مجدد الف ثانیؒ (شیخ احمد سرہندیؒ) سرہند (موجودہ بھارتی پنجاب کے ضلع فتےگڑھ صاحب، قصبہ سرہند شریف) کے رہنے والے تھے۔اسی نسبت سے ان کو "امامِ ربّانی، شیخ احمد سرہندی" اور "مجدد الف ثانی سرہندی" کہا جاتا ہے۔
حضرت احمد امام ربانی مجدد الف ثانی کو ارباب طریقت میں بہت بلند درجہ حاصل ہے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمت اللہ علیہ اگرچہ اپ کے پیر و مرشد تھے لیکن اپ اس قدر احترام اور عزت کرتے تھے کہ جب حضرت خواجہ کی مجلس گرم ہوتی تو حضرت مجدد کو حلقہ کا سردار بنایا جاتا تھا اور حضرت خواجہ باقی باللہ مریدوں کی طرح مجلس میں بیٹھتے تھے ، آپ سچے پیر طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ عالم با عمل بھی تھے ۔ آپ نے ساری عمر سماع سے سخت پرہیز کیا اور کوئی ایسی حرکت نہ کی جو شریعت کے خلاف ہو آپ کی روحانی تجلیوں سے نہ صرف پنجاب بلکہ سارا شمالی ہند آج تک روشن ہے۔
مجدد الف ثانی کی پیدائش
حضرت شیخ احمد مجدد الف ثانی 14 شوال 971 ہجری کو شہنشاہ اکبر کے عہد حکومت میں سر ہند میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام مخدوم شیخ عبدالاحد فاروق تھا جو سر ہند کے مقتدر علماء میں شامل کیے جاتے تھے۔
ایک بزرگ کی مجدد الف ثانی پر نظر
کتابوں میں ایک واقعہ موجود ہے کہ جب آپ کی عمر چھوٹی سی تھی تو آپ کے گھر میں ایک بزرگ شاہ احمد کتھیلی آپ کے والد صاحب سے ملنے آئے، آپ کو دیکھ کر انہوں نے اپنی گود میں اٹھا لیا آپ کے والد نے اس بزرگ سے کہا کہ اس کے لیے کوئی دعا کریں تو اس نے اپنی انگلی آپ کے منہ میں ڈال دی آپ کافی دیر تک چوستے رہے بعد میں اس نے کہا کہ بس بیٹا اب کچھ ہماری اولاد کے لیے بھی چھوڑ دو، اس واقعے سے آپ کے اندر اہل طریقت سے بچپن میں ہی کافی محبت پیدا ہو گئی۔
مجدد الف ثانی کی تعلیم و تربیت
حضرت مجدد کے والد محترم حضرت مخدوم کیونکہ خود بہت بڑے عالم تھے لہذا انہوں نے چھوٹی سی عمر میں ہی اپنے فرزند کو حافظ قران کرنے کے بعد علوم ظاہری سے اچھی طرح آشنا کرا دیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ مولانا کمال کشمیرہ کی وجہ سے سیالکوٹ علم و فن کا بہت بڑا مرکز بنا ہوا تھا چنانچہ آپ کے والد مخدوم نے آپ کو ابتدائی تعلیم دینے کے بعد علوم ظاہری میں کمال حاصل کرنے کے لیے سیالکوٹ روانہ کر دیا ۔ مولانا کمال کشمیری سے آپ نے علوم ظاہری کے اندر کمال حاصل کیا اس کے ساتھ ساتھ آپ نے حضرت یعقوب کشمیری جو فن حدیث میں یگانہ روزگار تھے ان سے بھی کافی علم حاصل کیا اور آپ فن حدیث میں بھی کامل ہو گئے اس کے بعد آپ نے دیگر علوم کی تکمیل فرمانے کے بعد مولانا کمال اور شیخ یعقوب کی اجازت سے صرف 17 برس کی عمر میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری فرما دیا۔
سیالکوٹ سے آگرہ آمد
