شہنشاہی کے لیے پیدا ہوئے تھے آپ ہندوستان آنے کے بعد روحانی رہنماؤں کی تلاش میں مدتوں سرگرداں رہے۔


آپ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں تصوف کے مطالعہ میں مشغول تھا کہ یکا یک ایسی تجلی رونما ہوئی کہ میں قابو میں نہ رہا اور میرے ہوش و حواس جاتے رہے آخر حضرت خواجہ بہاؤالدین زکریا ملتانی کی روحانی کشش نے میری دستگیری کی اور اس کے بعد میں ارباب معرفت کی تلاش اور جستجو میں اور بھی زیادہ سرگرم ہو گیا۔

چنانچہ آپ نے ایک دن مراقبہ میں دیکھا کہ حضرت خواجہ امکنگی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے سامنے کھڑے ہیں اور آپ سے فرما رہے ہیں کہ اے فرزند ہم تمہارے منتظر ہیں ہمارے پاس جلدی آؤ، چنانچہ آپ ترکستان اور ماوراء النہر میں جا کر خواجہ درویش محمدؒ اور پھر ان کے خلیفۂ اجل حضرت خواجہ محمد امکنگیؒ سے بیعت و تربیت حاصل کی۔


یوں تو آپ نے خرقہ خلافت حضرت خواجہ امکنگی سے لیا لیکن آپ نے روحانی فیض مختلف اور کئی بزرگوں سے حاصل کیا جن کے نام یہ ہیں شیخ سمرقندی رحمتہ اللہ علیہ ، خواجہ احمد بسوی ، حضرت امیر عبداللہ بلخی حضرت خواجہ عبید اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت مولانا لطف اللہ رحمت اللہ علیہ وغیرہ وغیرہ ۔


خواجہ باقی باللہ کی ہندوستان آمد 

مرشد سے  خلافت حاصل کرنے کے بعد آپ نے مرشد کی خدمت میں رہنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن مرشد نے اپ کو ہندوستان جانے کا حکم دیا اور وہاں رشد و ہدایت کی شمع جلانے کی تاکید کی۔

چنانچہ آپ ہندوستان میں دہلی میں آ کر قیام کرنے لگ گئے۔

دہلی میں قیام

شروع شروع میں آپ نے لاہور میں قیام کیا لیکن بعد میں حکم ملنے کے بعد آپ دہلی کی طرف چل پڑے، جب آپ دہلی کی طرف جا رہے تھے تو راستے میں اگر اپ کو کوئی بوڑھا یا کمزور نظر آتا تو آپ اپنی سواری سے اتر جاتے اور اس کو سواری پر بٹھا لیتے ہیں ۔ یوں آپ نے غریبوں اور مساکینوں کی مدد کرتے کرتے دہلی جا پہنچے ۔  دہلی میں آپ نے مختصر زندگی بسر کی (صرف چار سال کے لگ بھگ) مگر آپ کی خانقاہ سے ہزاروں لوگ فیضیاب ہوئے۔


آپ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ آپ نے حضرت مجدد الف ثانیؒ شیخ احمد سرہندی کو سلسلہ نقشبندیہ کی خلافت عطا کی۔ مجدد الف ثانیؒ نے پھر اس سلسلہ کو پورے برصغیر میں پھیلایا۔

حضرت خواجہ باقی باللہ کی رحم دلی

حضرت خواجہ  باقی باللہ بے حد رحم دل اور مہربان تھے آپ کی رحم دلی صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ آپ انسانوں کی طرح جانوروں پر میرے بے حد رحم فرماتے ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ آپ ایک رات تہجد کی نماز میں مصروف تھے اور تعجب کی نماز کے لیے اٹھے تو بلی آپ کے لحاف پر آ کر سو گئی نماز سے فارغ ہونے کے بعد جب آپ اپنے بستر کی جانب آئے تو بلی کو لحاف پر سوتے ہوئے دیکھا آپ کی رحم دلی نے اس کی اجازت نہ دی کہ بلی کو جگائیں چنانچہ صبح تک سردی میں بیٹھے رہے بلی بدستور سوتی رہی ۔

ایک شاہی امیر نے جو حضرت خواجہ باقی باللہ کا بے حد عقیدہ  مند تھا آپ کی خدمت میں بہت سا روپیہ بھیجا اور عرض کیا کہ اسے مستحقوں میں تقسیم فرما دیں آپ نے خادم سے فرمایا کہ جو کچھ نقدی ہمارے پاس ہے وہ بھی اس میں ملا دو اور سارا روپیہ غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دو اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت خواجہ کس قدر فیاض دل تھے۔


حضرت کی انکساری کا عالم یہ تھا کہ اگر کوئی معمولی ادمی بھی اپ کو سخت سے سخت بات کہتا تھا تو اپ مسکرا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ کی وفات 

اپ نے اپنی وفات کی کئی ماہ قبل پیشنگوئی کرنی شروع کر دی تھی اس کے بعد اپ کافی دیر تک علیل رہے اور بالاخر بروز شنبہ 25 جمادی الثانی کو عصر اور مغرب کے درمیان اللہ اللہ کہتی ہوئے اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ کا مزار

