پیران پیر، سلسلہ قادریہ کے بادشاہ، تمام اولیاء کی سردار حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی شیخ گیلانی اللہ کے ایک نہایت برگزیدہ ، متقی ، صاحب کرامت ولی ہیں ۔ آپ کی شہرت پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ دنیا آپ کو پیران پیر یعنی تمام اولیاء کا پیر مانتی ہے ، اور آپ کے تعلیم اور ملفوظات سے تصوف کی روح کو سمجھتی ہے ۔ آپ ہی وہ شخص ہیں جس نے دین اسلام کو دوبارہ زندہ کیا اور اس میں تصوف اور روحانیت کے ذریعے ایک نئی روح پھونکی۔ آئیے ان کے مکمل حالات زندگی پڑھتے ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کے القابات
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو آپ کی بے مثال دینی خدمات، علم، تقویٰ اور شانِ ولایت کے باعث لوگوں نے بے شمار عظیم القابات سے نوازا۔ آپ کا اصل نام عبدالقادر تھا، جبکہ آپ کی کنیت ابو محمد تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو روحانی مقام و مرتبہ عطا فرمایا، اُس کے سبب اہلِ ایمان نے محبت و عقیدت کے ساتھ آپ کو مختلف عظیم ناموں سے یاد کیا۔ آپ کو محی الدین یعنی "دین کو زندہ کرنے والا"، محبوبِ سبحانی یعنی "اللہ کا محبوب بندہ"، غوث الاعظم یعنی "سب سے بڑے مددگار" اور غوث الثقلین یعنی "انسانوں اور جنّات کا غوث" کے القابات سے پکارا گیا۔ یہ تمام نام آپ کی شانِ ولایت، روحانی عظمت اور اللہ کے قرب کی نشانی ہیں، جن سے آج تک دنیا کے قلوب منور ہوتے ہیں۔
سید عبدالقادر جیلانی کی ولادت
حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت یکم رمضان 470 ہجری بمطابق 1077 یا 1078 عیسوی میں ایران کے صوبہ جیلان کے علاقے نَیف یا بُشتیر نامی قصبے میں ہوئی۔ بعض روایات میں کرمانشاہ کے قریب کے علاقے کا ذکر بھی ملتا ہے، تاہم زیادہ تر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ آپ کی ولادت گیلان ہی میں ہوئی، اسی نسبت سے آپ کو “جیلانی” کہا جاتا ہے۔
آپ ایک پاکیزہ اور متقی گھرانے میں پیدا ہوئے، والد ماجد کا نام حضرت سید ابو صالح موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا تھا، جو دونوں سادات حسنی و حسینی النسب تھے۔ آپ کی ولادت ہی سے کرامت و روحانیت کے آثار ظاہر ہونے لگے تھے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا شجرہ نسب
حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے والد گرامی حضرت سید ابو صالح موسیٰ جنگی دوست رحمۃ اللہ علیہ اور والدہ ماجدہ حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا دونوں سادات تھے، یعنی سید النسل، شریف النسب۔ آپ کے والد کا شجرۂ نسب حضرت امام حسن علیہ السلام سے جا ملتا ہے، جبکہ والدہ ماجدہ کا نسب حضرت امام حسین علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ یوں آپ دونوں جلیل القدر اماموں کے ذریعے براہِ راست حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک نسل سے منسلک ہیں۔ اسی وجہ سے آپ کو “حسنی و حسینی سید” کہا جاتا ہے، اور یہی اعلیٰ نسب آپ کے روحانی جلال، باطنی فیض اور علمی مقام میں ایک خاص عظمت کا باعث بنا۔
