اولیاء اللہ کی خانقاہیں محض ذکر و اذکار کی محفلیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ روحانی تربیت گاہیں بھی ہوتی ہیں۔ یہاں سالک اپنی ریاضت، خدمت اور مرشد کامل کی صحبت کے ذریعے مقامِ قرب حاصل کرتے ہیں۔ اور جب کوئی مرید کمالِ درجے کو پہنچتا ہے تو مرشد کی دعا اور اللہ کی مشیت سے اسے ولایت کا فیض عطا کیا جاتا ہے۔
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء دہلویؒ کی خانقاہ بھی ایسی ہی تربیت گاہ تھی جہاں ہزاروں طالبانِ حق حاضر ہوتے تھے۔ ان میں سب سے نمایاں دو ہستیاں حضرت امیر خسرو دہلویؒ اور حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلویؒ تھیں۔
ولایت کے فیض کی گھڑی
روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے وصال کا وقت قریب آیا اور آپ کے مریدین اپنی روحانی منازل طے کر چکے، تو اب وقت آیا کہ چشتیہ سلسلے کی ولایت کا بارِ امانت کس کو سپرد کیا جائے۔
حضرت محبوبِ الٰہی کی اپنی دلی خواہش تھی کہ یہ عظیم امانت حضرت امیر خسروؒ کو دی جائے۔ خسرو نہ صرف آپ کے محبوب ترین مرید تھے بلکہ آپ کے ہمراز، خادم اور عاشقِ صادق بھی تھے۔ آپ فرماتے تھے:
"قیامت کے دن اگر اللہ مجھ سے پوچھے کہ نظام الدین! کیا لائے ہو؟ تو میں عرض کروں گا: یا اللہ! خسرو کو لایا ہوں۔"
یہ جملہ حضرت امیر خسرو کے مقامِ قرب اور مرشد کی نظر میں ان کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اللہ کا فیصلہ
لیکن یہ معاملہ صرف مرشد کی خواہش پر نہیں بلکہ اللہ کے حکم اور مشیت پر منحصر ہوتا ہے۔ چنانچہ الہامی اشارہ ہوا کہ سلسلہ چشتیہ کی ولایتِ کبریٰ حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلویؒ کے سپرد کی جائے۔
یوں حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے اعلان فرمایا کہ خلافت و جانشینی کا تاج نصیر الدین محمود چراغ دہلویؒ کے سر پر رکھا جائے گا۔
امیر خسرو کو عطا کی گئی "نصف ولایت"
جب حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے یہ فیصلہ سنایا تو ان کے دل میں اپنے محبوب مرید حضرت امیر خسروؒ کے لیے ایک خاص شفقت تھی۔ آپ نے فرمایا:
"خسرو! اللہ نے تمہیں ولایتِ کاملہ نہیں دی، لیکن میں اپنی ولایت کا آدھا حصہ تمہیں بخشتا ہوں۔"
یہ جملہ دراصل حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی محبت اور فیضانِ نظر کا اظہار ہے۔ اگرچہ سلسلہ کی رسمی خلافت حضرت نصیر الدین چراغ دہلویؒ کو ملی، لیکن امیر خسرو دہلویؒ کو ولایت کا ایک ایسا فیض عطا کیا گیا جو ان کے کلام، موسیقی اور روحانی تاثیر میں تاقیامت جاری و ساری ہے۔
دو مزارات کی روحانی وحدت
یہی وجہ ہے کہ دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ اور حضرت امیر خسروؒ کے مزارات ساتھ ساتھ واقع ہیں۔ ایک پر سبز چادر ہے اور دوسرے پر رنگین، اور آج بھی زائرین جب محبوبِ الٰہی کے دربار میں حاضر ہوتے ہیں تو لازمی طور پر امیر خسرو کے مزار پر بھی سلام پیش کرتے ہیں۔
یہ دو مزارات گویا مرشد و مرید کے تعلقِ باطنی کی زندہ علامت ہیں۔ ایک کو خلافتِ کاملہ ملی اور دوسرے کو نصف ولایت کا وہ فیض جس نے ہندوستانی تہذیب، زبان، شاعری اور موسیقی کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔
خلاصہ
-
خلافت و ولایت کا تاج اللہ کی مشیت سے حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلویؒ کو ملا۔
-
حضرت نظام الدین اولیاءؒ کی محبت سے حضرت امیر خسرو دہلویؒ کو "نصف ولایت" عطا ہوئی۔
-
یہی وجہ ہے کہ دہلی کی خاک میں آج بھی مرشد و مرید کے یہ دونوں روشن چراغ ایک دوسرے کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔
