برصغیر پاک و ہند کی روحانی تاریخ میں حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند جگمگاتا ہے جنہوں نے اسلام کی حقیقی روح، شمع ہدایت اور سچی تڑپ کو عام لوگوں تک پہنچایا۔ خواجہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کاکی جیسے عظیم صوفیاء نے جس روحانی تحریک کی بنیاد رکھی، حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی نے شمالی ہندوستان اور موجودہ پاکستان میں اس کی روشنی کو دور دور تک پھیلایا۔ آپ کی بدولت نہ صرف اسلام کی صحیح تفہیم ہوئی بلکہ ایک کثیر تعداد نے اسلام قبول کیا۔
ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر:
حضرت شیخ بہاءالدین زکریا ملتانی 566 ہجری بمطابق 1171 عیسوی کو ملتان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے دادا کا نام کمال الدین علی شاہ تھا جو چنگیز خان کے دور حکومت میں مکہ معظمہ سے خوارزم ہوتے ہوئے ملتان میں آ کر آباد ہوئے۔ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ محترمہ اور فرزند شیخ وجیہ الدین بھی تھے۔ ملتان میں قیام کے بعد، کمال الدین علی شاہ نے اپنے بیٹے شیخ وجیہ الدین کی شادی مولانا حسام الدین ترمذی کی صاحبزادی سے کی، جو حضرت شیخ کی والدہ ماجدہ تھیں۔
بچپن ہی سے حضرت شیخ غیر معمولی ذہنی صلاحیتوں اور باطنی اوصاف سے آراستہ تھے۔ آپ کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف 12 سال کی عمر میں آپ علم و فضیلت میں بڑے بڑے علماء سے مقابلہ کرنے لگے۔ اسی دوران آپ پر ایک بڑا امتحان آیا جب آپ کے والد جوانی کی عمر میں انتقال کر گئے اور آپ یتیم و بے سہارا ہو گئے۔
حصول علم اور سفرِ ترک وطن:
والد کے انتقال کے باوجود، علم حاصل کرنے کا شوق حضرت شیخ میں کبھی ماند نہ پڑا۔ آپ حصول علم کی غرض سے خراسان پہنچے اور وہاں مزید ظاہری علوم حاصل کیے۔ خراسان سے آپ بخارا تشریف لے گئے جہاں آپ کو "درجہ اجتہاد" حاصل ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر اگرچہ صرف 15 یا 16 سال تھی، لیکن آپ کی فضیلت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے عالم دین آپ کے شاگردوں میں شامل ہو گئے۔
ظاہری علوم میں کمال حاصل کرنے کے بعد، آپ مکہ معظمہ تشریف لے گئے اور وہاں پانچ برس تک روضہ نبوی کی مجاوری کے فرائض انجام دیے۔ اسی عرصے میں آپ نے عظیم محدث شیخ کمال الدین سے کئی سال تک حدیث کا درس حاصل کیا۔ اس کے بعد آپ بیت المقدس تشریف لے گئے جہاں انبیاء کرام کی قبور کی زیارت کی۔
شیخ شہاب الدین سہروردی سے بیعت اور خرقہ خلافت:
بیت المقدس سے آپ بغداد تشریف لے گئے جہاں آپ نے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی سے بیعت حاصل کی اور ان کے عقیدت مندوں میں شامل ہو کر ان کی خدمت کرنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت ہی تھوڑے عرصے میں آپ کو خرقہ خلافت عطا کیا گیا۔ خرقہ خلافت عطا کرنے کا ایک عجیب و غریب واقعہ بیان کیا جاتا ہے:
مورخین نے لکھا ہے کہ ایک رات حضرت شیخ بہاءالدین زکریا کو خواب میں حضور پاک ﷺ نظر آئے۔ آپ ﷺ ایک مکان میں تشریف فرما تھے اور وہاں بہت سے خرقے ایک دوسرے پر پڑے ہوئے تھے۔ یکایک حضور پاک ﷺ نے حکم دیا: "اے شہاب الدین، بہاؤالدین کو ہمارے سامنے لاؤ!" حضرت شیخ شہاب الدین، حضرت بہاءالدین زکریا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے حضور پاک ﷺ کے قریب آئے تو حضور مقبول ﷺ نے حکم دیا: "فلاں خرقہ بہاؤالدین کو پہنا دو!" یہ خواب دیکھنے کے بعد آپ کی آنکھ کھل گئی اور صبح تک نیند نہیں آئی۔ آپ نے رات بھر وظائف اور نمازوں میں مشغول رہے۔
دن کو جب آپ اپنے مرشد (شیخ شہاب الدین سہروردی) کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کو ایک خرقہ اتار کر خود اپنے دست مبارک سے پہنایا اور فرمایا: "بابا شیخ! یہ خرقہ حضور مقبول ﷺ کی طرف سے ہے، میں تو بس درمیان میں ایک ایلچی کے فرائض انجام دے رہا ہوں اور اس کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں۔" چنانچہ اس عجیب و غریب طریقے سے آپ کو خرقہ خلافت عطا ہوا۔
ملتان میں واپسی اور روحانی فیض کا سلسلہ:
خرقہ خلافت حاصل کرنے کے بعد حضرت شیخ کو اپنے مرشد کی مزید خدمت کرنے کا شوق ہوا، لیکن مرشد نے آپ کو حکم دیا: "ملتان واپس جاؤ، تمہارا کام وہاں کے لوگوں کو رشد و ہدایت دینا ہے۔" چنانچہ آپ اپنے مرشد کے حکم کے مطابق ملتان پہنچے۔ ملتان میں آپ کے ہزاروں عقیدت مند پیدا ہو گئے۔ لوگ کثیر تعداد میں آپ کے پاس آنے لگے اور آپ کے روحانی فیض کا سرچشمہ نہ صرف ملتان بلکہ پورے شمالی ہندوستان میں جاری ہو گیا۔ آپ نے نہ صرف روحانی فیض سے لوگوں کو مشرف کیا بلکہ درس و تدریس کا بھی سلسلہ جاری کیا۔ آپ کی خانقاہ ظاہری اور باطنی علوم کا سب سے بڑا مرکز بن گئی۔
شیخ بہاءالدین زکریا کی کرامت اور حکمرانوں کی اصلاح:
قطب الدین ایبک کے انتقال کے بعد جب سلطان شمس الدین التمش حکمران ٹھہرے، تو ملتان کے حکمران ناصر الدین قباچہ نے التمش کی پیروی سے انحراف کر کے اپنی خود مختار حکومت کا اعلان کر دیا اور عیش و عشرت میں مبتلا ہو گیا۔ حضرت بہاءالدین زکریا نے انہیں شریعت اسلامیہ کے مطابق پہلے تو سمجھایا، جب وہ نہ سمجھا تو آپ نے اور قاضی ملتان نے اپنے دستخط کر کے قباچہ کے خلاف ایک شکایت نامہ سلطان شمس الدین کے پاس روانہ کر دیا۔
لیکن اتفاق سے وہ خط ناصر الدین قباچہ کے آدمیوں کے ہتھے چڑھ گیا، جس پر ناصر الدین قباچہ کو بڑا غصہ آیا اور اس نے حکم دیا کہ قاضی اور بہاءالدین دونوں کو دربار میں لایا جائے۔ جب آپ دونوں دربار میں گئے تو اس نے قاضی کو تو فوراً قتل کر دیا اور آپ سے پوچھا کہ "کیا یہ خط آپ کا ہے؟" تو آپ نے فرمایا: "بے شک یہ دستخط میرے ہیں، میں نے جو کچھ کیا اللہ کے حکم سے کیا، اب تو جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر لے!" یہ الفاظ آپ نے کہے ہی تھے کہ ان الفاظ کی اتنی ہیبت قباچہ پر طاری ہوئی کہ اس نے آپ کو جانے کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ حضرت شیخ کی روحانی قوت اور بے باک حق گوئی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