بعد میں آپ سے سیالکوٹ سے آگرہ تشریف لے آئے ۔یہ اکبر کا دور حکومت تھا ۔ مغل حکومت ہونے کی وجہ سے آگرہ میں علماء اور فضلا کا ہر وقت اجتماع رہتا تھا یہاں پہنچے کے بعد آپ کا شہرہ اس قدر بڑھ گیا کہ آپ کے گرد تشنگانِ علم و فن کا ہر وقت ہجوم رہنے لگا ۔ چنانچہ آپ نے یہاں حسب معمول درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر دیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ دربار اکبر کے مشہور فضل اور فیضی بھی آپ کے نیاز بندوں کے حلقے میں شامل ہو گئے۔
آگرہ سے اپنے علاقے سرے ہند احمد
کچھ مدت کے بعد اپ کے والد حضرت مخدوم آگرہ میں آئے اور آپ کو اپنے ساتھ سر ہند لے گئے۔
جب آپپ سر ہند جا رہے تھے تو راستہ میں تھانیسر کے مقام پر قیام کیا تھا۔ تھانیسر کے قیام کے دوران میں تھانیسر کے مشہور رئیس شیخ سلطان حضرت مخدوم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مجھ کو بشارت ہوئی ہے کہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم سے کر لوں آپ نے اس کی بیٹی سے شادی کر لی اس کے بعد آپ کے مالی حالات بہت اچھے ہو گئے اور آپ کو کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔ شادی سے فارغ ہو کر آپ اپنے والد کے ہمراہ سرے ہند واپس آگئے ۔ سرے ہند پہنچ کر آپ کے والد نے آپ کو خرقہ خلافت عطا کیا اور تھوڑی مدت کے بعد خود انتقال کر گئے۔ اس وقت آپ کی عمر تقریبا 37 سال کی تھی۔
حضرت خواجہ باقی باللہ سے بیعت اور فیض
حضرت مخدوم کے انتقال کے بعد حضرت مجدد زیارت حرمین کے ارادے سے روانہ ہوئے جب آپ دہلی پہنچے تو آپ نے اپنے محب مولوی حسن کشمیری کے ہاں قیام کیا۔ مولانا حسن کشمیری خواجہ باقی باللہ کے خاص مخلصین میں سے تھے ۔ مولانا حسن کشمیری نے جب حضرت خواجہ باقی باللہ کی اوصاف اور کمالات حضرت مجدد سے بیان کیے تو حضرت مجدد جو ولیوں کے عاشق تھے ان کے دل میں بھی حضرت خواجہ کی زیارت کا جذبہ پیدا ہوا اور مولانا حسن کشمیری کے ساتھ حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ۔
۔ حضرت مجدد حضرت خواجہ سے ملنے کے بعد بے حد لطف اندوز ہوئے حضرت خواجہ باقی باللہ نے دوران ملاقات حضرت مجدد سے پوچھا کہ کس نیت سے دہلی آئے ہو حضرت مجدد نے عرض کیا کہ زیارت کعبہ کے لیے جانے کی شوق میں یہاں حاضر ہوا ہوں ، حضرت خواجہ نے فرمایا بڑا مبارک ارادہ ہے لیکن فقیروں کی صحبت میں اگر چند روز جہاں ٹھہر جاؤ تو کوئی مضائقہ نہیں ، لہذا اپ کچھ دن وہاں پر ٹھہر گئے۔
اپ کو حضرت خواجہ کی صحبت میں صرف چند دن ہی گزرے تھے کہ اپ کو سب کچھ بھول گیا اس کی وجہ یہ تھی کہ اپ کو برسوں سے پیر طریقت کی تلاش تھی اس کی جھلک اپ کو حضرت خواجہ باقی باللہ کے اندر نظر آگئی ۔ آپ نے مولانا حسن کشمیری کا بھی بہت شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے آپ کی درینہ خواہش کو پورا کر دیا۔ اس کے بعد آپ مسلسل تین ماہ تک خواجہ باقی باللہ سے فیض یاب ہوتے رہے ۔
اس کے بعد آپ واپس سر ہند آگئے اور درس و تدریس میں مشغول ہو گئے۔ لیکن آپ کو ہر وقت مرشد کی یاد آتی رہتی ۔ غرض یہ کہ آپ نے چند روز میں سب کام کاج چھوڑ چھاڑ کر حضرت خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں دوبارہ دہلی پہنچ گئے۔ حضرت خواجہ یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اس کے بعد حضرت مجدد دہلی میں حضرت خواجہ سے برابر باطنج فیوض سے مالا مال ہوتے رہے۔
حضرت خواجہ باقی باللہ آپ سے بڑی شفقت اور پیار سے ملتے تھے اور آپ بھی اپنے مرشد کے ادب اور احترام میں ان کی موجودگی میں میں کبھی بھی آنکھ تک نہ اٹھاتے تھے۔
حضرت خواجہ باقی باللہ سی آخری ملاقات
کچھ مدت بعد حضرت خواجہ باقی باللہ کے پاس گزارنے کے بعد آپ دوبارہ اپنے علاقے سرے ہند آگئے، یہاں آپ نے تھوڑا ہی وقت گزارا تھا کہ آپ کو پے در پہ دو خط حضرت خواجہ باقی باللہ کی طرف سے آئے خطوط میں انہوں نے آپ کو دہلی میں بلایا تھا، آپ فوراً دہلی روانہ ہوئے اور خواجہ باقی باللہ کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ دوران گفتگو حضرت خواجہ باقی باللہ نے آپ سے کہا کہ میرے بیٹے ابھی کمسن ہیں ان کا خیال رکھنا اب ہمارا آخری وقت ہے ، یہ کہہ کر اپنے لڑکوں کو بلایا اور حضرت مجدد کی گود میں دے دیا ۔ یہ حضرت خواجہ باقی باللہ کی حضرت مجدد الف ثانی سے آخری ملاقات تھی۔
25 جمادی الثانی 2012 ہجری کو جب حضرت خواجہ باقی بلا کا وصال ہوا تو اپ اس وقت لاہور میں موجود تھے، اور میں حضرت خواجہ کے وصال کی خبر بجلی کی طرح دوڑ گئی اپ بھی فورا دہلی پہنچے اور اپنے پیر و مرشد کے مزار پر حاضری دی
مجدد الف ثانی کو قید
اپ کی علمی شہرت کی وجہ سے اپ کے ہم اثر علماء آپ سے کافی حسد کا شکار ہو گئے اور آپ کے بعد بارے میں غلط باتیں مشہور کر دیں، مثال کے طور پر انہوں نے لوگوں میں مشہور کر دیا کہ آپ اپنے آپ کو حضرت ابوبکر صدیق سے بھی زیادہ افضل سمجھتے ہیں۔ یہ زمانہ بادشاہ جہانگیر کا تھا لہذا ان مولویوں اور علماء نے کسی طرح سے بادشاہ کو بھی اس بات کا قائل کر لیا کہ مجدد الف ثانی اپنے اپ کو بہت بڑی دینی شخصیت سمجھتے ہیں۔ بادشاہ جہانگیر کی سپاہی آپ کو آگرہ سے دہلی لے ائے ۔ بادشاہ نے آپ کو قید خانہ میں بند کر دیا قید خانہ میں بھی آپ درس و تدریس کا کام کرتے رہے ۔
آپ کے چاہنے والے اگرچہ بادشاہ کے خلاف ہو گئے تھے لیکن آپ نے ان کو صبر کی تلقین کی۔
بعد میں بادشاہ کو یہ احساس ہو گیا کہ اس نے جھوٹے علماء کی غلط باتوں پہ یقین کر لیا ، لهذا اس نے بڑے عزت و احترام سے اپ کو قید سے رہا کیا، معافی بھی مانگی اور مرید بھی ہو گیا، ساتھ ساتھ اپنی شہزادہ خرم کو بھی آپ کا مرید کروا دیا۔ آپ آٹھ برس تک جہانگیر کے ہمراہ رہے اور بادشاہ کے ذریعے آپ نے براعظم میں بہت بڑی بڑی اسلامی خدمات انجام دیں ۔
مجدد الف ثانی کی کرامت اور واقعات
جس وقت لوگوں میں آپ کے بارے میں غلط فہمی تھی کہ آپ اپنے اپ کو ابوبکر سے بھی زیادہ افضل جانتے ہیں تو ایک شخص انہی شکوک و شبہات کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور دل میں سوچا کہ اگر یہ واقعی صاحب حال ہیں تو میرے شکوک و شبہات کو بھی رفع کریں گے ، میرے آباؤ و اجداد کا نام بھی بتائیں گے اور مجھے میٹھے چاول بھی کھلائیں گے ، جب مجدد الف ثانی نے اس کو اپنے پاس دیکھا اور کشف سے اس کے دل کا حال جان لیا اور کہا ہمیں تو اس شخص کے مسلمان ہونے میں بھی شک ہے جو اپنے اپ کو دوسروں سے افضل جانے۔ اس کے بعد آپ نے اس شخص کے والدین کا نام اس کو بتایا اور اسے میٹھے چاول بھی کھلائے وہ یہ سب دیکھ کر بڑا حیران رہ گیا اور آپ کے قدموں میں گر پڑا اس کے تمام شکوک و شبہات جاتے رہیں۔
