حضرت مولانا شہباز محمد بہا گلپوریؒ ایک جید عالمِ دین اور طریقت کے بزرگ گزرے ہیں۔ آپ کا تعلق گلپور شریف (آزاد کشمیر) سے تھا، اسی نسبت سے آپ کو "گلپوری" کہا جاتا ہے۔ آپ نے شریعت و طریقت دونوں علوم میں کمال حاصل کیا اور اپنی خانقاہ میں خلقِ خدا کی اصلاح و تربیت کا عظیم کام سرانجام دیا۔
مشرقی اور وسط ہند کی روحانی شہنشاہ اور راہ طریقت کے بادشاہ حضرت مولانا شہباز بہاگلکوری اس براعظم کی وہ قابل قدر بزرگ ہیں جن کی ذات گرامی پر یہ ملک فخر کرتا ہے
حضرت مولانا شہباز محمد بہاگلپوری کی ولادت
حضرت مولانا شہباز محمد بہا گلپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت شاہانِ سوری کے دورِ حکومت میں ۹۵۶ ہجری میں ہوئی۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید محمد خطاب اور دادا کا نام حاجی خیر الدین تھا۔ آپ کے آبا و اجداد کا اصلی وطن بخارا تھا، جہاں سے یہ عظیم خانوادہ برصغیر میں وارد ہوا۔ حضرت شہباز محمد بہا گلپوری حضرت جلال بخاری کے پندرہویں پشت میں سے تھے اور آپ کا شجرہ نسب حضرت امام حسن علیہ السلام سے پچیسویں پشت میں جا کر ملتا ہے۔ اسی جلیل القدر خانوادے کی نسبت نے آپ کو نہ صرف دینی علوم میں بلند مقام عطا کیا بلکہ روحانیت اور سلوک میں بھی اعلیٰ مقام بخشا
بعض معتبر تذکروں میں یہ بھی مذکور ہے کہ حضرت شہباز محمد بہا گلپوری رحمۃ اللہ علیہ کے دادا حضرت حاجی سید خیر الدین اپنے صاحبزادے سید محمد خطاب کے ہمراہ فریضۂ حج و زیارت سے فارغ ہو کر برصغیر واپس تشریف لائے۔ روحانی فیوض و کمالات کے باعث انہوں نے کچھ مدت دیورہ شریف میں قیام فرمایا اور علاقے کی اصلاح و تربیت کا فریضہ سرانجام دیا۔ بعد ازاں جب حضرت حاجی سید خیر الدین کا وصال ہوا تو ان کے فرزند سید محمد خطاب اپنے صاحبزادے حضرت مولانا شہباز محمد بہا گلپوری کو ساتھ لے کر بہاولپور کی طرف تشریف لے گئے، جہاں اس خانوادے نے علمی و روحانی خدمات کا آغاز کیا اور حضرت شہباز کی شخصیت نے مزید جلا پائی۔
شہباز گلپوری کی ابتدائی تعلیم
آپ کی ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم شاہ محمد خطاب کے زیر نگرانی ہوئی وہ چونکہ بہت بڑے عالم اور صاحب معرفت تھے اس لیے چند ہی سال کے اندر حضرت مولانا شہباز نے آپ سے علوم ظاہری اور باطنی اچھی طرح حاصل کر لیے چنانچہ کم عمری کے عالم میں ہی آپ کی علمی استعداد اور روحانی کیفیت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے علماء آپ سے کتراتے اور آپ کا احترام کرتے تھے والد محترم سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ ک
قنوج اور دیگر مقامات پر بھی علماء اور مشائخ سے استفادہ فرماتے رہے۔
سید یاسین رحمۃ اللہ علیہ کی ہاتھ پر بیعت
آپ کا سید یاسین رحمت اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کا واقعہ بڑا ہی عجیب ہے کہا جاتا ہے کہ سید یاسین سے کوئی غلطی ہو گئی اور ان کو اس غلطی پر شدید ندامت ہوئی لہذا وہ مکہ اور مدینہ چلے گئے اور روضہ رسول پر کئی سالوں تک جروب کشی کرتے رہے، اللہ نے ان کی معذرت قبول کی اور ان کے دل میں ایک نئی روشنی ڈالی۔ پھر سید یاسین کو روزہ رسول سے حکم ہوا کہ ایک شخص شہباز مونگیر میں مقیم ہے وہاں جاؤ یا تم اس کے ہاتھ پر بیعت کرو یا وہ تمہارے ہاتھ پر بیعت کرے ، لہذا حکم پاتے ہی آپ شہباز کے پاس پہنچ کر بییعت کی خواہش ظاہر کی لیکن شہباز نے کہا ہم آپ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے ۔ لہذا سید یاسین نے ان کو بیعت کر لیا ۔
حضرت شہباز محمد گل پوری کا زمانہ طالب علمی