آپ کا شجرہ نسب کچھ اس طرح ہے:
سید عبد القادر جیلانی بغدادي بن سید ابوصالح موسیٰ جنگی دوست بن سید عبد اللہ الجیلی بن سید یحییٰ الزاہد بن سید محمد مورث رومی بن سید داؤد بن سید موسیٰ الثانی بن سید عبد اللہ الثانی بن سید موسیٰ الجون بن سید عبد اللہ المحض بن سید حسن مُثَنیٰ بن امیر المومنین امام حسن مجتبیٰ بن امیر المومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ و (رضوان اللہ علیہم اجمعین)
ابتدائی زندگی
کہا جاتا ہے کہ حضرت سیدنا عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پیدائش ہی سے ولایت و روحانیت کے انوار سے منور تھے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ آپ بچپن ہی سے رمضان المبارک کا بے حد ادب کرتے تھے، یہاں تک کہ جب شیر خوار تھے تو روزے کے دنوں میں دن کے وقت دودھ نہیں پیتے تھے، صرف رات کو پیتے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ آپ کو پیدائشی ولی کہا کرتے تھے۔ بچپن ہی میں آپ کے والد گرامی کا وصال ہو گیا، تو آپ کی پرورش کی ذمہ داری آپ کی والدہ محترمہ اور نانا جان نے نہایت محبت و دینی تربیت کے ساتھ سنبھالی۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب میں بچپن میں بچوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو مجھے ایک غیبی آواز آتی تھی: "اے برکت والے! میری طرف آجا"۔ ایک بار جب لوگوں نے پوچھا کہ آپ کو اپنی ولایت کا علم کب ہوا؟ تو آپ نے فرمایا: "مجھے دس برس کی عمر میں ہی معلوم ہو گیا تھا۔ جب میں مکتب میں پڑھنے جاتا تو غیب سے آواز آتی — ‘اللہ کے ولی کے لیے جگہ کشادہ کر دو’ — اور وہ آواز مکتب کے تمام بچے بھی سنتے تھے۔" یہ وہ بچپن تھا جس میں ولایت کے انوار پہلے ہی دن سے نمایاں تھے۔
حصول تعلیم کا آغاز
جب حضرت سیدنا غوث الاعظم عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی عمر تقریباً پانچ برس ہوئی تو آپ کی والدہ ماجدہ نے آپ کو جیلان کے ایک مقامی مکتب میں تعلیم کے لیے بٹھا دیا۔ آپ نے وہاں دینِ اسلام کی ابتدائی تعلیم حاصل کرنا شروع کی اور دس برس کی عمر تک اسی مکتب میں علم و فہم میں خوب ترقی فرمائی۔ بچپن ہی سے آپ میں ذہانت، تقویٰ اور شوقِ علم نمایاں تھا۔ جب آپ کی عمر اٹھارہ برس کی ہوئی تو آپ نے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اپنے وطن جیلان سے بغداد کا سفر کیا۔ بغداد پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد آپ نے مدرسہ نظامیہ میں داخلہ لیا، جو اس وقت دنیائے اسلام کا سب سے بڑا علمی و فکری مرکز تھا۔ وہاں بڑے بڑے نامور علماء، محدثین اور فقہاء تدریس کیا کرتے تھے۔ حضرت غوث الاعظم رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف مدرسے کے اوقات میں علم حاصل کیا بلکہ فارغ اوقات میں بھی بغداد کے دوسرے جلیل القدر علماء سے علم و عرفان حاصل کیا۔ آپ نے قرأت، تفسیر، حدیث، فقہ، لغت، شریعت اور طریقت جیسے علوم میں ایسی مہارت حاصل کی کہ آٹھ سال کی مدت میں تمام علوم و فنون کے امام بن گئے۔ آخرکار 496 ہجری میں آپ نے ان علوم کی تکمیل کی سند حاصل کی، اور بعد ازاں اپنی پوری زندگی انہی علوم کی ترویج و اشاعت میں وقف کر دی، جس سے امتِ مسلمہ کو بے شمار علمی و روحانی فائدے حاصل ہوئے۔
باطنی علم کا حصول
ظاہری علم حاصل کرنے کے بعد بھی آپ کے دل کی پیاس نہیں بجھی۔ آپ نے قاضی ابو سعید کے ہاتھ پر بیعت بھی کی اور ان کی حلقہ میں شامل ہو گئے ۔ آپ کے باطن میں ایک تشنگی اور کمی کا احساس باقی رہا۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ ہوا تو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ظاہری دنیا سے کنارہ کش ہو کر جنگلوں کی راہ لی، تاکہ اس علمِ باطن کی تلاش میں نکلیں جو انسان کو داتا، خواجہ اور اللہ کا برگزیدہ ولی بنا دیتا ہے۔
آپ نے باطنی تعلیم کے حصول کے لیے چالیس سال جنگلوں میں گزارے، مختلف روحانی ہستیوں سے فیض پایا، اور حضور نبی کریم ﷺ سے بھی روحانی فیض حاصل کیا۔ 40 سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز پڑھی ، کئی سالوں تک قران شریف کا ایک رات میں ختم فرماتے۔ اسی اخلاص، مجاہدے اور قربِ الٰہی کی بدولت آپ "سلطان الاولیاء" کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کا دین کو دوبارہ زندہ کرنا
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو جنگل میں چالیس سال ہو چکے تھے۔ اس دوران آپ نے مسلسل عبادت، مجاہدہ اور ذکرِ الٰہی میں زندگی گزاری۔ آپ کی روحانیت کمال تک پہنچ چکی تھی، باطن منور ہو چکا تھا، اور علمِ ظاہر و باطن دونوں مکمل ہو گئے تھے۔ مگر اس کے باوجود آپ کے دل میں دنیا کی کوئی محبت باقی نہیں تھی۔ آپ کا دل دنیا سے بے نیاز ہو گیا تھا، اور آپ دوبارہ لوگوں کے درمیان لوٹنا نہیں چاہتے تھے۔
ایک دن آپ جنگل میں تنہائی میں چل رہے تھے کہ اچانک آپ کے ہاتھ سے کچھ سامان نیچے گر گیا۔ جب آپ جھک کر اُسے اٹھانے لگے تو دیکھا کہ ایک نہایت کمزور، ناتواں شخص زمین پر گرا ہوا ہے۔ اُس نے کپکپاتے ہاتھوں سے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا:
"اے عبدالقادر! میں تمہارے نبی ﷺ کا دین ہوں۔ مجھے سہارا دو، مجھے طاقتور بنا دو۔"
یہ سن کر آپ کے دل پر ایک گہرا اثر ہوا۔ آپ نے شفقت سے اُس کا ہاتھ پکڑا اور اُسے اٹھایا۔ جیسے ہی وہ شخص کھڑا ہوا، آسمانوں میں ایک نورانی آواز گونجی:
"محی الدین! محی الدین! محی الدین!"
یعنی "دین کو زندہ کرنے والا!"
یہ وہ لمحہ تھا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اشارہ دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ دنیا میں لوٹ کر دینِ محمدی ﷺ کو دوبارہ زندہ کریں۔ چنانچہ آپ جنگل سے نکل کر بغداد تشریف لائے، اور وہاں سے روحانیت، علم، معرفت اور عشقِ الٰہی کا وہ نور پھیلایا جو آج تک قلوبِ مومنین کو منور کر رہا ہے۔
عراق میں تصوف کا آغاز
