حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی ، حالات اور کشف و کرامات

 

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر پاک و ہند کے وہ مشہور اور معروف ولی کامل ہیں جنہوں نے خواجہ غریب نواز اور قطب الدین بختیار کاکی کی لگائی گئی دین کی لو کو پورے خطے میں پھیلایا اور آج آپ کی انہی روحانی تجلییوں کی وجہ سے ہند جگمگا رہا ہے۔ آپ چشتی سلسلے کے ولی ہیں اور آپ کا مزار پاکپتن ،پاکستان میں تجلیات الہی کا مرکز و محور ہے۔

بابا فرید گنج شکر کا مزار


بابا فرید الدین کی ابتدائی زندگی 

بابا فرید الدین 569ھ (1174ء )کو ملتان کے قریب کہوت وال میں پیدا ہوئے تھے ۔ آپ کا والد گرامی کا نام مولانا جمال الدین سلیمان تھا جو کہا جاتا ہے کابل کے بادشاہ فرخ شاہ کی اولاد میں سے تھے۔ آپ کی والدہ محترمہ بی بی قاسمہ خاتون  یا قرسم خاتون مولانا خجندی کی بیٹی تھی۔ 

بابا فرید الدین لقب

کہا جاتا ہے آپ کو فرید الدین لقب حضرت فرید الدین عطار کی طرف سے ملا ، بابا آپ کو حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کہتے تھے۔ مسعود آپ کا اصل نام تھا

گنج شکر لقب کی وجہ

گنج شکر لقب کے مطلق بہت سے واقعات ملتے ہیں پہلا واقعہ یہ کہ ایک دن دہلی میں تیز بارش تھی اور آپ کو اپنے پیر بختیار کاکی سے ملنے کا اشتیاق ہوا ، آپ کو سات دن سے روزہ بھی تھا ، راستے میں کیچڑ ہونے کی وجہ سے آپ نیچے گرے تو تھوڑی کیچڑ آپ کی منہ میں آ گری ، لیکن حیران کن طور پر وہ شکر ہوگئی ۔ 

دوسرا واقعہ اس طرح ہے ایک دن ایک شخص اونٹوں پر شکر لادے جارہا تھا ، آپ نے اس سے پوچھا یہ کیا چیز ہے اس نے کہا یہ نمک ہے ، آپ نے کہا اچھا نمک ہی ہوگا، وہ شخص جب منزل پر پہنچا اور بوریاں کھولیں تو دیکھا شکر نمک میں تبدیل ہوچکی تھی ۔ وہ واپس آپ کے پاس آیا اور معافی مانگی ، آپ نے اس پھر پوچھا اچھا تو اونٹوں پر کیا تھا ، اس نے کہا شکر تھی آپ نے کہا اچھا جاؤ شکر ہی ہوگی ، دوبارہ جب اس نے بوریاں کھولیں تو شکر واپس آچکی تھی۔

ان واقعات کی وجہ سے لوگ آپ کو گنج شکر کہہ کر پکارنے لگے اور یہی لقب آج بھی آپکا مشہور ہے ۔

بابا فرید الدین گنج شکر کی تعلیم و تربیت 

آپ کو نوعمری سے تعلیم سے خاصا لگاؤ تھا۔آپکی ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی، اور زیادہ علم حاصل کرنے کیلئے کہوت وال( اپنے شہر) سے ملتان آگئے ۔ اور یہاں دین کی تعلیم سیکھنا شروع کردی۔ آپ کافی زہین اور تابعدار شاگرد تھے اور تھوڑے ہی عرصے میں آپ نے دین کی تعلیم ، عربی، حفظ قرآن میں عبور حاصل کرلیا اور بعد میں قندھار چلے گئےاور وہاں ظاہری تعلیم میں کمال حاصل کیا۔

خواجہ قطب الدین بختیار کاکی سے ملاقات 

جب خواجہ قطب الدین بختیار کاکی ہندوستان تشریف لائے تھے تو راستے میں ملتان کچھ دیر قیام کیا تھا ۔ وہاں حضرت فرید الدین بھی بختیار کاکی سے ملنے چلے گئے ، ان سے متاثر ہو کر آپ نے ان سے کہا میں بھی آپ کے ساتھ دہلی چلوں گا ، لیکن بختیار کاکی نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ "پہلے ظاہری علم حاصل کرو ،اس کے بعد میرے پاس آنا ،بے علم درویش شیطان کا مسخرہ ہوتا ہے"۔ اس کے بعد کاکی وہاں سے دہلی کی طرف روانہ ہوگئے اور آپ ملتان میں تعلیم حاصل کرنے میں انتہائی محنت کرنے لگے اور پھر کچھ عرصے بعد ایک بہت بڑے عالم دین بھی بن گئے۔ 

اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت 

ملتان میں ظاہری تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ بھی آپ کی تعلیم کی تشنگی پوری نہیں ہوئی لہٰذا آپ ملتان سے قندھار جا پہنچے اور وہاں 5 برس تک حصولِ تعلیم میں مصروف رہے ۔ اس کے بعد آپ مختلف اسلامی ممالک کی سیر کو نکل پڑے اور مختلف اولیاء کرام سے ملاقاتیں کرنے لگے ۔ آپ نے چند بڑے مشائخ و اولیاء شہاب الدین سہروردی ، شیخ سیف الدین خضری ، شیخ سعید الدین حموی، شجخ وحد الدین کرمائی، شیخ فرید الدین عطار نیشا پوری، شیخ بہاؤدین زکریا ملتانی سے ملاقات اور فیض بھی لیا ۔

دہلی میں آمد

ظاہری میں تکمیل حاصل کرنے اور اسلامی ممالک کی سیر و سیاحت کے بعد جب اپ اپنے وطن ملتان واپس ائے تو فورا دہلی کی طرف روانہ ہو گئے، وہاں حضرت قطب الدین بختیار کاکی کی بارگاہ میں حاضری دی اور وہاں آپ نے ایک حجرہ لیا ،اور  رہنے لگے ۔ خواجہ بختیار سے باطنی علم اور فیوض حاصل کرنے لگے ، غرض تھوڑے عرصے میں آپ نے باطنی کمال حاصل کر لیا ۔ بختیار کاکی سے آپ کو خاص مصلے اور عصا بھی عطا ہوا۔ آپکے پیر بختیار کاکی نے آپ سے کہا تھا میں تمھاری یہ امانت حمید ناگوری کو سپرد کر دوں گا ،جب تم میری قبر پر پانچویں روز ہانسی سے آؤ گے تو وہ یہ امانت پیران تم تک پہنچا دیں گے۔ لہذا جب آپ  ہانسوی سے دہلی بختیار کاکی کے وصال کے بعد آئے تو انہوں نے وہ امانت آپ کے سپرد کر دی ۔ 

پاکپتن میں آمد

آپ ہانسی سے سکونت ترک کر کے اجودھن جو آج کل پاکپتن کے نام سے مشہور ہے ، یہاں آگئے ۔یہاں کا قاضی آپ کا سخت مخالف تھا ۔ اس کی مخالفت نے آپ کا کچھ نہ بگاڑا ،آپ برابر رشد و ہدایت فرماتے رہے ۔ قاضی نے مختلف بہانوں سے مولوی کے ذریعے آپ پر فتوے اور خلاف مقدمہ درج کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اس وقت اولیاء کرام کی عزت واحترام ہونے کی وجہ سے مولویوں نے اس کام میں مدد نہ کی۔ یوں وہ اپنے شیطانی  ارادوں میں ناکام رہا۔

سلطان بلبن کی بیٹی سے شادی

الفحان جو بعد میں سلطان غیاث الدین بلبن کے نام سے مشہور ہوا کو آپ ہی نے تخت و تاج کا مژدہ سنایا تھا اور آپکی یہ خبر جب سچی ہوئی اور وہ بادشاہ بنا تو اس نے اپنی بیٹی بیبی نہریزہ کی آپ سے شادی کی۔

ازدواج و اولاد 

آپ نے چار شادیاں کی ۔آپ کی پہلی شادی بیبی نہریزہ ، دوسری بیبی کلثوم ، تیسری بی بی شارہ سے ہوئی اور چوتھی بی بی سکر سے ۔ 

آپ کے پانچ بیٹے اور تین لڑکیاں تھی ، بیٹوں کے نام خواجہ نصیرالدین نصر اللہ ، شیخ شہاب الدین ، شیخ بدر الدین سلیمان ، شیخ نظام الدین اور شیخ یعقوب ہیں ۔ بیٹیوں کے نام بی بی مستورہ ، بیبی شریفہ اور بیبی فاطمہ ہیں۔

