حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر صاحب کرامت اور اولیائے نامدار میں سے ہیں ۔ آپ پانی پت کے مشہور ولی اور صاحب ولایت ہیں۔ آپ کی ذات سے ایسی محیر العقول کرامات نظر آئی جن سے عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ آپ خود بھی قلندر تھے اور اپنے دور کے بہتے بڑے قلندر کے صاحب زادے تھے ۔ آپ کی کوشش اور روحانی تصرفات کی بدولت ان علاقوں تک اسلام پھیلا جہاں پہلے کسی نے اسلام کی تبلیغ نہ کی تھی۔
شرف الدین پانی پتی بو علی قلندر کے والد شیخ فخرالدین عراقی
آپ کی والد فخرالدین عراقی بہت بڑے عالم اور درویش صفت انسان تھے ، کہ اچانک آپ کو قلندروں سے لگاؤ پیدا ہوگیا ۔ آپ چہار ابرو کا صفایا کر کے ایک قلندروں کی ٹولی میں شامل ہوگئے ، وہ ٹولی مختلف علاقوں سے گزرتی ہوئی ہندوستان آ پہنچی اور خواجہ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی کہ خانقاہ میں آ ٹھہری ۔ جب خواجہ کی نظر آپ پر پڑی اور آپ کو روحانیت کا دلدادہ پایا تو ارادہ کر لیا کہ کسی طریقے سے آپ کو اس قلندر ٹولی سے نکالنا ہے ، چناچہ صبح جب وہ جانے لگے تو ایک غضب ناک آندھی آئی ، اور قلندر ٹولی ایک دوسرے سے منتشر ہو گئی ، فخرالدین عراقی قافلہ سے پیچھے رہ گئے اور دوبارہ خانقاہ میں آ ٹھہرے ۔ بہاؤ الدین زکریا نے اپنی نظر ڈال کر آپ سے قلندروں کا اثر اتار دیا اور اپنے عقیدت مندوں میں شامل کر لیا ۔ اس کے بعد بہاؤالدین ذکریا اتنے مہربان ہوئے کہ کچھ عرصے کے بعد آپ سے اپنی بیٹی کی شادی بھی کرا دی ۔ لیکن کچھ عرصے بعد فخرالدین عراقی کی اہلیہ جب وفات پا گئی تو آپ واپس اپنے وطن کو چل پڑے جب ہمدان پہنچے تو سید نعمت اللہ ہمدانی نے آپ سے اپنی ہمشیرہ کی شادی کی ۔
آپ کی پیدائش
شیخ فخر الدین جب عراق واپس گئے تو وہاں اپ کی دوسری شادی سے اولاد ہوئی اپ نے عراق میں مستقبل قیام کا فیصلہ کر لیا عراق میں اپ کی بڑے صاحبزادے شیخ نظام الدین عراقی پیدا ہوئے لیکن شیخ نظام الدین عراقی چھوٹی سی عمر میں بغرض تجارت عراق سے ہندوستان آگئے اور آپ نے پانی مت میں اقامت اختیار کر لی شیخ نظام الدینط عراقی کی پانی میں اباد ہو جانے کے بعد ماں باپ ان کی جدائی کو برداشت نہ کر سکے چنانچہ شیخ فخر الدین عراقی اور ان کی اہلیہ بیٹے کی محبت میں عراق سے ہندوستان چلے ائے اور بیٹے کے ساتھ پانی بعد میں مستقبل بود باش اختیار کر لی۔ شیخ عراقی کی ہندوستان آنے اور پانی پت میں آباد ہو جانے کے بعد اپ کے ہاں حضرت شیخ بو علی قلندر پیدا ہوئے جن کا نام شرف الدین رکھا گیا ۔ حضرت شیخ بو علی قلندر کی تاریخ ولادت میں تذکرہ نویسوں کا اختلاف ہے لیکن عام طور پر یہ کہا گیا ہے کہ اپ کی پیدائش 606 ہجری 1209 عیسوی میں ہوئی اس وقت قطب الدین ایبک کا دور حکومت تھا۔
خاندانی حالات
آپ پانی پت کے مقام پر پیدا ہوئے۔تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ امام اعظم ابو حنیفہ کوفی کی اولاد میں سے ہیں ، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ حضرت شیخ جمال الدین کے خالہ زاد بھائی ہیں۔آپ کے والد کا نام فخرالدین ہے اور آپ کا اپنا نام شرف الدین ہے