جب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ عراق تشریف لائے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دین کی خدمت اور اصلاحِ امت کی ڈیوٹی پر مقرر فرمایا۔ آپ اکثر اوقات بغداد شہر میں خاموشی سے بیٹھے رہتے تھے۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ آپ کا تعلق ایران سے تھا، آپ کی مادری زبان فارسی تھی، جبکہ اہلِ عراق عرب تھے، اور آپ کو عربی زبان میں گفتگو کرنے میں کچھ جھجک محسوس ہوتی تھی۔ اسی وجہ سے آپ زیادہ تر خاموش رہتے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ حضور نبی کریم ﷺ آپ کے سامنے جلوہ افروز ہوئے اور ارشاد فرمایا:
"اے عبدالقادر! تم خاموش کیوں رہتے ہو؟ لوگوں کو وعظ و نصیحت کیوں نہیں کرتے؟"
آپ نے ادب و انکسار کے ساتھ عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! یہ سب اہلِ عرب ہیں اور میں عجمی (غیر عرب) ہوں، میں ان کے سامنے کیسے وعظ کر سکتا ہوں؟"
یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنی مبارک زبان نو مرتبہ آپ کے دہنِ مبارک میں داخل فرمائی۔ اس کے بعد حضرت علی المرتضیٰؓ تشریف لائے اور اپنی زبانِ مبارک آٹھ مرتبہ آپ کے دہن میں داخل فرمائی۔
یوں آپ کی زبان میں ایسی تاثیر، فصاحت و بلاغت اور نور پیدا ہو گیا کہ جب آپ وعظ فرمانے کے لیے بیٹھتے، تو ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا۔
جب آپ تقریر کا آغاز فرماتے، تو آپ کے کلام سے ایسا نور پھوٹتا کہ کئی سامعین وجد و حال میں بے خود ہو جاتے، حتیٰ کہ بعض روحیں اسی لمحے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملتیں۔
یوں حضور ﷺ اور مولا علیؓ کے فیضان سے سلسلۂ قادریہ کا نور پھیلا، اور آپ وسیلۂ اعظم بنے — وہ دروازہ جس سے لاکھوں دلوں نے معرفتِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی حاصل کی۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کے فرامین
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اپنے دور میں ہزاروں انسانوں کو ذکرِ قلبی عطا فرمایا۔ آپ کے فیض سے بے شمار دلوں میں نورِ الٰہی اُترا اور ان کے دل اللہ کا ذکر کرنے لگے۔ آپ کے روحانی کمالات اور تربیت سے بے شمار گمراہ راہِ ہدایت پر آئے اور اللہ کے قریب ہوئے۔
آپ نے اپنے مریدوں کے لیے کئی حکیمانہ فرامین ارشاد فرمائے۔ آپ کا ایک مشہور فرمان ہے:
"میرا مرید دوزخ میں نہیں جائے گا۔"
پھر آپ نے فرمایا:
"میرا مرید وہ ہے جو ذاکر ہو، اور میں اُسے ہی ذاکر مانتا ہوں جس کا دل اللہ کا ذکر کرتا ہو۔ زبان کا ذکر تو ہر کوئی کر سکتا ہے، مگر اصل ذکر وہ ہے جو دل سے ہو۔"
ذکرِ قلب کے بارے میں آپ فرماتے ہیں:
"اے انسان! اگر تُو ساری زندگی عبادت، ریاضت اور مشقت میں گزار دے، تب بھی تُو اپنے دل میں اللہ کا نام نہیں بسا سکتا، جب تک کہ کوئی کامل انسان، کوئی کامل ولی تیرے دل کو اللہ اللہ میں نہ لگا دے۔ یہ نعمت صرف اہلِ دل اور کاملین کی صحبت سے حاصل ہوتی ہے۔"
آپ فرمایا کرتے تھے:
"اہلِ دل کی صحبت اختیار کرو، تاکہ تم بھی صاحبِ دل بن جاؤ۔"
کیونکہ دل سے جڑنے والا ہی حقیقت میں اللہ سے جڑتا ہے۔
غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی پر تنقید کا انجام
