حضرت بابا بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ پنجاب کے مشہور صوفی شاعر اور اللہ کے خاص ولی ہیں۔ آپ کی شاعری کا چرچا صرف پنجاب تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے برصغیر اور پاکستان میں ہے۔ لوگ آپ کو اللہ کا برگزیدہ ولی سمجھتے ہیں۔ آپ کے قصے کہانیاں اور کرامات ہر عمر کے لوگ، بچے ہوں یا بوڑھے، بڑے شوق سے سنتے اور سناتے ہیں۔
آپ کا اصل نام عبداللہ شاہ تھا، جو وقت کے ساتھ "بلھا" کی صورت اختیار کر گیا اور یوں آپ کو بلھے شاہ کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ آپ قصور کے قریب اُچ گیلانیہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد حضرت شاہ محمد درویش ایک مسجد کے امام تھے اور سید خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
بابا بلھے شاہ کا بچپن اور ابتدائی حالات
بلھے شاہ رحمۃ اللہ علیہ کے بچپن کے حالات بہت سخت اور مالی طور پر نہایت کٹھن تھے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ بچپن میں بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اگرچہ آپ کا تعلق بہاولپور سے تھا مگر بعد میں آپ کے خاندان نے ہجرت کر کے قصور میں سکونت اختیار کی۔
ابتدائی تعلیم
چونکہ آپ کے والد ایک مسجد کے امام تھے اور قرآن پاک، فارسی اور عربی کے عالم بھی تھے، اس لیے آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ہی سے حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے دیگر اساتذہ سے بھی دینی علوم پڑھ کر ان پر عبور حاصل کیا۔
بابا بلھے شاہ کو رب کی تلاش
اگرچہ آپ نے دینی علوم میں مہارت حاصل کر لی تھی لیکن آپ کے اندر اللہ کی تلاش کی تڑپ ختم نہ ہوئی۔ آپ ہمیشہ اپنے دل میں ایک خلا محسوس کرتے تھے۔ ایک دن آپ ایک درخت کے نیچے سو گئے تو خواب میں ایک بزرگ، جو آپ کے جدِ امجد تھے، تخت پر جلوہ افروز نظر آئے۔ انہوں نے آپ سے فرمایا:
"بیٹا مجھے پیاس لگی ہے، پانی دو۔"
بلھے شاہ فرماتے ہیں کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ تھا جو میں نے انہیں پیش کیا۔ انہوں نے دودھ پیا اور تھوڑا سا بچا کر مجھے دیتے ہوئے کہا:
"بیٹا، تمہاری باطنی پیاس بجھانے کے لیے تمہیں ایک کامل مرشد کی ضرورت ہے۔"
جب آپ بیدار ہوئے تو یہ خواب اپنے والد کو سنایا۔ والد نے فرمایا:
"بیٹا، تمہیں اس بزرگ سے مرشد کا نام پوچھنا چاہیے تھا۔ بہرحال، میں مراقبہ کرتا ہوں، شاید کوئی اشارہ ملے۔"
چنانچہ صبح کے وقت والد نے مراقبہ کیا تو انہیں اپنے جدِ امجد کی قبر لاہور کے علاقے ساندھا میں نظر آئی۔ انہوں نے عبداللہ شاہ کو نصیحت کی کہ وہاں جا کر مراقبہ کرو، تمہیں اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔
بلھے شاہ لاہور روانہ ہوئے اور وہاں ایک مسجد میں قیام کیا۔ رات کو پھر وہی بزرگ خواب میں آئے اور فرمایا:
"تمہارا نصیب شاہ عنایت کے پاس ہے جو لاہور ہی میں ہیں۔ تم ان کے پاس پہنچو۔"
بابا بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری کی ملاقات
بلھے شاہ پہلی مرتبہ اپنے مرشد حضرت شاہ عنایت قادری رحمۃ اللہ علیہ سے ایک باغ میں ملے، جہاں وہ کسانی کر رہے تھے۔ مرشد نے دریافت کیا:
"کیا ڈھونڈتے ہو؟"
