صوفی سرمد شہیدؒ کا اصل نام سرمد کاشانی تھا اور آپ کی پیدائش سترہویں صدی کے آغاز میں ارمینیا میں ایک یہودی خاندان میں ہوئی۔ سرمد نے بچپن ہی سے علم و دانش کی طرف رجحان دکھایا اور ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی۔ بعد ازاں وہ ایران (فارس) کے شہر کاشان چلے گئے جہاں انہوں نے دینی و دنیاوی علوم میں مہارت حاصل کی اور خاص طور پر فلسفہ، ادب اور روحانیت میں نام پیدا کیا۔ سرمد شروع میں تجارت کے سلسلے میں ہندوستان آئے تھے لیکن یہاں کی صوفیانہ فضا، مختلف مذاہب کے میل جول اور روحانی ذوق نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ ان کی جستجو صرف مادی کامیابی تک محدود نہ رہی بلکہ وہ حقیقتِ مطلقہ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ یہی تلاش بعد میں انہیں دہلی لے آئی، جہاں وہ ایک صوفی، شاعر اور آخرکار شہیدِ عشق و حق کے طور پر ہمیشہ کے لیے تاریخ میں امر ہو گئے۔
ایک فقیر سے بادشاہ کیوں ڈرا؟
تاریخ میں بہت کم ایسے فقیر گزرے ہیں جن سے بادشاہ بھی خوف کھانے لگے۔ حضرت صوفی سرمد انہی میں سے ایک تھے۔ وہ فقیر جو بغیر کپڑوں کے سڑکوں پر گھومتا اور “میں حق ہوں” کا نعرہ لگاتا۔ بالآخر بادشاہ اورنگزیب نے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مگر روایت یہ ہے کہ جب ان کا سر کاٹا گیا تو وہ زمین پر نہ گرا بلکہ ہاتھ میں اٹھا کر چلنے لگا اور کہنے لگا: “میں بارگاہِ نبوت میں اورنگزیب کی شکایت کرنے جا رہا ہوں۔”
ابتدائی زندگی اور تعلیم
سرمد 1618ء ایک یہودی گھرانے , ارمینیا کے ملک میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے علم کا شوق رکھتے تھے۔ چونکہ ایک رئیس گھرانے سے تعلق تھا، اس لیے تعلیم حاصل کرنے میں کسی مشکل کا سامنا نہیں ہوا۔ کم عمری میں ہی انہوں نے تورات کو یاد کر لیا، پھر انجیل اور دیگر آسمانی کتابوں کا گہرا مطالعہ کیا۔ عربی اور فارسی میں مہارت حاصل کی اور اسلامی علوم پڑھ کر اسلام سے متاثر ہوئے۔
انہیں ملا صدر الدین شیرازی اور عبال قاسم فندرسکی جیسے استاد ملے جن کی صحبت نے اسلام کی محبت ان کے دل میں بڑھا دی۔ بالآخر انہوں نے اسلام قبول کیا اور نام “سرمد” پڑ گیا۔ بعض کتب میں ان کا نام سعید سرمد یا محمد سعید بھی ملتا ہے۔
تجارت اور ہندوستان کا سفر
چونکہ خاندان تجارت پیشہ تھا، اس لیے تعلیم کے بعد آپ نے بھی تجارت شروع کی۔ دیانتدار اور ایماندار تھے، اس لیے کاروبار میں خوب برکت ہوئی۔ آپ غریبوں کی مدد کرتے اور بڑے پیمانے پر تجارت کے لیے شہروں اور ملکوں کا سفر کرتے۔ انہی سفروں کے دوران آپ ہندوستان پہنچے اور سندھ کے بندرگاہ ٹھٹہ میں قیام کیا۔
