حضرت شریف زندانیؒ ایک بزرگ، عارفِ بااللہ اور صاحبِ کرامت ولی تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اللہ تعالیٰ کی معرفت، عبادت اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں گزاری۔ آپ کا زہد و تقویٰ اور روحانی کمال اس دور کے علما و صوفیا میں مشہور تھا۔ حضرت شریف زندانیؒ نے اپنے مریدین کو ہمیشہ عشقِ الٰہی، اتباعِ سنت اور اخلاقِ حسنہ کی تعلیم دی۔ آپ سلسلہ چشتیہ کے مشہور بزرگ اور خواجہ عثمان ہارونی کے مرشد تھے۔ اپ کا لقب نور الدین مشہور تھا۔
حاجی شریف زندنی کی ولادت
حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کی ولادت 492 ہجری میں سمرقند کے مشہور علمی و روحانی شہر بخارا میں ہوئی۔ آپ ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو علم و عرفان اور تقویٰ میں بلند مقام رکھتا تھا۔ تذکرہ نگاروں کے مطابق آپ کی عمرِ مبارک 120 سال تھی۔ بچپن ہی سے آپ پر روحانیت کے آثار نمایاں تھے، اور آپ نے اپنی جوانی علمِ شریعت و طریقت کے حصول میں گزاری۔ بعد ازاں آپ نے سلوک و تصوف کی راہوں میں کمال حاصل کیا اور ہزاروں سالکین کو معرفتِ الٰہی کی روشنی بخشی۔
ظاہری اور روحانی تربیت
حضرت خواجہ شریف زندانیؒ فرقۂ خلافتِ حضرت مودود چشتیؒ سے منسلک تھے۔ اگرچہ تذکرہ نگاروں نے آپ کا زیادہ تفصیلی ذکر نہیں کیا، لیکن یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے سلسلہ چشتیہ کے اکابرین میں سے حضرت خواجہ مودود چشتیؒ کے دستِ حق پر بیعت کی اور انہی سے ظاہری و باطنی علوم حاصل کیے۔ آپ نے 14 سال کی عمر تک ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا، اور اسی عمر سے ہمیشہ باوضو رہنے کی عادت اپنا لی۔ آپ کے پاس صرف قرآنِ کریم اور پیوند شدہ کپڑے تھے، جو آپ کے فقر و قناعت کی علامت تھے۔ آپ کی زندگی زہد، تجرید اور عبادت سے معمور تھی۔ اکثر اوقات روزہ رکھتے، بعض اوقات تین تین دن تک افطار نہ کرتے، اور جب کرتے تو بے نمک سبزی سے۔ آپ کی باطنی تعلیم و سلوک کے تمام مراتب آپ نے اپنے مرشدِ کامل حضرت مودود چشتیؒ کی تربیت میں حاصل کیے، جس سے آپ کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے منور ہو گیا۔
حاجی شریف زندنی کی محفل سماع
دوسرے چشتی اولیاء کی طرح حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کو بھی سماع سے گہری محبت تھی۔ آپ کے ہاں سماع صرف نغمگی یا نغمہ نہیں بلکہ روحانی جذب و سلوک کا ذریعہ تھا۔ جب آپ کی محفلِ سماع برپا ہوتی تو فضا میں روحانیت کا ایسا کیف طاری ہوتا کہ جو شخص بھی وہاں موجود ہوتا، وہ بے اختیار روتا اور بعض اوقات وجد کی کیفیت میں بے ہوش ہو جاتا۔ آپ کے کلام اور نعتوں میں وہ تاثیر تھی کہ اگر کوئی دنیا پرست شخص بھی ایک بار آپ کی مجلس میں شریک ہو جاتا، تو اس کا دل دنیا کی محبت سے خالی اور ذکرِ الٰہی سے معمور ہو جاتا۔ یہی آپ کے فیضِ صحبت اور عشقِ حقیقی کی علامت تھی۔
ایک درویش اور حاجی شریف زندنی کا واقعہ
ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ ایک غریب و فکر مند درویش، جس کی سات بیٹیاں تھیں، شدید تنگ دستی اور فاقہ کشی میں مبتلا تھا۔ وہ حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ "حضور! میری سات بیٹیاں جوان ہیں، میں غربت کے باعث ان کے نکاح نہیں کر پا رہا، دعا فرمائیں کہ میرے رزق میں کشادگی ہو جائے تاکہ میں ان کی شادی کر سکوں۔" حضرت نے فرمایا، "جاؤ، اللہ کوئی تدبیر پیدا کرے گا۔" وہ درویش واپس جا رہا تھا کہ راستے میں ایک یہودی ملا، جس نے اس کی حالت اور ماجرا پوچھا۔ درویش نے سارا واقعہ سنایا تو یہودی بولا، "اگر حاجی شریف زندانی خود فقیری میں ہیں تو تمہاری کیا مدد کریں گے؟ ایسا کرو، اگر وہ وعدہ کریں کہ سات سال تک میری خدمت کریں گے، تو میں آج ہی تمہیں سات ہزار سرخ دینار دے دیتا ہوں۔"
