حضرت مولانا جلال الدین رومی کی مکمل تاریخ حالات زندگی اور واقعات

حضرت مولانا رومیؒ، جنہیں دنیا مولانا جلال الدین رومی کے نام سے جانتی ہے، 13ویں صدی کے وہ عظیم صوفی شاعر، عالم اور فلسفی تھے جن کی تعلیمات آج بھی دنیا بھر کے دلوں کو منور کرتی ہیں۔ ان کی پیدائش بلخ میں ہوئی اور بعد میں وہ قونیہ (ترکی) میں آباد ہوئے جہاں اُن کی روحانی شخصیت نے ایک عظیم انقلاب برپا کیا۔ رومیؒ کی شاعری خصوصاً مثنوی معنوی اور دیوان شمس تبریزی عشقِ حقیقی، معرفتِ الٰہی، انسان کی باطنی حقیقت اور روحانی سفر کی عمیق ترین وضاحت کرتی ہے

ولادت

مولانا جلال الدّین رومیؒ 6 ربیع الاوّل 604 ہجری، مطابق 30 ستمبر 1207ء کو قدیم اور تاریخی شہر بلخ (موجودہ افغانستان) میں پیدا ہوئے۔ اُس زمانے میں اس خطّے کو خراسان کہا جاتا تھا، جو علمی و روحانی مرکز کے طور پر مشہور تھا۔ چونکہ اس علاقے میں اُس دور میں تاجک نسل کی اکثریت آباد تھی، اس لیے بعض سوانح نگاروں نے رومیؒ کو تاجک بھی لکھا ہے اور علاقے کو تاجکستان کا حصہ قرار دینے کی روایت بھی ملتی ہے، اگرچہ تاریخی طور پر بلخ خراسان ہی کا حصہ تھا


مولانا جلال الدین رومی کا مزار

مولانا رومی کے خاندانی حالات

حضرت مولانا جلال الدّین رومیؒ کے خاندانی حالات نہایت شریف اور معزز پس منظر رکھتے تھے۔ آپؒ کا سلسلۂ نسب والد کی طرف سے حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے، آپ کی والدہ کا سلسلہ نسب حضرت مولا علی سے جا ملتا ہے ۔

اپ کے والد محترم کا نام بہاؤدین ولد تھا، جو بہت بڑے عالم دین تھے،

 آپؒ کا خاندان خراسان کی فتح کے زمانے میں اس خطّے میں آ کر آباد ہوا تھا۔ آپؒ کی دادی خوارزم شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، اگرچہ اس بات پر اختلاف ہے کہ وہ اس خاندان کی کس شخصیت کی بیٹی تھیں، جبکہ آپؒ کی نانی کے بارے میں روایت ہے کہ وہ مشہور فقیہ شمسُ الأئمہ سرخسیؒ کی بیٹی تھیں۔ مولانا رومیؒ کا اصل نام محمد تھا، مگر آپؒ ’’جلال الدّین‘‘، ’’خداوندگار‘‘، ’’مولانائے روم‘‘ اور ’’مولانا رومی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپؒ اپنے والدین کی تیسری اولاد تھے؛ سب سے بڑی بہن فاطمہ، پھر بھائی علاء الدّین اور اس کے بعد آپؒ پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد، شیخ بہاء الدّین وَلَدؒ اپنے زمانے کے بلند پایہ عالم، فقیہ اور عظیم صوفی بزرگ تھے، اور انہی کی تربیت و روحانی ماحول نے رومیؒ کی شخصیت کو ایک غیر معمولی روحانی قد آور ہستی بنا دیا۔

مولانا رومی کے والد محترم شیخ بہاؤ الدین

مولانا جلال الدّین رومیؒ کے والد، شیخ بہاء الدّین ولدؒ نہایت جلیل القدر عالمِ دین، فقیہ، مفسر اور عظیم صوفی بزرگ تھے۔ ان کی علمی، روحانی اور اخلاقی عظمت اس قدر بلند تھی کہ لوگ انہیں ’’سلطانُ العُلَما‘‘ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ ایک روایت کے مطابق ایک رات تین سو علماء نے خواب میں حضور نبی کریم ﷺ کی زیارت کی، اور سب نے آپ ﷺ کو شیخ بہاء الدّین ولدؒ کو ’’سلطان العلماء‘‘ کا خطاب دیتے ہوئے دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو ہر عالم یہی خواب سنانے کے لیے ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اتفاق سے تین سو علماء ایک ہی وقت میں اُن کے دروازے پر جمع ہوگئے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہی خواب خود شیخ بہاء الدّین ولدؒ نے بھی دیکھا تھا، چنانچہ علماء کے کچھ کہنے سے پہلے ہی انہوں نے اپنا خواب بیان کر دیا، اور یوں سب علماء کا خواب ایک دوسرے کی گواہی بن گیا۔ یہ واقعہ ان کی غیرمعمولی روحانی عظمت، علم و فضیلت اور خدا کے نیک بندوں میں مقام کی روشن دلیل ہے۔