شیخ گیلانی کی بهاءالدین زکریا سے عقیدت کا آغاز
ایک دفعہ اپ کا ایک مرید جس کا نام خواجہ کمال الدین مسعود تھا وہ جواہرات کی تجارت کرتا تھا اتفاقا اس کا جہاز عدن جاتے ہوئے راستے میں طوفان کا شکار ہو گیا جہاز کے کسی بھی مسافر کو زندگی کی امید نہ رہی اس نازک وقت میں حضرت کی مرید کمال الدین نے اپنے مرشد کو پکارا تو دعا فرمانے کی دیر ہی تھی کہ لوگوں نے دیکھا کہ حضرت شیخ بہاؤدین خود اس جہاز پر موجود ہے اور اہل جہاز کو خوشخبری سنا کر نظروں سے غائب ہو جاتے ہیں
وہ جہاز امن سے اس طوفان سے نکل کر اپنی منزل عدن تک پہنچ جاتا ہے تو اس کے تمام سوداگروں اور مریدوں نے بطور عقیدت اپنے مال کا تیسرا حصہ حضرت شیخ کے لیے علیحدہ کر دیا اور خواجہ فخرالدین گیلانی کے ہاتھ حضرت کی خدمت میں روانہ کر دیا کہا جاتا ہے کہ اس نظرانے کی قیمت 70 لاکھ روپے کے برابر تھی اپ نے یہ نظرانہ قبول تو کر لیا لیکن فورا ہی اسے غریبوں مسکینوں میں تقسیم کر دیا اوہ اپنے لیے ایک پائی بھی نہیں رکھی اپ کی یہ سخاوت اور تصرف دیکھ کر خواجہ گلانی بہت متاثر ہوئے اور گھر بار چھوڑ کر اپ کے عقیدت مندوں میں شامل ہو گئے 50 برس تک اپ کی خدمت کرنے کے بعد جب مکہ معظمہ گئے تق جدہ میں انتقال کر گئے اور وہیں پر مدفون ہیں۔
شیخ بہاؤدین زکریا کا وصال
اپ کے وصال کا واقعہ بھی بہت ہی عجیب اور غریب ہے کہا جاتا ہے کہ اپ ایک روز اپنے حجرے میں عبادت میں مصروف تھے تو اچانک سے ایک نورانی لباس پہنے شخص ایا اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا وہ لفافہ اس نے اپ کے صاحبزادے صدر الدین کو دے کر کہا یہ نہایت ضروری خط ہے اس کو جس قدر جلد ممکن ہو حضرت شیخ بہاؤالدین کی خدمت میں پہنچا دو شیخ صدر الدین نے حیرت سے لفافے کو دیکھا اور جلد ہی حجرہ میں جا کر اپنے والد ماجد کو وہ افافہ پکڑا دیا اور باہر اگئے جب وہ باہر ائے تو سر غیب سے ایک اواز سنائی دی کہ دوست دوست کے پاس چلا گیا اس اواز کے سنتے ہی صدر الدین دوڑے ہوئے حضرت شیخ کے حجرہ مین گئے تو دیکھا کہ والد گرامی شیخ بہاؤ الدین زکریا ملتانی دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اپ کے وصال کی تاریخ 17 صفر 666 ہجری بتائی جاتی ہے اپ کی عمر ایک سو سال کی ہوئی اور اپ کے روحانی فیض سے سارا شمال ہند جگمگا اٹھا تھا ۔آپ شیخ فرید الدین گنج شکر کے ہم عصر تھے حضرت گنج شکر اپ کے بعد تین سال تک زندہ رہے
حضرت بہاءالدین زکریا ملتانی نے اپنی پوری زندگی اسلام کی تبلیغ، روحانیت کی ترویج اور انسانیت کی خدمت میں بسر کی۔ آپ کی تعلیمات نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بدل دیا اور آپ کی خانقاہ سے علم و حکمت کے چشمے جاری ہوئے۔ آج بھی آپ کا مزار مبارک مرجع خلائق ہے اور لوگ آپ کے روحانی فیض سے مستفید ہوتے ہیں۔ آپ کا شمار برصغیر کے ان عظیم صوفیاء میں ہوتا ہے جنہوں نے اسلام کے امن، محبت اور اخوت کے پیغام کو عام کیا۔