آپ کی والدہ کا نام بی بی فاطمہ یا بی بی حافظہ جمال ہے۔
بو علی قلندر کیوں کہا جاتا ہے
حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر کو بو علی قلندر اس لیئے کہا جاتا ہے کہ جب آپ کو مولی علی نے دریا سے باہر نکالا جہاں آپ ہر وقت عبادت کرتے رہتے تھے ، تو اس وقت آپ پر مستی اور الستی طاری ہوگئی ، جو بعد میں بھی رہی، اسی دن سے آپ کو بو علی قلندر کہا جاتا ہے
تعلیم و تربیت
حضرت شیخ بو علی قادر کے والد محترم شیخ عراقی چونکہ خود بہت بڑے عالم تھے لہذا اپ نے اپنی ابتدائی تعلیم ان کے زیر نگرانی حاصل کی ۔ تذکرہ نویسوں کا بیان ہے کہ حضرت شیخ بو علی قلندر 11 12 سال کی عمر میں علوم ظاہری پر حاوی ہو چکے تھے اور اس کم سنی میں آپ کی المیت اور استطاعت کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے عالم آپ کے مقابلے پر نہیں ٹھہر سکتے تھے اپ کا علمی شوق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ اپ مسلسل 40 سال تک علوم فقہ اور حدیث حاصل فرماتے رہے اپ کی عمر کا ایک بڑا ایسا دہلی میں علوم ظاہری کے حصول میں صرف ہوا لیکن اپ علوم ظاہری سے سیر ہو گئے تو اپ نے کتابیں دریا میں ڈال دی اور روحانیت کی تلاش میں نکل پڑے۔
شعبہ استادی
آپ ظاہری تعلیم سے فارغ ہو کر شعبہ استادی اور معلمی میں مشغول ہو گئے۔ آپ تقریبا 12 تک مسجد قوت الاسلام میں وعظ بھی کرتے رہے۔
تلاش حق کا آغاز
ایک دن آپ اسی مسجد میں وعظ میں مصروف تھے کہ ایک درویش مسجد میں آیا اور اونچی آواز میں یہ کہا
"شرف الدین جس کام کیلئے پیدا کیا گیا، اس کام کو بھول گیا ہے، نہ جانے کب تک اس قیل و قال میں رہے گا، بس اسی دن سے آپ کو مرشد و رہبر کامل کی تلاش شروع ہوگئی
مرشد کامل کی تلاش
آپ مرشد کامل تلاش میں رہے، مختلف شخصیات کو آپ کا مرشد مانا جاتا پے، بعض لکھتے ہیں کہ آپ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مرید اور خلیفہ تھے لیکن بعض کہتے ہیں آپ نے تعلیم باطن شیخ شہاب الدین سے حاصل کی، بعض نے آپ کو نجم الدین کبریٰ کا خلیفہ اور مرید بھی کہا ہے جو خود بختیار کاکی کے مرید کے مرید تھے۔
ایک روایت یہ بھی مشہور ہے کہ آپ کو حضرت نظام الدین اولیاء نے بھی بیعت کیا، کہا جاتا ہے بیعت کا مقام جمنا کا کنارہ تھا ۔
لیکن اکثر کا کہنا یہ ہے کہ اپ کو فیض براہ راست مولا علی سے ملا ہے وہ واقعہ اس طرح ہے کہ اپ حالت مراقبہ میں جب روحانی طور پر بزم مصطفی علیہ السلام میں پہنچے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ بھی وہاں موجود تھے رسول مقبول نے اس موقع پر امیر المومنین مولا علی کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا اے علی شرف الدین پر اسرار غیبی کھول دے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اپ پر اسرار الہی کھول گئے مولا علی نے اپنا دہن مبارک کا لعاب شیخ شرف الدین کی زبان پر مل دیا اور بو علی کی کنیت بھی عطا فرمائی اس روایت کے مطابق اپ کی بیعت و نسبت حضرت علی علیہ السلام سے ہے۔
عبادت و ریاضت
آپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ نے اپنی ساری کتابیں دریا میں ڈالیں، ظاہری علم کو خیر آباد کہا اور عبادت میں مصروف ہوگئے ، آپ زیادہ تر دریا میں کھڑے ہو کر عبادت کرتے جس سے آپ کی پنڈلی بھی زخمی ہو جاتیں ۔ اسی عبادت میں آپ کے 12 سال گزر گئے ۔
ایک روز غیب سے آواز آئی
"اے شرف الدین تیری عبادت قبول کی گئی، مانگ کیا مانگتا ہے، پھر آواز آئی کہ اچھا پانی سے تو نکل۔ اسکے جواب آپ نے کہا میں خود نہیں نکلوں ،تو خود مجھے نکال،
پانی پت میں قیام
آپ پانی پت کے صاحب ولایت تھے اور پانی پت میں ہی رہتے تھے ۔ حضرت شمس الدین ترک کے پانی پت تشریف لانے پر آپ باگھوتی چلے گئے۔ وہاں چند سال قیام کیا ، اور وہاں سے بڈھا گھیڑا میں رہنے لگ گئے۔
خسرو کی آپ سے ملاقات
سلطان علاؤ الدین خلجی نے حضرت نظام الدین اولیاء کی اجازت سے خسرو کو آپ کی بارگاہ میں تحفے دے کر بھی بھیجا ، جب خسر اپ کی بارگاہ میں پہنچا تو اپ نے خصوصی گانے کی فرمائش بھی کی خسرو نے آپ کو ایک غزل سنائی ، اپ نے بھی برے میں اس کو اپنی شاعری سنائی۔
شرف الدین پانی پت کے چند مریدوں کے نام
حضرت شرف الدین بو علی قلندر کے خاص مریدوں میں مبارک خان، اختیار الدین ، اور شیخ احمد شامل ہیں۔
شرف الدین پانی پتی کی سیرت
آپ نے تیس سال تک سخت سے سخت مجاہدہ اور عبادات کیں۔آپ پر جذب الہی اس قدر طاری ہوتا کہ آپ کو اپنی خبر تک نہ ہوتی ۔ آپ میں مجذوبیت کا رنگ بھی نظر آتا لیکن باوجود قلندرانہ روش کے آپ شریعت کا بہت احترام کرتے۔
ایک واقعہ یہ بھی ہے ایک دفعہ آپ کی مونچھیں کچھ زیادہ بڑھ گئی، آپ کے ماننے والوں اور آس پاس کے لوگوں کو تو ہمت نہ ہوئی آپ کو کچھ کہنے کی لیکن اس وقت کے شریعت کے حامی مولانا ضیاء الدین نے آپ کی داڑھی پکڑی ، مونچھیں چھوٹی کر دی، آپ اس پر خاموش رہے ، بعد میں آپ اپنی داڑھی پکڑ کر یہ بھی کہتے کہ یہ شریعت محمدی کے راستے میں پکڑی جا چکی ہے۔
آپ کی تصانیف شرف
آپ نے کئی کتابیں بھی لکھیں ، ایک کتاب "حکم نامہ شرف الدین" کافی مشہور ہوئی۔آپ شاعر بھی تھے اور جب خسرو آپ کے پاس آئے تھے تو آپ نے ان کو اپنی شاعری بھی سنائی ، جس پر خسرو رونے لگ گئے۔
آپ کے چند اقوال
معشوق بھی تمہاری ہی صورت میں پیدا کیا گیا ہے، اور تمہارے ہی درمیان بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں صحیح راستے کی طرف بلائے
جب عنایت الہٰی تیری شامل حال ہو، تجھ کو جذبہ بھی عطا کیا جائے اور تجھ سے تیری توئی جدا کر دے ، اس وقت تمہارے اندر عشق داخل ہوتا ہے اور تمہیں جلوہ حسن دکھایا جاتا ہے۔
عاشقی اختیار کر، دونوں جہان کو معشوق کا حسن خیال کر، اور خود کو معشوق کا حسن تصور کر۔
عاشق نے اپنے عشق سے تیرا وجود بنایا تاکہ تیرے آئینے میں اپنا جمال حسن دیکھے،
پانی پت سے باگھوٹے شہر میں قیام
اپ کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ شمس الدین پانی پت کے کہنے پر پانی پت سے باگھوٹے چلے گئے، جو شہر سے دور سنسان جگہ تھی۔
شرف الدین بو علی قلندر کی کرامات
اپ کے بارے میں عجیب و غریب واقعات بیان کیے جاتے ہیں ان واقعات کو تفسیر میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں
وفات