مولانا رومی کی کونیہ ہجرت

حضرت مولانا جلال الدّین رومیؒ اصلًا بلخ (خراسان، موجودہ افغانستان) کے رہنے والے تھے، وہیں آپؒ کی پیدائش اور ابتدائی زندگی گزری۔ تاہم سیاسی بےچینی، منگول حملوں کے خطرات اور روحانی مصلحتوں کے باعث آپؒ کا خاندان بلخ سے ہجرت پر مجبور ہوا۔ سب سے پہلے وہ نیشاپور پہنچے جہاں شیخ فریدالدّین عطّارؒ سے ملاقات ہوئی، فرید الدین عطار نے اپ کو ایک کتاب اسرار نامہ تحفے میں بھی دی آپ نے آخری عمر تک اس کتاب کو بڑی عقیدت سے اپنے پاس رکھا، پھر وہاں سے بغداد گئے۔ اس کے بعد قافلہ حجاز پہنچا اور آپؒ نے والد کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی۔ واپسی پر آپؒ کا خاندان کچھ عرصہ دمشق (شام) میں بھی مقیم رہا۔


بالآخر آپؒ کے والد شیخ بہاء الدّین ولدؒ نے سلجوقی سلطنت کی دعوت پر قونیہ (موجودہ ترکی) کا رُخ کیا۔ قونیہ ہی بعد میں مولانا رومیؒ کا مستقل مسکن بنا، وہیں آپؒ نے درس و تدریس، تصنیف و ارشاد اور روحانی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا، اور وہیں آپؒ کا وصال بھی ہوا۔ یوں رومیؒ کا سفر بلخ سے قونیہ تک نہ صرف ہجرت کا جسمانی سفر تھا بلکہ باطنی کمال اور روحانی عظمت کی طرف ایک مسلسل ارتقاء بھی ثابت ہوا۔ 

مولانا جلال الدین رومی کا مزار


مولانا رومی کی تعلیم و تربیت

مولانا جلال الدّین رومیؒ ایک عظیم المرتبت اور بلند پایہ باپ کے زیرِ سایہ پروان چڑھے تھے۔ آپؒ خود فرمایا کرتے تھے: "اگر میرے والد چند برس اور زندہ رہتے تو میں شمسِ تبریز کا محتاج نہ ہوتا"—اس جملے سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ بہاء الدّین ولدؒ کی علمی اور روحانی تربیت کس قدر گہری تھی۔ رومیؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد ہی سے حاصل کی، پھر والدِ محترم کے ممتاز خلیفہ اور جلیل القدر عالم، سید برہان الدّین ترمذیؒ کے سامنے زانوئے تلمّذ تکیے۔ والد کے وصال کے وقت آپؒ صرف 24 برس کے تھے، مگر علم کی تشنگی ابھی باقی تھی۔ اس لیے مزید تحصیلِ علم کے لیے آپؒ اُس زمانے کے بڑے علمی و فکری مرکز، دمشق کی طرف روانہ ہوئے، جہاں آپؒ نے فقہ، حدیث، تفسیر، فلسفہ اور تصوف کے کئی علوم میں مہارت حاصل کی۔ یہی علمی سفر بعد میں اُن کی روحانی عظمت اور مثنوی کے بحرِ بے کراں میں ڈھل گیا

