حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے خاص مرید اور پاک و ہند کے مشہور اور صاحب کرامت ولی اللہ ہیں۔ اسلام اور اللہ کی محبت کی جو لو خواجہ غریب نواز نے ہندوستان میں لگائی اس لو کو ہندوستان بھر میں پھیلانے میں آپ کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔آپ کے فیض
کی بارش مشرق سے لے مغرب تک ہوتی رہی اور آج بھی دنیا آپ کو ہندوستان کے سلطان الاولیاء میں شمار کرتی ہے۔
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی ابتدائی زندگی
اگر چہ تذکرہ نویسوں نے آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں اختلاف کیا ہے لیکن عام قیاس یہی ہے کہ آپ 561ھ (1165) کو اوش کے علاقے میں پیدا ہوئے ۔ اوش ماوراءالنہر کے علاقے میں واقع ہے۔ خواجہ غریب نواز کی طرح آپ کا سلسلہ نسب بھی امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے ۔ آپ کا سلسلہ 14 پشتوں سے مولی امام حسین علیہ السلام سے جا ملتا ہے۔
آپ کے والد کا نام کمال الدین تھا جو اپنے زمانے کے بہت بڑے بزرگ تھے ۔ آپ اپنے بچپن میں باپ کے سائے سے محروم ہوگئے جس وقت آپ کی عمر ابھی ڈیڑھ سال ہی تھی ، آپ کے والد محترم انتقال فر ما گئے ۔
خواجہ قطب الدین کی تعلیم و تربیت
بچپن ہی سے آپ کے اندر اولیاء اللہ کی جھلک نظر آتی تھی ، آپ کو والدہ محترم جو آپ کی اکیلی کفیل تھیں ، جب انہوں نے اپنے بیٹے کے باطنی جوہر دیکھے تو تعلیم کی فکر ہوئی۔ چنانچہ آپ کی والدہ نے کسی قریبی پڑوسی کو بلا کر کر کہا کہ "اس بچے کو کسی مکتب میں چھوڑ آؤ" ، چنانچہ وہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو اپنے ہمراہ لے کر چل دئیے ، راستے میں ایک بزرگ ان کو ملے اور روک کر پوچھا " یہ بچہ کس کا ہے ، " پڑوسی نے اس بزرگ کو جواب دیا کہ ایک بیوہ عورت کا بچہ ہے ، اسے کسی مکتب میں داخل چھوڑنے جا رہا ہوں۔
اس بزرگ نے پڑوسی کو کہا یہ کام میرے حوالے کر دو میں اس بچے کو نہایت ہی اچھے استاد کے پاس چھوڑ آتا ہوں جس کی تعلیم سے یہ بچہ ایک لاثانی انسان بن جائے گا۔ چنانچہ پڑوسی نے آپ کو اس بزرگ کے حوالے کر دیا۔
چنانچہ پڑوسی اور وہ بزرگ آپ کو لیکر ایکابو حفض نامی ایک بزرگ کے پاس پہنچے ، ابو حفص اپنے زمانے کے بڑے بزرگ اور عالم دین تھے ،وہ ظاہری علم کے ساتھ باطنی علم سے بھی سرفراز تھے۔ جب آپ تینوں ابو حفص کے مکان پر پہنچے تو اس بزرگ نے خواب قطب الدین کا ہاتھ ابو حفص میں ہاتھ میں دیکر یہ کہا ابو حفص یہ بچہ ایک دن سلطان الاولیاء بننے والا ہے، اس توجہ اور غور سے پڑھانا۔ یہ کہہ کر وہ بزرگ وہاں سے چلے گئے۔ ابو حفص نے پڑوسی سے پوچھا جانتے ہو یہ بزرگ کون تھے، پڑوسی نے جواب دیا نہیں، ابو حفص نے بتایا کہ یہ حضرت خضر علیہ السلام تھے۔
چنانچہ یوں حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کی تعلیم آغاز نہایت پراسرار طریقے سے ہوا۔آپ نے ابو حفص کے ہاں تھوڑے ہی عرصے میں علم دین میں مہارت حاصل کر لی۔
مرشد کامل کی تلاش