حضرت شرف الدین بو علی قلندرؒ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اللہ کی یاد، ریاضت اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزارا۔ آپ کا وصال 17 دسمبر 1324ء (725 ہجری) کو پانی پت میں ہوا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر تقریباً 120 برس تھی۔ اہلِ پانی پت اور گرد و نواح کے لوگ آپ کی تعلیمات اور کرامات سے اس قدر متاثر تھے کہ آپ کے وصال پر پورے خطے میں غم و سوگ کی فضا قائم ہوگئی۔
مزار
حضرت بو علی قلندرؒ کا مزار بھارت کے صوبہ ہریانہ کے تاریخی شہر پانی پت میں واقع ہے۔ یہ مزار قدیم صوفیانہ طرزِ تعمیر کی ایک بہترین مثال ہے، جس پر ہر وقت زائرین کی آمد و رفت رہتی ہے۔ مزار کے احاطے میں ایک خوبصورت درگاہ اور وسیع صحن ہے، جہاں لوگ فاتحہ اور دعا کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ مزار کے اردگرد بازار بھی آباد ہے جسے “بو علی بازار” کہا جاتا ہے، جہاں عطر، تسبیح اور مذہبی کتب وغیرہ فروخت ہوتی ہیں۔ یہ مزار صدیوں سے برصغیر کے صوفیانہ ورثے اور روحانی مرکز کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندر کی کا عرس کب منایا جاتا ہے
حضرت شیخ شرف الدین بو علی قلندرؒ کا عرس ہر سال پانی پت شہر (ریاست ہریانہ، ہندوستان) میں نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہ عرس ماہِ شوال المکرم کی 17 تاریخ کو منعقد ہوتا ہے جس میں ہزاروں زائرین ملک و بیرونِ ملک سے حاضری دے کر قرآن خوانی، نوافل، محفلِ سماع اور قوالی میں شریک ہوتے ہیں۔ درگاہ کو چراغاں اور پھولوں سے سجایا جاتا ہے، لنگر تقسیم ہوتا ہے اور روحانی ماحول لوگوں کو سکون و سرور بخشتا ہے۔ حضرت بو علی قلندرؒ کے عرس کی یہ محفلیں آج بھی ان کی تعلیماتِ محبت، انسانیت اور خدمتِ خلق کا پیغام عام کرتی ہیں۔
تعلیم و سبق
صوفیوں کی زندگی میں ایک ہی سبق دہرایا جاتا ہے کہ نفس کی نفی کرو ،اس کے خلاف سخت عبادت اور مجاہدات سے اس کی میں کو ختم کرو۔ اس نفس کے پردے کے پیچھےہی معشوق یعنی اللہ کا حسن چھپا ہے۔ اس پردے کو چاق کیئے بغیر اس حسن تک پہنچنا محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ساری زندگی دریا میں کھڑے ہو کر نفس کشی کی جس کی بدولت حق سے واصل ہوگئے۔ اور ہمیں بھی یہ سبق دے گئے کہ صرف ظاہری علم ،وعظ و تقاریر ، نماز سے نفس کشی ممکن نہیں اس کیلئے گھر بار چھوڑنا پڑتا ہے ، اور سخت ریاضت اور مرشد کی غلامی اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ مرشد ہی انسان کو باطنی علم عطا کرتا ہے جس سے انسان آسمانوں پر بیٹھنے خدا کو زمین سے دیکھ سکتا ہے۔ آئیے ہم بھی اس باطنی علم جو مزہب کا دوسرا پر ہے اس کو بھی سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور اس کے باطنی راز تک رسائی کرتے ہیں ۔ آج بھی اس دور میں ایسا میخانہ موجود ہے جو لوگوں کو اللہ سے واصل کر رہا ہے اور وہ میخانہ کہیں دور نہیں آپ کے اپنے موبائل پر موجود ہے۔ جی یوٹیوب پر الرا نام کا چینل جس پر سیدی یونس الگوھر آج بھی لوگوں کو اللہ کا خاص علم دے رہیں ہیں ،جو انسان کے نفس کو پاک کر کے اس حق سے شناس کرادیتا ہے۔ اس علم کو خود بھی اور اپنے اہل خانہ کو بھی حاصل کروائیں ۔