ایک دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ وضو فرما رہے تھے، اور چند مرید محبت و ادب کے ساتھ پانی پیش کر رہے تھے۔ اچانک آسمان سے ایک چیل گزری اور اس کی بیٹ آپ کے لباسِ مبارک پر گر گئی۔ آپ نے جیسے ہی نگاہ اٹھا کر اس چیل کی طرف دیکھا، فوراً اُس کی گردن کٹ گئی اور وہ زمین پر گر کر مر گئی۔ یہ منظر دیکھ کر آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا، آپ رونے لگے اور زار و قطار آنسو بہانے لگے۔ مریدوں نے عرض کیا: “سرکار! آپ کیوں اتنے غمگین ہیں؟ وہ تو ایک حرام جانور تھا، اُس کے مرنے پر افسوس کی کیا بات؟”
آپ نے رقت آمیز لہجے میں فرمایا: “میں اس جانور پر نہیں رو رہا، بلکہ اُن لوگوں پر غمگین ہوں جو مجھ پر انگلی اٹھائیں گے، مجھ پر اعتراض کریں گے۔ اُن کی ایمان کی گردنیں بھی اسی طرح کٹ جائیں گی جیسے اس چیل کی گردن کٹ گئی۔”
سیدنا غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی کی کرامات
آپ غریبوں، بے کسوں اور حاجت مندوں کے سچے مددگار ہیں۔ آپ ہمیشہ مخلوقِ خدا کی خدمت اور ان کی مشکلات کو آسان کرنے میں پیش پیش رہے۔ روایت میں آتا ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے: "جو کوئی مجھے مشکل میں یاد کرے گا، میں اللہ کے حکم سے اس کی مدد کروں گا۔" اسی شفقت، کرم اور ولایت کے باعث آپ کو غوثِ اعظم کے عظیم لقب سے نوازا گیا۔ دنیا بھر کے عقیدت مند آپ کو پیرانِ پیر، دستگیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی ذاتِ مبارکہ سے بے شمار کرامات ظاہر ہوئیں جنہوں نے لوگوں کے دلوں کو ایمان و محبت سے منور کر دیا۔
آپ کی کرامات مکمل تفصیل سے پڑھنے کے لیے آپ اس آرٹیکل پر کلک کریں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کی کشف و کرامات
امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات کا اشتیاق
جب غوثِ اعظم نے احادیثِ نبوی میں امام مہدی علیہ السلام کی شان و شوکت اور حضور نبی کریم ﷺ کا امام مہدی کے لیے رونا اور التجا فرمانا کے متعلق پڑھا، تو ان کے دل میں بھی یہ تڑپ جاگی کہ کسی طرح امام مہدی علیہ السلام سے ملاقات نصیب ہو۔
اسی جذبۂ شوق کے تحت انہوں نے مراقبہ کیا اور عالمِ بالا میں امام مہدی علیہ السلام کی روحِ مبارک کو تلاش کیا، مگر تمام عوالم چھاننے کے باوجود اُنہیں کہیں سراغ نہ ملا۔
تب انہوں نے اپنے پوتے کو وصیت کی:
"بیٹا! تم اس وقت تک دنیا سے رخصت نہ ہونا جب تک امام مہدی علیہ السلام کو میرا سلام نہ پہنچا دینا۔"
چنانچہ وہ پوتا بارہ کوہ، راولپنڈی کے قریب، پہاڑوں میں گوشہ نشین ہو کر عبادت و ریاضت میں مصروف رہا۔
وہ اسی دُعا اور منت میں عمر بسر کرتا رہا کہ کب امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہو، تو وہ اپنے جدِّ امجد کا سلام اُن تک پہنچا دے۔
بالاخر لال باغ سیون شریف میں جب سرکار امام مہدی ریاض احمد گوہر شاہی جلوہ نما ہوئے تو غوث اعظم کے پوتے نے ان سے ملاقات کی اور ان تک اپنے جد امجد کا سلام پہنچایا۔ یہ واقعہ سرکار امام مہدی ریاض احمد گوہر شاہی کے خاص نمائندہ یونس الگوہر نے اپنے کئی خطابات میں بیان کیا ہے۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ سلطانُ الفقر و روحانیت