آپ نے اگر چہ کافی حد تک تعلیم اپنے علاقے میں اپنے والدین سے حاصل کر لی تھی لیکن آپ کے علم کی پیاس نہ بجھی اور آپ اس وقت کے دارالسلطنت قنوج چلے گئے جہاں بڑے بڑے علماء کی درس گاہیں تھیں۔ آپ نے وہاں پہنچ کر مزید علم ظاہری سیکھنا شروع کر دیا ۔
اگر چہ اس وقت آپ کے مالی حالات کافی تنگ تھے اور مدرسہ میں رہنے کا کوئی بندوبست بھی نہیں تھا لہذا آپ رات کو ایک بقال کی دکان پر چوکیداری کرتے اور بدلے میں اس کی دکان پر چراغ کی روشنی میں پڑھائی کرتے ۔
ایک دفعہ بقال کی دکان کے سامنے ایک گھر پر پوری رات ناچ گانا تھا ، صبح جب بقال پہچا تو حضرت کو کہا رات تو خوب لطف و اندوز ہوئے ہوں گے ناچ گانے سے ، آپ نے حیرت سے کہا مجھے تو کچھ معلوم نہیں، مطلب آپ کتابوں کے اس قدر غرق تھے کہ ناچ گانے دیکھنے کی آپ کو فرصت ہی نہ ہوئی۔
بہا گل پوری میں آمد
آپ نے جلال الدین محمد اکبر کے دور میں بہا گلپور میں قدم رکھا۔ اُس وقت بہا گلپور ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ گلپور پہنچنے کے بعد آپ نے حضرت نیک نام شاہ بندگی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی اور ان کی خانقاہ کی طرف تشریف لے گئے۔ وہاں پہنچ کر آپ نے خادم سے کہا کہ آپ حضرت نیک نام شاہ سے ملنے آئے ہیں۔
جب خادم نے آپ کا پیغام حضرت نیک نام شاہ تک پہنچایا تو انہوں نے جواب میں صرف پانی کا ایک پیالہ واپس بھیج دیا۔ یہ پیالہ جب آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس میں گلاب کے پھول کی چند پتیاں ڈالیں اور واپس بھیج دیا۔
بعد میں آپ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت نیک نام شاہ کا مقصد یہ تھا کہ "بہا گلپور پہلے ہی ان کی ولایت سے لبریز ہے اور مزید گنجائش باقی نہیں۔" جبکہ میں نے گلاب کی پتیاں ڈال کر یہ پیغام دیا کہ "میرا یہاں آنا میری اپنی مرضی سے نہیں بلکہ حضور کریم ﷺ کی بشارت کے تحت ہے۔ میری موجودگی سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوگا بلکہ سب کو فیض ہی حاصل ہوگا۔"
حضرت شہباز محمد گلپوری کی کرامات
پہلی کرامت
حضرت کے بہا گلپور جلوہ افروز ہونے کے بعد آپ کی غیر معمولی مقبولیت اور خلقِ خدا کا بے پناہ رجوع دیکھ کر نام نہاد علما کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اُٹھی۔ انہوں نے حاکمِ وقت کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور اسے بدظن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ حاکم آپ کی ایسی توہین کرے کہ آپ مجبوراً اس مقام کو چھوڑ کر چلے جائیں۔
چنانچہ حاکمِ وقت نے آپ کو دربار میں طلب کیا۔ آپ جب قلعہ کی طرف روانہ ہوئے اور قریب پہنچے تو غیب سے ایک آواز آئی:
"حاکم کا ارادہ برا ہے۔ اگر اجازت ہو تو پورے قلعے کو الٹ دیا جائے۔"
آپ نے جواب دیا:
"قلعے میں صرف حاکم ہی نہیں، بے شمار بے گناہ خلقِ خدا بھی رہتی ہے۔ ایک شخص کی بد نیتی کی سزا سب کو دینا انصاف نہیں۔ بس یہی کافی ہے کہ اس کے دل سے برا خیال نکل جائے۔"
جب آپ قلعہ میں داخل ہوئے اور حاکم نے آپ کو دیکھا تو احترام بھرے لہجے میں کہا:
"انہیں کس نے بلایا ہے؟ کہہ دو کہ یہ اپنے مکان کو واپس چلے جائیں۔"
حضرت تحمل کے ساتھ واپس روانہ ہوگئے۔ لیکن آپ کے خلیفہ حضرت منان کو جب یہ خبر ملی کہ حاکم نے آپ کو توہین کی غرض سے بلایا تھا، تو وہ غیرتِ ایمانی میں بھر گئے۔ غیض و غضب کی حالت میں قلعے کے دروازے تک پہنچے۔ وہاں ایک بیری کا درخت تھا۔ حضرت منان نے جلال میں آ کر اس درخت کو ہلایا۔ اسی لمحے قدرتِ الٰہی کے حکم سے حاکم کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اور وہ وہیں جان بحق ہوگیا