دمشق میں قیام کے دوران مولانا جلال الدّین رومیؒ کی صحبتیں اُس دور کے عظیم صوفیاء اور علماء سے رہیں، جن میں محی الدّین ابنِ عربیؒ، شیخ سعد الدّین حمویؒ اور شیخ صدر الدّین قونویؒ کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں۔ آپؒ نے حلب اور دمشق کے نامور علماء سے تفسیر، حدیث اور فقہ کی اعلیٰ درجے کی تعلیم حاصل کی، یہاں تک کہ علمی کمال و وقار کے اس مقام پر پہنچے کہ مشکل مسائل کے حل کے لیے علماء آپؒ ہی کی طرف رجوع کرنے لگے۔ ابھی یہ علمی سفر جاری تھا کہ آپؒ کے استاد اور والد کے خلیفہ، سید برہان الدّین ترمذیؒ نے آپؒ کو قونیہ واپس بلا لیا تاکہ آپؒ والد کی مسند سنبھالیں، اور مدرسے کی تدریسی و انتظامی ذمہ داریاں ادا کریں۔ اسی دوران سید برہان الدّینؒ نے نو (9) برس تک مولانا رومیؒ کی نہایت باریک، عمیق اور مسلسل روحانی تربیت فرمائی، جس نے رومیؒ کی شخصیت کو کامل صوفی و عالم کے درجے تک پہنچا دیا۔

مولانا رومی کی کونیہ میں درس و تدریس

مولانا جلال الدّین رومیؒ اپنی روحانی عظمت کے ساتھ ساتھ بے مثال عالمِ دین، فقیہ، مدرّس اور خطیب بھی تھے۔ آپؒ کے اپنے مدرسے میں چار سو سے زیادہ طلبہ علم حاصل کرتے تھے، اور آپؒ دیگر مدرسوں میں بھی درس دیتے تھے۔ اُس زمانے میں تاتاری فتنوں اور حملوں کے باعث بڑے بڑے علماء اور صوفیاء قونیہ کا رخ کر رہے تھے، جس سے یہ شہر ایک عظیم علمی و روحانی مرکز بن چکا تھا۔ لیکن ان سب میں مولانا رومیؒ کی شان سب سے نرالی تھی—آپؒ انتہائی وقار اور رعب کے ساتھ رہتے، اور جب مدرسے سے باہر نکلتے تو طلبہ، فقہاء اور امراء آپؒ کے گرد حلقہ بنا لیتے۔ فقہی مسائل کے فتوے کے لیے لوگ انہی کی طرف رجوع کرتے تھے۔ بادشاہ، حکام اور امراء تک آپؒ کی خدمت میں حاضری کو اپنی سعادت سمجھتے تھے۔ علمی مناظروں میں کوئی آپؒ کے سامنے ٹھہر نہ پاتا، اور عوامی اجتماعات میں آپؒ کے خطابات کی ایسی شہرت تھی کہ دور دور سے لوگ آپؒ کا کلام سننے کے لیے جمع ہوتے تھے۔ مولانا رومیؒ اُس دور کے علمی اور مذہبی افق پر ایک بے مثال، بے نظیر اور بے بدل شخصیت تھے۔

مولانا رومی اور شمس تبریز کی ملاقات

تقریباً ۱۲ سے ۱۵ برس تک مولانا جلال الدّین رومیؒ کا درس و تدریس کا سلسلہ بڑے عروج پر جاری رہا۔ مدرسہ آباد تھا، سینکڑوں طلبہ تھے، امراء و علماء حلقہ باندھے رہتے تھے، اور علمی دنیا میں اُن کی شاہانہ وقعت مسلم تھی۔ مگر پھر ایک دن زندگی نے ایسا پلٹا کھایا کہ مولانا ’’مولائے روم‘‘ بن گئے۔ خود فرماتے ہیں:


"مولوی ہرگز نہ گُشت مولائے روم

تا غلامِ شمسِ تبریز نہ گُشت"


یعنی میں کبھی مولائے روم نہ بن سکتا، جب تک شمسِ تبریز کا غلام نہ ہوا۔

واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ مولانا رومیؒ چالیس برس کے تھے۔ ایک دن مدرسے کے تالاب کے کنارے طلبہ کو درس دے رہے تھے کہ ایک مجذوب صفت مردِ قلندر وہاں آ پہنچا—یہ تھے حضرت شمس الدّین تبریزیؒ۔ انہوں نے مولانا سے سوال کیا:

"این چیست؟" (یہ کیا ہے؟)

مولانا نے جواب دیا:

"اِیں آن علم است کہ تو نمی‌دانی"

(یہ وہ علم ہے جو تم نہیں جانتے)


یہ سن کر حضرت شمس تبریزؒ نے  نظر مولانا جلال الدّین رومیؒ پر ڈالی، تو مولانا صاحب کو پیٹ میں درد ہوا تو وہ حاجت کے لیے چلے گئے۔ اسی لمحے شمس تبریزؒ نے مولانا کی کتابیں تالاب میں پھینک دیں،

