حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجان آبادی کے مکمل حالات زندگی ، تاریخ اور واقعات

 

حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کے نامور صوفی بزرگ اور اہلِ دل اولیاء کرام میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے مشائخ میں سے تھے اور دہلی کے قریب شاہجہان آباد (موجودہ پرانی دہلی) میں رہتے تھے۔ 

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجان آبادی کا دربار اور مزار

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان کی پیدائش

حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی پیدائش 24 جمادی الاوّل 1060 ہجری کو دہلی میں ہوئی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بادشاہ شاہجہان نے دہلی کو نیا دارالحکومت بنایا تھا اور شاہجہان آباد علمی و فکری سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا، جہاں علما و فضلا کی کثرت تھی۔ آپ کے والدِ محترم حضرت شیخ نور اللہ صدیقی ایک جید عالم ہونے کے ساتھ ساتھ علمِ ہند، علمِ ہندسہ اور فنِ تعمیر کے ماہر شمار کیے جاتے تھے۔ وہ خوش نویسی (خطاطی) میں بھی کمال رکھتے تھے، چنانچہ جامع مسجد دہلی کے دروازوں اور محرابوں پر کندہ کتبات ان کے فن کی لازوال یادگار ہیں۔ حضرت شیخ کریم اللہ شاہجہان آبادیؒ کا سلسلہ نسب خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے۔

آپ کی ابتدائی تعلیم

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم و تربیت آپ کے والدِ محترم کی نگرانی میں ہوئی۔ آپ بچپن ہی سے نہایت ذہین اور فطین تھے۔ آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ جو درس عام طلبہ برسوں میں حاصل کرتے، آپ چند ہی مہینوں میں ازبر کر لیتے۔ اسی غیر معمولی ذہانت اور علم دوستی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم سنی ہی میں آپ کا شمار اکابر علما میں ہونے لگا۔ جب آپ فقہ، حدیث اور دیگر ظاہری علوم سے فراغت پا چکے تو اپنے قلب و باطن کی بیداری کے لیے علومِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے۔ چنانچہ آپ عبادت و ریاضت میں ہمہ وقت مشغول رہنے لگے اور محبتِ الٰہی میں آپ کو ایک خاص ذوق و شوق نصیب ہوا۔

حضرت شیخ یحییٰ مدنی سے بیت

جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کو باطنی بیقراری اور قلبی اضطراب نے بے قرار کر دیا تو آپ کو ایک کامل مرشد کی تلاش ہوئی جو آپ کو روحانیت کے بلند منازل تک پہنچا سکے۔ اسی جستجو میں آپ سیاحت فرماتے ہوئے مکہ معظمہ تشریف لے گئے۔ وہاں ایک صاحبِ حال مجذوب نے آپ کی رہنمائی کی اور ارشاد فرمایا کہ آپ حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کریں۔ چنانچہ آپ نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلۂ طریقت میں داخل ہو گئے۔


حضرت شیخ یحییٰ مدنیؒ نے آپ کی استعداد اور روحانی ذوق کو دیکھتے ہوئے مختصر عرصے ہی میں آپ کو نہ صرف باطنی منازل طے کروا دیے بلکہ آپ کے روحانی کمالات سے متاثر ہو کر خلافت سے بھی نوازا۔ مزید برآں، آپ کو مقامِ قطبیت جیسا بلند روحانی درجہ عطا فرمایا۔ اس کے بعد اہلِ علم و اہلِ دل حضرات آپ کو نہ صرف شیخ و مرشد کے طور پر ماننے لگے بلکہ "عالمِ ربانی" اور "قطبِ وقت" کے القاب سے بھی یاد کرنے لگے۔

ہندوستان واپسی

علومِ ظاہری و باطنی سے مالا مال ہو کر اور خلافت و اجازت حاصل کرنے کے بعد جب حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو آپ کے پیر و مرشد حضرت شیخ یحییٰ مدنی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا:


"پرانی دہلی کا رہنے والا ایک شخص، شیخ اچھا نامی، عالمِ معنی میں ہم سے بیعت کر چکا ہے۔ جب تم دہلی پہنچو تو اس سے خلوص و محبت کے ساتھ ملنا، کیونکہ وہ بھی تمہاری طرح ہمارا مقتدی اور فرزندِ روحانی ہے۔ اور یہ شجرہ و کلاہ بھی اس تک ہماری طرف سے پہنچا دینا۔"


چنانچہ جب آپ دہلی پہنچے تو آپ کے مرشد کے دوسرے مرید، شیخ اچھا، نے نہایت ادب و محبت سے آپ کا استقبال کیا اور آپ کے ساتھ والہانہ خلوص کا برتاؤ کیا۔ اس طرح دہلی میں آپ کے روحانی فیوض و برکات کا مرکز قائم ہوا اور مریدین و سالکین کی ایک بڑی جماعت آپ سے وابستہ ہونے لگی۔