عشقِ ابھی چند
ٹھٹہ میں آپ کی زندگی کا رخ بدل گیا۔ یہاں آپ ایک ہندو نوجوان ابھی چند کی محبت میں گرفتار ہوئے۔کہا جاتا ہے اسکی آواز بہت سریلی تھی یہ محبت صرف انسانی نہیں تھی بلکہ عشقِ الٰہی کا دروازہ ثابت ہوئی۔ آپ نے اس نوجوان کو زبور، توریت اور دیگر مذہبی کتابیں پڑھائیں اور اسے اپنے ساتھ سفر پر لے گئے۔
اسی دوران آپ پر وجد اور جذب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ دنیاوی کاروبار سے بے نیاز ہوگئے۔ کچھ کتابوں میں آتا ہے کہ آپ لاہور اور پھر حیدرآباد دکن گئے۔
حیدرآباد میں شہرت
حیدرآباد میں بادشاہ اور وزیر دونوں نے آپ کی عزت کی۔ عوام بھی آپ کے روحانی مرتبے کے قائل ہوگئے۔ یہاں آپ کی کرامات مشہور ہوئیں۔ ایک واقعہ ملتا ہے کہ آپ نے ایک شخص میر جملہ کے ترقی کرنے اور دوسرے شیخ محمد کے مرنے کی پیشگوئی کی۔ دونوں باتیں حرف بہ حرف پوری ہوئیں۔ واقعہ اس طرح ہے
حضرت سرمت کو کافی مقبولیت ملی یہاں کے عوام بھی آپ کی عظمت کے قائل ہوئے طبستان مذہب کے مصنف نے حیدر آباد میں آپ سے ملاقات کی تھی وہ لکھتا ہے کہ ایک مجمع میں میرے سامنے حضرت سرمت نے ایک شخص میر جملہ کو ترقی کی دعا دی اور دوسرے شخص شیخ محمد کی موت کی پیش گوئی کی آپ کے دونوں فرمان حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئے میر جملہ بنگال کا گورنر بنا اور شیخ محمد نے مرنے سے پہلے سرزمین حجاز جانا چاہا پر ساحل عرب کے قریب ایک ہولناک طوفان میں اس کا جہاز تباہ ہو گیا اور وہ مارا گیا
آپ کی رباعیات فارسی ادب کا نادر خزانہ ہیں۔ ان میں ترکِ دنیا، حقیقت اور عشقِ الٰہی کا پیغام ہے۔
دہلی کی طرف سفر
آخرکار آپ دہلی پہنچے اور اپنے مرشد حضرت حر ہر شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابھی چند بھی آپ کے ساتھ تھا۔ عشقِ مجازی اب عشقِ حقیقی کا روپ لے چکا تھا۔ آپ دیوانہ وار برہنہ حالت میں گھومتے اور دنیاوی لباس کو چھوڑ دیا۔
دہلی میں شہرت اور دارا شکوہ
اس وقت دہلی میں شاہجہان کی حکومت تھی۔ لوگوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ ایک فقیر برہنہ ایک نوجوان کے ساتھ گھومتا ہے۔ حاکم نے ابھی چند کو کوڑے مارے اور سرمد کو دربار میں بلایا۔ سرمد نے اپنی پیٹھ دکھائی جس پر کوڑوں کے نشان تھے اور فرمایا: “وہ اور میں ایک ہیں۔”
یہ سن کر دہلی میں آپ کی شہرت پھیل گئی۔ لوگ ٹوٹ ٹوٹ کر آپ کے گرد جمع ہونے لگے۔ آپ جامع مسجد کی سیڑھیوں پر مستی میں بیٹھے رہتے۔ بعض اوقات غائب ہوجاتے اور پھر ظاہر ہوتے۔
