حضرت سید وارث علی شاہ برصغیر کے مشہور صوفی بزرگ اور اللہ کے ولی تھے۔ آپ کا تعلق اتر پردیش (ہندوستان) کے علاقے دیوا شریف، ضلع بارہ بنکی سے تھا۔ آپ اپنی درویشی، سادہ مزاجی اور خدمتِ خلق کے لیے جانے جاتے تھے۔ آپ نے اپنی زندگی اللہ کی عبادت، لوگوں کو محبت اور اخوت کا پیغام دینے اور انسانوں کے دلوں کو جوڑنے میں گزاری۔ آپ کا مزار دیوا شریف میں آج بھی عقیدت مندوں کے لیے مرکزِ فیض ہے, آپ کو سلسلہ وارثیہ کا بانی بھی کہا جاتا ہے۔
سید وارث علی شا ہ کے ابتدائی حالات
حضرت مولانا سید وارث علی شاہ کے جد امجد، مولوی اعلیٰ نیشاپور سے ہجرت کرکے ہندوستان میں آ کر آباد ہوئے۔ آپ کے والد محترم سید قربان علی شاہ نہایت معقول بزرگ اور صاحبِ حیثیت رئیس تھے، لیکن افسوس کہ آپ اس وقت والد کے سایۂ عاطفت سے محروم ہو گئے جب آپ ابھی والدہ کے بطن میں ہی تھے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی ولادت سنہ 1234 ہجری میں ہوئی، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، والدہ محترمہ بھی جلد وفات پا گئیں۔ اس طرح آپ کا بچپن یتیمی اور محرومی کے عالم میں گزرا
آپ کی ابتدائی تعلیم
آپ کی تعلیم کا آغاز محض پانچ برس کی عمر سے ہی ہو گیا تھا۔ ماں باپ کا سایہ نہ ہونے کی وجہ سے اگرچہ آپ کا کوئی خاص نگران موجود نہ تھا، مگر قدرت نے آپ کے قلب کو نورِ ایمان سے منور کر دیا تھا۔ اسی روشنی کی برکت سے آپ نے کم عمری ہی میں ظاہری تعلیم کو حیرت انگیز طور پر مکمل کر لیا اور ساتھ ہی آپ کے دل میں باطنی علوم کی محبت بھی جاگزیں ہو گئی۔ آپ کا حال یہ تھا کہ رات کے پُرسکون سناٹے میں اکثر بیابانوں کا رخ کرتے اور تنہائی میں اللہ کی عبادت و ریاضت میں مشغول رہتے۔
سید خادم علی شاہ سے بیت
حضرت مولانا سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی جوانی کا ابتدائی دور ہی روحانیت اور سلوک کی منازل طے کرنے میں گزرا۔ آپ کی باطنی جواہر کو سب سے پہلے حضرت سید خادم علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے پہچانا اور آپ کو اپنی نگرانی اور بیعت میں لے لیا۔ فطرتاً آپ پہلے ہی روحانی ذوق اور تڑپ رکھتے تھے، اس لیے حضرت خادم علی شاہ کی صحبت نے آپ کی استعداد کو اور زیادہ جِلا بخشی۔ نتیجتاً آپ نے نہ صرف ظاہری علوم میں کمال حاصل کیا بلکہ سلوک و طریقت کی منازل بھی بڑی تیزی سے طے کیں اور ایک مردِ کامل کے درجے پر فائز ہوگئے۔ جب حضرت سید خادم علی شاہ 1252 ہجری میں وصال فرما گئے تو اس وقت آپ کی عمر بیس برس تھی، مگر آپ تمام منازلِ طریقت مکمل کر چکے تھے۔ اسی وجہ سے آپ کو مسندِ خلافت پر بٹھایا گیا اور آپ کا روحانی فیض جاری ہو گیا۔ ابھی خلافت کے چند ہی ماہ گزرے تھے کہ پیر و مرشد کے حکم پر آپ نے سیاحت کا قصد فرمایا۔ اپنے گھر کا سارا سامان غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم کر دیا اور خالی دامن اللہ کی راہ میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ بندگانِ خدا کو روحانی فیض پہنچا سکیں۔
سیر و سیاحت
حضرت مولانا سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ ترکِ دنیا کے بعد سب سے پہلے حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے دربارِ عالیہ پر حاضر ہوئے۔ آپ ادب و احترام میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ آستانہ مبارک پر اپنے جوتے اتار دیے اور پھر ساری زندگی دوبارہ جوتے نہیں پہنے۔ اس کے بعد آپ ممبئی کے راستے بحری جہاز میں سوار ہو کر جدہ تشریف لے گئے۔ وہاں سے مکہ مکرمہ حاضر ہوئے اور مناسکِ حج ادا کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں کافی عرصہ قیام فرمایا۔ پھر آپ نے بیت المقدس، شام، دمشق، بیروت، نجف اور کربلا کی زیارت کی، اور ایران پہنچ کر وہاں کے روحانی ماحول سے بھی فیض حاصل کیا۔ ایران کے بعد آپ روس اور ترکی گئے اور حج کے موقع پر دوبارہ مکہ معظمہ میں حاضر ہوئے
آپ کی سیاحت صرف زیارت تک محدود نہ رہی بلکہ افریقہ کے کئی ممالک کی طرف بھی گئی۔ دورانِ سفر بڑے بڑے حکمرانوں سے ملاقاتیں ہوئیں، حتیٰ کہ سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم فرمانروا سلطان عبدالحمید خان بھی آپ کے مریدوں میں شامل ہوگئے۔ آپ کی سیاحت کا ایک خاص امتیاز یہ تھا کہ زیادہ تر سفر آپ نے ننگے پاؤں کیا، محض سمندری سفر میں جہاز پر سوار ہونا مجبوری تھا۔ یہ مسلسل سیاحت دراصل اللہ کی مخلوق تک روحانی پیغامپہنچانے اور عشقِ الٰہی کا نور عام کرنے کا ذریعہ تھی