بلھے شاہ نے عرض کیا:
"میں رب کو پانا چاہتا ہوں۔"
اس پر شاہ عنایت نے فرمایا:
"رب دا کی پونا، ادھر پٹنا تے ادھر لونا"
یعنی رب کو پانے کے لیے دل سے غیر کو نکالنا ہوگا اور دل میں رب کا نقش بٹھانا ہوگا۔
اسی شام آپ شاہ عنایت کی محفلِ ذکر میں شریک ہوئے۔ ذکر کے بعد سب لوگ چلے گئے لیکن آپ وہیں بیٹھے رہے۔ شاہ عنایت نے پوچھا:
"اے نوجوان! سب جا چکے ہیں، تم کیوں رکے ہو؟"
آپ نے عرض کیا:
"میں یہاں رہنے کے لیے آیا ہوں، جانے کے لیے نہیں۔"
شاہ عنایت نے فرمایا:
"ہمارے پاس مہمانوں کو ٹھہرانے کی جگہ نہیں ہے۔"
بلھے شاہ نے عرض کیا:
"میں مہمان نہیں، خادم بننے آیا ہوں۔"
آپ کی اس عقیدت اور عاجزی کو دیکھ کر شاہ عنایت نے آپ کو بیعت کیا اور اپنے رنگ میں رنگ لیا۔ اس کے بعد آپ کی شاعری اور زندگی میں مرشد ہی مرکز و محور بن گئے۔
مرشد سے محبت اور مخالفت کا سامنا
چونکہ آپ سید خاندان سے تھے اور شاہ عنایت کا تعلق ارائیں گھرانے سے تھا، اس لیے معاشرے میں سخت مخالفت ہوئی۔ سید خاندان والے اسے اپنی توہین سمجھتے تھے۔ آپ کے رشتہ دار اور بہنیں تک آپ کو سمجھانے آئیں کہ اس تعلق کو توڑ دو، مگر آپ نے کسی کی نہ سنی۔
آپ نے اپنی شاعری میں جواب دیا:
بلھے نو سمجھاون آئیاں بہناں تے بھرجائیاں
آل نبی اولاد نبی نوں، تو کیوں لیکاں لایا
مزید فرمایا:
جو کوئی سانوں سید آکھے
دوزخ ملن سزائیاں
رشتہ داروں کی مخالفت سے تنگ آ کر آپ نے گدھے پالنا شروع کر دیے اور خود کو "بلھیا کھوتیاں والا" کہلوانا شروع کیا تاکہ ظاہر کر سکیں کہ اگر میرا مرشد ارائیں ہے تو میں اس سے بھی کمتر ہوں۔
مرشد کی ناراضگی اور راضی ہونا
ایک مرتبہ شاہ عنایت کے بیٹے کی شادی تھی۔ آپ کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکے، جس پر مرشد ناراض ہو گئے۔ اس ناراضگی نے آپ کو توڑ کر رکھ دیا۔ آپ نے مرشد کو راضی کرنے کے لیے خواجہ سراؤں سے ناچنا سیکھا اور روزانہ مرشد کے راستے پر ناچنے لگے۔ آپ فرماتے ہیں:
"نچ نچ کے یار منا لے، بھاویں کنجری بننا پے جاوے"
آخرکار ایک دن شاہ عنایت نے آپ کو ناچتے دیکھا اور پوچھا:
"اوئے، توں بُلھیا ایں؟"
آپ نے جواب دیا:
"میں بُلھیا نہیں، بھُولا ہاں۔"
یہ سن کر مرشد کا دل پگھل گیا، انہوں نے آپ کو سینے سے لگایا اور ناراضگی ختم کر دی۔
مجاہدہ اور ریاضت
مرشد نے آپ کو نصیحت کی کہ تصوف میں اصل کامیابی نفس کے مجاہدے میں ہے۔ اس پر آپ جھنگ کی طرف روانہ ہوئے اور دریائے چناب کے کنارے جھونپڑی میں قیام کیا۔ وہاں آپ نے سخت عبادات اور ریاضت کیں۔ قریبی لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ایک کسان نے روٹی اور ساگ پیش کیا۔ آپ نے ایک روٹی کھائی اور باقی واپس کر دی۔ کسان نے وجہ پوچھی تو فرمایا:
"میرے مرشد نے مجھے زیادہ کھانے سے منع کیا ہے۔"
آپ کی سخت حالت دیکھ کر آپ کی والدہ کو غم ہوا۔ والدین آپ کو دیکھنے جھنگ آئے اور آپ کو زرد چہرے کے ساتھ پایا۔ والدہ غمگین ہوئیں مگر بعد میں انہیں یقین ہو گیا کہ مرشد کامل آپ کی ہر حالت سے باخبر ہیں۔
شاہ عنایت نے فرمایا کہ ظاہری حسن ختم ہو جاتا ہے، اصل حسن باطنی ہے۔ اس کے بعد آپ پھر مجاہدے اور عبادات میں مشغول ہو گئے۔