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ روحانیت اور ولایت کے میدان میں سلطانُ الفقر کے لقب سے سرفراز ہوئے۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ، حضرت بی بی فاطمہ الزہراءؓ، اور حضرت حسن بصریؒ کے بعد چوتھے سلطان الفقر ہیں۔
آپ کو حضور پاک ﷺ کے بعد “فقر کے بادشاہ” کا درجہ حاصل ہے۔
آپ کے باطنِ اقدس میں طفلِ نوری کی تجلی ودیعت کی گئی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ازل میں “سات جنبشیں” فرمائیں تو ان حرکات سے جو نور ظاہر ہوا، وہ مجسم ہو کر “طفلِ نوری” کہلایا۔
حضرت سلطان باہوؒ نے اپنی تصانیف میں فرمایا ہے کہ طفلِ نوری مثال کے طور ہر اللہ تعالیٰ کی تصویریں ہیں — گویا یہ اللہ کی صورتیں ہیں جو نور کی شکل میں جلوہ گر ہوئیں۔
یوں سات طفلِ نوری تخلیق ہوئے، اللہ نے دنیا پر سات سلطان بنائے ۔ ہر سلطان کے باطن میں ایک مخصوص طفلِ نوری موجود ہے۔
ان میں سب سے قوی اور کامل طفلِ نوری حضور نبی کریم ﷺ کا ہے، اور اس کے بعد حضرت غوثِ اعظمؒ کا طفلِ نوری سب سے اعلیٰ و کامل سمجھا جاتا ہے۔
حضرت غوثِ اعظمؒ کا یہ طفلِ نوری حضور پاک کے طفل نوری سے باطن میں بالکل متصل اور جڑا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو کوئی حضور نبی کریم ﷺ تک، اور وہاں سے اللہ تعالیٰ تک رسائی چاہتا ہے تو اسے اس وسیلے سے گزرنا ہی پڑتا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم کا وصال
اس عظیم المرتبت ہستی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اپنی روحانی تعلیمات اور کرامات کے ذریعے لاکھوں دلوں کو منور کیا۔ آپ نے لوگوں کو تقویٰ، محبتِ الٰہی، صدق و ایمان اور سچائی کی راہ دکھائی۔ گیارھویں ربیع الثانی 561 ہجری کو آپ 91 برس کی عمر میں بغدادِ شریف میں وصال فرما گئے۔ آپ کا مزار آج بھی اہلِ ایمان کے لیے مرکزِ عقیدت و روحانیت ہے۔ صدیوں گزر جانے کے باوجود آپ کی تعلیمات آج بھی روشنی کا وہ چراغ ہیں جو انسانیت کو سچائی اور قربِ الٰہی کی طرف رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم کا مزار اور قبر مبارک
سلسلہ قادریہ کی بنیاد
اس سلسلہ کے بانی حضرت غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃُ اللہ علیہ تھے۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند حضرت شیخ عبدالرزاق رحمۃُ اللہ علیہ نے سلسلہ قادریہ کی قیادت سنبھالی اور اسے آگے بڑھایا۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم کا عرس کب منایا جاتا ہے
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا مزارِ مبارک بغدادِ شریف، عراق میں واقع ہے، جو آج بھی روحانی سکون اور فیض کا مرکز ہے۔ دنیا بھر سے عقیدت مند ہر سال گیارھویں ربیع الثانی کو آپ کا عرسِ مبارک عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس موقع پر زائرین دور دراز سے حاضر ہو کر درود و سلام پیش کرتے ہیں، نذریں چڑھاتے ہیں، اور روحانی فیض حاصل کرتے ہیں۔ آپ کا عرس نہ صرف اہلِ عراق بلکہ پورے عالمِ اسلام میں عقیدت و محبت سے منایا جاتا ہے