یہ سن کر درویش دوبارہ حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پورا واقعہ عرض کیا۔ حضرت نے فرمایا، "مجھے منظور ہے۔" چنانچہ آپ اس درویش کے ساتھ اس یہودی کے پاس گئے اور وعدہ فرمایا کہ "میں سات سال تک تمہاری خدمت کروں گا۔" یہودی نے درویش کو سات ہزار دینار دے دیے۔
جب یہ خبر بادشاہ تک پہنچی کہ حضرت خواجہ شریف زندانیؒ ایک یہودی کی خدمت کر رہے ہیں، تو بادشاہ نے ادب و محبت سے سات ہزار دینار بھیجے تاکہ یہودی کا قرض ادا کر کے آپ کو آزاد کر دیا جائے۔ مگر حضرت نے وہ تمام دینار غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیے۔ جب یہودی کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس کے دل پر گہرا اثر ہوا۔ اس نے حضرت کا قرض معاف کر دیا اور آپ کو آزاد کر دیا۔ حضرت نے تب فرمایا، "جس طرح تُو نے مجھے قید سے آزاد کیا ہے، اللہ تعالیٰ تجھے دوزخ کی آگ سے آزاد فرمائے۔" اس واقعے نے یہودی کے دل میں ایمان کی روشنی پیدا کی اور وہ حضرت کے اخلاق و کردار سے بے حد متاثر ہوا۔
حاجی شریف زندنی کا تقوی
حضرت خواجہ حاجی شریف زندانیؒ زہد و تقویٰ میں اپنی مثال آپ تھے۔ منقول ہے کہ آپ نے چالیس سال تک مخلوق سے مکمل علیحدگی اختیار کیے رکھی اور جنگلوں، بیابانوں میں گوشہ نشینی کی زندگی گزاری۔ اس طویل مدت میں آپ نے درختوں کے پتے اور جنگلی پھلوں پر قناعت کی، اور دنیا کی آسائشوں سے مکمل بے نیاز رہے۔ آپ کی صحبت میں آنے والوں کو بھی سخت تاکید تھی کہ آپ کے سامنے دنیا کا ذکر نہ کریں، ورنہ زیارتِ خواجہ سے محروم رہیں گے۔
روایت ہے کہ ایک روز ایک شخص آپ کی خدمت میں کچھ نقدی لے کر حاضر ہوا۔ آپ نے نہایت سخت اور رعب دار آواز میں فرمایا، “تجھے درویشوں سے کیا واسطہ ہے جو خدا کے دشمن یعنی دنیا کو میرے پاس لایا ہے؟” پھر آپ نے فرمایا، “ذرا سامنے دیکھو۔” جب اس شخص نے نگاہ اٹھائی تو دیکھا کہ سامنے ایک عظیم سونے کا دریا بہہ رہا ہے، جو آفتاب کی مانند چمک رہا تھا۔ اس پر حضرت نے فرمایا، “جس بندے کو خزانۂ غیب میں تصرف کی طاقت حاصل ہو، وہ تمہارے اس حقیر و فانی مال کی طرف کب نگاہ کر سکتا ہے؟”
حاجی شریف زندنی کی بدولت بادشاہ کی مغفرت
منقول ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے خواب میں اس وقت کے سلطان سنجر کو دیکھا۔ انہوں نے اس سے پوچھا کہ “خدا تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟” سلطان سنجر نے جواب دیا، “جب میں دنیا سے رخصت ہوا تو ربّ ذوالجلال نے میرے تمام اعمال، نیک اور بد، ایک ایک کر کے میرے سامنے رکھ دیے۔ میرے گناہوں کا پلڑا بھاری نکلا، چنانچہ عذاب کے فرشتوں کو حکم ہوا کہ اسے دوزخ میں لے جاؤ اور داخل کر دو۔”
“ابھی میں دوزخ کے فرشتوں کے ہاتھوں میں تھا کہ اللہ تعالیٰ کا نیا فرمان نازل ہوا: ‘اس بندے کو واپس لے آؤ، کیونکہ اس نے ایک دن دمشق کی مسجد میں میرے ولی، خواجہ حاجی شریف زندانیؒ کے قدم بوسی کی تھی۔’ یہ سنتے ہی فرشتوں نے مجھے چھوڑ دیا، اور ربّ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے مجھے بخش دیا۔”