ایک دفعہ آپ اپنے ساتھیوں کے ساتھ باہر سیر کے لیے نکلے تو باہر کافی دھوپ اور گرد و غبار تھا ۔ گردوبار کی زیادتی کی وجہ سے آپ کے ساتھی کافی تکلیف میں مبتلا تھے ، تھوڑی دیر بعد آپ نے ساتھیوں کی تکلیف کو دیکھ کر کہا کہ لگتا ہے یاروں کو تمازت اور گرد و غبار سے بڑی تکلیف پہنچ رہی ہے یہ کہہ کر آپ نے آسمان کی طرف آنکھ اٹھائی تو فورا بارش شروع ہو گئی، اس کے بعد تمازت سورج بھی ختم ہو گئی اور اگر گرد و غبار بھی ۔
مجدد الف ثانی کا مزاج
آپ بڑے فیاض دل آدمی تھے ، مساکین اور غریبوں میں بھی بے حد دولت لٹاتے ، کم کھانے کے عادی تھے اور فرماتے کہ انسان تو فرشتہ صفت ہے بس پیٹ کی آگ اسے انسان بنا دیتی ہے۔ رقص اور سماع سے پرہیز کرتے اور دنیا پرست علماء کے خلاف تھے۔ ترک دنیا کے بارے میں فرماتے ہیں کہ حقیقی طور پر ترک دنیا کسی کو میسر نہیں اور نہ اس کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کی اجازت ہے ۔ اسلام کہتا ہے کہ دنیا میں بھی رہو اور دین پر بھی عمل کرو ۔ ترک دنیا کا حقیقی مقصد مکروہات دنیا کو ترک کرنا ہے اور شریعت کے پابند رہنے کا نام ہی اصل اسلام ہے ۔
مجدد الف ثانی کی وفات
اپ کی عمر شریف 64 سال کی تھی کہ اپ بیمار ہو گئے اور 29 سفر 134 ہجری کو بروز اتوار دنیا سے رخصت ہو گئے اپ شہنشاہ اکبر کے دور حکومت میں پیدا ہوئے تھے اور اپ کا وصال شہنشاہ جہانگیر کے دور میں ہوا اپ کا مزار مبارک سر ہند شریف میں ہے جہاں ہر وقت اولیاء سے محبت رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں موجود ہوتے ہیں اور آپ کی قبر مبارک کی زیارت کرتے ہیں ۔
آپ کے 10 بچے ہوئے جن میں سے تین لڑکیاں تھیں اور سات لڑکے ، دو لڑکیاں بچپن میں ہی وفات پا گئی۔ آپ کے فرزند خواجہ محمد معصوم نے بڑا نام پایا اور ظاہری علم اور باطنی میں کمال حاصل کر کے اپنے والد صاحب کے جانشین ٹھہرے۔
مجدد الف ثانی کا عرس کب منایا جاتا ہے
حضرت مجدد الف ثانیؒ (امام ربانی، حضرت احمد سرہندی) کا عرس ہر سال اسلامی تقویم کے مطابق ۲۸ صفر کو منایا جاتا ہے۔ ان کا مزار مبارک (روضہ شریف) سرہند، بھارت میں واقع ہے جہاں یہ عرس تین دن تک جاری رہتا ہے۔ اس موقع پر برصغیر کے مختلف علاقوں سے ہزاروں عقیدت مند اور زائرین حاضر ہو کر قرآن خوانی، مجالسِ ذکر و وعظ، اجتماعی دعا اور خصوصی عبادات میں شریک ہوتے ہیں۔
یہ عرس محض ایک یادگار نہیں بلکہ روحانی اجتماع کی حیثیت رکھتا ہے جہاں اہلِ ایمان اپنے عقیدے کو تازہ کرتے ہیں، حضرت مجدد الف ثانیؒ کی تعلیمات کو یاد کرتے ہیں اور اپنی روحانی وابستگی کو مضبوط کرتے ہیں۔ دربار پر حاضری دینا عقیدت کا اظہار اور روحانی فیض حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