عبادت و ریاضت

آپ کو عبادت و ریاضت میں بہت لطف آتا ، لہذا آپ اکثر اوقات عبادت میں مصروف رہتے ۔ آپ خواجہ بختیار کی بارگاہ میں بھی دو ، دو ہفتوں تک مصروف عبادت ہونے کی وجہ سے نہ آسکتے۔ دہلی میں آپ کے حجرے کے باہر لوگ آنا شروع ہوگئے اورایک ہجوم سا رہنے لگا ۔ لوگوں کے اس غیر معمولی رجوعات سے آپ غیر معمولی گھبرائے اور قصبہ ہانسی چلے گئے۔

حالات زندگی 

آپ کے گھر میں عموماً فاقہ رہتا تھا ۔ آپ اکثر روزے سے رہتے ، شربت کے پیالے سے جس میں منقی ہوتا اس سے روزہ افتار کرتے ، دو روغنی روٹیاں آپ کے پاس ہوتی ان میں ایک خود کھاتے دوسرے لوگوں میں بانٹ دیتے۔

آپ کے پاس صرف ایک چھوٹا سا کمبل ہوتا ، دن کے وقت بچھا دیتے اور رات میں اس پر سوجاتے ۔توکل کا یہ عالم تھا جو کچھ آتا خرچ کر دیتے ۔آپ عالم دین بھی تھے ، فصاحت و بلاغت میں بے مثال تھے ۔

بابا فرید کی تصانیف 

آپ شاعر بھی تھے،  آپ نے ایک مشہور کتاب " فوائد السالکین" بھی لکھی جس میں اپنے مرشد کے ملفوظات جمع کیئے ۔ موجود وجود ، رسالہ گفتار ،اور الہی نامہ بھی آپ کی تصانیف بتائی جاتی ہیں ۔

ایک دفعہ حضرت بہاء الدین زکریا ملتانی نے آپکو خط لکھا اور کہا

میان مادشما عشق بازی است (ہمارے اور تمھارے عشق بازی ہے)

آپ نے اس کا جواب یوں لکھ کر بھیجا 

میان ماد شما عشق ہست اور بازی نیست (یعنی ہمارے تمھارے درمیان عشق ہے اور بازی نہیں)

بابا فرید الدین گنج شکر کے چند واقعات اور اقوال

آپ نے عوام الناس اور خاص کیلئے بہت سے اقوال لکھ کر چھوڑے ، یہاں آپ مکمل آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں ۔ 

(بابا فرید کے اقوال و تعلیمات)


بابا فرید کا وصال

آپ یا حی یا قیوم کہتے ہوئے 5 محرم الحرام 670ھ کو اس جہان سے کوچ کر گئے ، بعض مورخین نے آپ کا۔ وصال 664ھ میں لکھا ہے ۔ آپ کا مزار پاکپتن شریف میں فیوض و برکات کا سر چشمہ ہے جہاں ہر روز ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری دے کر اپنے من کی حاجتیں پوری کرتیں ہیں۔

آپ کی روحانی اولاد اور خلفاء 

فرید بابا نہایت کثیر الاولاد تھے ، چنانچہ آپ کی اولاد صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دہلی ، یوپی اور صوبہ بہار اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔ خواجہ نظام الدین اولیاء کے جتنے بھی پیر زادے ہیں وہ آپ ہی کی دختری اولاد میں سے ہیں۔

آپ کے خلفاء بھی کئی ہوئے جن میں بڑے بڑے نام حضرت قطب جمال الدین ہانسوی ، حضرت نظام الدین اولیاء ،اور تیسرے حضرت مخدوم علاؤ الدین صابر کلیری جو آپ کے رشتے میں بھانجے بھی ہیں۔

حضرت نظام الدین نے آپ کی مزار پر حاضری بھی دی تھی ، آپ کا روزہ بھی حضرت نظام الدین محبوب الہی نے بنوایا ، اور بابا فرید کے جنتی دروازہ کے بارے میں کہا " جو اس میں داخل ہو گیا ، اس نے امن پایا" ۔ 

Post a Comment

Previous Post Next Post