سلطان سنجر نے کہا، “آج میں جو بخشا گیا ہوں، وہ محض حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کی نسبت اور ان کی برکت سے ہے۔”
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اولیائے کرام کے ساتھ محبت، ان کی صحبت اور عقیدت رکھنے والے بندے پر اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔
سلسلہ چشتیہ کی بھاگ دوڑ
حضرت خواجہ شریف زندانیؒ، حضرت خواجہ مودود چشتیؒ کے دوسرے خلیفہ اور نہایت بلند پایہ بزرگ تھے۔ آپ کو خواجہ مودود چشتیؒ کا نائبِ کل اور خلیفۂ مطلق ہونے کا شرف حاصل تھا۔ آپ ظاہری و باطنی نعمتِ ولایت کے حامل اور سلسلۂ چشتیہ کے روحانی ستونوں میں سے ایک تھے۔ روایت ہے کہ جب حضرت خواجہ مودود چشتیؒ کا وصال قریب آیا تو آپ نے اپنے تمام باطنی و روحانی فیوض و برکات، جو آپ کو اپنے مشائخِ کرام سے حاصل ہوئے تھے، حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کو عطا فرمائے اور انہیں اپنا جانشین مقرر کیا۔
یوں حضرت خواجہ شریف زندانیؒ کے ذریعے سلسلۂ چشتیہ کو نئی روشنی، استحکام اور وسعت ملی۔ آپ کے فیضِ روحانی سے یہ سلسلہ مزید فروغ پاتا گیا اور قیامت تک قائم و دائم رہنے کی بشارت حاصل ہوئی۔ آپ کے مشہور و معروف خلفاء میں حضرت سلیمان چشتیؒ اور حضرت عثمان ہارونیؒ جیسے جلیل القدر بزرگ شامل ہیں، جنہوں نے بعد ازاں سلسلۂ چشتیہ کی تعلیمات کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔
خواجہ حاجی شریف زندنی کا وصال
حضرت خواجہ حاجی شریف زندانی چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً ۱۱۶ سے ۱۳۰ برس کی طویل عمر پائی اور آخرکار ۱۰ رجب المرجب ۶۱۲ ہجری بمطابق ۱۲۱۵ عیسوی کو اس فانی دنیا سے رُخصت ہوئے۔
آپ کے مزارِ اقدس کے بارے میں دو مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایک روایت کے مطابق آپ کا اصلی مزار مبارک کنوج (اُتر پردیش، بھارت) میں واقع ہے، جہاں آپ کا عرسِ مبارک ہر سال بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
جبکہ دوسری روایت یہ بیان کرتی ہے کہ آپ کی آخری آرام گاہ قُنوہ (شام/سوریہ) میں ہے۔ تاہم، آپ کی درویشانہ فطرت اور گمنامی کے سبب وہاں آپ کا مزارِ مبارک واضح طور پر دریافت نہیں ہو سکا۔
خواجہ شریف زندانی کی روحانی میراث آج بھی اہلِ دل کے قلوب میں زندہ ہے اور ان کا فیض زمان و مکان کی قیود سے ماورا جاری و ساری ہے۔
حضرت خواجہ حاجی شریف زندانی چشتی کا عرسِ مبارک کب منایا جاتا ہے
ہر سال حضرت خواجہ حاجی شریف زندانی چشتی کا عرسِ مبارک ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ رجب المرجب کو نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ کنوج، اُتر پردیش (بھارت) میں واقع آپ کے مبارک مزار پر منایا جاتا ہے۔ ان بابرکت ایّام میں ملک و بیرونِ ملک سے عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضر ہوتے ہیں تاکہ آپ کی روحانی یاد اور تعلیمات کو تازہ کر سکیں۔ مزارِ مبارک کا ماحول ایمان کی خوشبو سے مہک اُٹھتا ہے — محافلِ قوالی، ذکرِ الٰہی، اور درود شریف کی صدائیں گونجتی ہیں۔ زائرین میں لنگرِ عام تقسیم کیا جاتا ہے جو آپ کے پیغامِ محبت، مساوات اور خدمتِ خلق کی علامت ہے۔ یہ عرس نہ صرف آپ کے وصالِ حق کا دن ہے بلکہ طالبینِ حق کے لیے آپ کی روحانی روشنی اور برکتوں سے جڑنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