مولانا رومی جب حاجت سے واپس آئے تو یہ دیکھ کر انتہائی پریشان ہو گئے اور کہا کہ یہ تم نے کیا کر دیا میری ساری زندگی کی محنت ایک لمحے میں ضائع کر دی، حضرت شمس تبریز نے یہ سنتے ہی ہاتھ تالاب کی طرف بڑھایا تو کتابیں بالکل خشک باہر آ گئیں ۔

 جب سب نے دیکھا کہ کتابیں بغیر کسی نقصان کے واپس نکلیں، تو سب حیران رہ گئے۔ یہ واقعہ مولانا رومیؒ کی زندگی میں ایک نئی روحانی باب کا آغاز ثابت ہوا، اور آپ پھر اپنی آئندہ زندگی میں شمس تبریز کے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسیر ہو گئے ۔ یو مولانا رومی کی زندگی کا ایک نیا باب مرشد سے عشق کی صورت میں کھل گیا۔

شمس تبریز کی روانگی 

مولانا روم سے ملاقات کے بعد مولانا رومی اور شمس اکٹھے رہنے لگے زیادہ تر وقت اپس میں گزارتے مولانا رومی نے تمام مشاغل چھوڑ کر درس و تدریس کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا وعظ کہنا بھی چھوڑ دیا، اور زیادہ وقت شمس تبریزی کو دینے لگے، یہ دیکھ کر طلباء و طالبات بھی پریشان رہنے لگے اور شمس تبریز کے خلاف ہو گئے کہ نہ جانے اس دیوانے نے مولانا صاحب پر کیا جادو کر دیا ہے،  جب بات کچھ زیادہ بڑھ گئی تو شمس تبریز چپکے سے دمشق چلے گئے جب صبح مولانا رومی کو ان کے یوں غائب ہونے کا علم ہوا تو جدائی کے صدمے سے بے حال ہو گئے اور دیوانہ وار انہیں ڈھونڈنے لگے سب سے لا تعلق ہو کر خود کو اپنے گھر کے اندر محدود کر لیا اس پر لوگ مزید پریشان ہو گئے۔

 ان کا خیال کہ بالکل برعکس شمس تبریز کی جانے کے بعد مولانا کی حالت بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی اس پر لوگوں نے مولانا سے معافی مانگی اسی دوران مولانا صاحب کو معلوم ہو گیا کہ شمس تبریز دمشق میں ہیں لہذا مولانا رومی نے اپنے بیٹے سلطان والد کو وہاں بھیجا اور وہ انہیں اپنے ساتھ کونیا لے ائے یوں دوبارہ مولانا جلال الدین سارے کام کاج چھوڑ چھاڑ کر شمس تبریز کے اگے پیچھے رہتے۔

کچھ دنوں بعد شمس تبریز کی شادی ہو گئی اور مولانا نے اپنے گھر کے قریب ان کی رہائش کا انتظام کیا، 

حالات ٹھیک چل رہے تھے لیکن پھر مولانا صاحب کے چھوٹے بیٹے علاؤ الدین اور شمس تبریز کے درمیان گھر کے قریب سے گزرنے کے معاملے پر تنازعہ شروع ہو گیا کچھ لوگ جو پہلے سے شمس تبریز سے خفا تھے علاؤ الدین کو اور بھڑکایا تنازعہ نے شدت اختیار کی تو شمس تبریز ایک روز اچانک غائب ہو گئے اور پھر کبھی ان کا کوئی سراغ نہیں ملا ،

بعض روایات میں یہ بھی ہیں شمس تبریز کی اہلیہ انہی دنوں میں بیمار تھی اور انتقال کر گئی تھی اور انہیں ان سے بے حد محبت تھی اسی وجہ سے وہ شکستہ دل لیے کہیں چلے گئے، بہرحال حقیقت سے اللہ تعالی ہی بہتر واقف ہے ۔ 

اس واقعے کے بعد مولانا جلال الدین رومی کی حالت غیر ہو گئی انہوں نے اپنے بیٹے کو بھی مرشد کی تلاش میں جگہ جگہ بھیجا خود بھی دمشق گئے لیکن شمس تبریز کہیں نہ ملے ، بعد میں مولانا صاحب کو صبر آ گیا ۔ لیکن ایک تبدیلی آپ کے اندر یہ آئی کہ آپ جو سماع کو ناپسند کرتے تھے پھر سماع سننا آپ کی زندگی کا حصہ بن گیا۔