ظاہری علم میں مہارت حاصل کرنے کے بعد اپ کو باطنی علم سیکھنے اور اپنا سینہ نور الہی سے منور کرنے کا شوق ہوا۔ چنانچہ آپ اپنے شہر اوش سے باہر نکل کر مرشد کی تلاش میں نکل پڑے ، اسی تلاش میں آپ بغداد جا پہنچے ۔ بغداد میں اس وقت حضرت خواجہ غریب نواز کا چرچہ تھا ، آپ وہاں ایک مسجد میں حضرت خواجہ غریب نواز کے ہاتھ پر بیعت ہوئے اور ان کے مریدوں میں شامل ہو کر ان کی خدمت میں لگ گئے ۔
آپ کافی عرصہ خواجہ غریب نواز کی خدمت میں رہے ، ان سے باطنی سیکھا اور اپنا سینہ نور الہی سے منور کیا ۔
راہ سلوک کی دشوار منزلیں عبور کیں اور اپنا نصیبہ ولایت کا حاصل کیا۔
حضرت قطب الدین کی ہندوستان آمد
جب خواجہ معین الدین چشتی اجمیری بغداد چھوڑ کر ہندوستان تشریف لے آئے تو خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو آپ کی جدائی ستانے لگی۔ آپ کو اپنے مرشد کے دیدار اور صحبت کا اتنا شوق ہوا کہ آپ نے بھی ترک وطن کیا اور ہندوستان چل پڑے۔ دشوار گزار راستوں سے گزرتے ہوئے آپ ہندوستان کی جانب رواں دواں رہے، حتی کہ آپ ملتان آ پہنچے ۔ ملتان میں آپ نے بہاالدین زکریا ملتانی کے ہاں قیام کیا ، انہوں نے آپ کی خوب مہان نوازی کی ۔
جب آپ وہاں سے دہلی کی طرف روانہ ہونے لگے تو سلطان ناصر الدین قباچہ اور سارے ملتان کے لوگ آپ کو روکنے لگے، لیکن آپ اپنے پیر کے عشق میں سرشار تھے ، فوراً وہاں سے دہلی کی طرف روانہ ہوگئے ، دہلی پہنچ کر آپ نے خواجہ غریب نواز کو خط لکھا کہ
" کہ آپ کے شوق دیدار میں دہلی آ پہنچا ہوں ، اب اجازت ہو تو حضور کے آستانہ پر آکر حاضری دوں،
اس کے جواب میں معین الدین چشتی اجمیری نے لکھا
"روحانی قرب ملنے کے بعد جسمانی قرب کوئی معنی نہیں رکھتا ، لہذا تم وہی دہلی میں ٹھہرے رہو، ہم خود وہاں آکر تم سے مل لیں گے۔"
حضرت بختیار کاکی کا دہلی میں قیام
خواجہ غریب نواز کے حکم ملنے کے بعد آپ نے دہلی کے باہر موضع کلوگھڑی میں دریائے جمنا کے قریب قیام فر لیا۔ آپ کے وہاں قیام فرماتے ہیں لوگوں میں آپ کے کمالات کی شہرت پھیل گئی اور لوگ آپ کے زیارت اور صحبت کیلئے آپ کے پاس آنا شروع ہوگئے۔
سلطان شمس الدین التمش کی درخواست
یہ وہ زمانہ تھا جب سلطان شمس الدین التمش کی ہندوستان پر حکومت تھی ۔جب اسے آپ کی آمد کا علم ہو تو وہ آپ کے پاس تشریف لے آئے اور نہایت ادب سے آپ کو شہر آنے کی دعوت دی۔ آپ نے شہر جانے سے منع کر دیا ۔آپ نے کہا شہر میں چونکہ پانی کی کمی ہے ، اس لیئے وہاں مشکل ہوگی۔
آپ کے انکار کے بعد التمش ہفتہ میں دو مرتبہ آپ کی خبر گیری کرتا اور بعد میں اس نے کسی طرح خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کو شہر چلنے کیلئے راضی کر لیا۔شہر میں سلطان نے آپ کے لیے ایک موزوں جگہ منتخب کی ، آپ وہاں رہنے لگے۔لوگ بھی وہاں آپ کے اردگرد جمع ہونے لگ گئے۔ بادشاہ نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی یوں امرائے دربار آپ کے مریدوں کے زمرے میں شامل ہونے لگ گئے۔
شیخ الاسلام کے عہدہ سے انکار
آپ کو ابھی دہلی میں آئے چند روز ہوئے تھے کہ شیخ الاسلام مولانا جمال الدین بسطامی کا انتقال ہو گیا ۔ سلطان التمش نے آپ سے درخواست کی کہ آپ اس عہدے کو قبول فرما لیں ،لیکن آپ نے انکار کیا۔ آخر کار یہ عہدہ شیخ نجم الدین صغری کو دے دیا گیا۔