حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی الحسینی و سادات عظام سے تھے۔ آپ چشتی سلسلہ کے بنیادی ولی اور حضرت اسحاق شامی کے خلیفہ اول تھے ۔ حضرت ابو اسحاق شامی کے بعد سلسلہ چشتیہ کی لڑی کو آپ نے آگے بڑھایا۔ آپ نہایت ہی متقی اور مہربان شخص تھے ۔
ابو احمد ابدال چشتی کی ولادت
آپ کی ولادت 6 رمضان 260 ہجری کو ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام سلطان فرغَانہ (یا فرسنانہ) بتایا جاتا ہے۔
آپ کا تعلق چِشت (Chisht) نامی قصبے سے تھا جو افغانستان کے صوبہ ہرات (Herat) کے قریب واقع ہے۔
یہی علاقہ بعد میں سلسلہ چشتیہ کے نام کی بنیاد بنا۔
یعنی "چشتی" لقب اسی چشت شریف سے منسوب ہے۔
اس لیے آپ کو "ابو احمد ابدال چشتی" کہا جاتا ہے۔
خواجہ ابو احمد ابدال چشتی کی ولادت کی خبر
تاریخ کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ کہ آپ خواجہ ابو احمد بادشاہ فرغانہ کے بیٹے تھے جو چشت کے شرفاء اور سادات حسینی سے تعلق رکھتے تھے ۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت حسن مسنی سے ملتا ہے۔
سلطان فرغانہ کی ایک بہن تھی، جو نہایت پاکیزہ اور صالحہ خاتون تھی ۔ حضرت ابو اسحاق شامی چشتی ان کے گھر اکثر ایا کرتے تھے اور ایک دن ان کو خوشخبری دی کہ تمہارے بھائی سلطان فرحانہ کے کہ ہاں ایک بیٹا پیدا ہونے والا ہے تو اس کی پرورش کرنا اور اس کے پیٹ میں مشکوک خوراک نہ جانے دینا سلطان کی ہمشیرہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ ان کے بھابی حاملہ ہیں تو وہ اس کی خوراک کی نگرانی کرنے لگی اور ان کا خیال رکھنے لگی آخر با تاریخ چھ رمضان 260 ہجری کو یہ بچہ خلیفہ متعصم باللہ کے دور میں دور حکومت میں پیدا ہوا۔
خواجہ ابو احمد ابدال کا بچپن
اگرچہ اپ شاہی گھرانے میں پیدا ہوئے اور دنیا کی عیش و عشرت کی آپ کو کمی نہ تھی لیکن پھر بھی اپ کا رجحان دنیا کی طرف کم تھا اور روحانی کمالات حاصل کرنے کی طرف زیادہ تھا۔ اپ سات سال کی عمر میں حضرت ابو اسحاق کی مجلس میں حاضر ہوئے ظاہری اور باطنی تعلیم حاصل کی اور خواجہ سے مستفید ہوتے رہے۔
خواجہ ابو اسحاق سے بیعت
16 سال کی عمر میں ظاہری علوم سے فارغ ہوئے تو حضرت اسحاق نے آپ کو بیعت کر لیا اور خلوت کدہ میں ریاضت میں لگا دیا۔ آپ نے بڑے بڑے مجاہدے کیے ، سات دن کا روزہ رکھتے ، وضو کرتے اور تین لوگ لقمہ سے زیادہ نہ کھاتے، 40 دن کے بعد حاجت انسانی کے لیے باہر جاتے تھے ۔
خواجہ ابو اسحاق چشتی سے محبت
ایک دن ابو احمد ابدال چشتی اپنے والد کے ساتھ پہاڑ پر شکار کھیلنے کے لیے گئے ہوئے تھے کہ اچانک والد اور ساتھیوں سے جدا ہو گئے اور پہاڑوں میں راستہ بھول گئے۔ آپ نے دیکھا کہ 40 افراد ایک چٹان پر کھڑے ہیں اور خواجہ ابو اسحاق شامی بھی ان کے درمیان کھڑے ہیں آپ نے خواجہ کو پہچان کر گھوڑے سے اتر آئے اور خواجہ ابو اسحاق کی قدم بوسی کی اور ان کے گھوڑے کی رکاب پکڑ کر پیدا چلنے لگے آپ کی باپ نے اور ان کے لشکر نے پہاڑوں میں آپ کو بڑا تلاش کیا مگر نوجوان ابو احمد کا کہیں پتہ نہ چلا کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ آپ ابو اسحاق شامی کی خدمت میں موجود ہیں بادشاہ نے چند آدمیوں کو بھیجا کہ انہیں لے آئیں لیکن ان کی ساری نصیحت کے باوجود ابو احمد نے حضرت شامی کی مجلس سے جانا پسند نہ کیا اٹھ سال تک محنت اور ریاضت سے گزرے اور بعد میں خرقہ خلافت حاصل کیا۔
ابو احمد ابدال چشتی کی کرامات
حضرت خواجہ ابو احمد رحمۃ اللہ علیہ جس کسی پر بھی نگاہِ کرم فرماتے، وہ صاحبِ کرامت بن جاتا۔ اگر آپ کسی مریض کو ایک بار دیکھ لیتے تو وہ شفا یاب ہو جاتا۔ محفلِ سماع کے وقت آپ کے ماتھے سے ایک خاص نور ظاہر ہوتا۔ جب آپ کی کرامات کی شہرت مشرق و مغرب تک پھیل گئی تو بعض ہم عصر علما آپ سے حسد کرنے لگے اور آپ کی محفلِ سماع کے خلاف فتوے دینے لگے۔