مرشد کے عشق میں خود اشعار لکھتے ہیں اور دوسروں سے بھی سنتے جذبات میں اٹھ کھڑے ہوتے اور جھومنے لگتے اور رقص کرتے ، آپ کا یہ رقص آج بھی آپ کے پیروکاروں میں مشہور ہے اس دوران اگر کوئی فتوی لینے بھی آتا تو آپ اسے فوراً فتوی لکھ کر بھی دیتے۔

مولانا جلال الدین رومی کی تصنیفات

مولانا جلال الدّین رومیؒ کی تصنیفات دنیا بھر میں روحانی اور ادبی عظمت کی علامت ہیں۔ ان کا سب سے مشہور شاہکار مثنوی معنوی ہے، جسے "قرآنِ فارسی" بھی کہا جاتا ہے، اور اس میں عشقِ حقیقی، معرفتِ الٰہی، اخلاقیات اور انسانی باطنی سفر کی گہرائی بیان کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کا دیوانِ شمس تبریز بھی بے حد مشہور ہے، جو شمس تبریزؒ کے ساتھ ان کے روحانی تعلق اور عشقِ الٰہی کی شاعری کا مظہر ہے۔ مولانا رومیؒ کی دیگر تصانیف میں فیه ما فیہ، مکاتبات، اور مجالس سبعہ شامل ہیں، جو ان کے روزمرہ کے ارشادات، خطوط اور درس و تدریس کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان کی تصانیف نہ صرف فارسی ادب میں بے مثال مقام رکھتی ہیں بلکہ صوفیانہ فکر اور روحانی حکمت کے ایسے خزانے ہیں جو آج بھی ہر دور کے انسان کے دل و دماغ کو منور کرتی ہیں۔

مولانا جلال الدین رومی کی تصنیفات


مولانا جلال الدین رومی کا وصال

مولانا جلال الدّین رومیؒ کا وصال 17 ربیع الثانی 672 ہجری، مطابق 1273ء میں قونیہ (موجودہ ترکی) میں ہوا۔ آپؒ کی وفات کے بعد پوری دنیا کے لوگ غمگین ہوئے، اور قونیہ کے عوام نے ان کے مزار پر حاضری اور عقیدت کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان کی وفات کے وقت طلبہ، علماء، صوفیاء اور عام لوگ ایک جگہ جمع ہوئے تاکہ ان کی آخری رسومات میں شرکت کریں اور روحانی فیض حاصل کریں۔ مولانا رومیؒ کی وفات نہ صرف ایک عظیم عالم و صوفی کی موت تھی بلکہ اس کے ساتھ روحانی اور علمی دنیا میں ایک باب بند ہوا۔ ان کے مزار کو آج بھی دنیا بھر سے عقیدت مند اور صوفیانہ عشق رکھنے والے زائرین آتے ہیں، اور وہیں مولانا جلال الدّین رومیؒ کی تعلیمات اور کلام کی روشنی آج تک زندہ ہے۔

مولانا جلال الدین رومی کا عرس کب منایا جاتا ہے

مولانا جلال الدّین رومیؒ کا عرس ہر سال 17 ربیع الثانی کو منایا جاتا ہے، جو تاریخ کے مطابق 1273ء میں ان کے وصال کی یادگار ہے۔ قونیہ (موجودہ ترکی) میں یہ عرس انتہائی روحانی اور مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا جاتا ہے، جہاں ہزاروں عقیدت مند اور صوفیانہ محبت رکھنے والے افراد مولانا کے مزار پر جمع ہوتے ہیں۔ عرس کے موقع پر مولانا رومیؒ کے کلام، مثنوی اور دیوانِ شمس تبریز کے اشعار کی تلاوت کی جاتی ہے، اور سماع (رقص سماوی) کے ذریعے روحانی جذبے اور عشقِ حقیقی کی تعلیم کو زندہ رکھا جاتا ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں تاکہ مولانا کی تعلیمات، محبت اور روحانیت کا فیض حاصل کریں، اور یہ عرس ان کی علمی و روحانی میراث کو آج بھی جلا بخشتا ہے۔

مولانا جلال الدین رومی کی قبر مبارک



Post a Comment

Previous Post Next Post