حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی مکمل سوانح حیات ، حالات زندگی ، اور واقعات

 

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسیؒ برصغیر کے مشہور و مقبول صوفی بزرگ اور سلسلہ چشتیہ مجددیہ کے جلیل القدر مشائخ میں سے تھے۔ آپ کا تعلق تونہ شریف (ضلع مظفرگڑھ، پنجاب، پاکستان) سے تھا، اسی نسبت سے آپ کو "تونسی" کہا جاتا ہے۔

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کا مزار

حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کی پیدائش

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے آباؤ اجداد کا تعلق افغان قوم کے قبیلہ جعفر سے تھا۔ آپ کا خاندان بعد ازاں موضع گڈ گوجی (جو کوہ ورگ کے قریب واقع ہے) میں آ کر آباد ہوا۔ کوہ ورگ، تونہ شریف سے تقریباً 30 کوس کے فاصلے پر واقع تھا۔

آپ کے دادا کا نام عمر خان اور والدِ ماجد کا نام عبدالوہاب تھا، جبکہ والدۂ محترمہ کا نام بی بی زلیخہ تھا۔ روایت ہے کہ جب آپ والدہ ماجدہ کے  بطن میں تھے تو ایک صاحبِ حال فقیر نے بشارت دی تھی کہ:

"اس خاتون کے پیٹ سے ایک ایسا فرزند پیدا ہوگا جو ہزارہا مخلوق کے لیے باعثِ فیض و برکت ہوگا۔"

اسی بشارت کے مطابق آپ کی ولادت سنہ 1184 ہجری بمطابق 1770ء میں موضع گڈ گوجی میں ہوئی۔ حضرت کے بہن بھائی بھی تھے؛ آپ کے بھائی کا نام محمد یوسف تھا جبکہ چار بہنیں بھی تھیں۔

آپ کی ابتدائی تعلیم

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر ابھی صرف چار برس تھی اور آپ شعور کی منزل کو نہ پہنچے تھے کہ والدِ ماجد کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا اور آپ یتیم ہو گئے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش اور تعلیم کی تمام ذمہ داریاں آپ کی والدۂ محترمہ پر آ پڑیں۔ چنانچہ انہوں نے آپ کو ابتدائی تعلیم کے لیے ایک مقامی معلم، ملا یوسف کے پاس بٹھا دیا۔ ان کے زیرِ تربیت آپ نے نصف قرآن شریف تک پڑھا۔ اس کے بعد والدہ نے مزید تعلیم کے لیے آپ کو حاجی صاحب نامی ایک دوسرے استاد کے سپرد کیا، جن کے پاس آپ نے قرآنِ مجید کی تکمیل کی اور چند ابتدائی فارسی کتب بھی پڑھیں۔


مزید تعلیم کے شوق میں آپ کو میاں حسن علی کے پاس تونسہ شریف بھجوایا گیا۔ وہاں جب آپ مدرسہ میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ اکثر طلبہ اپنی گزر بسر کے لیے یا تو گداگری کرتے ہیں یا مزدوری۔ آپ نے بھی ایک دن گداگری کی کوشش کی۔ اتفاق سے ایک ہندو بقالن کے گھر گئے جو روٹی پکا رہی تھی۔ آپ نے روٹی کا سوال کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا۔ آپ نے آگے بڑھ کر ایک روٹی اٹھا لی اور واپس آ گئے۔ بقالن نے یہ شکایت آپ کے استاد سے کر دی۔ استاد نے آپ کو گداگری سے منع کیا اور فرمایا کہ: "تم مزدوری کیا کرو۔"


چنانچہ آپ مزدوری پر جانے لگے، لیکن جب بھی مزدوری ملتی تو اجرت میں جو آٹا ملتا، وہ سب اپنے ساتھ لے آتے اور اس سے روٹیاں پکوا کر نہ صرف خود کھاتے بلکہ غریبوں میں بھی تقسیم کر دیتے۔ استاد نے جب یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا:

"اب تم مزدوری بھی نہ کیا کرو، بلکہ ہمارے ہی گھر سے کھانا کھا لیا کرو۔"


یوں آپ نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور مدرسے کے ہونہار اور لائق ترین طلبہ میں شمار ہونے لگے

مرشد کی تلاش

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کے اندر بچپن ہی سے روحانی ذوق اور سلوک کی طلب تھی۔ جب آپ نے ظاہری علوم مکمل کرلیے تو آپ نے اپنے مرشد کی تلاش شروع کی۔ اس بارے میں ایک نہایت عجیب و غریب واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ابھی آپ کی براہِ راست ملاقات حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ سے نہیں ہوئی تھی کہ ان کے شیخ، حضرت مولانا فخر الدین رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خلیفہ خواجہ نور محمد مہاروی کو ہدایت دی کہ "ایک خدا رسیدہ نوجوان جو اپنے وقت کا سلمان ہوگا، جلد تمہارے پاس آئے گا۔ تم اسے اپنے مخلصین میں شامل کرنا کیونکہ یہ ہمارے اور تمہارے لیے برکت کا باعث ہوگا۔"