شہزادہ دارا شکوہ آپ کا مرید بن گیا۔ جب شاہجہان کو خبر ملی تو اس نے کوتوال اناڑ خان کو تفتیش کا حکم دیا۔ مگر کئی دن تلاش کے باوجود آپ نظر نہ آئے۔ جیسے ہی تفتیش ختم ہوئی، آپ پھر ظاہر ہوگئے۔
اورنگزیب کی مخالفت
پھر وقت بدلا، شاہجہان قید ہوگیا اورنگزیب بادشاہ بن گیا۔ اس نے دارا شکوہ کو قتل کرا دیا۔ چونکہ دارا آپ کو مرشد کہتا تھا، اس لیے اورنگزیب نے آپ کو بھی دشمن سمجھا۔
ایک بار جامع مسجد میں جماعت کے دوران لوگوں نے زبردستی سرمد کو کپڑے پہنا کر کھڑا کر دیا۔ نماز کے دوران آپ نے نیت توڑ دی اور کہا: “ایسے امام کے پیچھے کیا نماز پڑھوں جو بادشاہ کی خوشنودی کے لیے نماز پڑھا رہا ہے؟ یہ دولت تو میرے قدموں کے نیچے ہے۔”
زمین کھودی گئی تو واقعی خزانہ برآمد ہوا۔ امام شرمندہ ہوگیا اور اورنگزیب بھی خاموش ہوگیا۔ مگر آپ کی مقبولیت مزید بڑھ گئی۔
الزامات اور مقدمہ
اورنگزیب نے علماء کو اکٹھا کیا۔ آپ پر تین الزام لگائے گئے:
-
برہنہ رہنا۔
-
کلمہ مکمل نہ پڑھنا (صرف “لا الہ” کہنا)۔
-
معراجِ نبوی کا انکار۔
آپ نے فارسی رباعیات کے ذریعے ہر الزام کا جواب دیا۔ فرمایا: “میں ابھی نفی کے مقام پر ہوں، جب دیدار ہوگا تو کلمہ مکمل کروں گا۔” مگر علماء نے آپ کے اشعار کو توہین قرار دے کر کفر کا فتویٰ دیا۔
شہادت
جامع مسجد دہلی کے سامنے ایک چبوترے پر آپ کو لایا گیا۔ دوستوں نے کہا: “جان بچ سکتی ہے، کلمہ مکمل پڑھ لیں اور کپڑے پہن لیں۔” مگر آپ نے فرمایا: “میں منصور حلاج کی صدا دوبارہ زندہ کرنے آیا ہوں۔”
آپ جلاد کے سامنے کھڑے ہوئے، رباعیات پڑھتے رہے اور سر قلم کر دیا گیا۔ مگر آپ کا سر زمین پر نہ گرا۔ روایت ہے کہ آپ نے سر ہاتھ میں اٹھایا، جامع مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھنے لگے اور پورا کلمہ پڑھنے کی آواز آنے لگی۔
مرشد حضرت حر ہر شاہ نے پوچھا: “یہ کیا کر رہے ہو؟”
آپ نے کہا: “میں بارگاہِ نبوت میں اورنگزیب کی شکایت کرنے جا رہا ہوں۔”
مرشد نے جواب دیا: “میں ابھی بارگاہِ نبوت سے آ رہا ہوں، وہاں اورنگزیب نے کہا کہ میں نے شریعت کے احترام میں یہ کیا۔” یہ سن کر آپ نے سر زمین پر پھینک دیا اور گر گئے۔
یہ واقعہ 1661ء میں پیش آیا۔
مزار اور یادگار
آپ کو جامع مسجد دہلی کے سامنے دفن کیا گیا۔ آپ کے مزار پر لال چادر چڑھی رہتی ہے اور برابر میں مرشد حضرت حر ہر شاہ کا مزار ہے جس پر سبز چادر ہوتی ہے۔
آج بھی لوگ آپ کے مزار پر آتے ہیں۔ وہ صرف ایک شہیدِ محبت کو یاد کرنے نہیں آتے بلکہ اپنی روح کو بیدار کرنے آتے ہیں۔ سرمد کی خاموشی آج بھی یہ پیغام دیتی ہے:
“عشق قربانی مانگتا ہے، اور سچ کبھی فنا نہیں ہوتا۔”