شیخ عبدالقادر جیلانی کی مشہور تصانیف
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے اپنی زندگی میں علم و عرفان کے بے شمار خزانے امت کے لیے چھوڑے۔ آپ کی تصانیف میں قرآن و سنت کی گہرائی، روحانیت کی روشنی اور اخلاقِ اسلامی کی تعلیمات نمایاں نظر آتی ہیں۔ آپ کی مشہور کتابوں میں “غنیة الطالبین”، “فتوح الغیب”، “الفتح الربانی” اور “جلاء الخاطر” شامل ہیں، جنہیں آج بھی دنیا بھر کے علما اور صوفیا اپنے درس و تدریس میں پڑھاتے ہیں۔ یہ تصانیف ایمان کو مضبوط، دل کو منور اور عمل کو خالص بنانے میں مدد دیتی ہیں۔
شیخ عبدالقادر جیلانی کی اولاد
آپ نے نے چار شادیاں کی، آپ کے بیٹے حضرت شیخ عبدالرزاق رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میرے والدِ بزرگوار، حضرت غوثِ اعظم رحمۃُ اللہ علیہ کے 49 فرزند ہوئے، جن میں سے 20 صاحبزادے اور باقی صاحبزادیاں تھیں۔
آپ کی اولادِ نرینہ میں سے کئی بزرگ علم و تقویٰ، زہد و معرفت میں مشہور ہوئے۔
ان میں نمایاں نام یہ ہیں:
حضرت شیخ عبدالوہابؒ،
حضرت شیخ عبدالرزاقؒ،
حضرت شیخ عبدالعزیزؒ،
حضرت شیخ عبداللہؒ،
حضرت شیخ عبدالجبارؒ،
حضرت شیخ محمد عیسیؒ،
حضرت شیخ یحییٰؒ،
حضرت شیخ موسیٰؒ،
حضرت شیخ ابراہیمؒ،
اور حضرت شیخ محمدؒ۔
یہ تمام بزرگ مختلف خطوں میں رشد و ہدایت کے چراغ بنے، جنہوں نے اپنے والدِ گرامی کے روحانی فیوض کو آگے بڑھایا اور سلسلہ قادریہ کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا۔
نتیجہ اور سبق
اللہ تعالی کے ولی وہ خاص روحیں ہوتی ہیں جنہوں نے یوم ازل میں دنیا اور جنت کی لذات کو توجہ نہ دی اور رب کی جلوے میں مصروف رہیں، رب کے حسن اور جمال میں محو رہیں۔ یہی ارواح جب دنیا پر آئیں تو وہی ازلی تڑپ ان کو مجبور کرتی رہی کہ دوبارہ اسی حسن اور جمال کو ڈھونڈو لہذا جب کبھی بھی یہ روح دنیا پر آئی تو اس نے باطنی علم کے ذریعے اللہ تعالی تک رسائی حاصل کی اور اپنے اس ازلی نشے کو پورا کیا۔
ان روحوں کو اللہ تعالی نے نبیوں کے ذریعے اور پھر مرشدوں کے ذریعے اپنے عشق کی راہ دکھائی ،جس پر یہ ارواحِ خوشی سے چلی اور ہر مصیبت اور غم کو جھیلا اور بالاخر اپنے رب سے متصل ہوئیں۔
دنیا انہیں ارواح کو غوث اعظم ، خواجہ، داتا اور قلندر کے نام سے جانتی ہے۔ لیکن دراصل یہ وہی ارواح ہیں جنہوں نے ہر ایک لطف اور مزے کو چھوڑ کر صرف رب کی جلوے کا لطف قبول کیا۔ اگر اپ کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہے اور اپ کو بھی رب سے ملنے کی سچی تڑپ ہے اس کی جستجو میں اپ دن رات غمگین رہتے ہیں تو اس دور میں سرکار امام مہدی ریاض احمد گوہر شاہی کو آزما کر دیکھیں جن کی تصاویر چاند حجر اسود سورج اور خلا میں واضح نظر ارہی ہے لاکھوں لوگ ان سے ذکر قلب لے کر اپنے دلوں کو منور کر رہے ہیں اور للہ تعالی سے جڑ رہے ہیں ، اپ بھی ان کے یوٹیوب چینل پر ان کی تعلیم کو دیکھیں اور سنیں اگر اپ کو رب سے ملنے کا رب سے عشق کرنے کا شوق ہے،
والسلام
www.youtube.com/alratv