دوسری کرامت
خواجہ خضر علیہ السلام کو حضرت سے بے حد محبت تھی۔ ایک روز انہوں نے آپ کو ایک قیمتی پتھر بطور ہدیہ عطا فرمایا۔ لیکن اتفاقاً ایک لڑکے نے وہ پتھر کھیلتے ہوئے کنویں میں پھینک دیا۔ کچھ عرصے بعد خواجہ خضر علیہ السلام دوبارہ آپ سے ملاقات کے لیے آئے اور اس پتھر کے بارے میں دریافت کیا۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ پتھر دراصل اسی لڑکے نے کنویں میں ڈال دیا تھا۔ یہ سن کر خواجہ خضر علیہ السلام نے فرمایا:
"وہ کوئی عام پتھر نہ تھا بلکہ سنگِ پارس تھا۔ جس چیز کو چھو لیتا، وہ سونا بن جاتی۔ مگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔"
یہ سن کر حضرت نے قریب سے ایک استنجا کا ڈھیلا اٹھایا اور زور سے دیوار پر دے مارا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پوری دیوار خالص سونے میں تبدیل ہوگئی۔ پھر آپ نے خواجہ خضر علیہ السلام کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
"اے بھائی! میری بارگاہِ الٰہی میں یہی دعا ہے کہ میرے فرزندوں میں صرف وہی نعمت باقی رہے جسے کوئی چرا نہ سکے اور جس کا زوال نہ ہو۔ دنیاوی دولت اور سونے چاندی کا باقی رہنا میرے مقصد میں شامل نہیں۔"
اس کے بعد آپ نے خواجہ خضر علیہ السلام سے فرمایا:
"فلاں کنویں سے جا کر اپنا پتھر نکال لو۔"
جب خواجہ خضر علیہ السلام اس کنویں پر پہنچے تو حیران رہ گئے کہ وہاں ایک پتھر نہیں بلکہ ستتر (77) سنگِ پارس موجود تھے۔ یہ منظر دیکھ کر خواجہ خضر علیہ السلام پر آپ کے فیضانِ خاص کی عظمت اور بھی آشکار ہوگئی۔
حضرت مولانا شہباز گلپوری کی وفات
آپ نے اپنے وصال کی پہلے سے ہی پیشنگوئی کر دی تھی ۔ جوں جوں آپ کی وفات کا زمانہ قریب آتا گیا آپ بے حد مسرور دکھائی دیتے تھے کیونکہ آپ واصل بحق ہونے والے تھے چنانچہ آپ شاہجہان کے دور حکومت میں بروز جمعرات 16 صفر 1050 ہجری کو 95 سال کی عمر میں اس دنیا کو خیر اباد کر گئے لیکن آپ کی کرامتوں کا سلسلہ اپ کی وفات کے بعد بھی بدستور جاری رہا۔
کہا جاتا ہے کہ لاہور کی ایک نیک بخت عورت حضرت کی غائبانہ معتقد تھی۔ وہ دل میں آپ کی زیارت کی تمنا لیے ایک دن اپنے گھر سے بہا گلپور کی طرف روانہ ہوئی۔ اس نے ساتھ میں ایک پاکیزہ کپڑا بھی لیا ہوا تھا جسے اس نے باوضو ہو کر خود تیار کیا تھا تاکہ حضرت کو بطور ہدیہ پیش کرے۔
جب وہ بہا گلپور کے قریب پہنچی تو لوگوں سے معلوم ہوا کہ حضرت کا وصال ہو چکا ہے۔ یہ خبر سن کر وہ عورت غم و صدمے سے نڈھال ہوگئی۔ اہلِ علاقہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا:
"آپ کے فرزند حضرت مولانا عبدالسلام ہی حضرت کے جانشین ہیں، آپ ان کی خدمت میں حاضر ہو جائیں۔"
چنانچہ وہ عورت حضرت مولا عبدالسلام کے پاس حاضر ہوئی۔ اسی رات مولا عبدالسلام کو عالمِ رؤیا میں اپنے والد ماجد کی طرف سے حکم ہوا:
"میری قبر کھود کر صندوق کو باہر نکالو، اور اس عورت کو میری زیارت کرا دو۔ وہ کپڑا جو یہ ہدیے میں لائی ہے، مجھے دے دو"
صبح ہوتے ہی مولا عبدالسلام نے حسبِ حکم قبر کھولنے کا انتظام کیا۔ صندوق باہر نکالا گیا اور جب اسے کھولا گیا تو زیارت کے دوران ایک عجیب منظر رونما ہوا: حضرت کا دستِ مبارک حرکت میں آیا، گویا قبولیت کا اشارہ دیا، پھر بدستور ساکت ہوگیا۔
عورت نے عقیدت سے کپڑا بطور کفن پیش کیا اور مطمئن ہو کر واپس لوٹ گئی۔ بعد ازاں بعض لوگوں نے مولا عبدالسلام پر اعتراض کیا کہ یہ سب کچھ کیوں کیا گیا؟ تو مولا عبدالسلام نے فرمایا:
"یہ سب میرے والد حضرت صاحب کے حکم سے ہوا تھا، میں نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کیا۔"