جی بالکل، میں اس واقعے کو مزید تفصیل، ربط اور ادبی انداز میں لکھ دیتا ہوں تاکہ بابا بلھے شاہؒ کی شخصیت اور ان پر ہونے والی فتوے بازی کا پس منظر واضح ہو جائے:
بابا بلھے شاہ پر مولویوں اور مفتیوں کے فتوے
بابا بلھے شاہؒ برصغیر کے عظیم صوفی شاعر اور اللہ کے عاشق تھے۔ آپ کی شاعری میں عشقِ حقیقی کا ایسا بیان ملتا ہے جو ظاہری عقل اور رسمی فقہ کے دائرے سے بلند تھا۔ آپ اکثر اپنے محبوب کو "یار" کہہ کر پکارتے اور فرماتے کہ میرا یار ہی میرا اللہ ہے۔ ان کے کلام میں یہ بھی ملتا ہے کہ اگر میرا جھگڑا اللہ سے بھی ہو جائے، تب بھی میں اپنے یار سے جدائی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ الفاظ عام شریعت پسند یا ظاہری علما کی سمجھ سے باہر تھے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ الفاظ خلافِ شرع معلوم ہوتے تھے، لیکن حقیقت میں یہ آپ کی روحانی کیفیت اور معرفت کی انتہائی منزلوں کا اظہار تھا۔
بابا بلھے شاہؒ کی قلندرانہ روش اور صوفیانہ طرزِ فکر نے وقت کے جمودی مولویوں اور مفتیوں کو چونکا دیا۔ انہوں نے آپ پر کفر اور گمراہی کے فتوے لگانے شروع کر دیے۔ یہ مخالفت اتنی شدید تھی کہ جب آپ کا وصال ہوا تو قصور کے مولویوں نے اعلان کر دیا کہ بابا بلھے شاہ کا جنازہ کسی حال میں نہیں پڑھایا جائے گا اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ عام لوگ بھی مفتیوں کے خوف اور فتووں کی وجہ سے آپ کے جنازے کے قریب نہ آئے۔
چنانچہ روایت ہے کہ آخرکار قصور کے خواجہ سرا آگے بڑھے۔ انہوں نے بابا بلھے شاہؒ کا جنازہ پڑھایا اور آپ کو قصور شہر سے باہر اس جگہ دفن کیا جہاں اُس زمانے میں لوگ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ کس طرح دنیاوی مولویوں نے ایک اللہ کے دوست کی قدر نہ پہچانی اور انہیں بے عزت کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اللہ کی شان دیکھئے! جس جگہ کبھی گندگی ڈالی جاتی تھی، آج وہاں بابا بلھے شاہؒ کا عظیم دربار آباد ہے۔ وہی مزار آج لاکھوں عاشقانِ رسول ﷺ اور اولیائے کرام کے متوالوں کی عقیدت گاہ ہے۔ روزانہ ہزاروں لوگ وہاں حاضری دیتے ہیں اور روحانی سکون، فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
یوں وقت نے ثابت کر دیا کہ مولویوں کے فتوے اور ان کی مخالفت وقتی تھی، مگر بابا بلھے شاہؒ کی محبتِ الٰہی، ان کا پیغامِ عشق اور ان کی شاعری ہمیشہ کے لیے زندہ ہے۔ آج ان کی ذات ان لوگوں کے لیے روشنی کا مینار ہے جو عشقِ حقیقی کے متلاشی ہیں، اور ان کے مزار پر وہی لوگ جھکتے ہیں جنہیں اپنے مرشد اور ولی کے چہرے میں اللہ کا نور نظر آتا ہے۔
بابا بلھے شاہ کا عرس
بابا بلھے شاہؒ کا وصال 1757ء (1171ھ) میں قصور میں ہوا۔ آپ کا عرس ہر سال ماہ محرم الحرام کی 10 تاریخ کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ عرس کے دن ہزاروں عقیدت مند، صوفیائے کرام اور زائرین دور دور سے آکر آپ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، قلندرانہ محافل، قوالی اور ذکر و اذکار کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ یہ عرس نہ صرف بابا بلھے شاہؒ کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ ان کے پیغامِ عشق، رواداری اور انسانیت کو بھی زندہ رکھتا ہے۔