تعارف
برصغیر کی روحانی اور ادبی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کو سب سے منفرد مقام حاصل ہے تو وہ ہیں حضرت خواجہ ابوالحسن امیر خسرو دہلویؒ۔ امیر خسرو کو قوالی کا بانی اور طوطی ہند بھی کہا جاتا ہے۔وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر، ادیب، مورخ اور موسیقار تھے بلکہ حضرت محبوبِ الٰہی خواجہ نظام الدین اولیاءؒ کے وہ مریدِ صادق تھے جنہیں ان کے مرشد نے ’’ترکِ اللہ‘‘ کا خطاب عطا فرمایا۔ آپ کا نام تاریخ میں مرشد سے وفا کرنے والوں میں لکھا جاتا ہے۔
امیر خسروؒ کا کمال یہ ہے کہ ان کی ذات نے تصوف، ادب اور موسیقی تینوں کو ایسا رنگ دیا کہ صدیوں بعد بھی ان کے کلام کی مٹھاس، ان کی نغمگی اور ان کا عشقِ الٰہی آج تک زندہ ہے۔
ابتدائی زندگی اور شعری صلاحیت کی جھلک
حضرت امیر خسرو کا تعلق ایک علمی و روحانی گھرانے سے تھا۔ آپ کے والد، بھائی اور نانا سبھی حضرت محبوبِ الٰہی کے مرید تھے۔
بچپن ہی سے آپ کو شعر و ادب سے خاص دلچسپی تھی۔آپکے والد کا نام صیف الدین ترکی تھا، آپکے والد ترکی سے ہندوستان آئے تھے اور ہندوستان کے شہر اتر پردیش کے چھوٹے سے گاؤں پٹیالی میں آپ نے قیام کیا۔یہاں انہوں نے روات ارض کی بیٹی بی بی دولت ناز سے شادی کی اور اسی پٹیالی کے مقام پر 1253 کو امیر خسرو پیدا ہوئے۔
6 سال کی عمر میں میں آپکے والد دہلی آگئے ،کیوں کہ دہلی میں آپ کے ننہال تھے، جب آپکی عمر 7 سال کی ہوئی تو آپ کے والد ایک جنگ میں شہید ہوگئے،
یتیمی اور نانا کی کفالت
خسرو کے والد کا انتقال اس وقت ہوا جب آپ صرف سات برس کے تھے۔ اس غم نے آپ کے دل میں ایک ایسی تڑپ پیدا کی جس کا اظہار آپ کے ابتدائی اشعار میں ملتا ہے۔بعد ازاں نانا کی کفالت میں رہے، جن کے علمی ماحول نے خسرو کے شوق اور صلاحیتوں کو اور بھی جلا بخشی۔
خسرو ایک نہایت ذہین بچہ تھا۔ اس نے نو سال کی عمر میں ہی شاعری سیکھنا اور لکھنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا پہلا دیوان "تحفۃ الصغر" یعنی "بچپن کا تحفہ" تھا، جس میں وہ نظمیں اور غزلیں شامل تھیں جو اس نے سولہ سے اٹھارہ سال کی عمر کے درمیان لکھیں۔ یہ دیوان 1271ء میں مرتب ہوا۔ 1273ء میں، جب خسرو بیس برس کا تھا، تو اس کے دادا کا انتقال ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت ان کی عمر 113 برس تھی۔
ایک مرتبہ آپ کے استاد آپ کو اپنے دوست قاضی عزالدین کے پاس لے گئے۔ وہاں جب شاعری کی گفتگو شروع ہوئی تو قاضی صاحب نے خسرو کو فارسی کے کلام کی کتاب پڑھنے کو دی۔ خسرو نے نہ صرف روانی سے پڑھ کر سنایا بلکہ اپنے اشعار بھی فوراً کہہ ڈالے۔ اس کم عمری میں ایسی صلاحیت دیکھ کر قاضی عزالدین حیران رہ گئے۔