چنانچہ اُس وقت کے امیرِ شہر، نصیر نامی حاکم — جو عادل بھی تھا اور آپ کا حقیقی ماموں بھی تھا — کی خدمت میں آپ کی شکایت پہنچائی گئی۔ امیر نے پورے ملک سے علما کو بلوایا اور حضرتِ خواجہ ابو احمد کو بھی اس مجلس میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
جب حضرت خواجہ ابو احمد رحمۃ اللہ علیہ کو اس خبر کی اطلاع ملی تو آپ نے خلافت کا لباس زیبِ تن کیا، گھوڑے پر سوار ہو کر امیر کے دربار کی جانب روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ آپ کا خادم محمد خدابندہ بھی تھا۔ جب آپ محفل میں پہنچے تو بہت سے علما آپ کے احترام میں کھڑے ہوگئے اور بعض نے آپ کا استقبال بھی کیا۔
پھر سماع کے مسئلے پر گفتگو شروع ہوئی۔ علما نے اپنے اپنے اعتراضات اور دلائل پیش کیے۔ جب وہ سب اپنی بات مکمل کر چکے تو حضرتِ خواجہ ابو احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے خادم محمد خدابندہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ ان علما کے اعتراضات کا جواب دو۔
خادم اگرچہ عام فہم انسان تھا، مگر اسی لمحے اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ آج سب سے بڑا عالم و فاضل بن گیا ہو۔ اس نے ایک ایک اعتراض کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا۔ تمام علما اس کے جوابات سن کر حیران رہ گئے اور شرمندگی سے سر جھکا کر بیٹھ گئے۔
دوسری کرامات
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ ایک مرتبہ سفر کے دوران ایک ایسے ملک میں پہنچے جہاں کے لوگ مسلمانوں سے سخت نفرت کرتے تھے۔ اگر کسی مسلمان کو دیکھ لیتے تو اسے قتل کر دیتے اور آگ میں پھینک دیتے۔
جب آپ وہاں پہنچے تو ان لوگوں نے آپ کے ساتھ بھی سختی کی اور ارادہ کیا کہ آپ کو بھی آگ میں ڈال دیا جائے۔ جب حضرت نے ان کے ارادے کو بھانپ لیا تو نہایت سکون سے فرمایا:
“تم اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالو، میں خود ہی آگ میں جاتا ہوں۔”
یہ کہہ کر آپ نے اپنا مصلا اٹھایا اور دہکتی ہوئی آگ میں تشریف لے گئے۔ وہاں آپ نے نہایت اطمینان کے ساتھ دو رکعت نفل نماز ادا کی۔
جب لوگوں نے یہ منظر دیکھا تو حیرت و خوف سے کانپ اٹھے۔ آگ نے آپ کو ذرّہ برابر نقصان نہ پہنچایا۔ یہ منظر دیکھ کر سب لوگ آپ کے قدموں میں گر گئے، توبہ کی، کلمہ پڑھا اور آپ کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کرلیا۔
یوں آپ کی برکت سے وہ شہر، جو پہلے کفر و ظلمت سے آباد تھا، نورِ الٰہی اور ایمان سے منور ہوگیا۔
خواجہ ابو احمد ابدال چشتی کا وصال
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ چھٹے رمضان المبارک 260 ہجری میں پیدا ہوئے، اور یکم جمادی الثانی 355 ہجری میں وصال فرمایا۔
کتاب مرات الاسرار میں لکھا ہے:
آپ کا مزارِ اقدس چشت شریف (علاقہ خراسان، موجودہ افغانستان) میں واقع ہے، جو آج بھی اہلِ محبت و ارادت کا مرکز ہے۔ وہاں ہر سال زائرین کی بڑی تعداد حاضری دیتی ہے اور فیض پاتی ہے۔
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر مبارک 95 سال تھی۔ آپ کی ولادتِ باسعادت 3 جمادی الثانی 260 ہجری میں ہوئی، اس وقت خلیفہ معتسم باللہ (بنی عباس کا آٹھواں خلیفہ) کا دورِ حکومت تھا۔
آپ کا وصالِ مبارک (غالب روایات کے مطابق) 355 ہجری میں ہوا، جو بنی عباس کے 24 ویں خلیفہ ابوبکر عبدالکریم بن مطیع کے عہدِ خلافت میں تھا۔
آپ کا مزارِ پرانوار قصبہ چشت میں واقع ہے، جو ہرات (خراسان) سے تقریباً 30 کوس کے فاصلے پر ہے۔ یہ مقام آج بھی زائرین اور اہلِ تصوف کے لیے مرکزِ فیض و روحانیت ہے۔
آپ کے خلیفہ
حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمۃ اللہ علیہ، حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ و جانشین تھے۔ آپ نے اپنے مرشدِ کریم کے فیوض و برکات کو نہایت اخلاص و خشوع کے ساتھ آگے بڑھایا اور سلسلۂ چشتیہ کی روحانی تعلیمات کو مزید وسعت دی۔ آپ کی شخصیت زہد، تقویٰ اور مجاہداتِ نفسانی میں بے مثال تھی۔ آپ کا بیشتر وقت عبادت، ذکرِ الٰہی اور مخلوقِ خدا کی خدمت میں گزرتا تھا۔