دنیا اور دنیا کی چیزوں سے نفرت
حضرت مولانا سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کو دنیاوی چیزوں سے کبھی رغبت نہ تھی۔ اگرچہ آپ ایک امیر کبیر گھرانے میں پیدا ہوئے اور وراثت میں کثیر دولت و جائیداد آپ کے حصے میں آئی، لیکن آپ نے ان سب سے کنارہ کشی اختیار کی۔ جب سیاحت کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تو تمام مال و اسباب غربا و مساکین میں تقسیم کر دیا اور جائیداد کے کاغذات تک دریا برد کر دیے۔ آپ کی طبیعت کو دنیا کے جھگڑوں اور مال و دولت کی کشمکش سے کوئی سروکار نہ تھا۔ مریدین اور عقیدت مند جب آپ کی خدمت میں قیمتی تحائف پیش کرتے تو آپ فوراً انہیں ضرورت مندوں میں بانٹ دیتے۔ آپ کی خوراک نہایت سادہ تھی، چنانچہ چودہ برس کی عمر سے لے کر چالیس برس کی عمر تک آپ اکثر دن میں صرف ایک وقت کھانا تناول فرماتے، اور گوشت، انڈے اور مچھلی سے ہمیشہ پرہیز کرتے۔
طویل سیاحت کے بعد جب آپ واپس وطن تشریف لائے تو دیکھا کہ گھر کھنڈر ہو چکا ہے اور زمین و جائیداد عزیزوں کے قبضے میں جا چکی ہے۔ رشتہ داروں کو اندیشہ ہوا کہ شاید اب آپ ان جائیدادوں کا دعویٰ کریں گے، مگر آپ تو پہلے ہی ان کے کاغذات تلف کر چکے تھے، اس لیے آپ نے ان پر نگاہ تک نہ ڈالی۔ چند روز قیام کے بعد پھر سفر اختیار کیا اور جنگلوں اور انجان وادیوں میں اللہ کی یاد اور عبادت میں مصروف ہو گئے
سید وارث علی شاہ کی کرامتیں
جب حضرت مولانا سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ پہلی مرتبہ حجِ بیت اللہ کے لیے روانہ ہوئے تو جہاز میں فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔ کئی دن کے بھوکے رہنے کے بعد جب جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو اچانک رک گیا اور آگے بڑھنے سے عاجز ہوگیا۔ جہاز کا کپتان جو مسلمان تھا، خواب میں رسول اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “لوگ بھوکے ہیں اور تم پیٹ بھر کر کھاتے ہو، یہ اسی کا وبال ہے۔” کپتان نے گھبرا کر مسافروں کی دعوت کی، سب نے کھایا مگر حضرت سید وارث علی شاہ ایک گوشے میں بیٹھے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے۔ دوسری رات پھر کپتان نے وہی خواب دیکھا اور دوبارہ کھانا تقسیم کیا، لیکن تیسری رات بھی یہی خواب آیا۔ اس پر کپتان نے تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ اصل میں حضرت سید وارث علی شاہ ہی وہ ہستی ہیں جو جہاز پر کھانا تناول نہیں فرما رہے۔ کپتان فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، ادب و احترام کے ساتھ کھانا پیش کیا اور معذرت طلب کی۔ آپ نے اللہ کے نام پر کھانا قبول فرمایا اور اسی لمحے جہاز روانہ ہو گیا۔
سید وارث علی شاہ کا وصال
آپ کی صحت پہلے ہی کمزور رہنے لگی تھی، مگر آخری ایام میں آپ کو نزلہ اور بخار کا سخت عارضہ لاحق ہوگیا۔ تقریباً دس روز تک علالت کے بعد ایک دن آپ نے اپنے معتقدین سے فرمایا: “ہم کل صبح چار بجے روانہ ہوں گے۔” آپ کے اس ارشاد سے سب سمجھ گئے کہ یہ سفر دراصل آخرت کی جانب روانگی کی خبر ہے۔ چنانچہ حسبِ ارشاد، دوسرے روز بروز پیر 30 محرم الحرام 1323 ہجری، 1904 عیسوی صبح کے وقت چار بج کر پندرہ منٹ پر آپ اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لیے رخصت فرما گئے۔
سید وارث علی شاہ کا عرس کب منایا جاتا ہے
حضرت مولانا سید وارث علی شاہ رحمۃ اللہ علیہ کا سالانہ عرس ہر سال نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ دیوا شریف، ضلع بارہ بنکی (اتر پردیش، بھارت) میں منایا جاتا ہے، جہاں آپ کا مزار مبارک بھی مرجعِ خلائق ہے۔ عرس کی تقریب عموماً 30 محرم الحرام کو منعقد ہوتی ہے، جو آپ کے وصال کی تاریخ ہے۔ اس موقع پر ملک اور بیرونِ ملک سے ہزاروں عقیدت مند، علما اور صوفیا حاضر ہوتے ہیں۔ محافلِ ذکر، قرآن خوانی، نعت خوانی اور دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور زائرین اپنے اپنے انداز میں حضرت سے عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سالانہ اجتماع آپ کی تعلیماتِ عشقِ الٰہی، خدمتِ خلق اور صوفیانہ اخلاق کی تجدید اور یاد دہانی کا ذریعہ ہے۔