حضرت محبوبِ الٰہی سے بیعت کا واقعہ
اگرچہ خسرو کے گھر والے پہلے ہی نظام الدین اولیاءؒ سے وابستہ تھے مگر خسرو چاہتے تھے کہ پیر کا انتخاب خود کریں۔
چنانچہ ایک دن وہ خانقاہ کے در پر بیٹھ گئے اور فارسی کے دو اشعار لکھے کہ اگر یہ شیخِ کامل ہیں تو ضرور جواب دیں گے۔
حضرت محبوبِ الٰہیؒ نے کشف و بصیرت سے خسرو کے دل کی کیفیت جانی اور ان اشعار کا جواب بھیج دیا۔ خسرو کا دل مطمئن ہوا اور وہ فوراً اندر جا کر بیعت کرلی۔
یہی وہ لمحہ تھا جس نے خسرو کی زندگی کو یکسر بدل دیا۔اس کے بعد خسرو نے زندگی مرشد کی غلامی میں گزاری۔
علمی و فنی کمالات
حضرت امیر خسرو نے:
-
فارسی، عربی، ہندی، سنسکرت اور کئی زبانوں پر عبور حاصل کیا۔
-
موسیقی میں نئی راگنیاں تخلیق کیں۔
-
ستار میں تیسرا تار لگا کر اسے ’’سہتار‘‘ بنایا جو آگے چل کر ’’ستار‘‘ کہلایا۔
-
شاعری، تصنیف و تالیف، تاریخ نویسی، پہیلیاں، غزل، قصیدہ، مسنوی، سب میں اپنا لوہا منوایا۔
ان کی شہرت اس قدر پھیلی کہ کہا جاتا ہے سعدی شیرازیؒ جیسا شاعر بھی ان سے ملنے ہندوستان آیا۔
بادشاہوں کا محبوب، مگر دل خانقاہ میں
خسرو دہلی کے آٹھ بادشاہوں کے دربار میں رہے اور ہر سلطان نے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
علاء الدین خلجی نے تو انہیں ’’طوطیٔ ہند‘‘ کا خطاب دیا۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ خسرو کے جسم کا رشتہ دربار سے تھا، دل ہمیشہ خانقاہ میں اپنے مرشد کے قدموں میں رہتا تھا۔
مرشد کے ساتھ تعلق اور عشق کی انتہا
حضرت محبوبِ الٰہیؒ خسرو کو بے حد چاہتے تھے۔ وہ فرماتے تھے:
’’اگر شریعت میں جائز ہوتا تو میں وصیت کرتا کہ خسرو کو میری قبر میں دفن کرنا۔‘‘
ایک اور موقع پر فرمایا:
’’قیامت کے دن اگر اللہ پوچھے گا نظام الدین! کیا لائے ہو؟ تو میں سر جھکا کر کہوں گا یا اللہ، خسرو کو لایا ہوں۔‘‘
یہ تعلق پیر و مرید کا نہیں، بلکہ عاشق و معشوق کا سا تھا۔
خسرو کی دعا برائے مٹھاسِ کلام
خسرو نے ایک دن اپنے مرشد سے دعا مانگی کہ شاعری میں مٹھاس پیدا ہو۔
محبوبِ الٰہیؒ نے انہیں پلنگ کے نیچے رکھی شکر کھانے کو دی۔
اسی دن سے خسرو کے کلام میں ایسی شیرینی آئی کہ انہیں ’’سلطان الشعرا‘‘ کہا جانے لگا۔
دیگر اولیاء کرام سے تعلق
-
حضرت بو علی شاہ قلندرؒ نے خسرو کو دیکھ کر خوشی کا اظہار کیا اور فرمایا: ’’اگر یہ نہ آتے تو میں شاہی تحفے قبول نہ کرتا۔‘‘
-
حضرت مخدوم سابر پاکؒ نے خسرو کو اپنے مہمان کے طور پر عزت بخشی اور اپنے مرید کو کہا کہ خسرو کی خوب خاطر کرو کیونکہ وہ دہلی جا کر شیخ نظام الدین کو خبر دیں گے۔