چنانچہ حضرت نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ اس روحانی ہستی کی تلاش میں رہے۔ آخرکار روحانی کشش کے باعث حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان کے دستِ مبارک پر بیعت کرلی۔ بیعت کے بعد حضرت نور محمد مہاروی نہایت خوش ہوئے اور فرمایا:

"ہمیں مبارک باد دو کہ وہ شہبازِ طریقت، جس کی تلاش میں ہم برسوں سرگرداں تھے، آج ہمارے دامن میں آچکا ہے۔"

اس کے بعد اپ اپنے پیر کے حکم پر حضرت فخر الدین سے دہلی میں ملاقات کرنے کے لیے بھی گئے اور پھر واپس خواجہ نور احمد کی خدمت میں مہار شریف آگئے ۔


یہ بیعت آپ کی زندگی میں ایک عظیم روحانی موڑ ثابت ہوئی، جس کے بعد آپ نے سلوک و معرفت کے مدارج طے کیے اور لاکھوں مخلوق کو فیض پہنچایا۔

والدہ ماجدہ سے ملاقات

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ اپنی والدہ ماجدہ بی بی زلیخاں سے ایک طویل عرصہ جدا رہے۔ والدہ محترمہ کو آپ کی جدائی میں سخت پریشانی لاحق تھی اور انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا نورِ نظر کہاں ہے۔ بالآخر والدہ نے اپنے داماد کو تلاش کے لیے روانہ کیا۔ وہ آپ کو ملتان میں ملے جہاں آپ کسی کام کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے۔ بہنوئی نے آپ کو فوراً واپس لے جانا چاہا لیکن آپ نے فرمایا کہ: "میں اپنے پیر و مرشد کی اجازت لے کر ضرور حاضر ہوں گا۔"

چنانچہ آپ واپس مہار شریف پہنچے تو حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ نے خود ہی ارشاد فرمایا کہ:

"تمہاری والدہ تمہارے فراق میں نڈال ہیں، ان کے پاس جاؤ اور ان کے دل کو سکون دو۔"

آپ اپنی والدہ کے پاس پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کے بڑے بھائی محمد یوسف کا انتقال ہوچکا ہے۔ یہ خبر سن کر آپ کو مزید صدمہ ہوا۔ آپ نے کچھ عرصہ والدہ کی خدمت میں گزارا، لیکن دل میں مرشد کے دیدار کی تڑپ برقرار رہی۔ جب آپ نے دوبارہ جانے کا ارادہ کیا تو گھر والوں نے سختی سے روک دیا، بلکہ رات کو دروازے تک بند کردیتے۔ مگر آپ کی روحانی طلب اتنی شدید تھی کہ آپ کسی نہ کسی طرح راستہ نکال کر اپنے پیر و مرشد کی خدمت میں پہنچ ہی جاتے۔

اس کے بعد یہ معمول بن گیا کہ آپ اجازت لے کر والدہ کی زیارت کے لیے بھی آتے اور پیر و مرشد کے فیض سے بھی بہرہ مند ہوتے۔

مرشد کا وصال اور خلافت

حضرت خواجہ نور محمد مہاروی رحمۃ اللہ علیہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی خدمت میں بلایا اور فرمایا:

"ہم اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے خلافت تمہارے سپرد کرتے ہیں۔"

یہ سن کر حضرت سلیمان تونسوی نے نہایت عاجزی سے انکار کیا اور عرض کیا:

"میں اس قابل نہیں کہ اتنی بڑی ذمہ داری قبول کروں۔"

اسی دوران حضرت خواجہ  کو بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضری نصیب ہوئی۔ سرکارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

"تم خلافت سے کیوں انکار کرتے ہو؟"

حضرت سلیمان تونسوی نے عرض کیا:

"یا رسول اللہ ﷺ! میں اس لائق نہیں ہوں۔"

تو دربارِ رسالت مآب ﷺ سے حکم ہوا:

"ہم کہتے ہیں، قبول کر لو۔"

یوں حضرت سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کو خلافت قبول کرنا پڑی۔ جب آپ نے اپنے مرشد سے خلافت قبول کی تو حضرت خواجہ نور محمد مہاروی مسکرا کر فرمانے لگے:

"میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔"