حضرت شیخ کا روحانی فیض

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی جائے سکونت قلعہ دہلی اور جامع مسجد کے درمیان واقع تھی، جو اب پریڈ گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے۔ اسی مقام پر آج آپ کا مزارِ مبارک بھی مرجعِ خلائق ہے۔ یہیں سے آپ نے علومِ ظاہری و باطنی کا ایسا دریا جاری فرمایا جس سے نہ صرف دہلی بلکہ پورے برصغیر کے اہلِ ذوق و طالبانِ علم فیضیاب ہوئے۔


آپ کے ظاہری علوم کے فیض کی یہ کیفیت تھی کہ نہایت وسیع پیمانے پر درس و تدریس کا سلسلہ قائم رہا۔ دور دور سے تشنگانِ علم حاضر ہوتے اور علومِ دینیہ میں مہارت حاصل کرتے۔ آپ نے اپنی علمی و روحانی خدمات کے ساتھ ساتھ کئی گراں قدر تصانیف بھی امت کو عطا کیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:

1. تفسیر قرآن

2. سورۃ السبیلِ کلیمی – جو تصوف و معرفت کا قیمتی خزانہ ہے۔

3. العشرۃ الکاملہ – ایک اہم تصوفی کتاب۔

4. کشکولِ کلیمی

5. مرقعِ کلیمی

6. مکتوباتِ کلیمی

7. تسنیم

ان کے علاوہ بھی آپ نے بے شمار رسائل و کتب تحریر فرمائیں جن میں معرفت، تصوف اور سلوک کو خاص امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ آپ کی یہ علمی و روحانی میراث آج بھی طالبانِ حق کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

 حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان آبادی کے چند واقعات

نہایت سادہ اور غریبانہ زندگی گزارتے تھے۔ آپ کی ذاتی آمدنی کا واحد ذریعہ ایک مکان کا کرایہ تھا، جس کی ماہانہ رقم صرف ڈھائی روپیہ بنتی تھی۔ خانقاہ کا لنگر بھی دراصل محبان و مریدین کی نظریاتی نذروں سے چلتا تھا۔ بادشاہ فرخ سیر نے بارہا چاہا کہ آپ کسی جاگیر یا وظیفہ کو قبول فرما لیں، لیکن آپ نے ہمیشہ انکار فرمایا اور دنیاوی اختلاط و جاہ و منصب سے گریز فرمایا۔


آپ بادشاہوں اور امراء کی صحبت سے احتراز فرماتے اور صرف اپنے مخلصین و مریدین کی مجالس میں وقت گزارتے۔ سماع سے آپ کو بے حد شغف تھا، مگر اس کے باوجود مریدین کے علاوہ کسی غیر کو اپنی محفلِ سماع میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیتے تھے۔


ایک مرتبہ آپ محفلِ سماع میں مشغول تھے کہ دربان نے اطلاع دی کہ ایک نوجوان، نظام الدین نامی، حاضر ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ دربان نے عرض کیا کہ "آپ تو کسی غیر کو اجازت نہیں دیتے"۔ حضرت نے فرمایا:

"وہ غیر نہیں ہے، اسے بلا لو۔"


چنانچہ وہی نوجوان نظام الدین، جو اس دور کے مقتدر علما میں شمار ہوتے تھے، حضرت کے دستِ حق پرست پر بیعت کر کے آپ کے مرید ہو گئے۔ بعد ازاں یہی حضرت نظام الدین آپ کے خلیفۂ اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔ حضرت شیخ نے اپنے خلیفۂ اعظم کو ولایتِ دکن بھی عطا کی اور اورنگ آباد بھیج دیا ۔ وہیں ان کا مزار مبارک آج بھی اہلِ دل کے لیے مرکزِ فیوض و برکات ہے۔

آپ کے خلیفے

اگرچہ کی خلفاء کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن کچھ نام ان میں سے زیادہ مشہور ہیں جیسے حضرت مولانا نظام الدین اورنگ ابادی حضرت محمد ہاشم حضرت مولانا شاہ جمال الدین جی پوری ۔ اس کے علاوہ شاہ نانو جن جن کا مزار مسجد فتح پوری دہلی میں ہے اور حضرت مولانا عبدالمجید خواجہ یوسف خواجہ شریف کی مزارات حیدرآباد دکن میں ہیں 

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہ جان کا وصال

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر جب 81 برس کی ہوئی تو مختصر سی علالت کے بعد آپ کا وصال دہلی شہر میں 24 ربیع الاول 1142 ہجری بمطابق 1730ء میں ہوا۔ آپ کا جسدِ مبارک آپ کی خانقاہ کے صحن میں دفن کیا گیا۔ یہ خانقاہ جامع مسجد دہلی اور قلعہ شاہجہان آباد کے درمیان واقع تھی، جو آج بھی اہلِ محبت و عقیدت کے لیے زیارت گاہ خاص و عام ہے۔

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجان آبادی کا مزار

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی کا سالانہ عرس

حضرت شیخ کلیم اللہ شاہجہان آبادی رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس ہر سال 24 ربیع الاول کو آپ کے مزار مبارک پر دہلی میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر دور و نزدیک سے عقیدت مند، علما، مشائخ اور عام زائرین حاضر ہو کر قرآن خوانی، ذکر و اذکار، نعت و سماع کی محافل میں شرکت کرتے ہیں اور آپ کے فیوض و برکات سے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post