بسنت کی رسم اور خسرو
ایک بار حضرت محبوبِ الٰہیؒ کے بھانجے کے انتقال پر آپ شدید غم میں تھے۔خسرو نے ہندوؤں کی طرح سرسوں کے پھول سجائے اور بسنت کے اشعار پڑھتے ہوئے حاضر ہوئے۔محبوبِ الٰہیؒ نظام الدین اولیاء کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی اور غم کچھ کم ہوا۔اسی دن سے سلسلہ چشتیہ میں بسنت کی رسم قائم ہوگئی۔
نظام الدین اولیاء کی جوتیوں کا واقعہ
ایک دن محبوبِ الٰہیؒ نے اپنی جوتیاں ایک فقیر کو دے دیں۔راستے میں آتے ہوئےخسرو نے اس فقیر کو دیکھا اور جوتیوں کے بارے میں پوچھا، خسرو نے ان جوتیوں کو پانچ لاکھ چاندی کے سکوں کے عوض خرید کر سر پر رکھا اور خانقاہ میں حاضر ہوئے۔ خسرو بہت خوش تھا کیوں کی اس نے اپنی تمام دولت لٹا کر وہ جوتیاں خریدیاں تھیں۔ وہ جب اپنے مرشد نظام الدین اولیاء کے پاس پہنچے تو دور سے ہی
محبوبِ الٰہیؒ مسکرائے اور فرمایا: ’’خسرو! بہت سستی خرید لیں۔‘‘
خسرو نے عرض کیا: ’’اگر وہ جان و مال بھی مانگتا تو حاضر کر دیتا۔‘‘
اس واقعے کے بعد خسرو نے مرشد سے محبت اور وفاداری کی وہ مثال قائم کی ،جسے آج تک پوری اپنے اپنے لفظوں میں یاد کرتی ہے۔
عبادت و ریاضت
-
چالیس سال تک مسلسل روزے رکھے۔
-
رات کو نماز میں مشغول رہتے اور صبح کے قریب سلام پھیرتے۔
-
روزانہ تہجد میں سات پارے قرآن پڑھتے۔
-
عشقِ الٰہی کی آگ ان کے سینے میں اس قدر دہکتی تھی کہ پہنا ہوا کپڑا جل جاتا۔
خسرو کی مرشد سے محبت اور وفاداری
محبوبِ الٰہیؒ نے خسرو کو ’’ترکِ اللہ‘‘ کا خطاب دیا اور کئی خطوط اسی نام سے لکھے۔
یہی نہیں، بلکہ خود مرشد نے خسرو کی تعریف میں رباعی کہی کہ:
’’نظم و نثر میں خسرو کا کوئی ہم پلّہ نہیں۔ یہ ہمارا خسرو ہے، اللہ کی عطا سے بلند ہے، کسی کو اس کا مقابلہ نہیں۔‘‘
امیر خسرو کا وصال اور مرشد کے ساتھ وفاداری
محبوبِ الٰہیؒ نے فرمایا تھا:
’’خسرو میرے بعد زندہ نہ رہے گا۔ اسے میرے پہلو میں دفن کرنا۔‘‘
چنانچہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے وصال کے کچھ ہی عرصے بعد خسرو بھی رخصت ہوگئے۔ آج دہلی میں مرشد اور مرید ایک دوسرے کے پہلو میں آرام فرما ہیں۔
امیر خسرو کی تصانیف
خسرو کی زندگی سے سبق
حضرت امیر خسرو صرف شاعر یا موسیقار نہیں تھے بلکہ وہ ایک ایسے عاشقِ صادق اور صوفی باصفا تھے جنہوں نے اپنی زندگی مرشد کی غلامی اور عشقِ الٰہی میں فنا کر دی۔ان کی زندگی سے ہمیں مرشد سے وفاداری اور بے لوث محبت کا سبق ملتا ہے،ان کی ذات تصوف، ادب اور موسیقی کا حسین سنگم ہے۔اور ان کا مرشد کی بارگاہ میں مقام اس جملے سے واضح ہے:
’’یا اللہ! خسرو کو لایا ہوں۔‘‘