اس کے بعد حضرت سلیمان تونسوی نے لوگوں کو بیعت فرمانا شروع کیا اور کچھ ہی عرصہ بعد آپ کے مرشد کا وصال ہوگیا۔

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کی کرامات

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کو قوالی سے بے حد ذوق اور شغف تھا۔ بڑے بڑے مشہور قوال آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر سماع پیش کرتے۔ تذکرہ نویسوں نے ذکر کیا ہے کہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ جنات بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر قوالی سناتے تھے۔


ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ معروف قوال میاں احمد قوال آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وہ خانقاہ کے قریب پہنچا تو اس نے نہایت خوش الحانی اور دلکش آواز میں قوالی کی آواز سنی، آواز ایسی پرکشش تھی کہ دل موہ لینے والی تھی۔ میاں احمد حیران ہوا کہ یہ کون قوال ہے جو اندر گزر رہا ہے۔ لیکن جب وہ اندر داخل ہوا تو وہاں حضرت خواجہ تونسوی کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا، اور آپ ذکرِ الٰہی میں مستی کے عالم میں محو تھے۔


میاں احمد کو دیکھ کر حضرت نے فرمایا:

"احمد! تم وقت اور موقع بھی نہیں دیکھتے!"


میاں احمد نے گھبرا کر عرض کیا:

"حضور! میں سردار شیر محمد کی عرضی لے کر حاضر ہوا تھا، معافی چاہتا ہوں۔"


پھر حضرت نے احمد سے سوال کیا:

"کیا تم نے ابھی ابھی قوالی کی آواز سنی؟"

احمد نے جواب دیا:

"جی ہاں حضور!"


تو حضرت فرمانے لگے:

"وہ ایک جن روز سے اصرار کر رہا تھا کہ میرا گانا سن لیجئے، آج سنا تو بہت لذت آئی۔"


یہ فرما کر حضرت پھر وجد کی کیفیت میں ڈوب گئے۔ جب احمد قوال باہر نکلنے لگا اور دروازے سے باہر نکلا تو دوبارہ وہی پرکیف قوالی کی آواز شروع ہوگئی۔


ایک دفعہ ایک شخص اپنی بیوی کو آپ کی خدمت میں لایا جس پر جن سوار تھا آپ نے جن کو حکم دیا کہ عورت کو چھوڑ دو اس نے کہا کہ میرا بیٹا بیمار ہے اس کے لیے تعویز دو آپ نے جن کو کہا کہ بیٹا بیمار ہے تو عورت کو کیوں تنگ کرتے ہو تو اس جن نے جواب دیا کہ اس کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اپ کے پاس پہنچنے کے لیے۔ چنانچہ جن عورت کو چھوڑ دیا اور وہ تندرست ہو گئی۔

حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کا وصال

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ عمر بھر ذکرِ الٰہی، ریاضت اور عبادت میں مشغول رہنے کی وجہ سے نہایت کمزور ہو چکے تھے۔ آخرکار اچانک شدتِ مرض میں مبتلا ہوئے اور بالآخر 7 صفر 1227 ہجری کو تہجد کی نماز ادا کرنے کے بعد اس جہانِ فانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت فرما گئے۔


آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزندِ ارجمند حضرت اللہ بخش رحمۃ اللہ علیہ مسندِ خلافت پر جلوہ افروز ہوئے اور سلسلہ عالیہ کی تعلیمات کو مزید آگے بڑھایا۔ آپ کے خلفاء نہ صرف ہندوستان بلکہ بعد ازاں پاکستان کے گوشے گوشے میں پھیل گئے اور لاکھوں انسانوں نے آپ کے فیوض و برکات سے استفادہ کیا۔


حضرت خواجہ سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کی ذات برصغیر کے اکابر مشائخ و اولیاء میں نہایت بلند مقام رکھتی ہے۔ آپ کی روحانی اور علمی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور آپ برصغیر کے لیے باعثِ فخر اور رحمت سمجھے جاتے ہیں

حضرت خواجہ سلیمان تونسوی کا عرس کب منایا جاتا ہے

حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی کا عرس


حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسوی رحمۃ اللہ علیہ کا عرس مبارک ہر سال 5 تا 7 صفر کو ان کے مزار تونسہ شریف (ضلع ڈیرہ غازی خان، پنجاب، پاکستان) پر عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ 

اس موقع پر صوفی سلسلے کی محافلِ ذکر، نوافل، سماع و قوالی اور درود و نعت کی محافل منعقد ہوتی ہیں، اور ہزاروں عقیدتمند دور و نزدیک آ کر فیوضِ روحانی میں شریک ہوتے ہیں


Post a Comment

Previous Post Next Post