حضرت خواجہ باقی باللہ کا مزار

 انتقال کے بعد ایک پاکیزہ مقام پر آپ کے لیے قبر تیار کی گئی لیکن میت کو لے جاتے وقت لوگوں پر کوئی ایسی حالت طاری ہوئی کہ وہ اپ کو کسی اور جگہ پر لے گئے اور میت وہاں رکھ دی، وہاں پہچنے پر مریدوں کو یاد آیا کہ اسی مقام پر خواجہ نے وضو بھی کیا تھا اور نماز پڑھی تھی اور جب اٹھے تھے تو کچھ مٹی آپ کے کپڑوں پر لگ گئی تھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ یہی ہمارا مدفن ہوگا ، چنانچہ اس واقعے کی یاد آنے کے بعد آپ کے مریدوں نے آپ کی قبر وہیں پر کھودی اور آپ کو سپرد خاک کر دیا یہ مقام دہلی میں صدر بازار کے بالکل قریب قطب روڈ پر واقع ہے۔ 

حضرت خواجہ باقی باللہ کے مشہور مرید و خلفاء

یوں تو اپ نے بہت سے چراغ روشن کیے، کئی ہزار لوگوں کو رشد و ہدایت دی لیکن ان میں سے چار بہت زیادہ ممتاز ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں شیخ احمد سرہندی  مجدد الف ثانی،  شیخ تاج الدین سنبهلی،  خواجہ حسام الدین،  شیخ اللہ داؤد ۔

ان چاروں میں بلند مرتبہ حضرت مجدد الف ثانی کو حاصل ہوا جو آپ کی خلیفہ ہونے کے ساتھ ساتھ عاشق صادق بھی تھے۔

روحانی اولاد کے علاوہ آپ کے جسمانی اولاد میں آپ کے دو صاحبزادے تھے جن میں بڑے صاحبزادے کا نام خواجہ عبیداللہ تھا اور دوسرے کا نام محمد عبداللہ تھا ۔صاحبزادہ محمد عبداللہ زمانہ دراز تک حضرت مجدد الف ثانی کے پاس رہ کر روحانی کمالات سے فیض یاب ہوتے رہے اور ایک خاص درجہ بھی حاصل کیا۔


حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندی رحمت اللہ علیہ کا عرس کب منایا جاتا ہے

حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندیؒ برصغیر ہند میں سلسلہ نقشبندیہ کے بانی اور ایک عظیم روحانی پیشوا تھے، جنہوں نے تصوف اور روحانیت کی تعلیمات کو عام کیا۔ آپ کا وصال 25 جمادی الثانی 1012ھ (1603ء) کو دہلی میں ہوا اور ہر سال اسی تاریخ کو آپ کا عرس نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ عرس روحانی فیوض و برکات حاصل کرنے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے جہاں عقیدتمند ذکر و اذکار، درود و سلام اور قرآن خوانی کے ذریعے اپنے قلوب کو منور کرتے ہیں۔ حضرت خواجہ باقی باللہؒ کی خانقاہ آج بھی seekers of truth کے لیے ایک مرکزِ ہدایت ہے۔

حضرت خواجہ باقی باللہ کو باقی باللہ کیوں کہا جاتا ہے

ایک دفعہ آپ سے کسی ایک عقیدت مند  نے پوچھا کہ آپ کو باقی باللہ کیوں کہا جاتا ہے تو آپ نے اس کو کہا کہ یہ سوال تم ایک شخص جو گھوڑے پر سوار ہوگا اور میرا جنازہ پڑھائے گا اس سے پوچھنا ، وہ تمہیں اس سوال کا جواب دے ۔ اس شخص نے اس سوال کے جواب کے لیے کئی برس کا انتظار کیا اور جس دن آپ کا نماز جنازہ تھا تو اچانک سے ایک شخص آیا اس نے آپ کا جنازہ پڑھایا وہ گھوڑے پر سوار تھا اور جب وہ جانے لگا تو اس شخص نے اس کے گھوڑے کے سامنے آ کر اسے روکا اور اس سے یہی سوال پوچھا کہ خواجہ باقی باللہ کو باقی باللہ  کیوں کہا جاتا ہے، تو اس شخص نے اچانک اپنے منہ سے نقاب ہٹایا تو وہ شخص یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ گھوڑے پر سوار شخص بھی باقی باللہ خود ہے ، اور جس کا نماز جنازہ پڑھایا گیا وہ بھی باقی باللہ ہی تھا۔ 

یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ولی اللہ جن کے اندر رب کا جلوہ آ جاتا ہے وہ کبھی فنا نہیں ہوتے ۔ اگر آپ کو بھی ولیوں کی وہ خاص تعلیم حاصل کرنی ہے جس سے انسان لافانی بن جاتا ہے تو ابھی یوٹیوب پر الرا ٹی وی چینل دیکھیں وہاں اللہ کی خاص تعلیم مفت میں دی جا رہی ہے جس سے انسان غریب سے غریب نواز بن جاتا ہے۔

www.youtube.com/alratv




Post a Comment

Previous Post Next Post